Khouj English Advertising Privacy Policy Contact Us
Connect with us

کالم کلوچ

مقتول ہی تو قاتل ہے (بشکریہ ایکسپریس)

Rashid Saeed

Published

on

جناب محترم وسعتاللہ خان اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ اس دنیا میں اگر کسی شے کا سب سے زیادہ ریپ ہوا ہے تو وہ دلیل ہے اور پھر اس ریپ زدہ دلیل کے ساتھ تہذیب کا جیسا ریپ ہوا اور ہو رہا ہے اس کا کوئی توڑ کم ازکم مجھے تو ٹپائی نہیں دے رہا ۔حل تو خیر لاینحل ہے۔ بہت دور کی کوڑی لانے کی ضرورت نہیں۔ ہم اس المیے سے بچپن میں ہی آشنا ہو جاتے ہیں جب چشمے پر پانی پینے والے بھیڑ کے بچے اور اسے دلیل دے کر ہڑپ کر جانے والے بھیڑئیے کی کہانی سنتے ہیں۔
اگر نازی دنیا پر قبضہ کر لیتے تو پھر ہماری نسلوں کو یہی نصابی علم عطا ہوتا کہ یہودیوں کو جرمنی سے نازیوں نے نہیں بلکہ خود یہودیوں نے ختم کیا۔نہ وہ سود خوری کے ذریعے جرمنوں کا خون چوستے اور نہ آریائی خون جوش میں آتا۔اگر جرمن خون آشام ہی ہوتے تو یہودیوں سے پہلے اور بعد میں کسی اور قوم پر ایسا عذاب کیوں نہیں آیا۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جرمنوں نے اپنی افریقی نوآبادی نمیبیا کی سیاہ فام آبادی کی بھی اسی پیمانے پر نسل کشی کی۔ مگر چونکہ بہت سے یورپی مستشرقین ایک زمانے تک کھلم کھلا اور آج دل ہی دل میں غیر سفید فاموں کو تہذیب و تمدن سے عاری نیم انسان سمجھتے ہیں لہذا نمیبیا کے سیاہ فاموں کا نوحہ کسی نے نہیں لکھا۔
یہی کچھ کانگو میں بلجئیم کے بادشاہ لیوپولڈ دوم کے زمانے میں انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں ہوا۔کانگو بادشاہ کی ذاتی املاک میں شامل تھا۔ لہذا گدھے اور سیاہ فام کا فرق مٹ گیا۔ بلکہ گدھے سے زیادہ بہتر سلوک ان معنوں میں ہوا کہ وہ نسل کشی سے بچ گیا۔
برسلز میں لگنے والے میلوں ٹھیلوں اور نمائشوں میں ایک عرصے تک ہیومن زو بھی لگایا جاتا تھا۔اس میں کانگو سے لائے گئے سیاہ فام نیم انسانوں سے عام شہریوں کا دل بہلایا جاتا تھا۔آج یہ سب تماشے نہیں ہوتے مگر ان جرائم کو نوآبادیاتی دور کی بے اعتدالیوں اور غلطیوں کا نام دے کر مہین خوشنما تہذیبی پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔اب ہر کوئی اسرائیل تو نہیں ہوتا کہ جس سے مغربی جرمنی یہودی نسل کشی پر معافی مانگتے ہوئے پانچ ارب مارک کی ازالائی رقم بھی ادا کرے۔
کون کہتا ہے کشمیر میں بھارت ظلم کر رہا ہے۔یہ تو سرحد پار سے آنے والے گھس بیٹھیے یا ان کے ہاتھوں گمراہ ہونے والے مٹھی بھر کشمیری لڑکے اور لڑکیاں ہیں جو بھارتی ایکتاکے درپے ہیں۔وہ جان بوجھ کر سیکیورٹی دستوں کو اشتعال دلاتے ہیں تاکہ وہ کشمیریوں کے منہ پر چھرے مار کے انھیں اندھا کر دیں اور پھر پیشہ ور کشمیری ان چھرہ زدہ چہروں کو ظلم کا اشتہار بنا کر دنیا بھر میں سینہ کوبی کرتے پھریں۔اہلِ دلی کی اس دلیل میں اگر وزن نہ ہوتا تو بیشتر بھارت کاہے کو آمنا و صدقنا کہتا۔
نیتن یاہو کی یہ بات ماننے میں کیا عار ہے کہ اسرائیلی فوج دنیا کی مہذب ترین فوج ہے۔اس نے آج تک کسی فلسطینی کو مارنے میں پہل نہیں کی۔کسی فلسطینی کو پتھر یا غلیل سے نشانہ نہیں بنایا۔لیکن جب کوئی فلسطینی بچہ یا بچی کسی اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارتا ہے یا ٹینک پر غلیل سے نشانہ باندھتا ہے یا مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست کو مٹانے کا نعرہ لگاتا ہے تو کیا ریاست کو کوئی حق نہیں کہ وہ ایسے شرپسندوں کو اوقات میں رکھنے کے لیے ذرا سے گولے، کچھ بم اور دوچار نشانچیوں کو استعمال کر لے۔
کسی نے آج تک گولڈا مائیر کے اس دعویٰ کو چیلنج کیا کہ ’’ کون سے فلسطینی ؟ جب ہم یہاں آئے تو یہ خطہ تو غیر آباد تھا۔ہم نے آ کر اسے بسایا‘‘۔اگر اسرائیل واقعی کوئی سفاک ریاست ہے تو پھر کچھ عرب ممالک اس سے دوستی کے لیے آج مرے نہ جاتے۔
مشرقی پاکستانی اگر ایکتا کو چیلنج نہ کرتے ، وہاں بسنے والے ہندو اساتذہ اور دانشوروں کے بہکاوے میں نہ آتے اور غدار مجیب کے چھ نکاتی پھندے میں آئے بغیر وسیع تر قومی مفاد میں اپنے مغربی پاکستانی بھائیوں کے تھوڑے سے اور مطالبات مان لیتے اور اگر بھارت چند گمراہ مشرقی پاکستانیوں کی آڑ میں حالات سے فائدہ اٹھا کر فوج کشی نہ کرتا تو آج بھی ہم ہنسی خوشی رہ رہے ہوتے۔یہ ہیں، سقوطِ مشرقی پاکستان کی وہ وجوہات جوآج سینتالیس برس بعد بھی پاکستانی نصاب میں اتنی ہی سچ ہیں جتنی سینتالیس برس پہلے تھیں۔
اگر ریاستوں کا اپنا اپنا سچ ہے تو افراد اپنے اپنے سچ پر کیوں نہ قائم رہیں۔مثلاً اسے ماننے میں کیا قباحت ہے کہ ملالہ نے اپنے سر پر خود گولی ماری تھی تاکہ مغرب اسے اپنی ڈارلنگ بنا کر طالبان کو بدنام کرتا پھرے۔
مشال خان نے بھلے توہینِ مذہب نہ کی ہو مگر وہ ملحدوں کے شعر تو پڑھتا تھا ، اپنے کمرے کی دیواروں پر سرخوں جیسے نعرے تو لکھتا تھا ، ایک نظریاتی ریاست میں سیکولر لبرل نظریہ مسلط کرنے کا تو حامی تھا۔اسے کس نے مارا۔وہ تو مجمع کے غیض و غضب کا شکار ہوا۔مجمع کو اس سے کوئی ذاتی دشمنی تو نہیں تھی۔مجمع کو کنٹرول تو نہیں کیا جا سکتا۔یہ تو مشال خان کو خود خیال ہونا چاہیے تھا کہ وہ آگ سے کیوں کھیل رہا ہے ؟
مختاراں مائی نے باقاعدہ سوچ سمجھ کر خود کو ریپ کرایا تاکہ اسے بیرونِ ملک سے فنڈنگ مل سکے۔یہی حرکت سوئی میں رہنے والی ڈاکٹر شازیہ نے بھی کی تھی۔خواتین بن ٹھن کے نکلیں گی تو مٹھائی پر مکھیاں تو منڈلائیں گی۔
جموں کی آٹھ سالہ بکروال بچی آصفہ اگرچہ بن ٹھن کے نہیں نکلی تھی، پھر بھی انسان کے اندر بسے جہنم کی خوراک بن گئی۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی سیاستداں جب آصفہ ریپ قتل کیس کے آٹھ مجرموں کی وکالت کرتے ہیں تو ان کے پاس بھی یہ دلیل ہوتی ہی ہے کہ بکروال ہندوؤں کی چراگاہوں پر زبردستی قبضہ کر رہے ہیں۔ غصہ کہیں تو نکلنا تھا۔لہذا قصور ریپسٹ کھجوریا اور اس کے آٹھ ساتھیوں کا نہیں بلکہ بکروال برادری کا اپنا ہے۔
پنجاب کے عیسائیوں، احمدیوں اور کوئٹہ کی ہزارہ برادری کا تو دھندہ ہی یہی ہے کہ وہ خود پر مظالم کی جھوٹی سچی داستانیں گھڑتے ہیں تاکہ مغرب میں مذہبی عقایذ کی بنا پر زیادتی کا کیس دائر کر کے پناہ حاصل کر سکیں۔اگر یہ معاشرہ اتنا ہی ظالم ہوتا تو پھر اکیس کروڑ لوگ یہاں کیوں رہ رہے ہیں۔
جب انصاف فٹ بال بن جائے اور ریاست گول کیپر ہو تو پھر ہر دلیل وزنی ہے، ظالم و مظلوم ایک ہی صف میں ہیں اور پھر پہاڑی چشمے پر اوپر کی جانب کھڑا بھیڑیا نیچے کھڑے میمنے کو بھی یہ دلیل دے کر ہڑپ کرنے میں حق بجانب ہے کہ تم میرا پانی گدلا کیوں کر رہے ہو۔

کالم کلوچ

پاک چین دوستی میں دراڑ نہ آنے پائے!

Rashid Saeed

Published

on

kamran Goreya

تحریر: کامران گورائیہ
جنوبی ایشیاء میں شامل ممالک میں پاکستان اور چین کی دوستی کو رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، پاک چین دوستی کی لازوال رشتوں کی داستان بے حد طویل ہے جس پر درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں کتابیں بھی شائع کی جائیں تو شاید وہ کم ہی رہیں گی۔ چین تقسیم ہند کے ایک سال کے بعد ہی ایک آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوا، پاکستان چین کو ایک علیحدہ اور خود مختار ریاست تسلیم کرنا والا پہلا ملک تھا اور یہیں سے چین کے ساتھ دوستی کا نا ختم ہونے والا سفر شروع ہو گیا۔ چین نے بھی ہر قدم پر پاکستان کا ساتھ دیا ، احتسابی مشکلات ہوں یا پھر عالمی قوتوں کا دباؤ ہو ، جدوجہد آزادی کے لیے کشمیریوں کے مؤقف پر پاکستان کی رائے ، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا امن و امان کے لیے کی جانے والی کوششیں چین نے اقوام متحدہ سمیت ہر پلیٹ فارم پر پاکستان کے مؤقف کی تائید اور حمایت کی ، حتیٰ کہ چین وہ پہلا ملک ثابت ہوا جس نے پاکستان کو ایک ایٹمی قوت کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن کی ضمانت قرار دیا۔ بھارت کے ساتھ تنازعات کے معاملات پر بھی چین نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ 
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے دورہ حکومت میں چین نے حکومت پاکستان سے اپنی دوستانہ وابستگی کی بنیاد پر سی پیک جیسا عظیم الشان منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔ چینی صدر کے اعلان کے مطابق سی پیک منصوبہ میں گوادر پورٹ کی تعمیر اور توانائی کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کرنا اولین ترجیح قرار دیا گیاتھا۔ چینی صدر نے ن لیگ کے دورہ حکومت میں اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبوں سمیت توانائی کے بہت سے منصوبوں کے لیے 45 ارب ڈالر کے معاہدے کیے تھے۔ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کے اعلان پر روس اور ایران سمیت بہت سے دیگر ممالک نے اپنی دلچسپی کا اظہار بھی کیا تھا لیکن ہمسایہ ملک بھارت اور امریکہ کو ان منصوبوں پر سخت تشویش لاحق ہونے لگی اور یہ دونوں ممالک آج بھی ان منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں مگر چین امریکہ اور بھارت سمیت دنیا کے ان تمام ممالک کے خلاف ڈٹ ہوا ہے جو اس عظیم الشان منصوبہ کی مخالفت کر رہے تھے یا ابھی تک وہ مخالفانہ حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ 
عمران خان کی حکومت آنے کے بعد سے سی پیک ، گوادر پورٹ اور توانائی کے بہت سے ایسے منصوبے جو چینی سرمایہ کاری سے پاکستان میں لگائے جا رہے ہیں ان کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے۔ امریکہ نے اپنا عالمی اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے گوادر پورٹ پراجیکٹ پر عرب دنیا کو اپنا ہم خیال بنا لیا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت بہت سی دیگر عرب ریاستیں وزیراعظم عمران خان کے دوروں کے مواقع پر پاکستان کی مشروط امداد کر رہی ہیں۔ پیش کی جانے والی ان شرائط میں گوادر پورٹ پراجیکٹ کو ختم کرنے اور توانائی کے بعض منصوبوں کو روکنے کا پابند بھی کیا گیا ہے۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے عرب ممالک کی یہ شرائط من و عن تسلیم کر لی ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے رحیم یار خان میں توانائی کے منصوبہ کو بند کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ حکومت پاکستان کی طرف سے چین کو درخواست کی گئی ہے کہ وہ رحیم یار خان توانائی منصوبہ پر سرمایہ کاری نہ کرے کیونکہ اس منصوبہ کے علاوہ بھی چین کے تعاون سے پاکستان میں توانائی کے جن منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے ان منصوبوں کی تکمیل سے بجلی کی پیداوار میں اس قدر اضافہ ہو جائے گا کہ یہ ملک نہ صرف خود کفیل ہو جائے گا بلکہ بجلی دیگر ممالک کو دینے کے قابل بھی ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ چینی صدر کے دورہ پاکستان کے بعد سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اپنے دورہ چین کے موقع پر رحیم یار خان میں بھی توانائی کا منصوبہ شروع کروانے کی درخواست کی تھی جیسے منظور کر لیا گیا اور اس منصوبہ پر کام کا آغاز بھی ہو گیا تھا لیکن اب اس منصوبہ کا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے ۔
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنی خارجہ پالیسیوں کے نتیجہ میں جہاں چین کے تعاون سے سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ جیسے منصوبے شروع کروائے وہاں اپنے دور میں عرب ممالک کے تعاون سے ناصرف ڈالر کو اونچی اڑان بڑھنے سے روکے رکھا بلکہ مفت تیل منگوا کر بھی اس ملک کی بہتری اور مفاد کو پیش نظر رکھا۔ نوازشریف کے دور حکومت میں پاکستان کے عرب ممالک اور چین کے ساتھ تعلقات میں کبھی بھی سرد مہری نظر نہیں آئی۔ ایٹمی دھماکے ہوںیا پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کا مسئلہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی۔ اس کے برعکس موجودہ حکمران صرف اور صرف اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ہر وہ حربہ اختیار کر رہے ہیں جو ان کے کرسی کو بچانے میں کارگر ثابت ہو سکے۔ چین کو سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹس سمیت پاکستان میں شروع کیے گئے بہت سے دیگر منصوبوں پر تحفظات ہیں جبکہ اسے اس بات کا بھی بہت حد افسوس ہے کہ پاکستان نے امریکہ کے طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کروانے میں کردار ادا کرنے کے لیے اسے اعتماد میں نہیں لیا ۔ سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے چین نے اپنی اس ناراضگی کا اظہار حکومت پاکستان اور دیگر ریاستی اداروں سے بھی کیا لیکن دیکھنے میں یہ آ رہا ہے کہ چین کو نا صرف سی پیک منصوبہ پر بلکہ افغانستان سمیت پاکستان کی نئی خارجہ پالیسی پر شدید تشویش لاحق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی یہ وضاحت دینے پر مجبور ہیں کہ سفارتی محاذ پر چین کے ساتھ پاکستان کے کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ 
عرب ممالک سے دوستانہ روابط،روس کے ساتھ دن بدن بہتر ہوتے تعلقات ‘افغانستان میں قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششیں ‘دہشت گردی کا خاتمہ ہو یا اقتصادی اور معاشی مسائل کا سامنا پاکستان کو دیر پا خارجہ پالیسی اپنانا ہوگی ۔ مہنگائی ، بیروزگاری اور معاشی مسائل سے چھٹکارا پانے کے لیے اب بالکل ہٹ کر معاملات کو مختلف انداز سے آگے بڑھانا ہوگاورنہ کبھی پاکستان کی چین سے دوستی داؤ پر لگ جائے گی تو کبھی عرب دنیا کی ناراضگی کا خدشہ برقرار رہے گا۔ منتخب ہو کر آنے والی تمام حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ دوست ممالک کے ساتھ دوستی کو مزید مضبوط بنانے کی مخلصانہ کوششیں کریں اور اپنے سے پہلے کی حکومتوں کے شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں میں کمی بیشی کرنے سے گریز کرے۔ پاکستان کی سا لمیت تمام سیاسی جماعتوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک دوسرے پر تنقید کرنے اور ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کے الزامات لگانے کا سلسلہ ترک کرکے صرف اور صرف وطن عزیز کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے قانون سازی کے ساتھ ساتھ وہ بہترین خارجہ پالیسیاں بنائے جس سے اس ملک کا امیج پوری دنیا میں بہتر سے بہتر ہو سکے ۔ پاکستان جنوبی ایشیاء کا ایک اہم ملک ہے اس اہمیت کو سمجھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو نواز شریف دشمنی میں اس حد تک آگے نہیں نکلنا چاہیے کہ جس سے ہمارے ملک کی بدنامی ہو اور یہاں پر سرمایہ کاری کرنے کے لیے کوئی بھی ملک تیار نہ ہو۔ اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری ہمسایہ دوست ملک چین کر رہا ہے چین کے اشتراک سے شروع کیے گئے وہ تمام منصوبے بالکل اسی طرح سے پایہ تکمیل تک پہنچانا ضروری ہیں جنہیں سابق حکمرانوں کے دور میں شروع کیا گیا تھا۔ چین سے پاکستان کی دوستی دنیا بھر کے لیے ایک مثال ہے اس دوستی کو ناصرف مزید مضبوط ہونا چاہیے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان بھروسے اور اعتماد کا کا رشتہ بھی قائم رہنا چاہیے۔

Continue Reading

کالم کلوچ

اپنی دھرتی لہور

Published

on

 بابے نانک دی پوتر دھرتی کرتارپور نے ہی امن اتے دوستی دے لانگھے لئی واج ماری ہے .نوجوت سدھو دے روپ ‘چ اک امن- دوت نے پہاڑ جڈی پلانگھ پٹن دا جیرا دکھایا ہے دوہاں ملکاں دیاں کجھ وڈیاں ہستیاں اتے دھراں نے وی امن ولّ ودھن دی حامی بھری ہے . ساڈے مناں ‘چ اک وار پھیر اوہی ارمان اٹھے نے . شالہ ، دوہاں پاسیاں توں بھکھدے انگاراں دی تھاں ٹھنڈھیاں ہواواں دے بلے وگن . پلاں ہیٹھوں پانی بہت وگّ چکے .رشتیاں اتے مثلیاں دی تانی ہور الجھی پئی ہے. دوہاں ملکاں دے اندرلے تے باہرلے سیاسی ، غیر-سیاسی، وپاری تے غیر- وپاری اجہیاں انیک دھراں دے مفاد، اس تانی نوں الجھائی رکھن ‘چ ہی نے . ہنسا اتے ہتھیار پوری حاوی نے . بے شکّ،صرف بھاوکتا کافی نہیں .کجھ حقیقی بدلاء ہونگے تاں موڑا پئیگا . پھیر وی آس نال ہی جہان ہے دیر ہووے جاں آویر- تبدیلی قدرت دا اٹلّ نیم ہے .
اسے امید نال 14 سالاں بعد اج اپنے وڈیریاں دیاں جڑھاں والی دھرتی بھاوَ لیہندے پنجاب ‘چ پیر دھرے نے .پہلا پڑاءلاہور ہے .
فوری سببّ میری بیوی ترپتا نے بنایا ہے . اسدا دادکا پنڈ پوتر دھرتی ننکانہ صاحب ہے . 1947 دی ونڈ ویلے ، جد اسدے دادا کرشن چند شاہ جی ، ہجرت کرن لگے سن تاں اپنی 19 کمریاں دی حویلی دیاں چابیاں گرودوارہ ننکانہ صاحب دے پربندھکاں نوں پھڑا کے آئے سن . اوہ حویلی تاں پتہ نہیں کس کول ہے ، جا کے کھرا کھوج تے کوئی نشانی لبھن دا یتن کراںگے .
میری بیوی دی بے حدّ تمنا سی اپنے پرکھیاں دی اس پاون دھرتی دی چھوہ لین لئی . سببّ نال میرے لمے سمیں دے دوست اتے ہمیشاں پیار دیاں تنداں بنن دے یتن کرن والے درویش انسان رائے عزیز الاہ خان دا لاہور آون دا سدا آ گیا . رائے صاحب اوہ ہستی نے جنہاں کول دسویں گورو سری گوبند سنگھ دی بھیٹ کیتی سوغات ” گنگا ساگر ” محفوض ہے .اوہ بہت کمال دے میزبان وی نے .
میرا دادکا پنڈ کنگن پور ہے . پہلاں ایہہ لاہور ضلعے دا حصہ سی پر ہن ایہہ قصور ضلعے ‘چ ہے . کوشش کراںگے اپنے وڈیریاں دیاں یاداں پھرولن دی ، نویں -پرانے دوستاں نال میل-ملاپ دی . اپنے وت مطابق موہ-پیار دے رشتیاں ‘چ نویں روح بھرن دی .کرتارپور صاحب دی پاون دھرت تے نتمستک ہون دا ارادہ ہے . جو کجھ نواں تے وکھرا دسیا اوہ ضرور سانجھی کراںگے۔ اجے تاں لاہور دے اسے جممخانا کلبّ دے کمرے چ ہی ہاں جس وچ 1993 ‘چ ادوں ٹھہریا سی جدوں پہلی وار اجیت لئی پاکستان دیا پارلیمینٹ چوناں کور کرن آیا سی .بلجیت بلی

Continue Reading

کالم کلوچ

قادری عمران کھانا اورملکی سیاست

Rashid Saeed

Published

on

kamran Goreya

پاکستانی سیاست میں ہر دن نیا دن ہوتا ہے سیاسی بسات کے مہرے اپنی چالیں چلتے رہتے ہیں اور یہی سیاست کا حسن ہے۔ پاکستان کے سینئر سیاستدان شیخ رشید جو ہر روز سونے سے پہلے یہ دعا کرکے سوتے ہیں کہ جب وہ صبح اٹھائیں تو نواز حکومت ختم ہو چکی ہو لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔ بہر حال وہ پاکستان کے ایک سیزن سیاستدان ہیں اور وہ بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ تمام اپوزیشن جماعتیں یکجا ہو کر حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلائیں۔ ابھی تک تو ان کو اس حوالے سے مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوسکی مگر ان کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کی کوششوں کی بدولت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ مولانا طاہر القادری کھانے پر ملاقات کریں گے۔یہ خبر بھی انہوں نے طاہر القادری کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔اگر مولانا طاہرالقادری کو عمران خان کے گھر جا کر کھاناکھاناپڑاتو میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ کھاناکیسا ہوگا اور کیا طاہر القادری کی مرضی کا ہوگا کہ نہیں؟ مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ طاہر القادری شوق سے کیا کھاتے ہیں۔جو میں نے سناہے کہ وہ شاید سبزی اورآلو قیمہ پسند کرتے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بارے میں میں بتا سکتا ہوں کہ وہ کھانے میں کیا پسند کرتے ہیں اور اگر ان کومولانا طاہر القادری نے کھانے کی دعوت دی تو مینو کیا ہونا چاہیے۔ تحریک انصاف کے سربراہ کو دیسی مرغ ، شکار کا گوشت جس میں بیٹر، تتر ، مرغابی سمیت کوئی بھی شکار ہو بہت پسند کرتے ہیں ساتھ ہی بکرے کی ران روسٹ بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔ ان تمام پکوان کو دیسی گھی میں پکوایاجائے تو بہت اچھا ہوگا ۔ ان تمام اشیاءکو بتانا اتنا ضروری نہ تھا لیکن ان کے بارے میں تفصیلات اس لیے بتا رہا ہوں کہ طاہر القادری صاحب کو کسی سے پوچھنا نہ پڑے۔ اب بات کر لیتے ہیں ملکی سیاست کی ۔ پاکستان تحریک انصاف اورپاکستان عوامی تحریک کو ایک مرتبہ پھر قریب لانے میں شیخ رشید نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ چونکہ شیخ رشید صاحب کا خیال ہے کہ اگر 30 روز کے اندر حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک نہ چلائی گئی تو حکومت کا جانا نہ ممکن ہوگا اور الیکشن2018ءمیں ہی ہوں گے اور شیخ صاحب یہ مطلع بار کہہ چکے ہیں کہ اگر میاں نوازشریف کی حکومت 2018ءتک رہی تو اس کے بعد بھی اگلی حکومت مسلم لیگ ن کی ہی ہوگی اور ان کو ہرانا تقریباً نہ ممکن ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ صاحب اپوزیشن کو متحرک کرنے میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف جو کہ عوامی دباﺅ حکومت پر بنا رہی رہے اس سلسلے میں تحریک انصاف ملک بھر میں جلسے اور ریلیاں کر رہے ہیں۔ میری ناقص عقل کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ عوامی دباﺅ اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے حکومت کو دباﺅ میں رکھا جائے تاکہ حکومت کوئی بڑی غلطی کر سکے۔ اگر حکومت کوئی بڑی غلطی کرتی ہے تو قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اور اگر حکومت کوئی بڑی غلطی نہیں کرتی اور قبل از وقت انتخابات نہیں ہوپاتے تو کم از کم حکومت کو 2018ءکے الیکشن تک مسلسل دباﺅ میں رکھا جائے گا اور عوام میں حکومت کی بدعنوانی اور حکمرانوں کی کرپشن کا ایشو زندہ رکھا جائے ۔ تحریک انصاف موجودہ صورتحال کے پیش نظر بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ عوامی رابطہ مہم جس کا نام انہوں نے احتساب موومن رکھا ہے۔ اس میں ملک کے تمام اپوزیشن حماعتیں ان کے ساتھ دیں گی۔ اسی ضمن میں انہوں نے اپنی پارٹی رہنماﺅں کی دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کی ڈیوٹی بھی لگائی اور تحریک انصاف کو دوسرے درجے کی قیادت جس کی سربراہی پارٹی کے جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی ، سنی تحریک اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے سمیت عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری سے ملاقاتیں کیں۔ اطلاعات ہیں کہ جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی اور دیگر چند سیاسی جماعتوں نے عمران خان کی احتساب ریلی میں علامتی طور پر شرکت کی یقین دہانی کروائی جبکہ پاکستان عوامی تحریک ، سنی تحریک سمیت دیگر مذہبی جماعتوں نے پاکستان تحریک انصاف کی احتساب ریلی میں بھرپور شرکت کا وعدہ کیا۔ یہ عمل باعث تعجب ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے جہانگیر ترین کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کے وفد اور عوامی تحریک کے سربراہ شیخ رشید کے ساتھ مشترکہ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ لاہور میں ہونے والی پی ٹی آئی کی احتساب ریلی میں بھرپور شرکت کریں گے جبکہ ان کی جماعت پاکستان عوامی تحریک اسی روز یعنی کے 3ستمبر کو پنڈی میں حکومت کے خلاف عوامی اجتماع کر رہی ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک طرف پاکستان عوامی تحریک عمران خان کے ساتھ لاہورکی ریلی میں شامل ہونے کے لئے اپنے کارکنوں کو شرکت کی اپیل کر رہے ہیں جبکہ خود پنڈی میں بھرپور دھرنا دے رہے ہیں ۔پاکستان عوامی تحریک کے کارکن کی روایت رہی ہے کہ وہ جہاں بھی ان کااجتماع ، دھرنا یا سیاسی پروگرام ہو تو تمام کارکن وہاں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا طاہر القادری کی جماعت کے کارکن پنڈی میں ہونے والے اپنے اجتماع میں بھرپور شرکت کریں گے جبکہ لاہور میں ہونے والی پاکستان تحریک انصاف کی عوامی ریلی میں مولاناکی جماعت کی علامتی شرکت ہوگی۔ پاکستان تحریک انصاف عروج کا آغاز لاہور کے تحریکی مینار پاکستان کے جلسے سے ہوا ۔مجھے ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں مل رہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنی لاہور میں ہونے والی ریلی میں تمام سیاسی جماعتوں کوشرکت کی دعوت کیوں دی ہے اور اگر دی ہے تو یہ کیوں کہا ہے کہ سب اپنے اپنے کینٹینر پر آئیں۔ اگر کپتان حکومت کے خلاف تمام اپوزیشن کو ملا کر بھرپور عوامی تحریک چلانا چاہتے ہیں تو پھر اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے سربراہوں کو ایک کنٹینر پر ہونا چاہیے تا کہ حکومت کو یہ تاثر دیا جائے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف یکجا ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے آج کل سیاسی مشیر کون ہیں میں وثوخ سے نہیں کہہ سکتا لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ کپتان کے ساتھ مخلص نہیں۔ عمران خان کے مشیروں سے عمران خان کو وقتی طور پر سیاسی فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کو نقصان ہو رہاہے اور روز بہ روز پارٹی اختلافات میں شدت آ رہی ہے۔ خان صاحب نے جہلم سے فواد چوہدری جبکہ بورے والا سے عائشہ نذیر جٹ کو حالیہ ہونے والے ضمنی الیکشن میں پارٹی ٹکٹ دی ہے۔فواد چوہدری نے جہلم NA67 سے پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن میں حصہ لیا ۔ اگرچہ انہوں نے 2013ءکے الیکشن کے مقابلے میں 30 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے لیکن جہلم سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے کارکن انکوٹکٹ دیئے جانے پر خوش نہ تھے ان کا مو¿قف ہے کہ فواد چوہدری متعدد بار سیاسی جماعتیںتبدیل کر چکے ہیں وہ پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر الیکشن صرف اس لیے لڑے کہ ان کے پاس کوئی اوراچھا (0pption)آپشن نہ تھا اسی طرح بورے والا سے پی پی 232کی ٹکٹ عائشہ نذیر جٹ جو کہ سابقہ ایم این اے نذیر جٹ کی بیٹی ہے ان کو دی گئی۔ نذیر جٹ پہلے ق لیگ اور پھر پیپلز پارٹی میں رہ چکے ہیں ۔ اب ان کے لئے بہتر آپشن پی ٹی آئی تھا اور پاکستان تحریک انصاف نے بہتر امیدوار ہونے کے ناطے ان کو ٹکٹ جاری کر دیا۔ اس فیصلے کو بھی بورے والا کی تحریک انصاف کی قیادت نے نہیں سراہا بلکہ ان کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف بھی ایک روایتی سیاسی جماعت بن چکی ہے جو نظریات کی بجائے دھرہ بندی اور برداری کی سیاست کواہمیت دے رہی ہے۔ عائشہ نذیر جٹ کے بارے میں انتخابی مہم شروع ہوتے وقت یہ تاثر عام تھا کہ وہ با آسانی ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوجائیں گی۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز جو کہ جہلم اور بورے والا دونوں الیکشنوں کی براہ راست نگرانی کر رہے تھے ان کو بھی یہی اطلاعات مل رہی تھیں کہ عائشہ نذیر جٹ انتہائی مضبوط امیدوار ہیں اوران کو ہرانا آسان نہ ہے کیونکہ ان کے والدنذیر جٹ برادری اور دھروں کی سیاست کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور یہی سے 2008ءمیں وہ آزاد حیثیت سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں ۔ نذیر جٹ جوکہ اپنی بیٹی کی خود کمپیئن بھرپور انداز سے چلا رہے تھے ان کو بھی یقین تھا کہ وہ یہ سیٹ با آسانی جیت جائیں گے مگر ایسا نہ ہوا حمزہ شہباز شریف کی ٹیم نے اس حلقہ میں بھرپور عوامی رابطہ مہم چلائی اور میری اطلاعات ہیں کہ یہاں سے پی ٹی آئی کے سابقہ ٹکٹ ہولڈر سمیت پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے اہم رہنماﺅں پس پردہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ اپنے زیر اثر لوگ اور دھروں کے ووٹ بھی مسلم لیگ ن کو دلوائے ہیں۔ مجھ یقین ہے کہ کپتان کو ان کے رفقاءنے دونوں ضمنی انتخابات کے حوالے سے یہ بریفنگ دی ہوگی کہ پارٹی نے بھرپور طریقے سے پرفارم کیاہے جس سے پارٹی کی مقبولیت کااندازہ لگایا جاسکتاہے اور ان سے اصل حقائق پوشیدہ رکھے ہوں گے۔ کپتان سے درخواست ہے کہ وہ اپنی آنکھیں اورکان چند قریبی مشیروں کی جانب مرکوز کروانے کی بجائے اپنے عام ورکر کی آواز اور رائے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

Continue Reading
Advertisement
hamza shahbaz
پاکستان2 منٹ ago

پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی، حمزہ شہباز کا بڑا فیصلہ

ambar jhony
شوبز5 منٹ ago

جونی ڈیپ کا سابق اہلیہ اوراخبارپرمقدمہ

Federal cabinet meeting
پاکستان14 منٹ ago

وفاقی کابینہ اجلاس‘ پی آئی اے میں 1952ایکٹ کا نفاذ

asad umer1
پاکستان19 منٹ ago

مالیاتی پیکیج عوام کی بہتری کیلئے ہے: اسد عمر

karachi city councle meeting.JPG
پاکستان23 منٹ ago

کراچی سٹی کونسل اجلاس میدان جنگ میں تبدیل

chairman nab justice retaird javed iqbal
پاکستان34 منٹ ago

نیب کی 13 ماہ کی کارکردگی، 3 ارب سے زائد رقم برآمد

shabaz shrif
پاکستان35 منٹ ago

نواز شریف کی صحت سے متعلق خبریں اچھی نہیں

Sikh community
پاکستان38 منٹ ago

پشاورمیں سکھ کمیونٹی پر ہیلمٹ کی پابندی مستثنیٰ قرار

thief of id card
پاکستان43 منٹ ago

نادرا دفتر سے شناختی کارڈ چوری کرنیوالا ملزم گرفتار

azhar ali
کھیل43 منٹ ago

اظہرعلی کو کس چیز کا افسوس ہے

sindh assembly
پاکستان46 منٹ ago

سندھ اسمبلی اجلاس، تفتیش سے پہلے علاج کا بل پیش

sarah7
شوبز49 منٹ ago

سارہ علی خان میڈیا سے دوررہنے کا مشورہ

hamza shahbaz
پاکستان51 منٹ ago

سانحہ ساہیوال،اپوزیشن کا جوڈیشل کمیشن بناینکا مطالبہ

asad umer
پاکستان1 گھنٹہ ago

آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی فی الحال ضرورت نہیں: اسد عمر

imran khan
پاکستان1 گھنٹہ ago

وزیراعظم نے میانوالی جلسہ منسوخ کر دیا

mlika arora
شوبز22 گھنٹے ago

ملائیکہ اروڑا کواپنے ڈرائیورپرشک ہونے لگا

nawaz sharif
پاکستان23 گھنٹے ago

نواز شریف کو ایک بار پھر بڑی پیشکش

firdose ashiq awan
پاکستان21 گھنٹے ago

فردوس عاشق اعوان وزیراعلیٰ پنجاب کے حق میں بول پڑیں

sarfraz ahmad
کھیل21 گھنٹے ago

کسی کودکھی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا

ishaq dar
پاکستان22 گھنٹے ago

اسحاق ڈار کا وزیرخزانہ اسدعمر کوعہدہ چھوڑنے کا مشورہ

kangna ranvat
شوبز22 گھنٹے ago

کنگنا رناوت کوشدید مخالفت کا سامنا

asif ali zardari
پاکستان23 گھنٹے ago

ایک زرداری سب پر بھاری ۔۔۔ بریکنگ نیوز

پاکستان22 گھنٹے ago

زرداری کو گھسیٹنے پر شہباز شریف کا شکریہ

asad umar
پاکستان23 گھنٹے ago

بینکنگ ٹرانزیکشنزپرٹیکس ختم، سستے گھروں کیلئے قرض حسنہ اسکیم کا اعلان

women voters
پاکستان23 گھنٹے ago

خواتین ووٹوں کی تعداد کم،چاراضلاع کے انتخابات کالعدم

Development schemes
پاکستان22 گھنٹے ago

ترقیاتی سکیموں کو مکمل کرنے کیلئے 6 کروڑ کی منظوری

khuram dastgir
پاکستان22 گھنٹے ago

منی بجٹ آف شوراثاثے ریگولرائز کرنے کی واردات

shilpa sethi
شوبز21 گھنٹے ago

شلپا شیٹھی پرقرض واپس نہ کرنے پرمقدمہ درج

scurity
کھیل21 گھنٹے ago

پی ایس ایل میچز کیلئے سیکیورٹی پلان تشکیل

army chief gernal qamer javed bajwa
پاکستان23 گھنٹے ago

آرمی چیف سے رائل سعودی آرمی کے وفد کی ملاقات

مقبول خبریں