سعد رفیق کو آئینہ دکھانے کی ضرورت

بلا شک و شبہ پاکستان ریلوے کی کارکردگی اور سروس پر ہمیشہ سے سوالیہ نشان رہا ہے مگر اس سے بھی بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ دور حاضر میں ریلوے کا سفر ملک گیر اور شہری علاقوں میں مقبولیت حاصل کرچکا ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں ریلوے پر ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرنا ایک فیشن تصور کیا جاتا ہے اس کے برعکس پاکستان میں ریلوے کی بنیاد آج تک درست سمت میں نہیں ڈالی جاسکی ۔اپر کلاس سے لے کر لوکل کلاس تک کا سفر پاکستانیوں کیلئے بے حد تکلیف دہ اور ایک مشکل امتحان کی طرح سے ہے موجودہ حکومت نے گزشتہ برسوں کے دوران چند ریلوے انجن فعال کرکے اور اپنی کچھ اراضی واگزار کراکے اسے اپنا تاریخی کارنامہ قرار دینے کی بہت کوشش کی مگر ریلوے پر سفر کرنے والے آج بھی بہت سی مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہیں۔

گزشتہ دنوں مجھے لاہور سے ملتان تک کا سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ ایک طویل عرصہ کے بعد ریلوے پر سفر کررہا تھا اور میں نے اے سی پارلر کا ٹکٹ لیا ہوا تھا مگر اس نام کے لگژری کلاس سفر میں مجھے بہت سی اذیت برداشت کرنے کو ملیں۔دیکھنے میں آیا کہ اس نام کی لگژری کلاس میں صفائی کا ناقص انتظام اور مچھروں کی بہتات تھی جبکہ بدبودار ماحول بھی مزاج پر گراں گزر رہا تھا اور یہ سب کچھ برداشت کرتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ اگر لگژری کلاس کے مسافروں کو اس تعفن زدہ اور مچھروں سے بھرے ماحول میں سفر کرنا پڑتا ہے تو لوکل کلاس کے مسافروں پر کیا بیتتی ہوگی۔ ایک المیہ یہ بھی رہا کہ جب بدبودار ماحول اور مچھروں کی موجودگی کے بارے میں ریلوے انتظامیہ سے بات کی گئی تو انہوں نے بدلتے ہوئے سرد موسم میں پھنکا چلا کر لاہوری مچھروں کو بھگانے کا مشورہ دے ڈالااور میں اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ مجھے پاکستان ریلوے کے وفاقی وزیر اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں پر شدید غصہ آرہا تھا جو ریلوے کو ترقی اور جدت دینے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور ان کا موقف ہمیشہ یہ رہتا ہے کہ ریلوے کو بہتری کی سمت رواں دواں کردیا گیا پھر مجھے لاہور میں گزشتہ دوبرسوں سے جاری اورنج لائن ٹرین منصوبہ کی یاد بھی آگئی جسے نیم سرکاری اداروں چلانا ہے میں سمجھتا ہوں کہ جس ملک میں سرکاری خزانہ سے چلنے والی قومی ریلوے سروس میں بے پناہ خرابیاں اور قباحتیں موجود ہیں اور آج بھی پاکستانیوں کیلئے ریلوے کا سفر تکلیف دہ ہے وہاں پر اورنج لائن ٹرین چلانے کا منصوبہ کیونکر اور کیسے کامیاب ہوگا۔

اب میں حکومت پنجاب کی کارناموں کا ذکر کروں تو میں بخوبی آگاہ ہوں کہ پرائیویٹ سیکٹر کے تحت چلنے والی لگژری گاڑیوں پر اور ان میں صفائی ستھرائی پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے جس کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ملک بالخصوص پنجاب میں ڈینگی کے خطرات ہر سال لاحق ہوتے ہیں اس لیے نجی سیکٹر کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سختی تاکید کی جاتی ہے اور انہیں اس بات کا پابند بھی کیا جاتا ہے کہ وہ بسوں کے اندر اور اڈوں پر روزانہ کی بنیاد پر ڈینگی سے بچاؤ سپرے کروائیں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں حکومت کی ان ہدایات کو قانونی بھی قرار دے دیا گیا ہے جبکہ اس قانون سے سرکاری اداروں کے ماتحت ریلوے اور ٹرانسپورٹ سروس مبرا سمجھا جاتا ہے بحیثیت ایک عام شہری میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ یہ قانون اور ہدایات سرکاری ٹرانسپورٹ سروس اور ریلوے پر لاگو کیوں نہیں کی جاسکتیں۔ تھوڑی سی غلطی بھی نجی سیکٹر میں چلنے والی بسوں پر جرمانہ کی صورت میں عذاب بن کر نازل کردی جاتی ہے جبکہ مجھ سمیت ان تمام نجی بسوں میں سفر کرنے والوں کو معلوم ہے کہ وہ بے حد احتیاط برتتے ہیں، صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اگر کوئی مسافر شکایت کردے تو فوری ازالہ بھی ہوتا ہے مگر اس کے باوجود ان پر بھاری جرمانوں کی تلوار لٹکی رہتی ہے ہماری سرکار جس طرح بیساکھیوں کے سہارے چل رہی ہے اسی طرح پاکستان ریلوے بھی لولے لنگڑے نظام کی طرح فراٹے بھر رہاہے کہا جاتا ہے کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران پاکستان ریلوے نے انقلابی انداز میں ترقی اور بہتری کا سفر طے کیا مگر بہت لوگ جانتے ہیں کہ ریلوے آج بھی سالانہ 20ارب کے خسارے میں ہے جو وزارت ریلوے کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ ہے ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ پاکستان ریلوے اور اس سے متعلقہ وزارت جو سرکاری خزانے پر ایک بھاری بھرکم بوجھ ہے وہ بلاتاخیر اپنا قبلہ درست کرے۔