احتساب، جج، جرنیل

چیئرمین قومی احتساب بیورو(نیب) جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے جب سے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا ہے ملک سے کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کا عزم لیے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عرصہ دراز سے زیر التوا کرپشن مقدمات کو ازسر نو کھولنے کا نہ صرف حکم دیا بلکہ نیب حکام کو ہدایت کی کہ وہ کسی کے دباؤ میں آئے بغیر بلا خوف اور سیاستدانوں سمیت بیوروکریسی، ججز اور ریٹائرڈ جرنیلوں پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کریں اور جن پر الزامات ثابت ہوں ان کے خلاف احتساب عدالت میں نیب کی مدعیت میں مقدمات شروع کئے جائیں۔ ہماری اطلاع کے مطابق نیب میں اب تک سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ اشفاق پرویز کیانی کے دو بھائیوں جن کا تعلق ماضی میں اسی ادارہ سے رہا ہے ، کے خلاف ڈی ایچ اے اراضی سکینڈل کے مقدمات کی کھلی تحقیقات ہونا نہ صرف باقی ہے بلکہ معروف این ایل سی کیس میں نامزد سابق 4 جرنیلوں کے خلاف بھی تحقیقات تاحال نہیں ہوسکیں۔

چیئرمین نیب سے ہم امید رکھتے ہیں کہ جس طرح ماضی میں انہوں نے عدلیہ میں ناقابل فراموش فیصلوں سے اپنی اور ادارے یعنی عدلیہ کی ساکھ کا وقار بلند کیا بلاشبہ ان کے بہت سے فیصلے کسی خوف یا دباؤ کا نتیجہ نظر نہیں آتے وہ ہمیشہ آئین و قانون کی پاسداری کیلئے نہ صرف کھڑے رہے بلکہ وقتی آزمائش کو بھی خاطرمیں نہ لاتے ہوئے اپنے نظریہ پر قائم رہے وہ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں جہاں اور بہت سے ججز نے اپنا اور ادارے کا وقار بلند کیا وہیں جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا نام بھی قوم کبھی فراموش نہیں کرسکتی ان کی ایبٹ آباد کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے تحقیقات جو غیر سرکاری طور پر منظر عام آئی ہیں ان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ بلاشبہ نڈر منصف رہے ہیں۔ آج ہم چیئرمین نیب کی توجہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی مرحوم جنرل ریٹائرڈ حمید گل کے ایک انٹرویو کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں جس میں انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ وہ ا س وقت کی حکومت طرف سے قائم کیے گئے غداری کے مقدمے کو ناپسندیدہ فعل قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کے کسی سابق آرمی چیف کو غدار کہنا یہ فوج جیسے عظیم ادارے کی توہین ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ حکومت پاکستان ہوش کے ناخن لے اور جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ واپس لیں۔ ہاں البتہ اگر حکومت پاکستان جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف کرپشن کے مقدمات قائم کرے تو وہ نہ صرف حکومت کے ساتھ اس مقدمہ میں فریق بننے کیلئے تیار ہیں بلکہ وہ ایسے ثبوت بھی عدالت میں پیش کرسکتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کرپشن کی ہے‘‘۔ ہم یہاں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر کوئی الزام نہیں لگا رہے ہم انہیں غدار مانتے ہیں نہ ہی کرپٹ۔ ہاں البتہ جہاں بہت سارے لوگوں کی تحقیقات جاری ہیں وہیں اگر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی ملک و بیرون ملک جائیدادوں اور بینک بیلنس کی تفصیلات حاصل کی جائیں اور پتاچلایا جائے کہ کیا واقعی مرحوم جنرل حمید گل نے جو الزامات لگائے تھے ان میں کوئی حقیقت بھی ہے یا نہیں۔ جہاں اور بہت سے لوگوں کی آمدن سے زائد اثاثوں کی چھان بین جاری ہے وہاں ان کے اثاثوں کی چھان بین بھی ہوجائے تو اس سے پاکستان کے تمام اداروں کی عزت میں اضافہ ہی ہوگا۔

ہماری اطلاع کے مطابق جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے بہت سارے انٹرویوز سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنی جائیداد کی جو تفصیل بتاتے ہیں وہ یقیناًان کے ذرائع آمدن سے کہیں زیادہ ہے۔کاش اس وقت جنرل ریٹائرڈ حمید گل موجود ہوتے تو ہم ان سے درخواست کرتے کہ وہ وہی ثبوت نیب کے حوالے کریں لیکن اب وہ اس دنیا میں موجود نہیں اگر نیب تھوڑی سی کوشش کرکے اس کی تفصیلات حاصل کرلے تو اس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے کی امید ہے اور اگر واقعی ہی تمام اداروں میں موجود کرپٹ افراد کیخلاف بلا تفریق تحقیقات ہوجائیں تو میاں محمد نواز شریف کا یہ بیانیہ اپنی موت خود مرجائے گا کہ احتساب صرف ان کی ذات اور مسلم لیگ ن کو نشانہ بنانے کیلئے کیا جارہا ہے اگر غور کیا جائے تو اس وقت پاکستان کے تمام سیاستدان جن میں میاں نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمان، سراج الحق، ڈاکٹر فاروق ستار، حاصل بزنجو سمیت دیگر شامل ہیں، کا موقف ہے کہ احتساب بلاتفریق اور کسی کو نشانہ بنائے بغیر ہونا چاہیے اوروہ احتساب کے نام پر جوڈیشل ایکٹوازم کو ملک کیلئے بہت بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔