Khouj English Advertising Privacy Policy Contact Us
Connect with us

کالم کلوچ

اپنی پہچان کی تلاش !

Published

on

company-culture-defin

تحریر- صبح صادق
دوچار ہفتے قبل جب مجھے میرے آفس میں ایک خط ملا جس میں فرمائش کی گئی تھی کہ آپ یہاں قصور میں بلھے شاہ کلچرل فورم میں ہمارے ساتھ آملیں اور پاکستانی ثقافت اور فنون لطیفہ کے موضوع پر گفتگو کریں تو یقین مانیں اس موضوع کو لے کر یکدم میرے اوپر سکتہ سا طاری ہو گیا۔ اول تو اس لئے کہ یہ موضوع اتنا وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ ایک نشست میں اس پر سب کچھ سمیٹ پانا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے۔دوم یہ کہ یہ میرا موغوب ترین موضوع ہے اور جو شے انسان کو عزیز ہوتی ہے اس کے ساتھ وہ برتاؤ بھی اپنوں جیسا کرتاہے ۔میری خوش قسمتی ہے کہ میں گزشتہ دس برسوں سے براہ راست ایک ادبی و ثقافتی ادارے لاہورآرٹس کونسل میں بطور پی آر او، ثقافت کی مہم سے وابستہ ہوں(جسے دن رات کی کوششوں سے ہم ایک مقامی ادارے سے بین الاقومی سطح پر لے گئے ہیں ) البتہ بالواسطہ تو اس شعبہ کے ساتھ عمربھر کا ساتھ رہا ہے یعنی خاکسار کو بچپن سے ہی ادب و ثقافت کے شعبے خاص دل چسپی رہی ہے۔بہرحال یہاں ہم ایک ایسے شعبہ پر بحث و مباحثے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے جس کی نہ تو حدود و قیودکاآج تک تعین ہو سکا نہ ہی اس کے لوازمات ، مندرجات وغیر ہ پر کوئی ٹھوس اتفاق موجود ہے۔میری نظر میں ہمارے قومی شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (مرحوم) کی پہلی بات تو پوری ہو چکی یعنی پاکستان کی بستی بس گئی لیکن ہمارے اہل نظر ابھی تک یہ طے نہ کر پائے کہ اپنی نگاہ کو کیاکریں۔بہرحال یہ امر مسرت کا باعث ہے کہ آج یہاں پاکستان کے چوٹی کے مفکرین ادیب اور دانشور اور زندگی کے مختلف شعبوں کے تعلق رکھنے والے سکالز اپنے ثقافتی عوامل و مظاہر کی بہتر سے بہتر تفہیم کے لئے جمع ہوئے تھے اس پر میں اس کنونشن کے منتظمین و محققین کو مبار کبار پیش کرتاہوں کہ جنہوں نے اس کنونشن کو اپنی ذاتی دلچسپی ،عملی تعاون اور محققانہ صلاحیتوں سے پروقار بنایا ہے۔
میرے مطابق عملی طورپر زندہ اور جاندار کلچر کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرتاہے جس میں وسائل ،سرپرستی یا مواقع کی کمی کے باوجود مناسب تخلیقی ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچایا جاتا ہے اور پھر وہ ٹیلنٹ اپنے معاشرے کی جمالیات اور دانش کے میدانوں میں اعلیٰ ترین ہم عصر معیاروں کے مطابق ڈھل کر قومی دھارے میں شامل ہو جاتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ آرٹ قوم کی پہچان بننے کے ساتھ ساتھ قومی فکر کی تعمیر کا ایک اہم وسیلہ ثابت ہوتا ہے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہمارے ہاں ثقافت کی رسمی تعریف میں ہمارے رسم ورواج،رہن سہن کے طریقے ،بودوباش یعنی کل طریقہ زندگی شامل ہیں اس تناظرمیں کسی بھی قوم کا اصل چہرہ تبھی خوبصورت نظرآئے گا جب مجموعی طورپر اس ملک کے نظام میں معیشت ،عدل و انصاف،امن وامان اور چیک اینڈ بیلنس سمیت دیگر زندگی کے دورے شعبے مستحکم ہونگے۔اگرآپ کے نوجوان کو تعلیم اور روز گاہ کے موقع میرٹ پر میسر آئے، سماجی رویے اعتدال پر مبنی ہو، کوئی کسی کی ناجائز پگڈی نہ اچھال پائے اور مانیٹرنگ کا خود کار مزاحتمی نظام کام کرنا شروع کردے تو پھر آپ اس بات پر اطمینان کر سکتے ہیں کہ آپ کی قوم کا چہرہ دنیا کو خود بخود خوب صورت نظر آنے لگے گا۔اگر معاشرے کا مجموعی نظام انحطاط پذیر ہو اور اسے بہتر بنانے کی کوئی سنجیدہ کاوشیں نہ کی جائیں تو پھر دنیا میں اپنے متعلق پھر اعتماد بیانیہ کی تشکیل کرپانامشکل نظر آتاہے ،بدقسمتی سے یہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے،چند برس قبل تو ہمارے حالات بہت بگاڑ کا شکار تھے بہر حال ان حالات میں بھی ہمارے ثقافتی اداروں نے ا پنا ایڑی چوٹی کا روز لگایااور دنیا میں اپنے وجود کی بقاء کی جنگ لڑی اور الحمد اللہ ہم اس نتیجے میں دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر عزت کے ساتھ مدعو کئے جاتے رہے اور ہمارے بات بھی سنی گی۔مگر موجود ہ دور میں ہمارے چندقومی اداروں کی حوصلہ بخش کار کردگی کے نتیجے میں حالات ساز گار ہونے شروع ہوئے ہیں کیونکہ ملک کے تمام نظاموں کا محور شعبہ ثقافت ہوتاہے ان مستحکم نظاموں کی صورت میں یہ امر ثقافتی اداروں کے لئے سہل ہو جاتا ہے کہ وہ خود کو دنیا میں منوا سکیں۔بہرحال یہ حقیقت ہے کہ جہاں ہمیں قومی سطح پر اپنی بہتر ثقافتی حکمت کاری سے ملکی یک جہتی اور ہم آہنگی کے لئے مدد مل سکتی ہے وہاں ہم بین الاقومی تناظر میں اپنے خلاف ہونے والے بے بنیاد ،من گھڑت اور پروپیگنڈہ پر مبنی بیانیے کے اثرات بھی زائل کر سکتے ہیں اس سے بھی بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم نے دشمن کی ساز شوں کا نہ صرف توڑ کرناہے بلکہ اپنے جوابی بیا نیے میں دنیا کے سامنے اپنی اقتصادی کا میابیوں، متوازن سماجی رویوں،بین الاقومی امن میں اپنے کردار کو قابل قبول انداز میں پیش بھی کرناہے سو اس حوالے سے مجھے بے حد خوشی ہے ہم باہمت قوم ہیں ہم نے مشکل حالات میں اپنی بقاء کے لئے بے دریغ قربانیاں دی ہیں اب یہ بات تمام قومی و صوبائی ثقافتی اداروں پر منحصر ہے کہ ہم کس انداز میں اپنی ان کا میابیوں کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں ،مثلا میری نظر میں ا پنے آپ کو دنیا میں متعارف کروانے کے دو طریقے ہیں یا تو ہم دنیا کے اہل قلم اور صاحب آراء مفکرین کو اپنے ہاں مدعو کریں اور ان کے سامنے اپنا خوبصورت نظام زندگی رکھیں اور انھیں اپنا گرویدہ بنانے کی پرزور کوششیں کریں مثلا اس حوالے سے ہم نے گزشتہ دو برسوں سے دنیا بھر کے 50ممالک کے سفیروں کو لاہورآرٹس کونسل کے پلیٹ فارم پر مدعو کیا اور ان کو اپنی عوامی رویے اور اقدار سے روشناس کروایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان سفیروں نے اپنے اپنے ممالک کو جو رپورٹ بجھوائیں میں نے ان جب کا پتہ کیا تو یقین مانیں وہ ہمارے لئے بے حد تسلی بخش تھی ،یعنی ہمارا تجربہ کامیاب رہا الحمداللہ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ خود دیس دیس جاکر دنیا تک اپنی بات پہنچائیں اس محاذ پر بھی لاہورآرٹس کونسل الحمراء کی کارکردگی میں آپ کے سامنے رکھنے پر فخر محسوس کروں گا۔ہم نے ایک پراجیکٹ(PIC Pakistan)کہ نام سے شروع کیاہے جس کے پہلے مرحلے پر تھائی لینڈ میں پاکستان کا رنر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔تھاماسٹ یونیورسٹی ،بنکاک تھائی لینڈ میں اس پاکستان کارنر کے قیام سے 50000طلبہ و طالبات جو دنیا بھر سے یہاں تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں،سے مستفید ہونگے اور اپنے اپنے وطن واپسی پروہ پاکستان کے متعلق ایک مثبت رائے لے کر جائیں گے یہی ہمارے مقصد ہے ۔اس کو اب ہم آگے لے کر چل رہے ہیں اور اس کادائرہ کار کوئی درجن بھر ممالک تک پھیلا رہے ہیں۔
یہی بات اگر میں دوسرے انداز میں بیان کرؤں تو میری نظر میں ثقافت ایک باریک،کچے دھاگے کی مانند ایک ایسی لڑی کا نام ہے جس کی مضبوطی کا انحصار اس میں پردے جانے والے طرح طرح کے رنگ بر نگے خوبصورت مو تیوں کے حسن پر ہوتاہے۔جو جس قدردلکش ہونگے یہ لڑی قدر مضبوط ہوگی البتہ اگر اس میں بے کار موتی پروے دے جائے تو یہ اس ثقافت کی لڑی کو مضبوط کرنے کی بجائے کمزرو کر دیں گے جس سے کسی بھی قوم کا شہزازہ با آسانی بکھیرا جاسکتا ہے سو یہ اس قدراحساس نوعیت کا معاملہ ہے۔بہرحال یہ شعبہ ثقافت جزوئیات کوکُل میں پروتاہے،نہایت طاقتور ،جادوئی اثر کا حامل ہونے کی بناء پر کوئی اس کی اثر پذیر ئی سے بچ نہیں سکتاہے یہ بکھیری چیزوں کو اکائی بناتاہے مثلا ہمارے ملک کے تمام صوبوں کے لوگ اگر اس شعبہ سے صحیح معنوں میں استفادہ کریں یایہ شعبہ اپنا کام ڈھنگ سے سرانجام تو اسی صورت ہم اس کے اثرات کو اپنے حق میں استعمال کرسکتے ہیں مثلا جسے ہم لاہور میں کام کرتے ہوئے یہاں کے رہنے والوں کے سامنے فنون لطیفہ کی مدد سے دوسرے تمام صوبوں کے رنگ روپ پیش کرتے ہیں اگر یہی طریقہ کار دوسرے صوبوں کے ثقافت ادارے بھی اپنائے تو کوئی مشکل نہیں کہ ہم ایک نہ ہو سکیں میری نظر میںآج ثقافتی حالات کی کار کردگی جاننے کی سب سے بڑی کسوٹی یہی ہے کہ اگر ہمارے مختلف صوبوں میں بسنے والے افراد باہم ایک دوسرے پر فخر کرنا شروع کریں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ثقافتی اداروں کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔سو ہمارا پہلا حدف اپنا گھر خوبصورت بنانا ہونا چاہے پھر اس کے بعد دنیا کے پاس ہماری اہمیت کے انکارکا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔
جہاں تک اس شعبے کو درپیش چیلنجز کا سوال ہے کہ وہ بے شمار ہیں مثلا اس شعبہ سے متعلق ایک عام بیا نیہ (Narrative)یہ ہے کہ کلچر اور فنون امراء کی عیاشی کی کسی شے کا نام ہے جو میری نظر میں بہت خطرناک ہے ۔سو آگے چلیں ایک نقطہ نظریہ بھی ہے کہ زندگی کی تمام ضروریات اور تقاضے پورے ہونے کے بعد کلچر اور اس کے دیگراجزاء کے بارے میں غور کیاجائے گا، دوسرے لفظوں میں ملک میں کلچر کا روز مرہ کی زندگی اورہماری قومی ضروریات کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے،گویا یہ دو الگ الگ باتیں ہے۔مزید ذرا غور کیجئے بعض دوستوں کا خیال ہے کہ دراصل کلچر تو طبقاتی ہوتا ہے یعنی کلاس کلچر۔ہمارے ہاں امرا ء ہیں،غرباہیں،کسان ہیں،مزدور ہیں،سرمایہ دار ہیں اور افسر لوگ ہیں ان سب کا کلچر ایک دوسرے سے الگ ہے اب ان سب سے ماورا پاکستانی کلچریا پاکستان کے قومی کلچر کی تلاش بے کارسی بات ہے کیونکہ کلاس یا طبقے سے الگ کوئی کلچر نہیں ہوتاہے،میری نظر میں یہ نہایت غلط تصور ہے اس سے ملتی جلتی ایک اور بات بھی سننے میںآئی ہے کہ سندھی کلچر ،بلوچی کلچر، پختون کلچر،پنجابی کلچر، ہرجگہ کے الگ الگ کلچر ہیں اور یہی ہونا بھی چاہیے ۔ان سے الگ یاان کے اوپر کسی قومی کلچر یا ثقافت کی تلاش کرنا بے کار ہے ۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بغیر لوگ تو اسے شرارت کی بات کہتے ہیں اوراس کا مقصد یہ بتاتے ہیں اس سے ملک میں لادینی پن پھیلا یا جارہا ہے۔دوسرا مقصد یہ ہے کہ سندھی ،پنجابی،بلوچی اور پختون کا فساد پیدا کرکے قومی وحدت کو نقصان پہنچا ہے اس شعبے کو اب اس سے بڑے اور چیلنج کیا لاحق ہوں گے-

کالم کلوچ

پاک چین دوستی میں دراڑ نہ آنے پائے!

Rashid Saeed

Published

on

kamran Goreya

تحریر: کامران گورائیہ
جنوبی ایشیاء میں شامل ممالک میں پاکستان اور چین کی دوستی کو رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، پاک چین دوستی کی لازوال رشتوں کی داستان بے حد طویل ہے جس پر درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں کتابیں بھی شائع کی جائیں تو شاید وہ کم ہی رہیں گی۔ چین تقسیم ہند کے ایک سال کے بعد ہی ایک آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوا، پاکستان چین کو ایک علیحدہ اور خود مختار ریاست تسلیم کرنا والا پہلا ملک تھا اور یہیں سے چین کے ساتھ دوستی کا نا ختم ہونے والا سفر شروع ہو گیا۔ چین نے بھی ہر قدم پر پاکستان کا ساتھ دیا ، احتسابی مشکلات ہوں یا پھر عالمی قوتوں کا دباؤ ہو ، جدوجہد آزادی کے لیے کشمیریوں کے مؤقف پر پاکستان کی رائے ، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا امن و امان کے لیے کی جانے والی کوششیں چین نے اقوام متحدہ سمیت ہر پلیٹ فارم پر پاکستان کے مؤقف کی تائید اور حمایت کی ، حتیٰ کہ چین وہ پہلا ملک ثابت ہوا جس نے پاکستان کو ایک ایٹمی قوت کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن کی ضمانت قرار دیا۔ بھارت کے ساتھ تنازعات کے معاملات پر بھی چین نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ 
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے دورہ حکومت میں چین نے حکومت پاکستان سے اپنی دوستانہ وابستگی کی بنیاد پر سی پیک جیسا عظیم الشان منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔ چینی صدر کے اعلان کے مطابق سی پیک منصوبہ میں گوادر پورٹ کی تعمیر اور توانائی کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کرنا اولین ترجیح قرار دیا گیاتھا۔ چینی صدر نے ن لیگ کے دورہ حکومت میں اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبوں سمیت توانائی کے بہت سے منصوبوں کے لیے 45 ارب ڈالر کے معاہدے کیے تھے۔ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کے اعلان پر روس اور ایران سمیت بہت سے دیگر ممالک نے اپنی دلچسپی کا اظہار بھی کیا تھا لیکن ہمسایہ ملک بھارت اور امریکہ کو ان منصوبوں پر سخت تشویش لاحق ہونے لگی اور یہ دونوں ممالک آج بھی ان منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں مگر چین امریکہ اور بھارت سمیت دنیا کے ان تمام ممالک کے خلاف ڈٹ ہوا ہے جو اس عظیم الشان منصوبہ کی مخالفت کر رہے تھے یا ابھی تک وہ مخالفانہ حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ 
عمران خان کی حکومت آنے کے بعد سے سی پیک ، گوادر پورٹ اور توانائی کے بہت سے ایسے منصوبے جو چینی سرمایہ کاری سے پاکستان میں لگائے جا رہے ہیں ان کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے۔ امریکہ نے اپنا عالمی اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے گوادر پورٹ پراجیکٹ پر عرب دنیا کو اپنا ہم خیال بنا لیا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت بہت سی دیگر عرب ریاستیں وزیراعظم عمران خان کے دوروں کے مواقع پر پاکستان کی مشروط امداد کر رہی ہیں۔ پیش کی جانے والی ان شرائط میں گوادر پورٹ پراجیکٹ کو ختم کرنے اور توانائی کے بعض منصوبوں کو روکنے کا پابند بھی کیا گیا ہے۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے عرب ممالک کی یہ شرائط من و عن تسلیم کر لی ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے رحیم یار خان میں توانائی کے منصوبہ کو بند کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ حکومت پاکستان کی طرف سے چین کو درخواست کی گئی ہے کہ وہ رحیم یار خان توانائی منصوبہ پر سرمایہ کاری نہ کرے کیونکہ اس منصوبہ کے علاوہ بھی چین کے تعاون سے پاکستان میں توانائی کے جن منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے ان منصوبوں کی تکمیل سے بجلی کی پیداوار میں اس قدر اضافہ ہو جائے گا کہ یہ ملک نہ صرف خود کفیل ہو جائے گا بلکہ بجلی دیگر ممالک کو دینے کے قابل بھی ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ چینی صدر کے دورہ پاکستان کے بعد سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اپنے دورہ چین کے موقع پر رحیم یار خان میں بھی توانائی کا منصوبہ شروع کروانے کی درخواست کی تھی جیسے منظور کر لیا گیا اور اس منصوبہ پر کام کا آغاز بھی ہو گیا تھا لیکن اب اس منصوبہ کا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے ۔
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنی خارجہ پالیسیوں کے نتیجہ میں جہاں چین کے تعاون سے سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ جیسے منصوبے شروع کروائے وہاں اپنے دور میں عرب ممالک کے تعاون سے ناصرف ڈالر کو اونچی اڑان بڑھنے سے روکے رکھا بلکہ مفت تیل منگوا کر بھی اس ملک کی بہتری اور مفاد کو پیش نظر رکھا۔ نوازشریف کے دور حکومت میں پاکستان کے عرب ممالک اور چین کے ساتھ تعلقات میں کبھی بھی سرد مہری نظر نہیں آئی۔ ایٹمی دھماکے ہوںیا پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کا مسئلہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی۔ اس کے برعکس موجودہ حکمران صرف اور صرف اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ہر وہ حربہ اختیار کر رہے ہیں جو ان کے کرسی کو بچانے میں کارگر ثابت ہو سکے۔ چین کو سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹس سمیت پاکستان میں شروع کیے گئے بہت سے دیگر منصوبوں پر تحفظات ہیں جبکہ اسے اس بات کا بھی بہت حد افسوس ہے کہ پاکستان نے امریکہ کے طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کروانے میں کردار ادا کرنے کے لیے اسے اعتماد میں نہیں لیا ۔ سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے چین نے اپنی اس ناراضگی کا اظہار حکومت پاکستان اور دیگر ریاستی اداروں سے بھی کیا لیکن دیکھنے میں یہ آ رہا ہے کہ چین کو نا صرف سی پیک منصوبہ پر بلکہ افغانستان سمیت پاکستان کی نئی خارجہ پالیسی پر شدید تشویش لاحق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی یہ وضاحت دینے پر مجبور ہیں کہ سفارتی محاذ پر چین کے ساتھ پاکستان کے کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ 
عرب ممالک سے دوستانہ روابط،روس کے ساتھ دن بدن بہتر ہوتے تعلقات ‘افغانستان میں قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششیں ‘دہشت گردی کا خاتمہ ہو یا اقتصادی اور معاشی مسائل کا سامنا پاکستان کو دیر پا خارجہ پالیسی اپنانا ہوگی ۔ مہنگائی ، بیروزگاری اور معاشی مسائل سے چھٹکارا پانے کے لیے اب بالکل ہٹ کر معاملات کو مختلف انداز سے آگے بڑھانا ہوگاورنہ کبھی پاکستان کی چین سے دوستی داؤ پر لگ جائے گی تو کبھی عرب دنیا کی ناراضگی کا خدشہ برقرار رہے گا۔ منتخب ہو کر آنے والی تمام حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ دوست ممالک کے ساتھ دوستی کو مزید مضبوط بنانے کی مخلصانہ کوششیں کریں اور اپنے سے پہلے کی حکومتوں کے شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں میں کمی بیشی کرنے سے گریز کرے۔ پاکستان کی سا لمیت تمام سیاسی جماعتوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک دوسرے پر تنقید کرنے اور ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کے الزامات لگانے کا سلسلہ ترک کرکے صرف اور صرف وطن عزیز کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے قانون سازی کے ساتھ ساتھ وہ بہترین خارجہ پالیسیاں بنائے جس سے اس ملک کا امیج پوری دنیا میں بہتر سے بہتر ہو سکے ۔ پاکستان جنوبی ایشیاء کا ایک اہم ملک ہے اس اہمیت کو سمجھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو نواز شریف دشمنی میں اس حد تک آگے نہیں نکلنا چاہیے کہ جس سے ہمارے ملک کی بدنامی ہو اور یہاں پر سرمایہ کاری کرنے کے لیے کوئی بھی ملک تیار نہ ہو۔ اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری ہمسایہ دوست ملک چین کر رہا ہے چین کے اشتراک سے شروع کیے گئے وہ تمام منصوبے بالکل اسی طرح سے پایہ تکمیل تک پہنچانا ضروری ہیں جنہیں سابق حکمرانوں کے دور میں شروع کیا گیا تھا۔ چین سے پاکستان کی دوستی دنیا بھر کے لیے ایک مثال ہے اس دوستی کو ناصرف مزید مضبوط ہونا چاہیے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان بھروسے اور اعتماد کا کا رشتہ بھی قائم رہنا چاہیے۔

Continue Reading

کالم کلوچ

اپنی دھرتی لہور

Published

on

 بابے نانک دی پوتر دھرتی کرتارپور نے ہی امن اتے دوستی دے لانگھے لئی واج ماری ہے .نوجوت سدھو دے روپ ‘چ اک امن- دوت نے پہاڑ جڈی پلانگھ پٹن دا جیرا دکھایا ہے دوہاں ملکاں دیاں کجھ وڈیاں ہستیاں اتے دھراں نے وی امن ولّ ودھن دی حامی بھری ہے . ساڈے مناں ‘چ اک وار پھیر اوہی ارمان اٹھے نے . شالہ ، دوہاں پاسیاں توں بھکھدے انگاراں دی تھاں ٹھنڈھیاں ہواواں دے بلے وگن . پلاں ہیٹھوں پانی بہت وگّ چکے .رشتیاں اتے مثلیاں دی تانی ہور الجھی پئی ہے. دوہاں ملکاں دے اندرلے تے باہرلے سیاسی ، غیر-سیاسی، وپاری تے غیر- وپاری اجہیاں انیک دھراں دے مفاد، اس تانی نوں الجھائی رکھن ‘چ ہی نے . ہنسا اتے ہتھیار پوری حاوی نے . بے شکّ،صرف بھاوکتا کافی نہیں .کجھ حقیقی بدلاء ہونگے تاں موڑا پئیگا . پھیر وی آس نال ہی جہان ہے دیر ہووے جاں آویر- تبدیلی قدرت دا اٹلّ نیم ہے .
اسے امید نال 14 سالاں بعد اج اپنے وڈیریاں دیاں جڑھاں والی دھرتی بھاوَ لیہندے پنجاب ‘چ پیر دھرے نے .پہلا پڑاءلاہور ہے .
فوری سببّ میری بیوی ترپتا نے بنایا ہے . اسدا دادکا پنڈ پوتر دھرتی ننکانہ صاحب ہے . 1947 دی ونڈ ویلے ، جد اسدے دادا کرشن چند شاہ جی ، ہجرت کرن لگے سن تاں اپنی 19 کمریاں دی حویلی دیاں چابیاں گرودوارہ ننکانہ صاحب دے پربندھکاں نوں پھڑا کے آئے سن . اوہ حویلی تاں پتہ نہیں کس کول ہے ، جا کے کھرا کھوج تے کوئی نشانی لبھن دا یتن کراںگے .
میری بیوی دی بے حدّ تمنا سی اپنے پرکھیاں دی اس پاون دھرتی دی چھوہ لین لئی . سببّ نال میرے لمے سمیں دے دوست اتے ہمیشاں پیار دیاں تنداں بنن دے یتن کرن والے درویش انسان رائے عزیز الاہ خان دا لاہور آون دا سدا آ گیا . رائے صاحب اوہ ہستی نے جنہاں کول دسویں گورو سری گوبند سنگھ دی بھیٹ کیتی سوغات ” گنگا ساگر ” محفوض ہے .اوہ بہت کمال دے میزبان وی نے .
میرا دادکا پنڈ کنگن پور ہے . پہلاں ایہہ لاہور ضلعے دا حصہ سی پر ہن ایہہ قصور ضلعے ‘چ ہے . کوشش کراںگے اپنے وڈیریاں دیاں یاداں پھرولن دی ، نویں -پرانے دوستاں نال میل-ملاپ دی . اپنے وت مطابق موہ-پیار دے رشتیاں ‘چ نویں روح بھرن دی .کرتارپور صاحب دی پاون دھرت تے نتمستک ہون دا ارادہ ہے . جو کجھ نواں تے وکھرا دسیا اوہ ضرور سانجھی کراںگے۔ اجے تاں لاہور دے اسے جممخانا کلبّ دے کمرے چ ہی ہاں جس وچ 1993 ‘چ ادوں ٹھہریا سی جدوں پہلی وار اجیت لئی پاکستان دیا پارلیمینٹ چوناں کور کرن آیا سی .بلجیت بلی

Continue Reading

کالم کلوچ

قادری عمران کھانا اورملکی سیاست

Rashid Saeed

Published

on

kamran Goreya

پاکستانی سیاست میں ہر دن نیا دن ہوتا ہے سیاسی بسات کے مہرے اپنی چالیں چلتے رہتے ہیں اور یہی سیاست کا حسن ہے۔ پاکستان کے سینئر سیاستدان شیخ رشید جو ہر روز سونے سے پہلے یہ دعا کرکے سوتے ہیں کہ جب وہ صبح اٹھائیں تو نواز حکومت ختم ہو چکی ہو لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔ بہر حال وہ پاکستان کے ایک سیزن سیاستدان ہیں اور وہ بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ تمام اپوزیشن جماعتیں یکجا ہو کر حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلائیں۔ ابھی تک تو ان کو اس حوالے سے مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوسکی مگر ان کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کی کوششوں کی بدولت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ مولانا طاہر القادری کھانے پر ملاقات کریں گے۔یہ خبر بھی انہوں نے طاہر القادری کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔اگر مولانا طاہرالقادری کو عمران خان کے گھر جا کر کھاناکھاناپڑاتو میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ کھاناکیسا ہوگا اور کیا طاہر القادری کی مرضی کا ہوگا کہ نہیں؟ مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ طاہر القادری شوق سے کیا کھاتے ہیں۔جو میں نے سناہے کہ وہ شاید سبزی اورآلو قیمہ پسند کرتے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بارے میں میں بتا سکتا ہوں کہ وہ کھانے میں کیا پسند کرتے ہیں اور اگر ان کومولانا طاہر القادری نے کھانے کی دعوت دی تو مینو کیا ہونا چاہیے۔ تحریک انصاف کے سربراہ کو دیسی مرغ ، شکار کا گوشت جس میں بیٹر، تتر ، مرغابی سمیت کوئی بھی شکار ہو بہت پسند کرتے ہیں ساتھ ہی بکرے کی ران روسٹ بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔ ان تمام پکوان کو دیسی گھی میں پکوایاجائے تو بہت اچھا ہوگا ۔ ان تمام اشیاءکو بتانا اتنا ضروری نہ تھا لیکن ان کے بارے میں تفصیلات اس لیے بتا رہا ہوں کہ طاہر القادری صاحب کو کسی سے پوچھنا نہ پڑے۔ اب بات کر لیتے ہیں ملکی سیاست کی ۔ پاکستان تحریک انصاف اورپاکستان عوامی تحریک کو ایک مرتبہ پھر قریب لانے میں شیخ رشید نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ چونکہ شیخ رشید صاحب کا خیال ہے کہ اگر 30 روز کے اندر حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک نہ چلائی گئی تو حکومت کا جانا نہ ممکن ہوگا اور الیکشن2018ءمیں ہی ہوں گے اور شیخ صاحب یہ مطلع بار کہہ چکے ہیں کہ اگر میاں نوازشریف کی حکومت 2018ءتک رہی تو اس کے بعد بھی اگلی حکومت مسلم لیگ ن کی ہی ہوگی اور ان کو ہرانا تقریباً نہ ممکن ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ صاحب اپوزیشن کو متحرک کرنے میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف جو کہ عوامی دباﺅ حکومت پر بنا رہی رہے اس سلسلے میں تحریک انصاف ملک بھر میں جلسے اور ریلیاں کر رہے ہیں۔ میری ناقص عقل کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ عوامی دباﺅ اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے حکومت کو دباﺅ میں رکھا جائے تاکہ حکومت کوئی بڑی غلطی کر سکے۔ اگر حکومت کوئی بڑی غلطی کرتی ہے تو قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اور اگر حکومت کوئی بڑی غلطی نہیں کرتی اور قبل از وقت انتخابات نہیں ہوپاتے تو کم از کم حکومت کو 2018ءکے الیکشن تک مسلسل دباﺅ میں رکھا جائے گا اور عوام میں حکومت کی بدعنوانی اور حکمرانوں کی کرپشن کا ایشو زندہ رکھا جائے ۔ تحریک انصاف موجودہ صورتحال کے پیش نظر بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ عوامی رابطہ مہم جس کا نام انہوں نے احتساب موومن رکھا ہے۔ اس میں ملک کے تمام اپوزیشن حماعتیں ان کے ساتھ دیں گی۔ اسی ضمن میں انہوں نے اپنی پارٹی رہنماﺅں کی دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کی ڈیوٹی بھی لگائی اور تحریک انصاف کو دوسرے درجے کی قیادت جس کی سربراہی پارٹی کے جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی ، سنی تحریک اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے سمیت عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری سے ملاقاتیں کیں۔ اطلاعات ہیں کہ جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی اور دیگر چند سیاسی جماعتوں نے عمران خان کی احتساب ریلی میں علامتی طور پر شرکت کی یقین دہانی کروائی جبکہ پاکستان عوامی تحریک ، سنی تحریک سمیت دیگر مذہبی جماعتوں نے پاکستان تحریک انصاف کی احتساب ریلی میں بھرپور شرکت کا وعدہ کیا۔ یہ عمل باعث تعجب ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے جہانگیر ترین کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کے وفد اور عوامی تحریک کے سربراہ شیخ رشید کے ساتھ مشترکہ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ لاہور میں ہونے والی پی ٹی آئی کی احتساب ریلی میں بھرپور شرکت کریں گے جبکہ ان کی جماعت پاکستان عوامی تحریک اسی روز یعنی کے 3ستمبر کو پنڈی میں حکومت کے خلاف عوامی اجتماع کر رہی ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک طرف پاکستان عوامی تحریک عمران خان کے ساتھ لاہورکی ریلی میں شامل ہونے کے لئے اپنے کارکنوں کو شرکت کی اپیل کر رہے ہیں جبکہ خود پنڈی میں بھرپور دھرنا دے رہے ہیں ۔پاکستان عوامی تحریک کے کارکن کی روایت رہی ہے کہ وہ جہاں بھی ان کااجتماع ، دھرنا یا سیاسی پروگرام ہو تو تمام کارکن وہاں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا طاہر القادری کی جماعت کے کارکن پنڈی میں ہونے والے اپنے اجتماع میں بھرپور شرکت کریں گے جبکہ لاہور میں ہونے والی پاکستان تحریک انصاف کی عوامی ریلی میں مولاناکی جماعت کی علامتی شرکت ہوگی۔ پاکستان تحریک انصاف عروج کا آغاز لاہور کے تحریکی مینار پاکستان کے جلسے سے ہوا ۔مجھے ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں مل رہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنی لاہور میں ہونے والی ریلی میں تمام سیاسی جماعتوں کوشرکت کی دعوت کیوں دی ہے اور اگر دی ہے تو یہ کیوں کہا ہے کہ سب اپنے اپنے کینٹینر پر آئیں۔ اگر کپتان حکومت کے خلاف تمام اپوزیشن کو ملا کر بھرپور عوامی تحریک چلانا چاہتے ہیں تو پھر اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے سربراہوں کو ایک کنٹینر پر ہونا چاہیے تا کہ حکومت کو یہ تاثر دیا جائے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف یکجا ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے آج کل سیاسی مشیر کون ہیں میں وثوخ سے نہیں کہہ سکتا لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ کپتان کے ساتھ مخلص نہیں۔ عمران خان کے مشیروں سے عمران خان کو وقتی طور پر سیاسی فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کو نقصان ہو رہاہے اور روز بہ روز پارٹی اختلافات میں شدت آ رہی ہے۔ خان صاحب نے جہلم سے فواد چوہدری جبکہ بورے والا سے عائشہ نذیر جٹ کو حالیہ ہونے والے ضمنی الیکشن میں پارٹی ٹکٹ دی ہے۔فواد چوہدری نے جہلم NA67 سے پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن میں حصہ لیا ۔ اگرچہ انہوں نے 2013ءکے الیکشن کے مقابلے میں 30 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے لیکن جہلم سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے کارکن انکوٹکٹ دیئے جانے پر خوش نہ تھے ان کا مو¿قف ہے کہ فواد چوہدری متعدد بار سیاسی جماعتیںتبدیل کر چکے ہیں وہ پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر الیکشن صرف اس لیے لڑے کہ ان کے پاس کوئی اوراچھا (0pption)آپشن نہ تھا اسی طرح بورے والا سے پی پی 232کی ٹکٹ عائشہ نذیر جٹ جو کہ سابقہ ایم این اے نذیر جٹ کی بیٹی ہے ان کو دی گئی۔ نذیر جٹ پہلے ق لیگ اور پھر پیپلز پارٹی میں رہ چکے ہیں ۔ اب ان کے لئے بہتر آپشن پی ٹی آئی تھا اور پاکستان تحریک انصاف نے بہتر امیدوار ہونے کے ناطے ان کو ٹکٹ جاری کر دیا۔ اس فیصلے کو بھی بورے والا کی تحریک انصاف کی قیادت نے نہیں سراہا بلکہ ان کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف بھی ایک روایتی سیاسی جماعت بن چکی ہے جو نظریات کی بجائے دھرہ بندی اور برداری کی سیاست کواہمیت دے رہی ہے۔ عائشہ نذیر جٹ کے بارے میں انتخابی مہم شروع ہوتے وقت یہ تاثر عام تھا کہ وہ با آسانی ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوجائیں گی۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز جو کہ جہلم اور بورے والا دونوں الیکشنوں کی براہ راست نگرانی کر رہے تھے ان کو بھی یہی اطلاعات مل رہی تھیں کہ عائشہ نذیر جٹ انتہائی مضبوط امیدوار ہیں اوران کو ہرانا آسان نہ ہے کیونکہ ان کے والدنذیر جٹ برادری اور دھروں کی سیاست کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور یہی سے 2008ءمیں وہ آزاد حیثیت سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں ۔ نذیر جٹ جوکہ اپنی بیٹی کی خود کمپیئن بھرپور انداز سے چلا رہے تھے ان کو بھی یقین تھا کہ وہ یہ سیٹ با آسانی جیت جائیں گے مگر ایسا نہ ہوا حمزہ شہباز شریف کی ٹیم نے اس حلقہ میں بھرپور عوامی رابطہ مہم چلائی اور میری اطلاعات ہیں کہ یہاں سے پی ٹی آئی کے سابقہ ٹکٹ ہولڈر سمیت پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے اہم رہنماﺅں پس پردہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ اپنے زیر اثر لوگ اور دھروں کے ووٹ بھی مسلم لیگ ن کو دلوائے ہیں۔ مجھ یقین ہے کہ کپتان کو ان کے رفقاءنے دونوں ضمنی انتخابات کے حوالے سے یہ بریفنگ دی ہوگی کہ پارٹی نے بھرپور طریقے سے پرفارم کیاہے جس سے پارٹی کی مقبولیت کااندازہ لگایا جاسکتاہے اور ان سے اصل حقائق پوشیدہ رکھے ہوں گے۔ کپتان سے درخواست ہے کہ وہ اپنی آنکھیں اورکان چند قریبی مشیروں کی جانب مرکوز کروانے کی بجائے اپنے عام ورکر کی آواز اور رائے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

Continue Reading
Advertisement
hamza shahbaz
پاکستان6 منٹ ago

پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی، حمزہ شہباز کا بڑا فیصلہ

ambar jhony
شوبز9 منٹ ago

جونی ڈیپ کا سابق اہلیہ اوراخبارپرمقدمہ

Federal cabinet meeting
پاکستان19 منٹ ago

وفاقی کابینہ اجلاس‘ پی آئی اے میں 1952ایکٹ کا نفاذ

asad umer1
پاکستان24 منٹ ago

مالیاتی پیکیج عوام کی بہتری کیلئے ہے: اسد عمر

karachi city councle meeting.JPG
پاکستان28 منٹ ago

کراچی سٹی کونسل اجلاس میدان جنگ میں تبدیل

chairman nab justice retaird javed iqbal
پاکستان39 منٹ ago

نیب کی 13 ماہ کی کارکردگی، 3 ارب سے زائد رقم برآمد

shabaz shrif
پاکستان40 منٹ ago

نواز شریف کی صحت سے متعلق خبریں اچھی نہیں

Sikh community
پاکستان43 منٹ ago

پشاورمیں سکھ کمیونٹی پر ہیلمٹ کی پابندی مستثنیٰ قرار

thief of id card
پاکستان47 منٹ ago

نادرا دفتر سے شناختی کارڈ چوری کرنیوالا ملزم گرفتار

azhar ali
کھیل48 منٹ ago

اظہرعلی کو کس چیز کا افسوس ہے

sindh assembly
پاکستان51 منٹ ago

سندھ اسمبلی اجلاس، تفتیش سے پہلے علاج کا بل پیش

sarah7
شوبز53 منٹ ago

سارہ علی خان میڈیا سے دوررہنے کا مشورہ

hamza shahbaz
پاکستان56 منٹ ago

سانحہ ساہیوال،اپوزیشن کا جوڈیشل کمیشن بناینکا مطالبہ

asad umer
پاکستان1 گھنٹہ ago

آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی فی الحال ضرورت نہیں: اسد عمر

imran khan
پاکستان1 گھنٹہ ago

وزیراعظم نے میانوالی جلسہ منسوخ کر دیا

mlika arora
شوبز22 گھنٹے ago

ملائیکہ اروڑا کواپنے ڈرائیورپرشک ہونے لگا

nawaz sharif
پاکستان23 گھنٹے ago

نواز شریف کو ایک بار پھر بڑی پیشکش

firdose ashiq awan
پاکستان21 گھنٹے ago

فردوس عاشق اعوان وزیراعلیٰ پنجاب کے حق میں بول پڑیں

sarfraz ahmad
کھیل21 گھنٹے ago

کسی کودکھی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا

ishaq dar
پاکستان22 گھنٹے ago

اسحاق ڈار کا وزیرخزانہ اسدعمر کوعہدہ چھوڑنے کا مشورہ

kangna ranvat
شوبز22 گھنٹے ago

کنگنا رناوت کوشدید مخالفت کا سامنا

asif ali zardari
پاکستان23 گھنٹے ago

ایک زرداری سب پر بھاری ۔۔۔ بریکنگ نیوز

پاکستان22 گھنٹے ago

زرداری کو گھسیٹنے پر شہباز شریف کا شکریہ

asad umar
پاکستان23 گھنٹے ago

بینکنگ ٹرانزیکشنزپرٹیکس ختم، سستے گھروں کیلئے قرض حسنہ اسکیم کا اعلان

women voters
پاکستان23 گھنٹے ago

خواتین ووٹوں کی تعداد کم،چاراضلاع کے انتخابات کالعدم

Development schemes
پاکستان22 گھنٹے ago

ترقیاتی سکیموں کو مکمل کرنے کیلئے 6 کروڑ کی منظوری

khuram dastgir
پاکستان22 گھنٹے ago

منی بجٹ آف شوراثاثے ریگولرائز کرنے کی واردات

شوبز7 گھنٹے ago

2019؛بالی ووڈ میں سنجے دت کا سال

shilpa sethi
شوبز21 گھنٹے ago

شلپا شیٹھی پرقرض واپس نہ کرنے پرمقدمہ درج

army chief gernal qamer javed bajwa
پاکستان23 گھنٹے ago

آرمی چیف سے رائل سعودی آرمی کے وفد کی ملاقات

مقبول خبریں