Khouj English Advertising Privacy Policy Contact Us
Connect with us

کالم کلوچ

سعد رفیق کو آئینہ دکھانے کی ضرورت

Rashid Saeed

Published

on

rana noor

بلا شک و شبہ پاکستان ریلوے کی کارکردگی اور سروس پر ہمیشہ سے سوالیہ نشان رہا ہے مگر اس سے بھی بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ دور حاضر میں ریلوے کا سفر ملک گیر اور شہری علاقوں میں مقبولیت حاصل کرچکا ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں ریلوے پر ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرنا ایک فیشن تصور کیا جاتا ہے اس کے برعکس پاکستان میں ریلوے کی بنیاد آج تک درست سمت میں نہیں ڈالی جاسکی ۔اپر کلاس سے لے کر لوکل کلاس تک کا سفر پاکستانیوں کیلئے بے حد تکلیف دہ اور ایک مشکل امتحان کی طرح سے ہے موجودہ حکومت نے گزشتہ برسوں کے دوران چند ریلوے انجن فعال کرکے اور اپنی کچھ اراضی واگزار کراکے اسے اپنا تاریخی کارنامہ قرار دینے کی بہت کوشش کی مگر ریلوے پر سفر کرنے والے آج بھی بہت سی مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہیں۔

گزشتہ دنوں مجھے لاہور سے ملتان تک کا سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ ایک طویل عرصہ کے بعد ریلوے پر سفر کررہا تھا اور میں نے اے سی پارلر کا ٹکٹ لیا ہوا تھا مگر اس نام کے لگژری کلاس سفر میں مجھے بہت سی اذیت برداشت کرنے کو ملیں۔دیکھنے میں آیا کہ اس نام کی لگژری کلاس میں صفائی کا ناقص انتظام اور مچھروں کی بہتات تھی جبکہ بدبودار ماحول بھی مزاج پر گراں گزر رہا تھا اور یہ سب کچھ برداشت کرتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ اگر لگژری کلاس کے مسافروں کو اس تعفن زدہ اور مچھروں سے بھرے ماحول میں سفر کرنا پڑتا ہے تو لوکل کلاس کے مسافروں پر کیا بیتتی ہوگی۔ ایک المیہ یہ بھی رہا کہ جب بدبودار ماحول اور مچھروں کی موجودگی کے بارے میں ریلوے انتظامیہ سے بات کی گئی تو انہوں نے بدلتے ہوئے سرد موسم میں پھنکا چلا کر لاہوری مچھروں کو بھگانے کا مشورہ دے ڈالااور میں اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ مجھے پاکستان ریلوے کے وفاقی وزیر اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں پر شدید غصہ آرہا تھا جو ریلوے کو ترقی اور جدت دینے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور ان کا موقف ہمیشہ یہ رہتا ہے کہ ریلوے کو بہتری کی سمت رواں دواں کردیا گیا پھر مجھے لاہور میں گزشتہ دوبرسوں سے جاری اورنج لائن ٹرین منصوبہ کی یاد بھی آگئی جسے نیم سرکاری اداروں چلانا ہے میں سمجھتا ہوں کہ جس ملک میں سرکاری خزانہ سے چلنے والی قومی ریلوے سروس میں بے پناہ خرابیاں اور قباحتیں موجود ہیں اور آج بھی پاکستانیوں کیلئے ریلوے کا سفر تکلیف دہ ہے وہاں پر اورنج لائن ٹرین چلانے کا منصوبہ کیونکر اور کیسے کامیاب ہوگا۔

اب میں حکومت پنجاب کی کارناموں کا ذکر کروں تو میں بخوبی آگاہ ہوں کہ پرائیویٹ سیکٹر کے تحت چلنے والی لگژری گاڑیوں پر اور ان میں صفائی ستھرائی پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے جس کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ملک بالخصوص پنجاب میں ڈینگی کے خطرات ہر سال لاحق ہوتے ہیں اس لیے نجی سیکٹر کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سختی تاکید کی جاتی ہے اور انہیں اس بات کا پابند بھی کیا جاتا ہے کہ وہ بسوں کے اندر اور اڈوں پر روزانہ کی بنیاد پر ڈینگی سے بچاؤ سپرے کروائیں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں حکومت کی ان ہدایات کو قانونی بھی قرار دے دیا گیا ہے جبکہ اس قانون سے سرکاری اداروں کے ماتحت ریلوے اور ٹرانسپورٹ سروس مبرا سمجھا جاتا ہے بحیثیت ایک عام شہری میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ یہ قانون اور ہدایات سرکاری ٹرانسپورٹ سروس اور ریلوے پر لاگو کیوں نہیں کی جاسکتیں۔ تھوڑی سی غلطی بھی نجی سیکٹر میں چلنے والی بسوں پر جرمانہ کی صورت میں عذاب بن کر نازل کردی جاتی ہے جبکہ مجھ سمیت ان تمام نجی بسوں میں سفر کرنے والوں کو معلوم ہے کہ وہ بے حد احتیاط برتتے ہیں، صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اگر کوئی مسافر شکایت کردے تو فوری ازالہ بھی ہوتا ہے مگر اس کے باوجود ان پر بھاری جرمانوں کی تلوار لٹکی رہتی ہے ہماری سرکار جس طرح بیساکھیوں کے سہارے چل رہی ہے اسی طرح پاکستان ریلوے بھی لولے لنگڑے نظام کی طرح فراٹے بھر رہاہے کہا جاتا ہے کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران پاکستان ریلوے نے انقلابی انداز میں ترقی اور بہتری کا سفر طے کیا مگر بہت لوگ جانتے ہیں کہ ریلوے آج بھی سالانہ 20ارب کے خسارے میں ہے جو وزارت ریلوے کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ ہے ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ پاکستان ریلوے اور اس سے متعلقہ وزارت جو سرکاری خزانے پر ایک بھاری بھرکم بوجھ ہے وہ بلاتاخیر اپنا قبلہ درست کرے۔

کالم کلوچ

سعودی ولی عہد کی آمد اور بھارتی سازشیں

Rashid Saeed

Published

on

kamran Goreya

تحریر: کامران گورائیہ

خطے میں امن و امان کی دیرپا قیام کے لیے پاکستان کی کوششوں کے نتیجہ میں جب بھی کوئی مثبت پیشرفت ہونے لگتی ہے تو غیر ملکی طاقتیں مخالفانہ سرگرمیوں کا آغاز کر دیتی ہیں ۔ خاص طور پر بھارت پاکستان میں ہونے والی تمام اہم سرگرمیوں اور پیشرفت کے حوالہ سے پریشانی میں مبتلا ہو کر سازشوں کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ان دنوں تاریخ ساز دورہ پر پاکستان آئے ہوئے ہیں ان کی آمد سے دو روز قبل مقبوضہ کشمیر میں خود کش حملہ بھی بھارت کی رچائی ہوئی ایک ایسی سازش ہے جس کا الزام پاکستان پر لگایا جا رہا ہے ۔پچھلے ایک ماہ کے دوران پاکستان نے امریکا اور افغان طالبان کے درمیان نتیجہ خیز مذاکرات کروانے میں سہولت کار کا کردار ادا کر کے ایسے نتائج دیئے جسے خود امریکا نے بھی حوصلہ افزاء قرار دیا۔ امریکا کے علاوہ بہت سے دیگر عالمی قوتیں اور ممالک افغان طالبان سے امن مذاکرات کو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ یورپ اور امریکا سمیت عرب دنیا نے بھی امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کو ناصرف جنوبی ایشیاء بلکہ پوری دنیا میں قیام امن کے لیے خوش آئند قرار دیا۔ بھارت ہمیشہ سے خطہ میں امن و امان کے لیے کئی جانے والی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے سازشوں میں مصروف رہا ہے۔ ممبئی حملے ہوں یا پھر سمجھوتہ ایکسپریس پر دہشت گرد حملہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہمیشہ ہی سے مسئلہ کشمیر کو لے کر اختلافات رہے ہیں یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بھارت میں جب بھی انتخابات کا وقت قریب آتا ہے تو وہاں کی سیاسی جماعتیں پاکستان مخالفت کو سلوگن بنا کر انتخابی میدان میں اترتی ہیں ۔ مودی سرکار بھی ایک بار پھر بھارت میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان کو ملوث کرنے کا حربہ استعمال کر رہی ہے کبھی اسٹرٹیجک سرجیکل سٹرائیک ہو یا پھر ایل او سی پر ہونے والی اشتعال انگیزیاں بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو امن تباہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور دنیا کو باور کروانے کی کوشش کی کہ پاکستان خطے میں امن و امان کے قیام میں سنجیدہ نہیں ہے بلکہ وہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہیے مگر اقوام متحدہ ، امریکا اور یورپ یا پھر عالمی سطح پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں سبھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ بھارت کھلے عام مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کو پامال کرنے اور نہتے کشمیریوں پر بربریت اور ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے سے باز نہیں آ رہا ۔ یہی نہیں بلکہ بھارت کی ہٹ دھرمی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی مبصرین کو مقبوضہ وادی کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا اس کے برعکس پاکستان نے ہمیشہ غیر ملکی مبصرین کو آزاد کشمیر سمیت ملک بھر کے دورے کرنے کی دعوت مسلسل دیتا آیا ہے۔ پاکستان اس بات کی اہمیت کو بخوبی سمجھتا ہے کہ افغانستان میں امن کا قیام خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے ۔ پاکستان اور افغانستان کا امن ناصرف جنوبی ایشیاء بلکہ دنیا بھر میں امن و امان سے وابستہ ہے، بھارتی ہٹ دھرمی ہمیشہ ہی سے خطے میں امن و امان کے قیام میں رکاوٹ رہی ہے۔ 

2015ء میں چینی صدر کے دورہ پاکستان کے نتیجہ میں سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کے آغاز پر بھی بھارت کے پیٹ میں درد ہونے لگ گئی تھی اور اس نے پاکستان کی مخالفت میں سازشوں کا آغاز کر دیا تھا ۔ بھارت افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھا چکا ہے کہ وہاں پر بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے ۔ پاکستانی حدود میں دہشت گردی کے جتنے بھی واقعات رونما ہوئے ان میں بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں جنہیں پاکستان تمام عالمی فورمز پر پیش کر چکا ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو بھی پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کر چکا ہے مگر بھارت اسے اپنا شہری تسلیم کرنے سے مسلسل انکار کر رہا ہے جبکہ یہ بات بھی ریکارڈ میں موجود ہے کہ کلبھوشن یادیو کی اہلیہ نے گذشہ برس بھارت ہی سے پاکستان آ کر اپنے شوہر سے ملاقات کی تھی۔ بھارتی ہٹ دھرمی اب بھی جاری ہے اور وہ ہر محاذ پر پاکستان کی مخالفت کر رہا ہے ۔ بھارت میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات بھی پاکستان کی مخالفت کر کے لڑے جا رہے ہیں۔ بھارت ہمیشہ سے کالعدم تنظیم جیش محمد کو بھارت میں رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہراتا آیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں پر ہونے والے خود کش حملہ کا ذمہ دار بھی جیش محمد کو ٹھہرا جا رہا ہے مگر آج تک بھارت کسی بھی عالمی فورم پر جیش محمد کے وجود اور پاکستان سے تعلق کو ثابت نہیں کرسکا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آئندہ عام انتخابات میں اپنی کامیابی کو ممکن بنانے کے لیے پاکستان مخالفت میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ اب بھارت اپوزیشن جماعتیں بھی ان کے دعوؤں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے رہی ہیں حتیٰ کہ مودی کی سیاسی جماعت میں بھی اس بات پر تضاد پایا جاتا ہے کہ مودی الیکشن جیتنے کے لیے پاکستان ہی کی مخالفت کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں۔ بھارت کی تمام سیاسی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ انتخابات میں کامیابی ملک اور عوام کی خدمت اور کارکردگی سے حاصل ہوتی ہے صرف اور صرف ہمسایہ ممالک کو ٹارگٹ کر کے کامیابی حاصل کرنا دانشمندی نہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے بھارتی میڈیا کے اس پراپیگنڈہ کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے کہ بھارتی فوجیوں پر ہونے والے حالیہ خود کش حملہ میں پاکستان یا وہاں سے تعلق رکھنے والی کوئی انتہاء پسند جماعت ملوث ہے۔ 

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان نے بھارت کی راتوں کی نیند اڑا کر رکھ دی ہے اور وہ اس کوشش میں ہیں کہ یہ دورہ کسی بھی صورت میں کامیاب نہ ہو سکے مگر امریکا ، سعودی عرب ، چین ، روس اور افغانستان پہلی مرتبہ امن و امان کے قیام کے لیے پاکستانی کوششوں کی کامیابی کے خواہش مند ہیں ۔ سعودی عرب بھی افغانستان اور پاکستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے انتہائی سنجیدہ نظر آتا ہے ۔ سعودی عرب کی خواہش ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں امن و امان قائم ہو اور یہ دونوں ہمسایہ ممالک ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہونے کے لیے اپنے مقاصد کو حاصل کر لیں۔ ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان سے پہلے ہی بہت سی شاہراؤں پر سعودی حکمرانوں کے خلاف نفرت انگیز تحریریں لکھی گئی ہیں ان تحریریوں کے ذریعے یہ باور کروانا ہے کہ عرب دنیا پاکستان سے محبت نہیں کرتی اور یہاں کے عوام میں ان کے لیے بے پناہ مخالفت پائی جاتی ہے ۔ پاکستان میں امن و امان کے لیے پاک فوج نے کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے اور اب امریکا کے ساتھ افغان طالبان کے مذاکرات میں بھی مثبت پیشرفت ہو رہی ہے جسے دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ ان حالات میں بھارت کو اپنی روایتی ہٹ دھرمی سے گریز کرتے ہوئے اس حقیقت کو سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان خطہ کا اہم ملک ہے اور آنے والے وقتوں میں اسے دنیا بھر میں مزید اہمیت حاصل ہوتی چلی جائے گی۔ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ کی تکمیل سے پاکستان دنیا بھر کے لیے اقتصادی راہداری کے طور پر اہمیت اختیار کر جائے گا ۔ بھارت کو بھی اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر کا حل فوج کے ظالمانہ اور انسانیت سوز سلوک سے نہیں بلکہ مذاکرات سے ممکن ہے۔ آئندہ انتخابات کے نتیجہ میں اقتدار میں آنے والی نئی بھارتی حکومت پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے پاکستان اور کشمیر کی حریت قیادت سے فیصلہ کن مذاکرات کرے۔

Continue Reading

کالم کلوچ

شہباز کی پرواز

Rashid Saeed

Published

on

kamran Goreya

تحریر: کامران گورائیہ
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے عہدہ سے ہٹانے کی بھرپور تیاریاں کی جا رہی ہیں ۔ حکومتی حلقوں میں زبان زد عام ہے کہ میاں شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنانا بڑی غلطی تھی اور اس غلطی کو اسی صورت میں سدھارا جا سکتا ہے کہ ان سے یہ عہدہ چھین لیا جائے۔ تمام اپوزیشن جماعتیں اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں کہ بطور چیئرمین پی اے سی شہباز شریف کی پرواز افق پر درست سمت کی طرف جا رہی ہے اور حکومت شہباز شریف سے خوفزدہ نظر آ رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو ان کے پارٹی رہنماؤں نے آگاہ کیا ہے کہ میاں شہباز شریف کو پی اے سی کی چیئرمینی سے کیسے ہٹایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مہمند اور بھاشا میر ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ ڈیسکون کمپنی کو دینے کے معاملے پر حکومت پہلے ہی سے شدید تنقید کا شکار ہے جبکہ عمران خان کو یہ اشارے بھی ملے ہیں کہ میاں شہباز شریف کے معاملات کہیں اور بھی طے ہونے جا رہے ہیں اس صورت حال کے پیش نظر جتنی جلد ممکن ہو انہیں چیئرمین پی اے سی کے عہدہ سے فارغ کرنا وقت اور حالات کا تقاضا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے میاں شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی کے عہدہ پر اس مقصد سے قبول کیا تھا کہ قانون سازی کے عمل میں اپوزیشن جماعتوں کی نمائندگی لازم ہے اور حکومت کے لیے قومی امور اور پارلیمنٹ کو چلانا مشکل ہو رہا تھا۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے عمران خان کے اتحادی اور وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید نے شہباز شریف کی مخالفت کرنا شروع کی تھی انہوں نے اس معاملہ کو عدالت میں لیجانے کا بھی فیصلہ کیا تھا مگر حکومت کی بے یقینی اور ملک کو درپیش بدترین معاشی بدحالی کی وجہ سے کوئی نتیجہ فوری طور پر نکلتا ہوا نظر نہیں آ رہا ۔ عمران خان پچھلے کئی روز سے اپنے بیانات میں جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہیں وہ خواہش رکھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کو سیاست سے بالکل آؤٹ کر دیا جائے مگر فیصلہ ساز اس فارمولے کو مسترد کر چکے ہیں ۔ عمران خان کے اپوزیشن مخالف بیانات اور لہجے کی تلخی اس بات کا اشارہ بھی دے رہی ہے کہ اب حالات ان کے ہاتھ میں نہیں ہیں وہ بے بسی کی کیفیت سے دو چار ہیں ۔ عمران خان کے بیانات کی تلخی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انہیں کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں مل رہا۔ 
وزیراعظم عمران خان کو ترجیحی بنیادوں پر جن مسائل کو حل کرنا ہے ان میں ملک کی معاشی ابتری ، مہنگائی پر کنٹرول، ڈالر، بجلی اور گیس کی اونچی اڑان کو قابو میں رکھنا شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے سعودی عرب، ترکی ، ملائیشیا، قطر اور چین کے دورے بھی کیے جو زیادہ کامیاب نہیں قرار دیئے جا سکتے۔ آئی ایم ایف سے عمران خان کے مذاکرات کامیاب تو ہو چکے ہیں مگر اس کے لیے انہیں عوام پر کھربوں روپے مالیت کے نئے ٹیکسز عائد کرنے کا چیلنج درپیش ہے ۔ اپنی سیاسی جماعت کی ساکھ کو بھی بچانہ عمران خان کے لیے درد سر بن چکا ہے۔ عمران خان دو ٹوک فیصلے کرنے کے قائل رہے ہیں مگر انہیں اپنی اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ اس سلسلہ میں بلوچستان سے اختر مینگل گروپ ، سندھ سے ایم کیو ایم اور فنگشنل لیگ جبکہ پنجاب سے ق لیگ کو بھی مطمئن رکھنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت پر عمران خان کی گرفت دن بدن کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے اسی وجہ سے وہ قبل از وقت انتخابات کے خواہشمند بھی ہیں۔ عمران خان کا خیال ہے کہ پچھلے 6 ماہ کے دوران ان کی حکومت نے عوام کی امنگوں کے مطابق احتساب کے عمل کو آگے بڑھا کر پہلے سے زیادہ مقبولیت حاصل کر لی ہے مگر حقائق یہ ہیں کہ عمران خان کی حکومت اگر کسی وجہ سے ختم ہو جاتی ہے تو پھر تحریک انصاف کی حیثیت ق لیگ جیسی ہو جائے گی جو پرویز مشرف کے اقتدار کا خاتمہ ہوتے ہی بے وقعت اور غیر مقبول ہوگی تھی۔ اس حقیقت کا ادراک تمام سنجیدہ سیاسی حلقوں کو بھی ہے۔ اس بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اب ملک کی 2 بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی عمران خان کو سلیکٹڈوزیراعظم قرار دے چکی ہیں۔ 
اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف بھی دور اندیشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کر رہے جس سے حکومت کو کمزور کرنے کی کوششیں قرار دیا جاسکتا ہو۔ میاں شہباز شریف نے حکومت کی مخالفت میں کسی تحریک کا اعلان کیا نہ ہی ایسی کسی پیشکش کی حوصلہ افزائی کی۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے اپنی جماعت کے سینئر سیاسی رہنماؤں کو اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ مکمل طور پر غیر جانبدار رہیں گے حکومت پر تنقید کی جائے گی مگر حکومت گرانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ شہباز شریف نے اپنی جماعت کے رہنماؤں کو یہ بھی بتایا ہے کہ بہت جلد انہیں ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہا ئی مل جائے گی اور وہ بہت جلد عوام کے درمیان ہوں گے۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو آگاہ کیا کہ معاملات تیزی سے بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں بہت جلد اچھا وقت آنے والا ہے ۔ شہباز شریف نے ملک بھر میں مسلم لیگ ن کی تنظیم نو کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں ۔ اس بات کے بھی قوی امکانات ہیں کہ پارٹی قائد میاں نوازشریف بھی بہت جلد ضمانت پر رہا ہو کر عوام کے درمیان ہوں گے۔ اپنی گرفتاری سے قبل میاں نواز شریف نے ن لیگی رہنماؤں کو عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کی ہدایت بھی کی تھی جس پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔ ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے یہ انداز لگانا مشکل نہیں کہ مسلم لیگ ن پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے ۔ ن لیگ کا مستقبل عوام کی خوشحالی سے وابستہ ہے۔ مسلم لیگ ن کے سابقہ دور حکومت میں ملکی معیشت بہترین ڈگر پر چل نکلی تھی جسے غیر مستحکم کرنے کے لیے پہلے میاں نواز شریف کو نا اہل کروایا گیا بعد ازاں انہیں پارٹی صدارت کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا تھا مگر میاں نواز شریف نے اپنی نا اہلی اور پارٹی صدارت کے عہدہ سے فراغت کے بعد بھی حوصلہ مندی کا ثبوت دیا وہ خندہ پیشانی سے عدالتی فیصلوں کو قبول کرتے ہوئے جیل میں قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی قربانی ملک کے شاندار مستقبل کے لیے رائیگاں نہیں جائے گی۔ بہت جلد حالات قابو میں آ جائیں گے اور مستقبل قریب میں ہی وہ پاکستانی سیاست میں ایک بار پھر پہلے سے بھی کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچیں گے ۔ مسلم لیگ ن کے تمام سینئر رہنماء یہ بات زور دے کر کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف وزیراعظم ہاؤس میں رہنے سے کہیں زیادہ جیل میں خطرناک ثابت ہوں گے ۔ میاں شہباز شریف اپنی پارٹی قائد کا صدق دل سے احترام کرتے ہیں اوران کے فیصلوں پر عمل کرتے ہیں ۔ میاں شہباز شریف کی پرواز کہاں تک ہوگی اس کا فیصلہ اگلے 2 ماہ میں ہوتا نظر آ رہا ہے۔ امید کی کرنیں مسلم لیگ ن کے لیے نمودار ہوتی چلی جا رہی ہیں بہت سی دیگر سیاسی جماعتیں بھی مارچ کو ملک کی سیاست میں ہلچل کا مہینہ قرار دے رہی ہیں۔

Continue Reading

کالم کلوچ

سابق وزیراعظم سے ملاقات

Rashid Saeed

Published

on

kamran Goreya

تحریر: کامران گورائیہ 

میں اپنے بڑے بھائی سیکرٹری اطلاعات لاہور عمران گورائیہ اور ایڈیشنل سیکرٹری لاہور توصیف احمد شاہ کے ہمراہ جب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے کوٹ لکھپت جیل پہنچا تو انہیں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کے کمرے میں ایک عام سی پرانی کرسی پر بیٹھے ہوئے دیکھا۔ ان سے ملاقات کے لیے آنے والے 20 سے 25 افراد بھی اس وقت کمرے میں موجود تھے جن سے وہ گفتگو کر رہے تھے ۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ملاقات کے لیے آنے والوں سے کھڑے ہو کر ملتے اور مصافحہ کرتے، ملاقات کے لیے آنے والے ان لوگوں سے جن سے ان کی پرانی آشنائی تھی ان سے ان کے اہلخانہ کی خیریت دریافت کرتے اور ان کے ساتھ گزارے ہوئے دنوں کی یادیں تازہ کرتے رہے۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ ان کے صحت بہتر نہیں تھی ان کا چہرہ ہشاش بشاش نہیں تھا ان کے ہاتھ بھی کپکپا رہے تھے ، چہرے پر روایتی تازگی بھی موجود نہیں تھی لیکن گفتگو کرنے میں ہمیشہ کی طرح ٹھہراؤ موجود تھا۔ وہ مکمل طور پر صحت مند نہیں ہیں اس کا ادراک انہیں خود بھی تھا۔ ملاقات کے لیے آنے والوں سے سیاست اور ملکی امور پر بھی گفتگو کر رہے تھے ۔ 

ہم جب ان سے ملے تو انہوں نے مصافحہ کرنے کے ساتھ ساتھ عمران گورائیہ اور توصیف احمد شاہ کو لاہور میں پارٹی کی از سر نو تنظیم سازی کرنے کی ہدایت بھی کی۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو جیل میں ہونے کے باوجود عمران خان حکومت کی کارکردگی اور کارگزاری سے مکمل طور پر آگاہی حاصل تھی اسی لیے انہوں نے کہا کہ ہمارے دورے حکومت میں شروع کیے گئے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں یا مکمل ہو نے والے ہیں ۔ لاہور سے خانیوال اور خانیوال سے رحیم یار خان موٹر وے منصوبے بھی مکمل ہو چکے ہیں مگر موجودہ حکومت ان کا افتتاح نہیں کر رہی۔ ایسا نہ کرنے سے عوام کی سہولت کے لیے بنائی گئی موٹروے کو استعمال نہیں کیا جا رہا۔ میاں نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ایل این جی اور سی این جی کے جن منصوبوں کو ملک کے نقصان کا سودا قرار دیا تھا آج وہ خود اس کی پہرے داری کر رہے ہیں۔ سی پیک پر تنقید کرنے والے اور اس منصوبہ کو بیکار کہنے والوں کی زبان کے یہ الفاظ ہیں کہ سی پیک ایک عظیم الشان منصوبہ ہے اور ملک کی ترقی کے لیے اس منصوبہ کی تکمیل انتہائی ضروری ہے ۔ میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے آنے والے ایک سابق کونسلر جنرل نے انہیں بتایا کہ عمران خان خود قبل از وقت الیکشن کروانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جس پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان الیکشن کروانے والے کون ہوتے ہیں ان کے پاس تو ایسا کوئی اختیار ہی نہیں ہے وہ ایک کٹھ پتلی وزیراعظم کی طرح ہیں جو صرف اشاروں اور ڈوروں پر ناچتے اور حرکت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خدا کا کام ہے کہ جب اسے منظور ہوگا الیکشن ہو جائیں گے ۔ ان کی گفتگو سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ وقت اور حالات میں موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر پائے گی اور ملک میں جلد انتخابات ہوں گے۔ 

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقاتیں کرنے والوں کے لیے 20سے 25 منٹ تک کا وقت مقرر تھا جس کے بعد اگلے ملاقاتی کمرے میں بھیج دیئے جاتے ۔ اراکین اسمبلی اور ن لیگی کارکنان بڑی تعداد میں میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے کھڑے تھے ۔ ان سے ملاقات کے لیے آنے والے تمام لوگوں نے اس عزم کا ارادہ ظاہر کیا کہ وہ ہمیشہ کی طرح اپنے قائد کے ساتھ کھڑے ہیں انہوں نے ہر طرح کے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔ میں نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف سے سوال کیا کہ میاں صاحب ! آپ کی جیل میں موجودگی کی وجہ سی پیک منصوبہ ہے جس پر وہ خاموش رہے۔ میں نے دوسرا سوال کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ چائینہ کے پاکستان میں موجود سفیر حکومتی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور چین کی حکومت پاکستان سے بری طرح ناراض ہے اس پر آپ کا کیا مؤقف ہے، وہ پھر خاموش رہے ۔میں نے پھر پوچھا کہ آپ کی حکومت ایک عالمی سازش کے تحت ختم کروائی گئی اور آپ کو وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹایا جانا بھی اسی سازش کا حصہ تھا جس پر انہوں نے کہا کہ اللہ اپنے بندوں کو آزمائش میں ڈال کر آزماتا ہے اور وہی ان مشکلات اور پریشانیوں کو ٹالنے والا ہے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ میرا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ پاکستان کا مستقبل تابناک ہے اور اس ملک کو آگے بڑھنے اور ترقی کرنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ ملاقات کے آخری لمحات میں میاں نواز شریف سے اپنے کارکنوں اور اراکین پارلیمنٹ سے کہا کہ میری فکر بالکل نہ کیا کریں بلکہ ملک کے بارے میں سوچیں اور ملک کی بہتری کے لیے اقدامات اور فکر کریں۔ 

ان سے ملاقات کی خاص بات یہ تھی جس کا مجھے تاثر ملا اور اس کی میں نشاندہی کرنا چاہوں گا کہ میاں نواز شریف بخوبی آگاہ ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اپنے بوجھ تلے دبتے چلے جا رہے ہیں، وہ یہ بھی جانتے تھے کہ عمران خان کی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کر پائے گی اور الیکشن وقت سے بہت پہلے ہو جائیں گے۔ ایک اور خاص بات جو میں نے میاں نواز شریف کے رویہ اور گفتگو سے محسوس کی کہ وہ بھرپور طور پر حوصلہ مندی سے جیل کی سزا کاٹ رہے تھے انہیں اپنے مستقبل کی فکر نہیں تھی بلکہ وہ ملکی حالات اور سیاسی امور پر دلائل اور مکمل فہم و فراست کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے۔ 

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد مجھے اس بات کا بھی پختہ یقین ہو گیا کہ انہیں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں پہلے سے علم تھا اور وہ جانتے تھے کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور وہ آنے والے حالات کے لیے تیار بھی تھے مگر وہ اپنی اسیری کی قربانی کو پاکستان اور عوام کے لیے ایک نئی امید بنتے دیکھنے کے خواہشمندبھی ہیں۔ اس حقیقت سے انکار کسی صورت ممکن نہیں کہ پاکستان نے چین کے ساتھ مل کر سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ جیسا منصوبہ جس دن سے شروع کیا یہ منصوبہ امریکہ اور بھارت کو روز اوّل سے ہی کھٹکنے لگا اور ان ممالک نے اس منصوبہ کو سبوتاژ کرنے کے لیے سازشیں گھڑنا شروع کر دیں۔ میاں نواز شریف نے جب سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے اربوں روپے کی پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے ایٹمی دھماکے کیے تھے تب بھی ان کی حکومت چھین لی گئی تھی اور ملک میں مارشل لاء نافذ ہو گیا تھا اس بار بھی وہ جیل میں صرف اور صرف سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کی وجہ سے سزا بھگت رہے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ ہمارے سیاستدان ملکی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے باشعور ہونے کا ثبوت دیں اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا اپنا کردار دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں کیونکہ یہ ملک ہے تو وہ ہیں عوام ہیں اور سیاست کی دنیا ہے جس میں رہتے ہوئے آگے بڑھتے رہنا اور ترقی کے عمل میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کردار ادا کرنا وقت اور حالات کی ضرورت ہے۔

Continue Reading
Correspondent Required at Khouj News
Advertisement
پاکستان4 منٹ ago

آرمی چیف کی یورپی یونین کی نمائندہ خصوصی سےملاقات

pakistani currency
پاکستان4 منٹ ago

8 ماہ میں پاکستان پر کتنا قرض، ہوشرباء انکشاف

ویڈیو11 منٹ ago

’ڈورہ اینڈ دی لاسٹ سٹی آف گولڈ‘کا ٹریلر جاری

پاکستان13 منٹ ago

نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ میں ردوبدل، سنسنی خیزانکشاف

Radar
پاکستان14 منٹ ago

دوست ملک کام آیا، پاکستان نے اپنی فضائی حدود ناقابل تسخیر بنا لیں: جانئے

پاکستان20 منٹ ago

چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے ہیلپ لائن قائم

پاکستان28 منٹ ago

یوسف رضا گیلانی نے وزیراعظم کو کھری کھری سنا دیں

child mother
پاکستان36 منٹ ago

بچے کی گولی سے ماں جاں بحق ہونے کے معاملے میں سنسنی خیز پیشرفت

paf superior
پاکستان39 منٹ ago

پاک فضائیہ کا طیارہ لینڈنگ کے دوران رن وے پرپھسل گیا

aalia,deepica,ranbhir
شوبز44 منٹ ago

فلم فیئرایوارڈز:محبتوں کا کھلےعام اظہار، راضی” اور”پدماوت” نےمیدان مارلیا”

president of pakistan dr arif alvi
پاکستان46 منٹ ago

چائلڈ لیبر کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح: صدر

shahbaz sharif
پاکستان58 منٹ ago

شہباز شریف کا نواز شریف کی صحت پر تشویشناک بیان

hindu girl
پاکستان1 گھنٹہ ago

اسلام قبول کرنے کے بعد ہائیکورٹ سے رجوع مگر کیوں؟

maryam aurngzaib
پاکستان1 گھنٹہ ago

مریم اورنگزیب نے عمران خان پر ایسا کیا الزام لگا دیا کہ

ruksana bangish
پاکستان1 گھنٹہ ago

جعلی اکاؤنٹس کیس، رخسانہ بنگش بھی نیب کے ریڈار میں

nawaz maryam and captain
پاکستان6 گھنٹے ago

ای سی ایل میں نام شامل کرنے کی درخواست پر کیا ہوا: بریکنگ نیوز

faheem ashraf
کھیل22 گھنٹے ago

فہیم اشرف آسٹریلیا کیخلاف سیریز سے باہر

cricket match
کھیل20 گھنٹے ago

پاکستان کوپھرشکست،آسٹریلیا کی برتری دو،صفر

superem court
پاکستان6 گھنٹے ago

آرٹیکل (3)184 کا مسئلہ، سپریم کورٹ کا دبنگ فیصلہ

blal ashraf mahira
شوبز22 گھنٹے ago

فلم ’’سپر اسٹار ‘‘ میں دھماکے دار انٹری

asif ghafoor
پاکستان9 گھنٹے ago

جے ایف 17 تھنڈر نے انڈین طیارے کو گرایا

najam sethi
کھیل6 گھنٹے ago

ن لیگ سے شکوہ، نجم سیٹھی دل کی بات زبان پرلے آئے

thailand
انٹرنیشنل21 گھنٹے ago

تھائی لینڈ میں انتخابات: نتائج کا اعلان آج ہوگا

exaam
پاکستان21 گھنٹے ago

میٹرک کے ملتوی امتحانات کے نئے شیڈول کا اعلان

amrood
صحت8 گھنٹے ago

امرود کے فوائد اس قدرحیرت انگیز کہ آنکھیں کُھل جائیں

fazal ur rehman
پاکستان24 گھنٹے ago

حکومت نے سات ماہ میں ہر روزقرضہ لیا

صحت6 گھنٹے ago

یہ پھل جلد اورامراض قلب کے لئے بہت مفید

supreme court
پاکستان4 گھنٹے ago

سپریم کورٹ نے ڈاکٹر سعید کو بیرون ملک جانیکی اجازت دیدی

PMLN worker
پاکستان7 گھنٹے ago

لیگی کارکنوں کو ٹرین روکنے پر کیا سزا ملی، جانئے

khursheed shah
پاکستان7 گھنٹے ago

خورشید شاہ کا عمران حکومت پر ایسا الزام کہ

مقبول خبریں