Connect with us

کالم کلوچ

10،”کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

Published

on

جناب وجاہت مسعود اپنے کالم "بارہ مارچ: قرارداد مقاصد سے سینیٹ الیکشن تک” میں تحریرکرتے ہیں کہ بہار کے دن ہیں۔ نئے سبز پتے ٹہنیوں پر جابجا نکل رہے ہیں۔ کونپلیں پھوٹ رہی ہیں۔ درودیوار سے سبزہ اگ رہا ہے۔ آج مارچ کی بارہ تاریخ ہے۔ ایوان بالا کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب آج شام ہو گا۔ گویا آج ایوان بالا آئینی تقاضوں کے مطابق اپنی تشکیل نو مکمل کر لے گا۔ درویش کے دل ناصبور کا خمیر مگر عجیب مٹی سے اٹھا ہے۔ وہ جو استاد ذوق نے کہا تھا،
لو مجھے لے چلا وہیں، دیکھو
دل خانہ خراب کی باتیں
بارہ مارچ سے عجیب عجیب خیال امڈے چلے آتے ہیں۔ 1949کا برس تھا۔ مارچ کی بارہ تاریخ تھی۔ دستور ساز اسمبلی نے اس روز قراردادمقاصد منظور کی تھی۔ ایوان میں اس روز کل 31ارکان موجود تھے۔ اکیس مسلم اور دس غیر مسلم۔ میاں افتخار الدین، بیگم شاہنواز اور سر ظفر اللہ خان سمیت تمام مسلم ارکان نے قرارداد مقاصد کی تائید کی۔ دوسری طرف کسی ایک غیر مسلم رکن اسمبلی نے قرار داد مقاصد کی حمایت نہیں کی۔ پاکستان کی مملکت میں حاکمیت اعلیٰ کے سوال پر یہ دوٹوک تفریق بارہ مارچ 1949 کو سامنے آئی۔ یہ وہی دستاویز تھی جس میں قائد اعظم کے 11اگست 1947کے اس فرمان کی صریح تردید کی گئی تھی کہ ’پاکستان کی مملکت میں عقیدے کی بنیاد پر امتیاز نہیں کیا جائے گا‘۔ پاکستان کے آئین کی شق بیس میں ہر شہری کو عقیدے کی غیر مشروط آزادی دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی ایک تاریخی فیصلے میں یہ واضح کر چکے ہیں۔ عقیدے کی آزادی کے جملہ زاویے اور مفہوم ان بین الاقوامی دستاویزات میں تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں، جن پر پاکستان نے دستخط کر رکھے ہیں اور جن کی ریاستی سطح پر توثیق کی جا چکی ہے۔ بارہ مارچ 1949 کو ہم نے وہ سفر شروع کیا جس کے بطن سے اس اشتعال انگیز سوچ نے جنم لیا ہے جس نے گزشتہ روز تین مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہنے والے قائد پر سر مجلس جوتا اچھالا ہے۔ خواجہ آصف کے چہرے پہ سیاہی پھینکی ہے۔ خواجہ آصف کے طرز سیاست سے اختلاف کے پہلو نکلتے رہتے ہیں لیکن یہ خواجہ محمد آصف کو ہدیہ تبریک دینے کی گھڑی ہے۔ ٹھیک پینسٹھ برس پہلے مارچ 1953میں خواجہ آصف کے والد محترم خواجہ محمد صفدر مرحوم کے ساتھ سیالکوٹ میں ایک مشتعل ہجوم نے یہی سلوک کیا تھا۔ تفصیل اس واقعے کی منیر انکوائری کمیشن رپورٹ میں موجود ہے۔ خواجہ آصف کو فیض کا یہ شعر دہرانے کا استحقاق مل گیا ہے:
یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سرِ رہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سرِ بزمِ یار چلے گئے
بارہ مارچ 1949ء کی قرارداد 1973کے آئین میں دیباچے کے طور پہ شامل کی گئی تھی۔ ضیا آمریت نے مذہبی رہنمائوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے اسے دستور کا قابل نفاذ حصہ بنا ڈالا۔ مجھ پہ آئی کہاں ٹلی ہے ابھی / ذکر میرا گلی گلی ہے ابھی۔ اسلام آباد کے ایک حکم نامہ نے یہ طرفہ تجویز دی ہے کہ فوج سمیت تمام سرکاری محکموں میں ملازمت کے امیدواروں کے لئے عقیدے کا بیان حلفی لازم قرار دیا جائے۔ اس پر صحافت کے ایک گنجفہ کبیر نے بڑے زوروں سے داد دی ہے۔ وزیرے چنیں، شہر یارے چناں… ہماری تاریخ میں تہذیب کی پسپائی کے یہ سب اشارے بارہ مارچ سے منسوب ہیں۔ 1951 میں پنجاب کے صوبائی انتخابات بھی دس مارچ کو ہوئے تھے جن میں جھرلو کی اصطلاح متعارف کروائی گئی۔ اور لطف یہ ہے کہ ان انتخابات میں اصل دھاندلی ٹھیک دو روز قبل آٹھ مارچ 1951 کو راولپنڈی سازش کیس کے انکشاف کی صورت میں ہوئی تھی۔ جنہیں انتخاب لڑنا تھا، وہ عقوبت خانوں کی زینت بن چکے گئے۔ فیض نے اسی لئے کہا تھا، وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا… 1977میں مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف تحریک کا اعلان بھی بارہ مارچ کو کیا گیا تھا۔ انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج کو تحریک نظام مصطفیٰ کا نام دیا گیا۔ یہ سیاست میں مذہب کا کارڈ کھیلنے کی ایک نئی مثال تھی۔ ٹھیک گیارہ برس پہلے عدلیہ بحالی کی تحریک بھی بارہ مارچ سے شروع ہوئی تھی۔ تب جوش سے بھرے گرم خون نوجوان سڑکوں پہ نکل آئے تھے اور کہتے تھے، عدلیہ بحال کرانے نکلے ہیں۔ آج کل ان میں سے بہت سے مانتے ہیں کہ عدلیہ تو بحال ہو گئی، عدل آزاد نہیں ہوا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے مارچ 1977ء کی تحریک نے بھٹو حکومت ختم کر دی مگر نظام مصطفیٰ کی بجائے ہمیں گیارہ سالہ آمریت پر اکتفا کرنا پڑا۔
یہ کالم چھپ کر آپ کے ہاتھوں میں پہنچے گا تو سینیٹ کے معرکے کا نتیجہ واضح ہو چکا ہو گا۔ ووٹوں کی گنتی میں کون سرخرو ہوتا ہے اور کسے شکست نصیب ہوتی ہے، یہ تو کاغذ کے ٹکڑوں کی گنتی سے معلوم ہو گا لیکن درویش کہے دیتا ہے کہ’’آگ دوڑی رگ احساس میں گھر سے پہلے‘‘۔ ربیع کی اس فصل کی رونمائی تو دو روز قبل اسلام آباد میں ہو چکی۔ تئیس سے کچھ زیادہ صحافی ایک اعلیٰ مجلس میں بلائے گئے تھے، جو کچھ کہا اور سنا گیا، وہ صیغہ راز میں ہے۔ ادھر ادھر سے ہواؤں نے جو افسانے کہے ہیں، ان میں بلبل آشفتہ سر کے لیے کوئی اچھا پیغام نہیں۔ قوم ان گنت داخلی اور خارجی خطرات میں گھری ہے اور حضور شاہ سے خبر ملتی ہے کہ ’’قد و گیسو میں، قیس و کوہ کن کی آزمائش ہے‘‘… سینیٹ کے انتخاب میں مہرے اس ہنرمندی سے سجائے گئے ہیں کہ ہاتھ کی صفائی کی داد دینا پڑتی ہے۔ کراچی کے اہل زبان اسے سیاسی چائنا کٹنگ کہتے ہیں۔ ایسی انجینئرنگ کہ راوی کا دھارا جمنا کے گھاٹ پر بہہ رہا ہے۔ بے نظیر بھٹو شہید اگر آج حیات ہوتیں تو انہوں نے چمک کی بجائے کڑک کا استعارہ استعمال کیا ہوتا۔ ہمارے لئے مگر دو سو برس پہلے استاد غلام مصطفی مصحفی نے کہا تھا…
ہاتھ سے گوروں کے جانبر ہوویں کیونکر اہل ہند
کام کرتے ہی نہیں ہرگز یہ بن کونسل کئے
آپ کو کرنا صرف یہ ہے کہ ’کونسل‘ کے لفظ کی جگہ سازش رکھ دیجیے۔ شعر وزن سے خارج نہیں ہو گا اور معنی تو صدیوں سے یہی چلا آ رہا ہے۔ جب اس ملک کی تاریخ لکھی جائے گی تو محض بارہ مارچ سنہ 2018بروز سوموار نہیں لکھا جائےگا۔ اس ورق پر ہماری تاریخ کی تلچھٹ مع تلخی پڑھی جا سکے گی۔ خدا خیر کرے، آج استاد غلام مصطفیٰ مصحفی بے طرح یاد آ رہے ہیں۔ کچھ شعر ان کے پڑھ لیجیے، بارہ مارچ کی قرارداد مقاصد 1949اور بارہ مارچ 2018کے بانکے مغل بچوں سے کوئی مشابہت محض اتفاقیہ ہو گی۔
حکم سلطاں ہے کہ اس محکمہ عدل کے بیچ
دست فریاد کو اونچا نہ کرے فریادی
٭٭٭
ہندوستاں نمونہ دشت بلا ہے کیا
جو اس زمیں پہ تیغ ہی چلتی ہے اب تلک
٭٭٭
گر ہو طپنچہ بند وہ رشک فرنگیاں
بانکے مغل بچے نہ کریں خانہ جنگیاں
ہندوستاں میں دولت و حشمت جو کچھ بھی تھی
کافر فرنگیوں نے بہ تدبیر کھینچ لی جناب محترم امرجلیل اپنے کالم "پیر سائیوں کی کرامات” میں لکھتے ہیں کہ آپ پاکستان میں پیر سائیوں کے کرشموں، کرامات اور اثرو رسوخ سے واقف ہوں گے بلکہ متاثر ہوں گے۔ بینظیر جیسی اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون پیر سائیوں کے پیروں میں جاکر بیٹھتی تھیں۔ راولپنڈی، اسلام آباد کے قریب تنکا بابا نام کے ایک پیر سائیں ہوا کرتے تھے۔ بڑے بڑے سیاستدان ، اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران بیوپاری ، کاروباری حضرات ان کے قدموں میں پڑے رہتے تھے۔ پیر سائیں اگر کسی کو تنکا ماردیں تو یہ باور کرلیا جاتا تھا کہ اس شخص کی من کی مرادیں پوری ہوں گی۔ بینظیر کا تنکا بابا کے ہاں آنا جانا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ تنکا بابا زندہ ہیں یا کہ رحلت فرماگئے ہیں۔ بینظیر قمبر شہر کے ایک پیر سائیں کے پیروں میں جاکر بیٹھ جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ کسی نے ان کی تصویر کھینچ لی اوروائرل کردی۔ تصویر کے بڑے بڑے پوسٹر بنا کر دیواروں اور ٹرکوں پر چپکادیئے تھے۔ بیرون ملک بینظیر کو لبرل اور روشن خیال سمجھنے والے سکتے میں آگئے تھے۔ پیر سائیں شاہ محمود قریشی کی دعائیں تحریک انصاف کے لئے مخصوص ہیں۔ پیرسائیں یوسف رضا گیلانی کی دعائیں زرداری کی پیپلز پارٹی کے لئے وقف ہیں۔ پیرسائیں پگارا کی دعائیں فنکشنل مسلم لیگ کے ساتھ ہیں۔ کرامات اور کرشمات کے علاوہ پیر سائیوں کا سیاسی اثر بھی ہوش ربا ہے۔ جس کے سر پر ہاتھ رکھ دیں وہ فاسٹ بالر سے سیاستدان بن جاتا ہے۔ حالانکہ عمران خان کو کھیل کے میدانوں سے اٹھا کر سیاست کے مکروہ میدان میں لانے والے مرحوم و مغفور جنرل حمید گل تھے۔ وہ دھوکہ کھا گئے تھے کہ ایک میدان میں جوہر دکھانے والے لوگ ہر میدان میں جوہر دکھا سکتے ہیں۔ ایک میدان میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے ہر میدان میں اپنی قابلیت کے بل بوتے پر شہرت کی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں۔ جوکہ زمینی حقائق کے مطابق امکان سے باہر ہے۔ موجودہ دور میں فٹبال کے سپر ہیروز میسی اور رونالڈو کرکٹ کے سپر ہیروز ویرات کوہلی اور آسٹریلیا کے کپتان اسمتھ نہیں بن سکتے۔ شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے اپنے اپنے دائرہ عمل کے ماہر ہوتے ہیں۔ اسی میں نام اور شہرت کماتے ہیں۔ یہیں پر جنرل حمید گل مار کھاگئے تھے۔ انہوں نے کھیل کے میدان میں عمران خان کی بین الاقوامی شہرت کو پاکستانی سیاست میں کیش کرانے کی ناکام کوشش کی تھی۔ جنرل حمید گل نے اپنے قطعی غلط فیصلے سے پاکستان کو غیرمعمولی صلاحیتیں رکھنے والے Sportsman سے محروم کردیا۔ میں اگر مگر کے جھنجھٹ میں پڑنا نہیں چاہتا۔ میرا یقین ہے کہ اگر عمران خان کو اپنے لئے مناسب دائرہ عمل کی آزادی دی جاتی اور جنرل حمیدگل انہیں گھسیٹ کر سیاست کے میدان میں نہ لے آتے تو عمران خان اکیلے کھیلوں کے بل بوتے پر پاکستان کو شہرت کی بلندیوں پر لے جاتے ۔ وہ فلاحی کاموں میں سوشل ریفارمر بن کر سامنے آتے۔ مرحوم حمید گل نے ملک کا بہت بڑا نقصان کردیا ہے۔ عمران خان سیاست کرنے کے لئے پیدا نہیں ہوئےتھے۔ وہ پیدائشی اسپورٹس مین ہیں۔ اسپورٹس مین فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کے پچیس تیس برس سیاست کی بھینٹ چڑھانے کے باوجود سیاستدان بن نہیں پائے۔ وہ اپنی باڈی لینگویج اور بول چال میں آج بھی مکمل طور پر فاسٹ بالر دکھائی دیتے ہیں۔ عمران خان کو سیاست کی بھینٹ چڑھانا مرحوم جنرل حمید گل کا سماجی جرم تھا جس کے لئے پاکستان کے آئین اور پینل کوڈ میں کوئی سزا مختص نہیں ہے۔ کرکٹ کے فلسفے میں کہا جاتا ہے کہ ایک فاسٹ بالر زندگی بھر فاسٹ بالر رہتا ہے ۔ اس کا رویہ دیگر لوگوں سے مختلف ہوتا ہے۔ عمران خان کی سیاسی پارٹی میں ایک پیر سائیں شاہ محمود قریشی ملتان والے پہلے سے موجود ہیں۔ اب ان کے ازدواج میں ایک پیرنی صاحبہ شامل ہو چکی ہیں۔ اب ان کی دعائوں اور تعویذ وں کا اثر عمران کی زندگی پر دیکھنا ہے۔ فی الحال ان کی صوبائی اسمبلی کے دو ارکان عمران خان کو چھوڑ کر زرداری سے جاملے ہیں۔ میں سینیٹ کے انتخابات کی بات کررہا ہوں۔
حوالہ تھا روہڑی کے مدفون پیر سائیوں کے کرامات اور کرشموںکا۔ روہڑی کے پیرسائیوں کے قصے آپ کو سناتے ہوئے میں نے محسوس کیا ہے کہ روہڑی کے پیرسائیوں کے پاس ہر درد کی دوا ہے۔ ہر مرض کا علاج ہے۔ مگر سیاستدانوں کیلئے ان کے پاس نہ دعا ہے اور نہ دوا ہے۔ ایک پیر سائیں کا نام ہے پیر مولیٰ محب شاہ۔ وہ ماہر نفسیات ہیں۔ یعنی Psychiatric ہیں۔ نفسیاتی امراض میں مبتلا مریضوں کو ان کے مزار پر لایا جاتا ہے۔ پاگلوں کو بھی ورثا پیر محب شاہ کے مزار پر لے آتے ہیں۔ سب مریض شفایاب ہوکر گھر لوٹنے سے پہلے جو ان کے جی میںآتا ہےہدیہ کے طور پر مجاوروں کو دے جاتے ہیں۔
ایک پیر سائیں Ophthalmologistہیں۔ آنکھوں کے امراض میں مبتلا مریض ان کے مزار پر آتے ہیں۔ وہاں رہتے ہیں۔ اور ٹھیک ہوجانے کے بعد مجاوروں کو روٹی اور سالن دیتےہیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زمین زرخیز ہو، فصل اچھی ہو تو پھر آپ شاہ شکر گنج کے مزار پر حاضری دیں۔ اچھی فصل حاصل کرنے کے بعد آپ مجاوروں کو دال روٹی کھلادیں۔
روہڑی اور سکھر کے درمیان دریائے سندھ کے بیچوں بیچ ایک پہاڑی ہے جس پر ایک پراسرار ٹوٹی پھوٹی رہائش گاہ ہے۔ ان کھنڈروں کو خواجہ خضر کا آستان یا آستانو کہتے ہیں۔ اگر آپ علم اور دانائی کے شیدائی ہیںاور آبی حیات اور دریائوں کے بارے میں سوجھ بوجھ رکھنا چاہتے ہیں تو پھر خواجہ خضر کے آستان پر حاضری دیا کریں۔ وہاں دیا جلایا کریں۔ آپ کے لئے آگاہی کے دروازے کھل جائیں گے۔ عوض میں آپ ناریل اور دودھ بطورہدیہ دے سکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ روہڑی میں سوا لاکھ پیر دفن ہیں۔ جناب جاوید چوہدری اپنے کالم "بدلتا ہوا پاکستان” لکھتے ہیں کہ آئیے ہم ایک دن کے لیے واقعات کو ذرا سا مختلف انداز میں دیکھتے ہیں‘ ہم سب سے پہلے پانامہ سکینڈل کو لیتے ہیں‘ پانامہ کا ایشواپریل 2016ء میں سامنے آیا‘ اس ایشو میں 50ممالک کے140 سیاستدان ملوث تھے‘ ان میں 14 (سابق اور موجودہ) سربراہان مملکت تھے مگر پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس میں برسر اقتدار وزیراعظم کے خلاف مقدمہ چلا اور یہ پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کے باوجود باقاعدہ عدالتی حکم پر اقتدار سے فارغ بھی ہوئے اور یہ وفاق اورپنجاب میں اپنی حکومت کے باوجود چھ ماہ سے مقدمات بھی بھگت رہے ہیں‘ یہ ہر پیشی پر عدالت میں بھی پیش ہوتے ہیں اور میرا ذاتی خیال ہے نیب کورٹ انھیں سزا بھی دے دے گی۔
یہ 2018 ء کا الیکشن جیل سے لڑیں گے‘ کیا یہ تبدیلی نہیں؟ کیا تیسری دنیا کا کوئی ملک یہ سوچ سکتا تھا‘ ہم اگر اس تبدیلی کو ذرا سا پھیلا کر دیکھیں تو ہمیں تبدیلی کے اس درخت کے نیچے تبدیلیوں کے بے شمار نئے درخت بھی اگتے نظر آئیں گے‘ کیا ہمارے ملک میں کبھی کسی نے سوچا تھا ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب ملک کی تمام طاقتور سیاسی جماعتوں کے قائدین اقتدار میں ہونے کے باوجود عدالتوں اور انکوائریوں کا سامنا کریں گے۔
ڈاکٹر عاصم آصف علی زرداری کے قریبی دوست ہیں‘ یہ 462ارب روپے کی کرپشن کی انکوائری بھگت رہے ہیں‘ شرجیل میمن بھی عدالتوں کا سامنا کر رہے ہیں‘ الطاف حسین 23 اگست 2016ء تک ایک ہَوا تھا‘ کراچی میں ان کی مرضی کے بغیر پتہ بھی دائیں بائیں نہیں ہوتا تھا‘ آج کراچی کو اس ہَوا سے آزاد ہوئے 18ماہ ہو چکے ہیں۔ دنیا کے غیر محفوظ ترین شہر میں 2017ء میں ٹارگٹ کلنگ کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا‘ وہ شہر جو دو سال پہلے تک ایک گولی چلنے کے بعد ہفتہ ہفتہ بند رہتا تھا وہ اب عید اور دس محرم کے دن بھی کھلا رہتا ہے اور الطاف حسین کی وہ جماعت جس کے سینیٹرز اور ایم این اے تو رہے ایک طرف اس کے سیکٹر کمانڈرز بھی گورنر کو فون کر کے حکم دے دیتے تھے وہ جماعت اب چار ٹکڑوں میں تقسیم ہوکر لوگوں سے اپنا پتہ پوچھتی پھر رہی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن ملک کی سب سے بڑی‘ طاقتور اور برسر اقتدار پارٹی ہے لیکن پارٹی کی ساری قیادت عدالتوں میں دھکے کھا رہی ہے‘ میاں نواز شریف کے دو صاحبزادے اپنی حکومت میں اشتہاری ہو چکے ہیں‘ سمدھی اسحاق ڈار کے لیے واپسی کے سارے دروازے بند ہو چکے ہیں‘ اسٹیبلشمنٹ مفتاح اسماعیل کو اپنے اعتماد کا ووٹ دے چکی ہے۔
مقتدر ادارے ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے 8 مارچ کو جے ایس بینک اور جے ایس گلوبل کے سی ای او علی جہانگیر صدیقی کو امریکا میں پاکستان کا سفیر نامزد کر دیا‘ یہ اس ائیر بلیو کے میجر شیئر ہولڈر ہیں جس میں شاہد خاقان عباسی صرف سات فیصد کے حصے دار ہیں‘ عدلیہ اور فوج کو اس تقرری پر شدید تحفظات ہیں‘ یہ دونوں ادارے سمجھتے ہیں امریکا سفارت کاری کا مرکز ہے۔واشنگٹن میں دنیا بھر کے منجھے ہوئے سفیر موجود ہیں‘ علی جہانگیر ان سفیروں کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے چنانچہ علی جہانگیر کی تقرری صرف تقرری رہ جائے گی‘ یہ سفیر نہیں بن سکیں گے‘ عمران خان ملک کی نئی سیاسی طاقت ہیں لیکن یہ طاقت بھی دہشت گردی کے الزامات سمیت آدھے درجن مقدمات بھگت رہی ہے‘ ان کے ساتھی جہانگیر ترین کی وکٹ اڑ چکی ہے‘ بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ ن ‘پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کا اتحاد تھا‘ یہ تینوں اکٹھے اور طاقتور تھے۔
نواب ثناء اللہ زہری سیاسی اور قبائلی دونوں لحاظ سے تگڑے تھے لیکن یہ مہینے کے 28 دن کراچی اور اسلام آباد میں گزارتے تھے اور صرف دو دن کے لیے کوئٹہ آتے تھے‘ صوبے کی اہم ترین وزارتیں بھی وزیراعلیٰ کے پاس تھیں‘ کرپشن کی بے شمار کہانیاں بھی گردش کر رہی تھیں مثلاً حکومت گوادر میں پینے کے پانی کے لیے روزانہ ایک کروڑ روپے ریلیز کرتی تھی‘ یہ کروڑ روپے سیدھے وزیراعلیٰ کے ساتھیوں کی جیب میں چلے جاتے تھے اور یہ غضب کرپشن کی صرف ایک عجب کہانی تھی‘ بلوچستان کے لوگ ایسی درجنوں کہانیوں کے عینی شاہد ہیں لیکن پھر انقلاب آیا۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے اپنے اراکین منحرف ہوئے اور یہ انقلاب بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو بہا لے گیا‘ بلوچستان میں آزاد حکومت کا قیام عمل میں آیا‘ بلوچستان میں آزاد سینیٹرز منتخب ہوئے اور ان سینیٹرز نے پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر چیئرمین سینیٹ کے لیے امیدوار کھڑا کر دیا‘ کیا ماضی میں ایسی تبدیلیاں ممکن تھیں‘ کیا ہماری تاریخ میں کبھی ایسا ہوتا تھا اور کیا یہ تبدیلیاں نہیں ہیں؟۔
آپ طاقتور بیورو کریٹس کو بھی دیکھ لیں‘ احد چیمہ جیسے طاقتور لوگ اس وقت حوالات میں ہیں‘ ڈان لیکس کے بعد پرویز رشید اور طارق فاطمی دونوں فارغ ہو ئے‘ میڈیا جیسا طاقتور ستون بھی اس وقت لرز رہا ہے‘ شاہد مسعود اپنی صحافتی حماقت کا خمیازہ بھگت رہے ہیں‘ جنگ اور جیو گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمن پیشیاں بھگت رہے ہیں‘ میڈیا مالکان اور اینکرز عدالتوں میں معافیاں مانگ رہے ہیں۔
فوج دس سال سے عوامی دباؤ کی وجہ سے ریڈ لائین کی دوسری طرف کھڑی ہے‘ پاکستان ستر سال کی تاریخ میں پہلی بار امریکا کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر ’’نو مور‘‘ کا اعلان کر رہا ہے‘ پاکستان مسلم لیگ ن راجہ ظفر الحق‘ سینیٹر پرویز رشید اور مشاہد حسین سید میں سے کسی ایک کو چیئرمین سینیٹ بنانا چاہتی تھی لیکن یہ اکثریت کے باوجود کامیاب نہ ہو سکی‘ کیوں؟ وجوہات بہت دلچسپ ہیں۔راجہ ظفر الحق پارٹی میں سینئر ترین ہیں‘ یہ پارٹی کے چیئرمین ہیں لیکن میاں نواز شریف کو ان پر مکمل اعتماد نہیں‘ یہ انھیں اسٹیبلشمنٹ کا بندہ سمجھتے ہیں‘ میاں نواز شریف جس وقت جدہ میں جلا وطن تھے اس وقت جنرل پرویز مشرف نے انھیں مجید نظامی صاحب مرحوم کے ذریعے راجہ ظفر الحق کو پارٹی کا صدر بنانے کا پیغام بھجوایا تھا‘ جنرل پرویز مشرف راجہ صاحب کو وزیراعظم بھی بنوانا چاہتے تھے لہٰذا میاں نواز شریف کا خیال ہے یہ چیئرمین بننے کے بعد قیادت کے ہاتھ سے نکل جائیں گے چنانچہ میاں صاحب کو جب تک اپنی ناکامی کا یقین نہ ہو گیا انھوں نے اس وقت تک راجہ صاحب کو اپنا امیدوار نامزد نہیں کیا۔
پرویز رشید کو چوہدری نثار کے خوف نے چیئرمین شپ کا امیدوار نہیں بننے دیا‘ پارٹی کا خیال تھا میاں نواز شریف نے جس دن پرویز رشید کو نامزد کیا چوہدری نثار اس دن ڈان لیکس کی رپورٹ ریلیز کر دیں گے اور یوں پرویز رشید اڑنے سے پہلے ہی مارے جائیں گے اور پیچھے رہ گئے مشاہد حسین سید تو پارٹی کا خیال تھا اگر یہ کھڑے ہوئے تو کم از کم دس سینیٹرز انھیں ووٹ نہیں دیں گے اور یوں یہ ہار جائیں گے۔
چنانچہ میاں نواز شریف اس سارے سیاسی فساد سے بچنے کے لیے راجہ ظفرالحق کو نامزد کرنے پر مجبور ہو گئے‘ کیا ملک میں پہلے کبھی ایسا ہوتا تھا؟ ہماری تاریخ ہے پاکستان کی سیاسی قیادت جس کھمبے پر اپنا جھنڈا لہرا دیتی تھی وہ ملک کے ہر ایوان میں کامیاب ہو جاتا تھا لیکن اس بار ملک کی اکثریتی جماعت اکثریت کے باوجود سینیٹ میں اپنا اصلی امیدوار کھڑا نہیں کر سکی‘ ملک کی تاریخ میں پہلی بار آزاد امیدوار چیئرمین سینیٹ منتخب ہو گیا۔ملک میں عدالتیں اور جج سب کچھ ہوا کرتے تھے‘ جج فیصلوں کے ذریعے بولتے تھے لیکن ہم اب ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جس میں جج فیصلوں کے بعد وضاحت پر مجبور ہیں‘ یہ عوام کے سامنے اپنی نیک نیتی کی قسمیں کھاتے ہیں‘ کیا یہ بھی اس سے پہلے ہوتا تھا‘ ملکی تاریخ میں پہلی بار چیف جسٹس اسپتالوں کے دورے کر رہے ہیں اور عوام ان کو روک کر احتجاج بھی کر رہے ہیں۔ 10مارچ کوسیالکوٹ میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے منہ پر سیاہی پھینک دی گئی‘ اس سے قبل24فروری کونارووال میں وزیر داخلہ احسن اقبال کو جوتا مارا گیا اور 11 مارچ کو جامعہ نعیمیہ میں میاں نواز شریف پر بھی جوتا پھینک دیا گیا لیکن ملک میں پہلی بار مخالف سیاسی جماعتوں‘ میڈیا اور عوام نے اس اقدام کی بھرپور مخالفت کی‘ لوگوں نے کھل کر ذمے داروں کی مذمت کی۔
ملک کے دو آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ کھل کر اعلان کرتے رہے ’’ہم جمہوری جنرل ہیں اور ہم آخری سانس تک جمہوریت کو سپورٹ کریں گے‘‘ دنیا 17 سال میں دہشت گردی کی جنگ نہیں جیت سکی لیکن پاکستان نے تین برسوں میں نہ صرف دہشت گردوں کو پسپا کر دیا بلکہ ملک میں امن قائم کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا‘ آج دہشت گردی کے شکار ملک پاکستان کی مثال بھی دیتے ہیں اور یہ ہماری مہارت سے فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان 2015ء تک لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں میں گم تھا لیکن ہم نے 2018ء میں لوڈ شیڈنگ کو شکست دے دی‘ ملک میں اب کسی جگہ بجلی نہیں جاتی‘ کیا یہ تبدیلیاں نہیں ہیں اور کیا ہمیں ان تبدیلیوں پر فخر نہیں کرنا چاہیے!۔
ہم جس دن ٹھنڈے دل سے سوچیں گے ہمیں پاکستان اس دن تبدیل ہوتا ہوا نظر آئے گا‘ ہم اس دن ملک میں آنے والی تبدیلیوں پر فخر کریں گے‘ ملک میں سب کچھ برا نہیں‘ ہم واقعی کمال کر رہے ہیں‘ ایک ایسا کمال جس کی مثال تاریخ میں ملتی ہے اور نہ ہی تیسری دنیا کے دوسرے ملکوں میں‘ ہمارا نظام حقیقتاً بہتر ہو رہا ہے بس چند اصلاحات کی دیر ہے۔ ہمیں چند بڑی اور قطعی تبدیلیاں کرنا ہوں گی اور پھر کوئی طاقت اس ملک کو ترقی سے نہیں روک سکے گی‘ بس جمہوری لیڈر جمہوری ہو جائیں‘ ادارے اپنی حدود متعین کر لیں‘ لوگ سوچ سمجھ کر ووٹ دیں اور عوام اللہ تعالی کے بجائے اللہ تعالیٰ کے بندے بن جائیں اور پھر آپ دیکھیں یہ ملک کس طرح تیسری دنیا سے پہلی دنیا میں آتا ہے‘ پاکستان واقعی پاکستان بن جاتا ہے‘ میں آج کے پاکستان کو ایک تبدیل شدہ ملک سمجھ رہا ہوں۔

Advertisement

کالم کلوچ

قادری عمران کھانا اورملکی سیاست

Rashid Saeed

Published

on

پاکستانی سیاست میں ہر دن نیا دن ہوتا ہے سیاسی بسات کے مہرے اپنی چالیں چلتے رہتے ہیں اور یہی سیاست کا حسن ہے۔ پاکستان کے سینئر سیاستدان شیخ رشید جو ہر روز سونے سے پہلے یہ دعا کرکے سوتے ہیں کہ جب وہ صبح اٹھائیں تو نواز حکومت ختم ہو چکی ہو لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔ بہر حال وہ پاکستان کے ایک سیزن سیاستدان ہیں اور وہ بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ تمام اپوزیشن جماعتیں یکجا ہو کر حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلائیں۔ ابھی تک تو ان کو اس حوالے سے مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوسکی مگر ان کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کی کوششوں کی بدولت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ مولانا طاہر القادری کھانے پر ملاقات کریں گے۔یہ خبر بھی انہوں نے طاہر القادری کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔اگر مولانا طاہرالقادری کو عمران خان کے گھر جا کر کھاناکھاناپڑاتو میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ کھاناکیسا ہوگا اور کیا طاہر القادری کی مرضی کا ہوگا کہ نہیں؟ مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ طاہر القادری شوق سے کیا کھاتے ہیں۔جو میں نے سناہے کہ وہ شاید سبزی اورآلو قیمہ پسند کرتے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بارے میں میں بتا سکتا ہوں کہ وہ کھانے میں کیا پسند کرتے ہیں اور اگر ان کومولانا طاہر القادری نے کھانے کی دعوت دی تو مینو کیا ہونا چاہیے۔ تحریک انصاف کے سربراہ کو دیسی مرغ ، شکار کا گوشت جس میں بیٹر، تتر ، مرغابی سمیت کوئی بھی شکار ہو بہت پسند کرتے ہیں ساتھ ہی بکرے کی ران روسٹ بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔ ان تمام پکوان کو دیسی گھی میں پکوایاجائے تو بہت اچھا ہوگا ۔ ان تمام اشیاءکو بتانا اتنا ضروری نہ تھا لیکن ان کے بارے میں تفصیلات اس لیے بتا رہا ہوں کہ طاہر القادری صاحب کو کسی سے پوچھنا نہ پڑے۔ اب بات کر لیتے ہیں ملکی سیاست کی ۔ پاکستان تحریک انصاف اورپاکستان عوامی تحریک کو ایک مرتبہ پھر قریب لانے میں شیخ رشید نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ چونکہ شیخ رشید صاحب کا خیال ہے کہ اگر 30 روز کے اندر حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک نہ چلائی گئی تو حکومت کا جانا نہ ممکن ہوگا اور الیکشن2018ءمیں ہی ہوں گے اور شیخ صاحب یہ مطلع بار کہہ چکے ہیں کہ اگر میاں نوازشریف کی حکومت 2018ءتک رہی تو اس کے بعد بھی اگلی حکومت مسلم لیگ ن کی ہی ہوگی اور ان کو ہرانا تقریباً نہ ممکن ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ صاحب اپوزیشن کو متحرک کرنے میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف جو کہ عوامی دباﺅ حکومت پر بنا رہی رہے اس سلسلے میں تحریک انصاف ملک بھر میں جلسے اور ریلیاں کر رہے ہیں۔ میری ناقص عقل کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ عوامی دباﺅ اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے حکومت کو دباﺅ میں رکھا جائے تاکہ حکومت کوئی بڑی غلطی کر سکے۔ اگر حکومت کوئی بڑی غلطی کرتی ہے تو قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اور اگر حکومت کوئی بڑی غلطی نہیں کرتی اور قبل از وقت انتخابات نہیں ہوپاتے تو کم از کم حکومت کو 2018ءکے الیکشن تک مسلسل دباﺅ میں رکھا جائے گا اور عوام میں حکومت کی بدعنوانی اور حکمرانوں کی کرپشن کا ایشو زندہ رکھا جائے ۔ تحریک انصاف موجودہ صورتحال کے پیش نظر بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ عوامی رابطہ مہم جس کا نام انہوں نے احتساب موومن رکھا ہے۔ اس میں ملک کے تمام اپوزیشن حماعتیں ان کے ساتھ دیں گی۔ اسی ضمن میں انہوں نے اپنی پارٹی رہنماﺅں کی دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کی ڈیوٹی بھی لگائی اور تحریک انصاف کو دوسرے درجے کی قیادت جس کی سربراہی پارٹی کے جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی ، سنی تحریک اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے سمیت عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری سے ملاقاتیں کیں۔ اطلاعات ہیں کہ جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی اور دیگر چند سیاسی جماعتوں نے عمران خان کی احتساب ریلی میں علامتی طور پر شرکت کی یقین دہانی کروائی جبکہ پاکستان عوامی تحریک ، سنی تحریک سمیت دیگر مذہبی جماعتوں نے پاکستان تحریک انصاف کی احتساب ریلی میں بھرپور شرکت کا وعدہ کیا۔ یہ عمل باعث تعجب ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے جہانگیر ترین کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کے وفد اور عوامی تحریک کے سربراہ شیخ رشید کے ساتھ مشترکہ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ لاہور میں ہونے والی پی ٹی آئی کی احتساب ریلی میں بھرپور شرکت کریں گے جبکہ ان کی جماعت پاکستان عوامی تحریک اسی روز یعنی کے 3ستمبر کو پنڈی میں حکومت کے خلاف عوامی اجتماع کر رہی ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک طرف پاکستان عوامی تحریک عمران خان کے ساتھ لاہورکی ریلی میں شامل ہونے کے لئے اپنے کارکنوں کو شرکت کی اپیل کر رہے ہیں جبکہ خود پنڈی میں بھرپور دھرنا دے رہے ہیں ۔پاکستان عوامی تحریک کے کارکن کی روایت رہی ہے کہ وہ جہاں بھی ان کااجتماع ، دھرنا یا سیاسی پروگرام ہو تو تمام کارکن وہاں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا طاہر القادری کی جماعت کے کارکن پنڈی میں ہونے والے اپنے اجتماع میں بھرپور شرکت کریں گے جبکہ لاہور میں ہونے والی پاکستان تحریک انصاف کی عوامی ریلی میں مولاناکی جماعت کی علامتی شرکت ہوگی۔ پاکستان تحریک انصاف عروج کا آغاز لاہور کے تحریکی مینار پاکستان کے جلسے سے ہوا ۔مجھے ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں مل رہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنی لاہور میں ہونے والی ریلی میں تمام سیاسی جماعتوں کوشرکت کی دعوت کیوں دی ہے اور اگر دی ہے تو یہ کیوں کہا ہے کہ سب اپنے اپنے کینٹینر پر آئیں۔ اگر کپتان حکومت کے خلاف تمام اپوزیشن کو ملا کر بھرپور عوامی تحریک چلانا چاہتے ہیں تو پھر اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے سربراہوں کو ایک کنٹینر پر ہونا چاہیے تا کہ حکومت کو یہ تاثر دیا جائے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف یکجا ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے آج کل سیاسی مشیر کون ہیں میں وثوخ سے نہیں کہہ سکتا لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ کپتان کے ساتھ مخلص نہیں۔ عمران خان کے مشیروں سے عمران خان کو وقتی طور پر سیاسی فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کو نقصان ہو رہاہے اور روز بہ روز پارٹی اختلافات میں شدت آ رہی ہے۔ خان صاحب نے جہلم سے فواد چوہدری جبکہ بورے والا سے عائشہ نذیر جٹ کو حالیہ ہونے والے ضمنی الیکشن میں پارٹی ٹکٹ دی ہے۔فواد چوہدری نے جہلم NA67 سے پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن میں حصہ لیا ۔ اگرچہ انہوں نے 2013ءکے الیکشن کے مقابلے میں 30 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے لیکن جہلم سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے کارکن انکوٹکٹ دیئے جانے پر خوش نہ تھے ان کا مو¿قف ہے کہ فواد چوہدری متعدد بار سیاسی جماعتیںتبدیل کر چکے ہیں وہ پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر الیکشن صرف اس لیے لڑے کہ ان کے پاس کوئی اوراچھا (0pption)آپشن نہ تھا اسی طرح بورے والا سے پی پی 232کی ٹکٹ عائشہ نذیر جٹ جو کہ سابقہ ایم این اے نذیر جٹ کی بیٹی ہے ان کو دی گئی۔ نذیر جٹ پہلے ق لیگ اور پھر پیپلز پارٹی میں رہ چکے ہیں ۔ اب ان کے لئے بہتر آپشن پی ٹی آئی تھا اور پاکستان تحریک انصاف نے بہتر امیدوار ہونے کے ناطے ان کو ٹکٹ جاری کر دیا۔ اس فیصلے کو بھی بورے والا کی تحریک انصاف کی قیادت نے نہیں سراہا بلکہ ان کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف بھی ایک روایتی سیاسی جماعت بن چکی ہے جو نظریات کی بجائے دھرہ بندی اور برداری کی سیاست کواہمیت دے رہی ہے۔ عائشہ نذیر جٹ کے بارے میں انتخابی مہم شروع ہوتے وقت یہ تاثر عام تھا کہ وہ با آسانی ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوجائیں گی۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز جو کہ جہلم اور بورے والا دونوں الیکشنوں کی براہ راست نگرانی کر رہے تھے ان کو بھی یہی اطلاعات مل رہی تھیں کہ عائشہ نذیر جٹ انتہائی مضبوط امیدوار ہیں اوران کو ہرانا آسان نہ ہے کیونکہ ان کے والدنذیر جٹ برادری اور دھروں کی سیاست کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور یہی سے 2008ءمیں وہ آزاد حیثیت سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں ۔ نذیر جٹ جوکہ اپنی بیٹی کی خود کمپیئن بھرپور انداز سے چلا رہے تھے ان کو بھی یقین تھا کہ وہ یہ سیٹ با آسانی جیت جائیں گے مگر ایسا نہ ہوا حمزہ شہباز شریف کی ٹیم نے اس حلقہ میں بھرپور عوامی رابطہ مہم چلائی اور میری اطلاعات ہیں کہ یہاں سے پی ٹی آئی کے سابقہ ٹکٹ ہولڈر سمیت پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے اہم رہنماﺅں پس پردہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ اپنے زیر اثر لوگ اور دھروں کے ووٹ بھی مسلم لیگ ن کو دلوائے ہیں۔ مجھ یقین ہے کہ کپتان کو ان کے رفقاءنے دونوں ضمنی انتخابات کے حوالے سے یہ بریفنگ دی ہوگی کہ پارٹی نے بھرپور طریقے سے پرفارم کیاہے جس سے پارٹی کی مقبولیت کااندازہ لگایا جاسکتاہے اور ان سے اصل حقائق پوشیدہ رکھے ہوں گے۔ کپتان سے درخواست ہے کہ وہ اپنی آنکھیں اورکان چند قریبی مشیروں کی جانب مرکوز کروانے کی بجائے اپنے عام ورکر کی آواز اور رائے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

Continue Reading

کالم کلوچ

جنت کا دروازہ

Published

on

میں سڑک کنارے پیدل چل رہی تھی کہ اچانک میرے کانوں میں ایک صدا گونجی اوئے پترا۔۔۔۔۔ ان الفاظ سے دل میں عجب سا درد محسوس ہوا اور میرے قدم وہیں رک گئے۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک بوڑھا جس کی جھکی کمر موٹے شیشوں والی عینک کانپتے ہاتھ، صاف ستھرے کپڑے سفید پگڑی سر پر اور وہ زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔ جب میں نے دیکھا تو وہ کچھ بول نہیں پا رہا تھا وہ اپنے کانپتے ہاتھ آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن پھر بھی اس کے ہاتھ اٹھ نہیں رہے تھے۔ دیکھنے سے صاف ظاہر تھا کہ بھیک مانگنے میں کتنی شرمندگی ہو رہی ہے اسے۔ مجھ سے رہا نہ گیا تو میں نے اس ضعیف مانس سے پوچھا کہ آپ اچھی نسب کے لگتے ہو تو یہ فقیری کیوں؟ تو اس کی آنکھوں میں اشک بھر آئے۔ عینک کے نیچے سے ہی دونوں ہاتھوں سے وہ اپنے اشک سمیٹنے لگا۔ میں نے بات کو دہراتے ہوئے کہا بتائیں ناں بابا۔ تو اس نے ڈگمگاتی ہوئی آواز سے بتایا۔ آج صبح میں کمرے میں سویا ہوا تھا اچانک میری آنکھ کھلی تو میرے کانوں میں کچھ آوازیں آئی جب میں نے غور کیا تو میرے بچے بحث کر رہے تھے میرا چھوٹا بیٹا جس کے ساتھ میں پچھلے تین سالوں سے رہ رہا تھا وہ اب مجھ سے مخلصی چاہتا ہے جب تک جائیداد میرے نام تھی بہت تابعداری کی میری۔ لیکن اب جب اپنی ساری جمع پونجی میں نے تینوں بیٹوں کو برابر حصوں میں تقسیم کر دی تو میرے چھوٹے صاحبزادے کو اس بات پر اعتراض تھا کہ جب حصہ سب کو برابر ملا تو پھر باپ کی کفالت مجھ اکیلے کے حصے میں کیوں؟ مجھے کس بات کی سزا ہے؟ اور میرے دونوں بڑے بیٹے یہ کہہ رہے تھے کہ ماں باپ چھوٹے کے حصے میں ہی آتے ہیں ہم نے پہلے بہت کیا باپ کیلئے اب تمھاری باری ہے تب میرا چھوٹا بیٹا میری ضروریات زندگی کا حساب کرنے لگا یہاں تک کہ تین وقت کے کھانے کی ضرب تقیسم کرنے لگا۔ اس وقت مجھے ان کا بچپن یاد آ گیا جب میں خود بھوکا رہ کر ان کو تین وقت کا کھانا کھلاتا تھا اپنی خواہشات کو دفن کر کے ان کو اس لائق بنایا کہ وہ اپنی خواہشات پوری کر سکیں۔۔۔ اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے بوڑھا باپ بولا ان ہاتھوں نے ہمیشہ اپنی اولاد کو دیا ہے آج یہی ہاتھ اسی اولاد کے منہ در منہ پھیلاتے ہوئے مجھے لاج آتی ہے۔ میری کل کائنات میری اولاد ہے انھیں لگا کہ ہمارا باپ اونچا سنتا ہے مگر ان کا ایک ایک لفظ میرے کانوں میں گونج رہا تھا اور میں بنا کچھ بولے وہاں سے نکل آیا۔ بھیک مانگتے ہوئے لوگوں کی گالیاں برداشت کر لوں گا مگر اپنے بچوں کی طنزیہ باتیں سننے کی ہمت نہیں مجھ میں ۔
والدین کے دلوں میں اللہ تعالی نے محبت کے ایسے خزانے رکھ دئیے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتے اولاد فرمابردار ہو یا گستاخ والدین شفقت کی برسات کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اولاد تو والدین کا حساب آسانی سے کر لیتی ہے لیکن یہ نہیں سوچتے کہ والدین کی محبت اگر دولت کی ہی محتاج ہو تو پھر وہ اپنی جوانی کے بہترین دن رات اپنی اولاد پر خرچ کرنے کی بجائے دنیا کا مال جمع کرنے میں گزارتے۔ بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو اس کا تن بھی اس کے والدین ڈھانپتے ہیں تب کتنے پیسے دے کر وہ والدین کی محبت خدمت اور پیار خریدتا ہے۔ ماں کے پیروں تلے جنت ہے تو باپ جنت کا دروازہ ۔ باپ کے چہرے کی طرف ایک بار دیکھنا ایک حج جتنا ثواب ہے۔ بدبخت ہیں وہ اولادیں جو جنت کا دروازہ خود اپنے لیے بند کر لیتی ہی

Continue Reading

کالم کلوچ

ناشکری

Published

on

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے“ – قرآن پاک کی آفاقی سچائیوں سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ جب ہم اپنے فرائض ادا کرتے چلے جاتے ہیں تو ہمیں ہمارے حقوق بھی ملتے چلے جاتے ہیں یہ حقوق و فرائض کا ایک تعلق ہے جب یہ تعلق ٹوٹتا ہے تو مسائل ، شکوے، شکایات، ناشکرا پن، احتجاج اور بغاوت جنم لیتے ہیں۔ ہم اپنے حقوق کی بات تو بہت کرتے ہیں لیکن اپنے فرائض کی ادائیگی میں غفلت اور سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ اپنے ہر مسئلے کا ذمہ دار ہم دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔ قرآن پاک نے بھی فیصلہ کر دیا ہے کہ ”تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے سو تمہارے فعلوں سے ہے“۔ بہت سارے مسئلے ہم اپنے لیے خود پیدا کرتے ہیں اور پھر بیٹھ کر روتے ہیں۔ بحیثیت قوم کے ہمارا وطیرہ بن چکا ہے کہ ہم اپنے جائز و ناجائز مطالبات منوانے کے لیے احتجاج ، توڑ پھوڑ، جلاﺅ گھیراﺅ کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور احتجاج کے دوران ہم اپنی جہالت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں قومی املاک جو ہمارے ہی خون پسینے کی کمائی سے بنتی ہے ان کو جلاتے ہیں توڑ پھوڑ کرتے ہیں ، ٹائر جلا کر ماحول کو آلودہ کرکے بیماریوں کو دعوت دیتے ہیں، سڑکوں کو بلاک کر کے ایمبولینس میں مریضوں کی زندگی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ مسافروں کو مشکل میں ڈالتے ہیں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر، اُبلتے گٹر ، دن کے اوقات میں بھی چلتی سٹریٹ لائٹس ، سرکاری نلکوں سے ضائع ہوتا پانی، ملاوٹ پبلک اور سرکاری اداروں خصوصاً سرکاری ہسپتالوں کے گندے ٹوائلٹ، سرکاری منصوبوں کے پیسے ہڑپ کرنا یہ سب کس کی غیر ذمہ داری ہے؟ حکومت کی؟ نہیں بلکہ بحیثیت قوم ہماری اپنی، جب ہم اپن گھروں کو صاف رکھتے ہیں تو گلی محلوں، سڑکوں اور ہسپتالوں وغیرہ میں کیوں گند مچاتے ہیں کیااس میں بھی حکومت کا قصور ہے۔ ایک مفکر نے ٹھیک کہا تھا کہ ”جو قوم اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا نہیں کرتی ، ہروقت اپنے حقوق کا مطالبہ، احتجاج اور بھوک ہڑتال ، قرضہ اور آپسی لڑائی اس کا مقدر بن جاتی ہے“ بحیثیت قوم اگر ہم اپنی ذمہ داریاں ایمان داری سے ادا کرنا شروع کر دیں تو اللہ تعالیٰ ہم پر حکمران بھی ہر لحاظ سے اچھے ہی” نازل” کرے گا۔

Continue Reading
driving
انٹرنیشنل4 گھنٹے ago

خواتین کو ڈرائیونگ سکھانے والے نئے سکول قائم کرنے کا عندیہ

D R C
کھیل5 گھنٹے ago

سیزن کے افتتاحی میچ میں ویسٹرن آسٹریلیا کی نمائندگی سے محروم

flood
انٹرنیشنل5 گھنٹے ago

نائیجیریا: سیلاب کی زد میں آکر 100 سے زائد افراد ہلاک

Refugees
انٹرنیشنل5 گھنٹے ago

نیوزی لینڈ کا ڈیڑھ ہزار مہاجرین کو پناہ دینے کا اعلان

arrested
انٹرنیشنل5 گھنٹے ago

منشیات سمگلنگ میں 21 مشتبہ افراد کو 15سال کی سزا

knife attack
انٹرنیشنل5 گھنٹے ago

جاپان میں چاقو کے وار سے پولیس اہلکار ہلاک

niteen
انٹرنیشنل5 گھنٹے ago

شام میں ایران کے خلاف کارروائی نہیں رکے گی: بینجمن نیتن یاہو

Ranbir Kapoor
شوبز6 گھنٹے ago

کامیابی سنبھالنا ناکامی سے آسان ہے: رنیبر کپور

Hans Georg Maassen
انٹرنیشنل6 گھنٹے ago

جرمن انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ ہانس گیورگ ماسن عہدے سے برطرف

police crack down
پاکستان7 گھنٹے ago

پولیس کی کارروائی، شراب کا کنٹینر برآمد، ٹرک ڈرائیور گرفتار

shahid kapoor
شوبز7 گھنٹے ago

بھارتی فلم انڈسٹری میں اقربا پروری کیخلاف ہوگئے

British police
انٹرنیشنل7 گھنٹے ago

حادثہ یا دہشتگردی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پولیس کی کارروائی جاری

Shilpa
شوبز9 گھنٹے ago

11 سال بعد بالی ووڈ میں واپسی کیلئے تیار

sardar atiq
کشمیر9 گھنٹے ago

شریف خاندان کی رہائی کے پیچھے این آر او ہے:عتیق احمد خان

man marziyan
شوبز9 گھنٹے ago

’من مرضیاں‘ ریلیز کے بعد ہی قانونی شکنجے میں پھنس گئی

mariyam nawaz
پاکستان12 گھنٹے ago

مریم نواز نے رہائی کے بعد بڑا فیصلہ کر لیا

shahbaz shrif
پاکستان15 گھنٹے ago

شہباز شریف کی والدہ کو خوشخبری

nawaz shrif
پاکستان11 گھنٹے ago

رہائی کے بعد نواز شریف ،مریم نواز کی تازہ ترین تصاویر سامنے آ گئیں

mariyam orang zaib
پاکستان13 گھنٹے ago

مریم اورنگزیب جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں …….. رو پڑیں

faisal javed
پاکستان17 گھنٹے ago

نواز ، مریم اور صفدر کا اصل ٹھکانہ اڈیالہ جیل

nawaz shrif
پاکستان14 گھنٹے ago

مجھے یقین تھا اللہ تعالیٰ مجھے انصاف دے گا:نواز شریف

bilawal
پاکستان9 گھنٹے ago

بیگم کلثوم نواز کا انتقال شریف خاندان کیلئے ریلیف ہے: بلاول بھٹو

sardar atiq
کشمیر9 گھنٹے ago

شریف خاندان کی رہائی کے پیچھے این آر او ہے:عتیق احمد خان

nawaz maryiam and safdar
پاکستان14 گھنٹے ago

مشکل گھڑیاں ختم …….. اڈیالہ جیل سے رہا

Islamabad Accountability court
پاکستان22 گھنٹے ago

خواجہ حارث اور سردار مظفر عباسی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

maria wasti
شوبز21 گھنٹے ago

عشق میں ناکامی

ahsan, shahbaz and khwaja asif
پاکستان16 گھنٹے ago

نواز شریف کو سزاء دینا عمران کےلئے جیت کی راہ ہموار کرنا تھا :احسن اقبال

national accountability beauru
پاکستان15 گھنٹے ago

نیب کا نواز شریف کی سزا معطلی سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

Prime Minister imran khan interview
پاکستان10 گھنٹے ago

پاکستان سعودی عرب کی حمایت جاری رکھے گا: عمران خان

k-Electric company
پاکستان13 گھنٹے ago

کے الیکٹرک اورکرنٹ لگنے سے معذوربچے کے اہل خانہ میں سمجھوتہ

مقبول خبریں