حقوق العباد اور "خادم”

0

لاہور شہر ’’دھرنا اسٹیٹ‘‘ میں بدل گیا۔ مولانا خادم حسین رضوی اور ان کے پیروکار اسلام آباد میں دیئے جانے والے دھرنے پر ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر ہونے والی کارروائی کیخلاف گزشتہ چند روز سے حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار کے باہر دھرنا دیئے ہوئے تھے اور گزشتہ روز یہ دھرنے شہر بھر میں پھیل جانے سے پورا شہر یرغمال بن کر رہ گیا اور شہریوں کو آمدورفت میں شدید دشواری پیش آئی۔ اس حوالہ سے ہم نے اپنے ایک فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے عالم دوست قاضی عمر فاروق سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ ان دھرنوں کی شرعی حیثیت کیا ہے تو انہوں نے سنی طبقہ کے مولانا مفتی محمد قاسم کی کتاب ’’وقف کے شرعی مسائل‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مفتی قاسم صاحب نے عام شہریوں کو تکلیف دے کر عبادت کو غیر شرعی قرار دیا اور ان کے فتویٰ کے مطابق عام شہریوں کی آمدورفت میں خلل ڈالنا قابل مذمت ہے اسی طرح ہم نے علامہ ملک عزیز الرحمان جنرل سیکریٹری جماعت اسلامی ضلع بہاولنگر سے بات کی ان کا تعلق فقہ اہل حدیث سے ہے انہوں نے بتایا کہ ایک حدیث موجود ہے جس میں آپؐ نے فرمایا کہ راستے کو اس کا حق دو اور حق دینے سے مراد یہ ہے کہ راستے میں پتھر، جھاڑیاں یا کسی اور طریقہ سے راستہ بند نہ کیا جائے جس سے لوگوں کو آنے جانے دشواری ہو بلکہ انہوں نے کہا کہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ راستے میں گندگی تک بھی پھینکی جائے جس سے وہاں سے گزرنے والوں کو ناگواری کا احساس ہو۔ ہمارے نبیؐ نے راستے میں کسی ایسے عمل سے منع کیا ہے جس سے ان کی طبیعت پر ناگواری گزرتی ہو وہ کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جاسکتاانہوں نے بتایا کہ ہمارے پیارے نبیؐ نے کسی ایسے مقام مسجد بنانے سے منع کیا ہے جو خالصتاً کسی کی ملکیت ہو اور وقف نہ کی گئی ہواور اسی حدیث مبارکہ میں راستے کا کچھ حصہ مسجد میں ڈالنے پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہاں ادا ہونے والی نماز دوبارہ پڑھی جائے چونکہ قبضہ کی گئی جگہ پر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی جہاں تک ہمیں علم ہے مولانا خادم حسین رضوی صاحب سنی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور مفتی قاسم صاحب ایک ہی امام یعنی امام ابو حنیفہ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں دونوں کے ایک ہی مکتبہ فکر سے تعلق ہونے کے بعد دونوں کے نظریات میں اس قدر تضاد سمجھ سے بالاتر ہے۔
حقوق العباد یعنی کے عام لوگوں یا عام شہریوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے حوالہ سے بہت سی روایات موجود ہیں جس میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ قیامت کے دن حقوق اللہ کی معافی ہوسکتی ہے لیکن حقوق العباد کی معافی اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک جن لوگوں کو تکلیف دی گئی یا نقصان پہنچایا گیا ہو وہ معاف نہ کردیں۔ ہمیں یہ سب سبق دینے والے جید علمائے کرام اپنی جھوٹی انا اور ذاتی تسکین کیلئے جو تاویلیں گھڑ کر اپنے پیروکاروں کو اس مکروہ عزائم پر آمادہ کرتے ہیں وہ آنے والی نسلوں کیلئے کیا مثالیں چھوڑ کر جائیں گے اب تک ہمارے نبیؐ، صحابہ، آئماء کرام اور اولیائے اللہ کی تعلیمات کو لوگ اپنے لیے مشعل راہ سمجھتے ہیں اور ان کے ہر عمل کو ان کے نام کی سنت قرار دیتے ہوئے اس پر عمل کرتے ہیں۔ ہمارے بعد آنے والی نسلیں مولانا خادم حسین رضوی کی تقلید کرتے ہوئے اپنے خلاف ہونے والے کسی بھی اقدام پر نہ صرف خود سڑکوں پر آجایا کریں گی یہی نہیں بلکہ ان کے پیروکار بھی ان کے ساتھ احتجاج میں شامل ہوکر لوگوں کو تکلیف دے کرخادم حسین رضوی کی نقش قدم پر کریں گے۔کچھ لوگوں کا یہاں تک کہنا ہے کہ یہ ختم نبوت کا مسئلہ نہیں بلکہ ختم حکومت کا مسئلہ ہے اور انہی کا یہ موقف ہے کہ یکم جون 2018ء کو جب موجودہ حکومت کی میعاد ختم ہوجائے گی اور نئی نگران حکومت کا وجود عمل میں آجائے گا تب ’’اسلام‘‘ خطرے سے باہرنکل آئے گاان کے خیال میں صرف موجودہ حکومت کے برسراقتدار رہنے تک ’’اسلام‘‘ خطرے میں ہے۔ ماضی پر نظر دوڑائیں تو 1977ء میں تحریک نظام مصطفی میں بہت سے نوجوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ ممکن ہوسکے مگر اسلام نافذ ہونے کی بجائے گیارہ سالہ مارشل لاء ضرور نافذ ہوا۔

You might also like