Khouj English Advertising Privacy Policy Contact Us
Connect with us

کالم کلوچ

اپنی پہچان کی تلاش !

Published

on

company-culture-defin

تحریر- صبح صادق
دوچار ہفتے قبل جب مجھے میرے آفس میں ایک خط ملا جس میں فرمائش کی گئی تھی کہ آپ یہاں قصور میں بلھے شاہ کلچرل فورم میں ہمارے ساتھ آملیں اور پاکستانی ثقافت اور فنون لطیفہ کے موضوع پر گفتگو کریں تو یقین مانیں اس موضوع کو لے کر یکدم میرے اوپر سکتہ سا طاری ہو گیا۔ اول تو اس لئے کہ یہ موضوع اتنا وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ ایک نشست میں اس پر سب کچھ سمیٹ پانا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے۔دوم یہ کہ یہ میرا موغوب ترین موضوع ہے اور جو شے انسان کو عزیز ہوتی ہے اس کے ساتھ وہ برتاؤ بھی اپنوں جیسا کرتاہے ۔میری خوش قسمتی ہے کہ میں گزشتہ دس برسوں سے براہ راست ایک ادبی و ثقافتی ادارے لاہورآرٹس کونسل میں بطور پی آر او، ثقافت کی مہم سے وابستہ ہوں(جسے دن رات کی کوششوں سے ہم ایک مقامی ادارے سے بین الاقومی سطح پر لے گئے ہیں ) البتہ بالواسطہ تو اس شعبہ کے ساتھ عمربھر کا ساتھ رہا ہے یعنی خاکسار کو بچپن سے ہی ادب و ثقافت کے شعبے خاص دل چسپی رہی ہے۔بہرحال یہاں ہم ایک ایسے شعبہ پر بحث و مباحثے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے جس کی نہ تو حدود و قیودکاآج تک تعین ہو سکا نہ ہی اس کے لوازمات ، مندرجات وغیر ہ پر کوئی ٹھوس اتفاق موجود ہے۔میری نظر میں ہمارے قومی شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (مرحوم) کی پہلی بات تو پوری ہو چکی یعنی پاکستان کی بستی بس گئی لیکن ہمارے اہل نظر ابھی تک یہ طے نہ کر پائے کہ اپنی نگاہ کو کیاکریں۔بہرحال یہ امر مسرت کا باعث ہے کہ آج یہاں پاکستان کے چوٹی کے مفکرین ادیب اور دانشور اور زندگی کے مختلف شعبوں کے تعلق رکھنے والے سکالز اپنے ثقافتی عوامل و مظاہر کی بہتر سے بہتر تفہیم کے لئے جمع ہوئے تھے اس پر میں اس کنونشن کے منتظمین و محققین کو مبار کبار پیش کرتاہوں کہ جنہوں نے اس کنونشن کو اپنی ذاتی دلچسپی ،عملی تعاون اور محققانہ صلاحیتوں سے پروقار بنایا ہے۔
میرے مطابق عملی طورپر زندہ اور جاندار کلچر کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرتاہے جس میں وسائل ،سرپرستی یا مواقع کی کمی کے باوجود مناسب تخلیقی ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچایا جاتا ہے اور پھر وہ ٹیلنٹ اپنے معاشرے کی جمالیات اور دانش کے میدانوں میں اعلیٰ ترین ہم عصر معیاروں کے مطابق ڈھل کر قومی دھارے میں شامل ہو جاتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ آرٹ قوم کی پہچان بننے کے ساتھ ساتھ قومی فکر کی تعمیر کا ایک اہم وسیلہ ثابت ہوتا ہے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہمارے ہاں ثقافت کی رسمی تعریف میں ہمارے رسم ورواج،رہن سہن کے طریقے ،بودوباش یعنی کل طریقہ زندگی شامل ہیں اس تناظرمیں کسی بھی قوم کا اصل چہرہ تبھی خوبصورت نظرآئے گا جب مجموعی طورپر اس ملک کے نظام میں معیشت ،عدل و انصاف،امن وامان اور چیک اینڈ بیلنس سمیت دیگر زندگی کے دورے شعبے مستحکم ہونگے۔اگرآپ کے نوجوان کو تعلیم اور روز گاہ کے موقع میرٹ پر میسر آئے، سماجی رویے اعتدال پر مبنی ہو، کوئی کسی کی ناجائز پگڈی نہ اچھال پائے اور مانیٹرنگ کا خود کار مزاحتمی نظام کام کرنا شروع کردے تو پھر آپ اس بات پر اطمینان کر سکتے ہیں کہ آپ کی قوم کا چہرہ دنیا کو خود بخود خوب صورت نظر آنے لگے گا۔اگر معاشرے کا مجموعی نظام انحطاط پذیر ہو اور اسے بہتر بنانے کی کوئی سنجیدہ کاوشیں نہ کی جائیں تو پھر دنیا میں اپنے متعلق پھر اعتماد بیانیہ کی تشکیل کرپانامشکل نظر آتاہے ،بدقسمتی سے یہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے،چند برس قبل تو ہمارے حالات بہت بگاڑ کا شکار تھے بہر حال ان حالات میں بھی ہمارے ثقافتی اداروں نے ا پنا ایڑی چوٹی کا روز لگایااور دنیا میں اپنے وجود کی بقاء کی جنگ لڑی اور الحمد اللہ ہم اس نتیجے میں دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر عزت کے ساتھ مدعو کئے جاتے رہے اور ہمارے بات بھی سنی گی۔مگر موجود ہ دور میں ہمارے چندقومی اداروں کی حوصلہ بخش کار کردگی کے نتیجے میں حالات ساز گار ہونے شروع ہوئے ہیں کیونکہ ملک کے تمام نظاموں کا محور شعبہ ثقافت ہوتاہے ان مستحکم نظاموں کی صورت میں یہ امر ثقافتی اداروں کے لئے سہل ہو جاتا ہے کہ وہ خود کو دنیا میں منوا سکیں۔بہرحال یہ حقیقت ہے کہ جہاں ہمیں قومی سطح پر اپنی بہتر ثقافتی حکمت کاری سے ملکی یک جہتی اور ہم آہنگی کے لئے مدد مل سکتی ہے وہاں ہم بین الاقومی تناظر میں اپنے خلاف ہونے والے بے بنیاد ،من گھڑت اور پروپیگنڈہ پر مبنی بیانیے کے اثرات بھی زائل کر سکتے ہیں اس سے بھی بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم نے دشمن کی ساز شوں کا نہ صرف توڑ کرناہے بلکہ اپنے جوابی بیا نیے میں دنیا کے سامنے اپنی اقتصادی کا میابیوں، متوازن سماجی رویوں،بین الاقومی امن میں اپنے کردار کو قابل قبول انداز میں پیش بھی کرناہے سو اس حوالے سے مجھے بے حد خوشی ہے ہم باہمت قوم ہیں ہم نے مشکل حالات میں اپنی بقاء کے لئے بے دریغ قربانیاں دی ہیں اب یہ بات تمام قومی و صوبائی ثقافتی اداروں پر منحصر ہے کہ ہم کس انداز میں اپنی ان کا میابیوں کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں ،مثلا میری نظر میں ا پنے آپ کو دنیا میں متعارف کروانے کے دو طریقے ہیں یا تو ہم دنیا کے اہل قلم اور صاحب آراء مفکرین کو اپنے ہاں مدعو کریں اور ان کے سامنے اپنا خوبصورت نظام زندگی رکھیں اور انھیں اپنا گرویدہ بنانے کی پرزور کوششیں کریں مثلا اس حوالے سے ہم نے گزشتہ دو برسوں سے دنیا بھر کے 50ممالک کے سفیروں کو لاہورآرٹس کونسل کے پلیٹ فارم پر مدعو کیا اور ان کو اپنی عوامی رویے اور اقدار سے روشناس کروایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان سفیروں نے اپنے اپنے ممالک کو جو رپورٹ بجھوائیں میں نے ان جب کا پتہ کیا تو یقین مانیں وہ ہمارے لئے بے حد تسلی بخش تھی ،یعنی ہمارا تجربہ کامیاب رہا الحمداللہ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ خود دیس دیس جاکر دنیا تک اپنی بات پہنچائیں اس محاذ پر بھی لاہورآرٹس کونسل الحمراء کی کارکردگی میں آپ کے سامنے رکھنے پر فخر محسوس کروں گا۔ہم نے ایک پراجیکٹ(PIC Pakistan)کہ نام سے شروع کیاہے جس کے پہلے مرحلے پر تھائی لینڈ میں پاکستان کا رنر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔تھاماسٹ یونیورسٹی ،بنکاک تھائی لینڈ میں اس پاکستان کارنر کے قیام سے 50000طلبہ و طالبات جو دنیا بھر سے یہاں تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں،سے مستفید ہونگے اور اپنے اپنے وطن واپسی پروہ پاکستان کے متعلق ایک مثبت رائے لے کر جائیں گے یہی ہمارے مقصد ہے ۔اس کو اب ہم آگے لے کر چل رہے ہیں اور اس کادائرہ کار کوئی درجن بھر ممالک تک پھیلا رہے ہیں۔
یہی بات اگر میں دوسرے انداز میں بیان کرؤں تو میری نظر میں ثقافت ایک باریک،کچے دھاگے کی مانند ایک ایسی لڑی کا نام ہے جس کی مضبوطی کا انحصار اس میں پردے جانے والے طرح طرح کے رنگ بر نگے خوبصورت مو تیوں کے حسن پر ہوتاہے۔جو جس قدردلکش ہونگے یہ لڑی قدر مضبوط ہوگی البتہ اگر اس میں بے کار موتی پروے دے جائے تو یہ اس ثقافت کی لڑی کو مضبوط کرنے کی بجائے کمزرو کر دیں گے جس سے کسی بھی قوم کا شہزازہ با آسانی بکھیرا جاسکتا ہے سو یہ اس قدراحساس نوعیت کا معاملہ ہے۔بہرحال یہ شعبہ ثقافت جزوئیات کوکُل میں پروتاہے،نہایت طاقتور ،جادوئی اثر کا حامل ہونے کی بناء پر کوئی اس کی اثر پذیر ئی سے بچ نہیں سکتاہے یہ بکھیری چیزوں کو اکائی بناتاہے مثلا ہمارے ملک کے تمام صوبوں کے لوگ اگر اس شعبہ سے صحیح معنوں میں استفادہ کریں یایہ شعبہ اپنا کام ڈھنگ سے سرانجام تو اسی صورت ہم اس کے اثرات کو اپنے حق میں استعمال کرسکتے ہیں مثلا جسے ہم لاہور میں کام کرتے ہوئے یہاں کے رہنے والوں کے سامنے فنون لطیفہ کی مدد سے دوسرے تمام صوبوں کے رنگ روپ پیش کرتے ہیں اگر یہی طریقہ کار دوسرے صوبوں کے ثقافت ادارے بھی اپنائے تو کوئی مشکل نہیں کہ ہم ایک نہ ہو سکیں میری نظر میںآج ثقافتی حالات کی کار کردگی جاننے کی سب سے بڑی کسوٹی یہی ہے کہ اگر ہمارے مختلف صوبوں میں بسنے والے افراد باہم ایک دوسرے پر فخر کرنا شروع کریں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ثقافتی اداروں کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔سو ہمارا پہلا حدف اپنا گھر خوبصورت بنانا ہونا چاہے پھر اس کے بعد دنیا کے پاس ہماری اہمیت کے انکارکا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔
جہاں تک اس شعبے کو درپیش چیلنجز کا سوال ہے کہ وہ بے شمار ہیں مثلا اس شعبہ سے متعلق ایک عام بیا نیہ (Narrative)یہ ہے کہ کلچر اور فنون امراء کی عیاشی کی کسی شے کا نام ہے جو میری نظر میں بہت خطرناک ہے ۔سو آگے چلیں ایک نقطہ نظریہ بھی ہے کہ زندگی کی تمام ضروریات اور تقاضے پورے ہونے کے بعد کلچر اور اس کے دیگراجزاء کے بارے میں غور کیاجائے گا، دوسرے لفظوں میں ملک میں کلچر کا روز مرہ کی زندگی اورہماری قومی ضروریات کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے،گویا یہ دو الگ الگ باتیں ہے۔مزید ذرا غور کیجئے بعض دوستوں کا خیال ہے کہ دراصل کلچر تو طبقاتی ہوتا ہے یعنی کلاس کلچر۔ہمارے ہاں امرا ء ہیں،غرباہیں،کسان ہیں،مزدور ہیں،سرمایہ دار ہیں اور افسر لوگ ہیں ان سب کا کلچر ایک دوسرے سے الگ ہے اب ان سب سے ماورا پاکستانی کلچریا پاکستان کے قومی کلچر کی تلاش بے کارسی بات ہے کیونکہ کلاس یا طبقے سے الگ کوئی کلچر نہیں ہوتاہے،میری نظر میں یہ نہایت غلط تصور ہے اس سے ملتی جلتی ایک اور بات بھی سننے میںآئی ہے کہ سندھی کلچر ،بلوچی کلچر، پختون کلچر،پنجابی کلچر، ہرجگہ کے الگ الگ کلچر ہیں اور یہی ہونا بھی چاہیے ۔ان سے الگ یاان کے اوپر کسی قومی کلچر یا ثقافت کی تلاش کرنا بے کار ہے ۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بغیر لوگ تو اسے شرارت کی بات کہتے ہیں اوراس کا مقصد یہ بتاتے ہیں اس سے ملک میں لادینی پن پھیلا یا جارہا ہے۔دوسرا مقصد یہ ہے کہ سندھی ،پنجابی،بلوچی اور پختون کا فساد پیدا کرکے قومی وحدت کو نقصان پہنچا ہے اس شعبے کو اب اس سے بڑے اور چیلنج کیا لاحق ہوں گے-

کالم کلوچ

سعودی ولی عہد کی آمد اور بھارتی سازشیں

Rashid Saeed

Published

on

kamran Goreya

تحریر: کامران گورائیہ

خطے میں امن و امان کی دیرپا قیام کے لیے پاکستان کی کوششوں کے نتیجہ میں جب بھی کوئی مثبت پیشرفت ہونے لگتی ہے تو غیر ملکی طاقتیں مخالفانہ سرگرمیوں کا آغاز کر دیتی ہیں ۔ خاص طور پر بھارت پاکستان میں ہونے والی تمام اہم سرگرمیوں اور پیشرفت کے حوالہ سے پریشانی میں مبتلا ہو کر سازشوں کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ان دنوں تاریخ ساز دورہ پر پاکستان آئے ہوئے ہیں ان کی آمد سے دو روز قبل مقبوضہ کشمیر میں خود کش حملہ بھی بھارت کی رچائی ہوئی ایک ایسی سازش ہے جس کا الزام پاکستان پر لگایا جا رہا ہے ۔پچھلے ایک ماہ کے دوران پاکستان نے امریکا اور افغان طالبان کے درمیان نتیجہ خیز مذاکرات کروانے میں سہولت کار کا کردار ادا کر کے ایسے نتائج دیئے جسے خود امریکا نے بھی حوصلہ افزاء قرار دیا۔ امریکا کے علاوہ بہت سے دیگر عالمی قوتیں اور ممالک افغان طالبان سے امن مذاکرات کو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ یورپ اور امریکا سمیت عرب دنیا نے بھی امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کو ناصرف جنوبی ایشیاء بلکہ پوری دنیا میں قیام امن کے لیے خوش آئند قرار دیا۔ بھارت ہمیشہ سے خطہ میں امن و امان کے لیے کئی جانے والی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے سازشوں میں مصروف رہا ہے۔ ممبئی حملے ہوں یا پھر سمجھوتہ ایکسپریس پر دہشت گرد حملہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہمیشہ ہی سے مسئلہ کشمیر کو لے کر اختلافات رہے ہیں یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بھارت میں جب بھی انتخابات کا وقت قریب آتا ہے تو وہاں کی سیاسی جماعتیں پاکستان مخالفت کو سلوگن بنا کر انتخابی میدان میں اترتی ہیں ۔ مودی سرکار بھی ایک بار پھر بھارت میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان کو ملوث کرنے کا حربہ استعمال کر رہی ہے کبھی اسٹرٹیجک سرجیکل سٹرائیک ہو یا پھر ایل او سی پر ہونے والی اشتعال انگیزیاں بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو امن تباہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور دنیا کو باور کروانے کی کوشش کی کہ پاکستان خطے میں امن و امان کے قیام میں سنجیدہ نہیں ہے بلکہ وہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہیے مگر اقوام متحدہ ، امریکا اور یورپ یا پھر عالمی سطح پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں سبھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ بھارت کھلے عام مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کو پامال کرنے اور نہتے کشمیریوں پر بربریت اور ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے سے باز نہیں آ رہا ۔ یہی نہیں بلکہ بھارت کی ہٹ دھرمی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی مبصرین کو مقبوضہ وادی کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا اس کے برعکس پاکستان نے ہمیشہ غیر ملکی مبصرین کو آزاد کشمیر سمیت ملک بھر کے دورے کرنے کی دعوت مسلسل دیتا آیا ہے۔ پاکستان اس بات کی اہمیت کو بخوبی سمجھتا ہے کہ افغانستان میں امن کا قیام خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے ۔ پاکستان اور افغانستان کا امن ناصرف جنوبی ایشیاء بلکہ دنیا بھر میں امن و امان سے وابستہ ہے، بھارتی ہٹ دھرمی ہمیشہ ہی سے خطے میں امن و امان کے قیام میں رکاوٹ رہی ہے۔ 

2015ء میں چینی صدر کے دورہ پاکستان کے نتیجہ میں سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کے آغاز پر بھی بھارت کے پیٹ میں درد ہونے لگ گئی تھی اور اس نے پاکستان کی مخالفت میں سازشوں کا آغاز کر دیا تھا ۔ بھارت افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھا چکا ہے کہ وہاں پر بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے ۔ پاکستانی حدود میں دہشت گردی کے جتنے بھی واقعات رونما ہوئے ان میں بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں جنہیں پاکستان تمام عالمی فورمز پر پیش کر چکا ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو بھی پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کر چکا ہے مگر بھارت اسے اپنا شہری تسلیم کرنے سے مسلسل انکار کر رہا ہے جبکہ یہ بات بھی ریکارڈ میں موجود ہے کہ کلبھوشن یادیو کی اہلیہ نے گذشہ برس بھارت ہی سے پاکستان آ کر اپنے شوہر سے ملاقات کی تھی۔ بھارتی ہٹ دھرمی اب بھی جاری ہے اور وہ ہر محاذ پر پاکستان کی مخالفت کر رہا ہے ۔ بھارت میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات بھی پاکستان کی مخالفت کر کے لڑے جا رہے ہیں۔ بھارت ہمیشہ سے کالعدم تنظیم جیش محمد کو بھارت میں رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہراتا آیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں پر ہونے والے خود کش حملہ کا ذمہ دار بھی جیش محمد کو ٹھہرا جا رہا ہے مگر آج تک بھارت کسی بھی عالمی فورم پر جیش محمد کے وجود اور پاکستان سے تعلق کو ثابت نہیں کرسکا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آئندہ عام انتخابات میں اپنی کامیابی کو ممکن بنانے کے لیے پاکستان مخالفت میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ اب بھارت اپوزیشن جماعتیں بھی ان کے دعوؤں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے رہی ہیں حتیٰ کہ مودی کی سیاسی جماعت میں بھی اس بات پر تضاد پایا جاتا ہے کہ مودی الیکشن جیتنے کے لیے پاکستان ہی کی مخالفت کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں۔ بھارت کی تمام سیاسی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ انتخابات میں کامیابی ملک اور عوام کی خدمت اور کارکردگی سے حاصل ہوتی ہے صرف اور صرف ہمسایہ ممالک کو ٹارگٹ کر کے کامیابی حاصل کرنا دانشمندی نہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے بھارتی میڈیا کے اس پراپیگنڈہ کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے کہ بھارتی فوجیوں پر ہونے والے حالیہ خود کش حملہ میں پاکستان یا وہاں سے تعلق رکھنے والی کوئی انتہاء پسند جماعت ملوث ہے۔ 

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان نے بھارت کی راتوں کی نیند اڑا کر رکھ دی ہے اور وہ اس کوشش میں ہیں کہ یہ دورہ کسی بھی صورت میں کامیاب نہ ہو سکے مگر امریکا ، سعودی عرب ، چین ، روس اور افغانستان پہلی مرتبہ امن و امان کے قیام کے لیے پاکستانی کوششوں کی کامیابی کے خواہش مند ہیں ۔ سعودی عرب بھی افغانستان اور پاکستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے انتہائی سنجیدہ نظر آتا ہے ۔ سعودی عرب کی خواہش ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں امن و امان قائم ہو اور یہ دونوں ہمسایہ ممالک ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہونے کے لیے اپنے مقاصد کو حاصل کر لیں۔ ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان سے پہلے ہی بہت سی شاہراؤں پر سعودی حکمرانوں کے خلاف نفرت انگیز تحریریں لکھی گئی ہیں ان تحریریوں کے ذریعے یہ باور کروانا ہے کہ عرب دنیا پاکستان سے محبت نہیں کرتی اور یہاں کے عوام میں ان کے لیے بے پناہ مخالفت پائی جاتی ہے ۔ پاکستان میں امن و امان کے لیے پاک فوج نے کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے اور اب امریکا کے ساتھ افغان طالبان کے مذاکرات میں بھی مثبت پیشرفت ہو رہی ہے جسے دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ ان حالات میں بھارت کو اپنی روایتی ہٹ دھرمی سے گریز کرتے ہوئے اس حقیقت کو سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان خطہ کا اہم ملک ہے اور آنے والے وقتوں میں اسے دنیا بھر میں مزید اہمیت حاصل ہوتی چلی جائے گی۔ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ کی تکمیل سے پاکستان دنیا بھر کے لیے اقتصادی راہداری کے طور پر اہمیت اختیار کر جائے گا ۔ بھارت کو بھی اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر کا حل فوج کے ظالمانہ اور انسانیت سوز سلوک سے نہیں بلکہ مذاکرات سے ممکن ہے۔ آئندہ انتخابات کے نتیجہ میں اقتدار میں آنے والی نئی بھارتی حکومت پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے پاکستان اور کشمیر کی حریت قیادت سے فیصلہ کن مذاکرات کرے۔

Continue Reading

کالم کلوچ

شہباز کی پرواز

Rashid Saeed

Published

on

kamran Goreya

تحریر: کامران گورائیہ
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے عہدہ سے ہٹانے کی بھرپور تیاریاں کی جا رہی ہیں ۔ حکومتی حلقوں میں زبان زد عام ہے کہ میاں شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنانا بڑی غلطی تھی اور اس غلطی کو اسی صورت میں سدھارا جا سکتا ہے کہ ان سے یہ عہدہ چھین لیا جائے۔ تمام اپوزیشن جماعتیں اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں کہ بطور چیئرمین پی اے سی شہباز شریف کی پرواز افق پر درست سمت کی طرف جا رہی ہے اور حکومت شہباز شریف سے خوفزدہ نظر آ رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو ان کے پارٹی رہنماؤں نے آگاہ کیا ہے کہ میاں شہباز شریف کو پی اے سی کی چیئرمینی سے کیسے ہٹایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مہمند اور بھاشا میر ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ ڈیسکون کمپنی کو دینے کے معاملے پر حکومت پہلے ہی سے شدید تنقید کا شکار ہے جبکہ عمران خان کو یہ اشارے بھی ملے ہیں کہ میاں شہباز شریف کے معاملات کہیں اور بھی طے ہونے جا رہے ہیں اس صورت حال کے پیش نظر جتنی جلد ممکن ہو انہیں چیئرمین پی اے سی کے عہدہ سے فارغ کرنا وقت اور حالات کا تقاضا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے میاں شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی کے عہدہ پر اس مقصد سے قبول کیا تھا کہ قانون سازی کے عمل میں اپوزیشن جماعتوں کی نمائندگی لازم ہے اور حکومت کے لیے قومی امور اور پارلیمنٹ کو چلانا مشکل ہو رہا تھا۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے عمران خان کے اتحادی اور وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید نے شہباز شریف کی مخالفت کرنا شروع کی تھی انہوں نے اس معاملہ کو عدالت میں لیجانے کا بھی فیصلہ کیا تھا مگر حکومت کی بے یقینی اور ملک کو درپیش بدترین معاشی بدحالی کی وجہ سے کوئی نتیجہ فوری طور پر نکلتا ہوا نظر نہیں آ رہا ۔ عمران خان پچھلے کئی روز سے اپنے بیانات میں جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہیں وہ خواہش رکھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کو سیاست سے بالکل آؤٹ کر دیا جائے مگر فیصلہ ساز اس فارمولے کو مسترد کر چکے ہیں ۔ عمران خان کے اپوزیشن مخالف بیانات اور لہجے کی تلخی اس بات کا اشارہ بھی دے رہی ہے کہ اب حالات ان کے ہاتھ میں نہیں ہیں وہ بے بسی کی کیفیت سے دو چار ہیں ۔ عمران خان کے بیانات کی تلخی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انہیں کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں مل رہا۔ 
وزیراعظم عمران خان کو ترجیحی بنیادوں پر جن مسائل کو حل کرنا ہے ان میں ملک کی معاشی ابتری ، مہنگائی پر کنٹرول، ڈالر، بجلی اور گیس کی اونچی اڑان کو قابو میں رکھنا شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے سعودی عرب، ترکی ، ملائیشیا، قطر اور چین کے دورے بھی کیے جو زیادہ کامیاب نہیں قرار دیئے جا سکتے۔ آئی ایم ایف سے عمران خان کے مذاکرات کامیاب تو ہو چکے ہیں مگر اس کے لیے انہیں عوام پر کھربوں روپے مالیت کے نئے ٹیکسز عائد کرنے کا چیلنج درپیش ہے ۔ اپنی سیاسی جماعت کی ساکھ کو بھی بچانہ عمران خان کے لیے درد سر بن چکا ہے۔ عمران خان دو ٹوک فیصلے کرنے کے قائل رہے ہیں مگر انہیں اپنی اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ اس سلسلہ میں بلوچستان سے اختر مینگل گروپ ، سندھ سے ایم کیو ایم اور فنگشنل لیگ جبکہ پنجاب سے ق لیگ کو بھی مطمئن رکھنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت پر عمران خان کی گرفت دن بدن کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے اسی وجہ سے وہ قبل از وقت انتخابات کے خواہشمند بھی ہیں۔ عمران خان کا خیال ہے کہ پچھلے 6 ماہ کے دوران ان کی حکومت نے عوام کی امنگوں کے مطابق احتساب کے عمل کو آگے بڑھا کر پہلے سے زیادہ مقبولیت حاصل کر لی ہے مگر حقائق یہ ہیں کہ عمران خان کی حکومت اگر کسی وجہ سے ختم ہو جاتی ہے تو پھر تحریک انصاف کی حیثیت ق لیگ جیسی ہو جائے گی جو پرویز مشرف کے اقتدار کا خاتمہ ہوتے ہی بے وقعت اور غیر مقبول ہوگی تھی۔ اس حقیقت کا ادراک تمام سنجیدہ سیاسی حلقوں کو بھی ہے۔ اس بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اب ملک کی 2 بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی عمران خان کو سلیکٹڈوزیراعظم قرار دے چکی ہیں۔ 
اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف بھی دور اندیشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کر رہے جس سے حکومت کو کمزور کرنے کی کوششیں قرار دیا جاسکتا ہو۔ میاں شہباز شریف نے حکومت کی مخالفت میں کسی تحریک کا اعلان کیا نہ ہی ایسی کسی پیشکش کی حوصلہ افزائی کی۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے اپنی جماعت کے سینئر سیاسی رہنماؤں کو اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ مکمل طور پر غیر جانبدار رہیں گے حکومت پر تنقید کی جائے گی مگر حکومت گرانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ شہباز شریف نے اپنی جماعت کے رہنماؤں کو یہ بھی بتایا ہے کہ بہت جلد انہیں ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہا ئی مل جائے گی اور وہ بہت جلد عوام کے درمیان ہوں گے۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو آگاہ کیا کہ معاملات تیزی سے بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں بہت جلد اچھا وقت آنے والا ہے ۔ شہباز شریف نے ملک بھر میں مسلم لیگ ن کی تنظیم نو کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں ۔ اس بات کے بھی قوی امکانات ہیں کہ پارٹی قائد میاں نوازشریف بھی بہت جلد ضمانت پر رہا ہو کر عوام کے درمیان ہوں گے۔ اپنی گرفتاری سے قبل میاں نواز شریف نے ن لیگی رہنماؤں کو عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کی ہدایت بھی کی تھی جس پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔ ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے یہ انداز لگانا مشکل نہیں کہ مسلم لیگ ن پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے ۔ ن لیگ کا مستقبل عوام کی خوشحالی سے وابستہ ہے۔ مسلم لیگ ن کے سابقہ دور حکومت میں ملکی معیشت بہترین ڈگر پر چل نکلی تھی جسے غیر مستحکم کرنے کے لیے پہلے میاں نواز شریف کو نا اہل کروایا گیا بعد ازاں انہیں پارٹی صدارت کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا تھا مگر میاں نواز شریف نے اپنی نا اہلی اور پارٹی صدارت کے عہدہ سے فراغت کے بعد بھی حوصلہ مندی کا ثبوت دیا وہ خندہ پیشانی سے عدالتی فیصلوں کو قبول کرتے ہوئے جیل میں قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی قربانی ملک کے شاندار مستقبل کے لیے رائیگاں نہیں جائے گی۔ بہت جلد حالات قابو میں آ جائیں گے اور مستقبل قریب میں ہی وہ پاکستانی سیاست میں ایک بار پھر پہلے سے بھی کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچیں گے ۔ مسلم لیگ ن کے تمام سینئر رہنماء یہ بات زور دے کر کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف وزیراعظم ہاؤس میں رہنے سے کہیں زیادہ جیل میں خطرناک ثابت ہوں گے ۔ میاں شہباز شریف اپنی پارٹی قائد کا صدق دل سے احترام کرتے ہیں اوران کے فیصلوں پر عمل کرتے ہیں ۔ میاں شہباز شریف کی پرواز کہاں تک ہوگی اس کا فیصلہ اگلے 2 ماہ میں ہوتا نظر آ رہا ہے۔ امید کی کرنیں مسلم لیگ ن کے لیے نمودار ہوتی چلی جا رہی ہیں بہت سی دیگر سیاسی جماعتیں بھی مارچ کو ملک کی سیاست میں ہلچل کا مہینہ قرار دے رہی ہیں۔

Continue Reading

کالم کلوچ

سابق وزیراعظم سے ملاقات

Rashid Saeed

Published

on

kamran Goreya

تحریر: کامران گورائیہ 

میں اپنے بڑے بھائی سیکرٹری اطلاعات لاہور عمران گورائیہ اور ایڈیشنل سیکرٹری لاہور توصیف احمد شاہ کے ہمراہ جب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے کوٹ لکھپت جیل پہنچا تو انہیں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کے کمرے میں ایک عام سی پرانی کرسی پر بیٹھے ہوئے دیکھا۔ ان سے ملاقات کے لیے آنے والے 20 سے 25 افراد بھی اس وقت کمرے میں موجود تھے جن سے وہ گفتگو کر رہے تھے ۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ملاقات کے لیے آنے والوں سے کھڑے ہو کر ملتے اور مصافحہ کرتے، ملاقات کے لیے آنے والے ان لوگوں سے جن سے ان کی پرانی آشنائی تھی ان سے ان کے اہلخانہ کی خیریت دریافت کرتے اور ان کے ساتھ گزارے ہوئے دنوں کی یادیں تازہ کرتے رہے۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ ان کے صحت بہتر نہیں تھی ان کا چہرہ ہشاش بشاش نہیں تھا ان کے ہاتھ بھی کپکپا رہے تھے ، چہرے پر روایتی تازگی بھی موجود نہیں تھی لیکن گفتگو کرنے میں ہمیشہ کی طرح ٹھہراؤ موجود تھا۔ وہ مکمل طور پر صحت مند نہیں ہیں اس کا ادراک انہیں خود بھی تھا۔ ملاقات کے لیے آنے والوں سے سیاست اور ملکی امور پر بھی گفتگو کر رہے تھے ۔ 

ہم جب ان سے ملے تو انہوں نے مصافحہ کرنے کے ساتھ ساتھ عمران گورائیہ اور توصیف احمد شاہ کو لاہور میں پارٹی کی از سر نو تنظیم سازی کرنے کی ہدایت بھی کی۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو جیل میں ہونے کے باوجود عمران خان حکومت کی کارکردگی اور کارگزاری سے مکمل طور پر آگاہی حاصل تھی اسی لیے انہوں نے کہا کہ ہمارے دورے حکومت میں شروع کیے گئے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں یا مکمل ہو نے والے ہیں ۔ لاہور سے خانیوال اور خانیوال سے رحیم یار خان موٹر وے منصوبے بھی مکمل ہو چکے ہیں مگر موجودہ حکومت ان کا افتتاح نہیں کر رہی۔ ایسا نہ کرنے سے عوام کی سہولت کے لیے بنائی گئی موٹروے کو استعمال نہیں کیا جا رہا۔ میاں نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ایل این جی اور سی این جی کے جن منصوبوں کو ملک کے نقصان کا سودا قرار دیا تھا آج وہ خود اس کی پہرے داری کر رہے ہیں۔ سی پیک پر تنقید کرنے والے اور اس منصوبہ کو بیکار کہنے والوں کی زبان کے یہ الفاظ ہیں کہ سی پیک ایک عظیم الشان منصوبہ ہے اور ملک کی ترقی کے لیے اس منصوبہ کی تکمیل انتہائی ضروری ہے ۔ میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے آنے والے ایک سابق کونسلر جنرل نے انہیں بتایا کہ عمران خان خود قبل از وقت الیکشن کروانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جس پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان الیکشن کروانے والے کون ہوتے ہیں ان کے پاس تو ایسا کوئی اختیار ہی نہیں ہے وہ ایک کٹھ پتلی وزیراعظم کی طرح ہیں جو صرف اشاروں اور ڈوروں پر ناچتے اور حرکت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خدا کا کام ہے کہ جب اسے منظور ہوگا الیکشن ہو جائیں گے ۔ ان کی گفتگو سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ وقت اور حالات میں موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر پائے گی اور ملک میں جلد انتخابات ہوں گے۔ 

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقاتیں کرنے والوں کے لیے 20سے 25 منٹ تک کا وقت مقرر تھا جس کے بعد اگلے ملاقاتی کمرے میں بھیج دیئے جاتے ۔ اراکین اسمبلی اور ن لیگی کارکنان بڑی تعداد میں میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے کھڑے تھے ۔ ان سے ملاقات کے لیے آنے والے تمام لوگوں نے اس عزم کا ارادہ ظاہر کیا کہ وہ ہمیشہ کی طرح اپنے قائد کے ساتھ کھڑے ہیں انہوں نے ہر طرح کے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔ میں نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف سے سوال کیا کہ میاں صاحب ! آپ کی جیل میں موجودگی کی وجہ سی پیک منصوبہ ہے جس پر وہ خاموش رہے۔ میں نے دوسرا سوال کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ چائینہ کے پاکستان میں موجود سفیر حکومتی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور چین کی حکومت پاکستان سے بری طرح ناراض ہے اس پر آپ کا کیا مؤقف ہے، وہ پھر خاموش رہے ۔میں نے پھر پوچھا کہ آپ کی حکومت ایک عالمی سازش کے تحت ختم کروائی گئی اور آپ کو وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹایا جانا بھی اسی سازش کا حصہ تھا جس پر انہوں نے کہا کہ اللہ اپنے بندوں کو آزمائش میں ڈال کر آزماتا ہے اور وہی ان مشکلات اور پریشانیوں کو ٹالنے والا ہے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ میرا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ پاکستان کا مستقبل تابناک ہے اور اس ملک کو آگے بڑھنے اور ترقی کرنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ ملاقات کے آخری لمحات میں میاں نواز شریف سے اپنے کارکنوں اور اراکین پارلیمنٹ سے کہا کہ میری فکر بالکل نہ کیا کریں بلکہ ملک کے بارے میں سوچیں اور ملک کی بہتری کے لیے اقدامات اور فکر کریں۔ 

ان سے ملاقات کی خاص بات یہ تھی جس کا مجھے تاثر ملا اور اس کی میں نشاندہی کرنا چاہوں گا کہ میاں نواز شریف بخوبی آگاہ ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اپنے بوجھ تلے دبتے چلے جا رہے ہیں، وہ یہ بھی جانتے تھے کہ عمران خان کی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کر پائے گی اور الیکشن وقت سے بہت پہلے ہو جائیں گے۔ ایک اور خاص بات جو میں نے میاں نواز شریف کے رویہ اور گفتگو سے محسوس کی کہ وہ بھرپور طور پر حوصلہ مندی سے جیل کی سزا کاٹ رہے تھے انہیں اپنے مستقبل کی فکر نہیں تھی بلکہ وہ ملکی حالات اور سیاسی امور پر دلائل اور مکمل فہم و فراست کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے۔ 

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد مجھے اس بات کا بھی پختہ یقین ہو گیا کہ انہیں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں پہلے سے علم تھا اور وہ جانتے تھے کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور وہ آنے والے حالات کے لیے تیار بھی تھے مگر وہ اپنی اسیری کی قربانی کو پاکستان اور عوام کے لیے ایک نئی امید بنتے دیکھنے کے خواہشمندبھی ہیں۔ اس حقیقت سے انکار کسی صورت ممکن نہیں کہ پاکستان نے چین کے ساتھ مل کر سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ جیسا منصوبہ جس دن سے شروع کیا یہ منصوبہ امریکہ اور بھارت کو روز اوّل سے ہی کھٹکنے لگا اور ان ممالک نے اس منصوبہ کو سبوتاژ کرنے کے لیے سازشیں گھڑنا شروع کر دیں۔ میاں نواز شریف نے جب سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے اربوں روپے کی پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے ایٹمی دھماکے کیے تھے تب بھی ان کی حکومت چھین لی گئی تھی اور ملک میں مارشل لاء نافذ ہو گیا تھا اس بار بھی وہ جیل میں صرف اور صرف سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کی وجہ سے سزا بھگت رہے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ ہمارے سیاستدان ملکی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے باشعور ہونے کا ثبوت دیں اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا اپنا کردار دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں کیونکہ یہ ملک ہے تو وہ ہیں عوام ہیں اور سیاست کی دنیا ہے جس میں رہتے ہوئے آگے بڑھتے رہنا اور ترقی کے عمل میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کردار ادا کرنا وقت اور حالات کی ضرورت ہے۔

Continue Reading
Advertisement
baber awan
پاکستان21 گھنٹے ago

نندی پور ریفرنس، احتساب عدالت نے فیصلہ کیوں مؤخر کیا، بریکنگ نیوز

fwad ch naeem ul haq
پاکستان18 گھنٹے ago

فواد چوہدری اورنعیم الحق میں اختیارات کی جنگ شروع

asif ali zardari
پاکستان23 گھنٹے ago

آصف زرداری کا حکومت کے ساتھ آخری اننگ کھیلنے کا اعلان

ajay devagan kajol
شوبز19 گھنٹے ago

اجے دیوگن اورکاجل بھی مشکل میں گرفتار

hajji passport
پاکستان19 گھنٹے ago

سعودی عرب نے حجاج اکرام کیلئے خوشخبری سنا دی

shahid khaqaan abbasi
پاکستان19 گھنٹے ago

شاہد خاقان عباسی کو ٹیکس دہندگان میں کون سا نمبر؟

nrindra modi prince
انٹرنیشنل21 گھنٹے ago

سعودی ولی عہد نے مودی کو پاکستان کے مسئلہ پر خبردار کر دیا

asif zardari and nawaz sharif
پاکستان21 گھنٹے ago

زرداری کو نواز شریف کی ضرورت مگر کیوں‘ تفصیلات سامنے آ گئیں

شوبز4 گھنٹے ago

ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔ واقعہ کی تردید

nwaz sharief
پاکستان23 گھنٹے ago

نوازشریف کی درخواست ضمانت، فیصلہ محفوظ ،اب کیا ہوگا

fawad chaudhry with ptv
پاکستان21 گھنٹے ago

پی ٹی وی اور فواد چودھری میں اختلافات کا انکشاف

flags1
پاکستان18 گھنٹے ago

کشیدگی؛ بھارتی اشیاء کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان

rain in pakistan
پاکستان24 گھنٹے ago

محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیشگوئی کر دی

flod
پاکستان18 گھنٹے ago

بلوچستان: سیلابی ریلوں نے کہاں کہاں تباہی مچادی

mehmood khan
پاکستان19 گھنٹے ago

خیبرپختون خوا حکومت پولیس کے ساتھ کیا کرنے والی ہے ،چونکا دینے والی خبر

shah rukh khan
شوبز22 گھنٹے ago

انتہا پسندوں نے شاہ رخ خان پرسنگین الزام لگادیا کہ وہ غصہ میں پاگل

film photograph
ویڈیو23 گھنٹے ago

نوازالدین صدیقی کی فلم ’فوٹو گراف‘ کا ٹریلرریلیز

lal ka botar
ویڈیو2 دن ago

فلم ’لال کبوتر‘ کا شاندار ٹریلر ریلیز

katy perry1
ویڈیو5 دن ago

کیٹی پیری کی اچانک منگنی پرسب حیران

the intewes
ویڈیو6 دن ago

تھرلرفلم "دی انٹروڈر” کا سنسنی خیزٹریلر ریلیز

nich jons
شوبز1 ہفتہ ago

پریانکا چوپڑا کا ایک بارپھرماں بننے سے انکار

gull panra
PSL41 ہفتہ ago

پی ایس ایل 4: پشاورزلمی کا پشتوترانہ ریلیز

bravo
کھیل1 ہفتہ ago

براوو نے’چیمپئنز‘ گانے کے الفاظ بدل دیئے

amir khan madhuri
شوبز1 ہفتہ ago

عامرخان کی مقبول فلم کا سیکوئل بنانے پر کام شروع

aalia bhatt1
شوبز1 ہفتہ ago

عالیہ بھٹ اوررنویرسنگھ کے بوسہ پر اعتراض

amitabh shah tapsi
شوبز1 ہفتہ ago

شاہ رخ خان نے امیتابھ بچن سے بدلہ لینے کی ٹھان لی

shardha kapoor
شوبز1 ہفتہ ago

شردھا کپور نے بوائے فرینڈ کوکام کرنے سے روک دیا

aalia ranveer
شوبز1 ہفتہ ago

برلن فلم فیسٹیول میں ’گلی بوائے‘ کا ورلڈ پریمیئر

lady ga ga
شوبز1 ہفتہ ago

گریمی ایوارڈز، لیڈی گاگا نےمیدان مار لیا

kartik sarah
شوبز1 ہفتہ ago

کارتک ،آریان سارہ کو ڈیٹ پر لے جانے کیلئےبیتاب

مقبول خبریں