Khouj English Advertising Privacy Policy Contact Us
Connect with us

کالم کلوچ

قادری عمران کھانا اورملکی سیاست

Rashid Saeed

Published

on

kamran Goreya

پاکستانی سیاست میں ہر دن نیا دن ہوتا ہے سیاسی بسات کے مہرے اپنی چالیں چلتے رہتے ہیں اور یہی سیاست کا حسن ہے۔ پاکستان کے سینئر سیاستدان شیخ رشید جو ہر روز سونے سے پہلے یہ دعا کرکے سوتے ہیں کہ جب وہ صبح اٹھائیں تو نواز حکومت ختم ہو چکی ہو لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔ بہر حال وہ پاکستان کے ایک سیزن سیاستدان ہیں اور وہ بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ تمام اپوزیشن جماعتیں یکجا ہو کر حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلائیں۔ ابھی تک تو ان کو اس حوالے سے مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوسکی مگر ان کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کی کوششوں کی بدولت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ مولانا طاہر القادری کھانے پر ملاقات کریں گے۔یہ خبر بھی انہوں نے طاہر القادری کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔اگر مولانا طاہرالقادری کو عمران خان کے گھر جا کر کھاناکھاناپڑاتو میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ کھاناکیسا ہوگا اور کیا طاہر القادری کی مرضی کا ہوگا کہ نہیں؟ مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ طاہر القادری شوق سے کیا کھاتے ہیں۔جو میں نے سناہے کہ وہ شاید سبزی اورآلو قیمہ پسند کرتے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بارے میں میں بتا سکتا ہوں کہ وہ کھانے میں کیا پسند کرتے ہیں اور اگر ان کومولانا طاہر القادری نے کھانے کی دعوت دی تو مینو کیا ہونا چاہیے۔ تحریک انصاف کے سربراہ کو دیسی مرغ ، شکار کا گوشت جس میں بیٹر، تتر ، مرغابی سمیت کوئی بھی شکار ہو بہت پسند کرتے ہیں ساتھ ہی بکرے کی ران روسٹ بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔ ان تمام پکوان کو دیسی گھی میں پکوایاجائے تو بہت اچھا ہوگا ۔ ان تمام اشیاءکو بتانا اتنا ضروری نہ تھا لیکن ان کے بارے میں تفصیلات اس لیے بتا رہا ہوں کہ طاہر القادری صاحب کو کسی سے پوچھنا نہ پڑے۔ اب بات کر لیتے ہیں ملکی سیاست کی ۔ پاکستان تحریک انصاف اورپاکستان عوامی تحریک کو ایک مرتبہ پھر قریب لانے میں شیخ رشید نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ چونکہ شیخ رشید صاحب کا خیال ہے کہ اگر 30 روز کے اندر حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک نہ چلائی گئی تو حکومت کا جانا نہ ممکن ہوگا اور الیکشن2018ءمیں ہی ہوں گے اور شیخ صاحب یہ مطلع بار کہہ چکے ہیں کہ اگر میاں نوازشریف کی حکومت 2018ءتک رہی تو اس کے بعد بھی اگلی حکومت مسلم لیگ ن کی ہی ہوگی اور ان کو ہرانا تقریباً نہ ممکن ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ صاحب اپوزیشن کو متحرک کرنے میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف جو کہ عوامی دباﺅ حکومت پر بنا رہی رہے اس سلسلے میں تحریک انصاف ملک بھر میں جلسے اور ریلیاں کر رہے ہیں۔ میری ناقص عقل کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ عوامی دباﺅ اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے حکومت کو دباﺅ میں رکھا جائے تاکہ حکومت کوئی بڑی غلطی کر سکے۔ اگر حکومت کوئی بڑی غلطی کرتی ہے تو قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اور اگر حکومت کوئی بڑی غلطی نہیں کرتی اور قبل از وقت انتخابات نہیں ہوپاتے تو کم از کم حکومت کو 2018ءکے الیکشن تک مسلسل دباﺅ میں رکھا جائے گا اور عوام میں حکومت کی بدعنوانی اور حکمرانوں کی کرپشن کا ایشو زندہ رکھا جائے ۔ تحریک انصاف موجودہ صورتحال کے پیش نظر بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ عوامی رابطہ مہم جس کا نام انہوں نے احتساب موومن رکھا ہے۔ اس میں ملک کے تمام اپوزیشن حماعتیں ان کے ساتھ دیں گی۔ اسی ضمن میں انہوں نے اپنی پارٹی رہنماﺅں کی دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کی ڈیوٹی بھی لگائی اور تحریک انصاف کو دوسرے درجے کی قیادت جس کی سربراہی پارٹی کے جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی ، سنی تحریک اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے سمیت عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری سے ملاقاتیں کیں۔ اطلاعات ہیں کہ جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی اور دیگر چند سیاسی جماعتوں نے عمران خان کی احتساب ریلی میں علامتی طور پر شرکت کی یقین دہانی کروائی جبکہ پاکستان عوامی تحریک ، سنی تحریک سمیت دیگر مذہبی جماعتوں نے پاکستان تحریک انصاف کی احتساب ریلی میں بھرپور شرکت کا وعدہ کیا۔ یہ عمل باعث تعجب ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے جہانگیر ترین کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کے وفد اور عوامی تحریک کے سربراہ شیخ رشید کے ساتھ مشترکہ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ لاہور میں ہونے والی پی ٹی آئی کی احتساب ریلی میں بھرپور شرکت کریں گے جبکہ ان کی جماعت پاکستان عوامی تحریک اسی روز یعنی کے 3ستمبر کو پنڈی میں حکومت کے خلاف عوامی اجتماع کر رہی ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک طرف پاکستان عوامی تحریک عمران خان کے ساتھ لاہورکی ریلی میں شامل ہونے کے لئے اپنے کارکنوں کو شرکت کی اپیل کر رہے ہیں جبکہ خود پنڈی میں بھرپور دھرنا دے رہے ہیں ۔پاکستان عوامی تحریک کے کارکن کی روایت رہی ہے کہ وہ جہاں بھی ان کااجتماع ، دھرنا یا سیاسی پروگرام ہو تو تمام کارکن وہاں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا طاہر القادری کی جماعت کے کارکن پنڈی میں ہونے والے اپنے اجتماع میں بھرپور شرکت کریں گے جبکہ لاہور میں ہونے والی پاکستان تحریک انصاف کی عوامی ریلی میں مولاناکی جماعت کی علامتی شرکت ہوگی۔ پاکستان تحریک انصاف عروج کا آغاز لاہور کے تحریکی مینار پاکستان کے جلسے سے ہوا ۔مجھے ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں مل رہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنی لاہور میں ہونے والی ریلی میں تمام سیاسی جماعتوں کوشرکت کی دعوت کیوں دی ہے اور اگر دی ہے تو یہ کیوں کہا ہے کہ سب اپنے اپنے کینٹینر پر آئیں۔ اگر کپتان حکومت کے خلاف تمام اپوزیشن کو ملا کر بھرپور عوامی تحریک چلانا چاہتے ہیں تو پھر اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے سربراہوں کو ایک کنٹینر پر ہونا چاہیے تا کہ حکومت کو یہ تاثر دیا جائے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف یکجا ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے آج کل سیاسی مشیر کون ہیں میں وثوخ سے نہیں کہہ سکتا لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ کپتان کے ساتھ مخلص نہیں۔ عمران خان کے مشیروں سے عمران خان کو وقتی طور پر سیاسی فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کو نقصان ہو رہاہے اور روز بہ روز پارٹی اختلافات میں شدت آ رہی ہے۔ خان صاحب نے جہلم سے فواد چوہدری جبکہ بورے والا سے عائشہ نذیر جٹ کو حالیہ ہونے والے ضمنی الیکشن میں پارٹی ٹکٹ دی ہے۔فواد چوہدری نے جہلم NA67 سے پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن میں حصہ لیا ۔ اگرچہ انہوں نے 2013ءکے الیکشن کے مقابلے میں 30 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے لیکن جہلم سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے کارکن انکوٹکٹ دیئے جانے پر خوش نہ تھے ان کا مو¿قف ہے کہ فواد چوہدری متعدد بار سیاسی جماعتیںتبدیل کر چکے ہیں وہ پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر الیکشن صرف اس لیے لڑے کہ ان کے پاس کوئی اوراچھا (0pption)آپشن نہ تھا اسی طرح بورے والا سے پی پی 232کی ٹکٹ عائشہ نذیر جٹ جو کہ سابقہ ایم این اے نذیر جٹ کی بیٹی ہے ان کو دی گئی۔ نذیر جٹ پہلے ق لیگ اور پھر پیپلز پارٹی میں رہ چکے ہیں ۔ اب ان کے لئے بہتر آپشن پی ٹی آئی تھا اور پاکستان تحریک انصاف نے بہتر امیدوار ہونے کے ناطے ان کو ٹکٹ جاری کر دیا۔ اس فیصلے کو بھی بورے والا کی تحریک انصاف کی قیادت نے نہیں سراہا بلکہ ان کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف بھی ایک روایتی سیاسی جماعت بن چکی ہے جو نظریات کی بجائے دھرہ بندی اور برداری کی سیاست کواہمیت دے رہی ہے۔ عائشہ نذیر جٹ کے بارے میں انتخابی مہم شروع ہوتے وقت یہ تاثر عام تھا کہ وہ با آسانی ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوجائیں گی۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز جو کہ جہلم اور بورے والا دونوں الیکشنوں کی براہ راست نگرانی کر رہے تھے ان کو بھی یہی اطلاعات مل رہی تھیں کہ عائشہ نذیر جٹ انتہائی مضبوط امیدوار ہیں اوران کو ہرانا آسان نہ ہے کیونکہ ان کے والدنذیر جٹ برادری اور دھروں کی سیاست کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور یہی سے 2008ءمیں وہ آزاد حیثیت سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں ۔ نذیر جٹ جوکہ اپنی بیٹی کی خود کمپیئن بھرپور انداز سے چلا رہے تھے ان کو بھی یقین تھا کہ وہ یہ سیٹ با آسانی جیت جائیں گے مگر ایسا نہ ہوا حمزہ شہباز شریف کی ٹیم نے اس حلقہ میں بھرپور عوامی رابطہ مہم چلائی اور میری اطلاعات ہیں کہ یہاں سے پی ٹی آئی کے سابقہ ٹکٹ ہولڈر سمیت پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے اہم رہنماﺅں پس پردہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ اپنے زیر اثر لوگ اور دھروں کے ووٹ بھی مسلم لیگ ن کو دلوائے ہیں۔ مجھ یقین ہے کہ کپتان کو ان کے رفقاءنے دونوں ضمنی انتخابات کے حوالے سے یہ بریفنگ دی ہوگی کہ پارٹی نے بھرپور طریقے سے پرفارم کیاہے جس سے پارٹی کی مقبولیت کااندازہ لگایا جاسکتاہے اور ان سے اصل حقائق پوشیدہ رکھے ہوں گے۔ کپتان سے درخواست ہے کہ وہ اپنی آنکھیں اورکان چند قریبی مشیروں کی جانب مرکوز کروانے کی بجائے اپنے عام ورکر کی آواز اور رائے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

کالم کلوچ

سعودی ولی عہد کی آمد اور بھارتی سازشیں

Rashid Saeed

Published

on

kamran Goreya

تحریر: کامران گورائیہ

خطے میں امن و امان کی دیرپا قیام کے لیے پاکستان کی کوششوں کے نتیجہ میں جب بھی کوئی مثبت پیشرفت ہونے لگتی ہے تو غیر ملکی طاقتیں مخالفانہ سرگرمیوں کا آغاز کر دیتی ہیں ۔ خاص طور پر بھارت پاکستان میں ہونے والی تمام اہم سرگرمیوں اور پیشرفت کے حوالہ سے پریشانی میں مبتلا ہو کر سازشوں کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ان دنوں تاریخ ساز دورہ پر پاکستان آئے ہوئے ہیں ان کی آمد سے دو روز قبل مقبوضہ کشمیر میں خود کش حملہ بھی بھارت کی رچائی ہوئی ایک ایسی سازش ہے جس کا الزام پاکستان پر لگایا جا رہا ہے ۔پچھلے ایک ماہ کے دوران پاکستان نے امریکا اور افغان طالبان کے درمیان نتیجہ خیز مذاکرات کروانے میں سہولت کار کا کردار ادا کر کے ایسے نتائج دیئے جسے خود امریکا نے بھی حوصلہ افزاء قرار دیا۔ امریکا کے علاوہ بہت سے دیگر عالمی قوتیں اور ممالک افغان طالبان سے امن مذاکرات کو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ یورپ اور امریکا سمیت عرب دنیا نے بھی امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کو ناصرف جنوبی ایشیاء بلکہ پوری دنیا میں قیام امن کے لیے خوش آئند قرار دیا۔ بھارت ہمیشہ سے خطہ میں امن و امان کے لیے کئی جانے والی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے سازشوں میں مصروف رہا ہے۔ ممبئی حملے ہوں یا پھر سمجھوتہ ایکسپریس پر دہشت گرد حملہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہمیشہ ہی سے مسئلہ کشمیر کو لے کر اختلافات رہے ہیں یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بھارت میں جب بھی انتخابات کا وقت قریب آتا ہے تو وہاں کی سیاسی جماعتیں پاکستان مخالفت کو سلوگن بنا کر انتخابی میدان میں اترتی ہیں ۔ مودی سرکار بھی ایک بار پھر بھارت میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان کو ملوث کرنے کا حربہ استعمال کر رہی ہے کبھی اسٹرٹیجک سرجیکل سٹرائیک ہو یا پھر ایل او سی پر ہونے والی اشتعال انگیزیاں بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو امن تباہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور دنیا کو باور کروانے کی کوشش کی کہ پاکستان خطے میں امن و امان کے قیام میں سنجیدہ نہیں ہے بلکہ وہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہیے مگر اقوام متحدہ ، امریکا اور یورپ یا پھر عالمی سطح پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں سبھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ بھارت کھلے عام مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کو پامال کرنے اور نہتے کشمیریوں پر بربریت اور ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے سے باز نہیں آ رہا ۔ یہی نہیں بلکہ بھارت کی ہٹ دھرمی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی مبصرین کو مقبوضہ وادی کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا اس کے برعکس پاکستان نے ہمیشہ غیر ملکی مبصرین کو آزاد کشمیر سمیت ملک بھر کے دورے کرنے کی دعوت مسلسل دیتا آیا ہے۔ پاکستان اس بات کی اہمیت کو بخوبی سمجھتا ہے کہ افغانستان میں امن کا قیام خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے ۔ پاکستان اور افغانستان کا امن ناصرف جنوبی ایشیاء بلکہ دنیا بھر میں امن و امان سے وابستہ ہے، بھارتی ہٹ دھرمی ہمیشہ ہی سے خطے میں امن و امان کے قیام میں رکاوٹ رہی ہے۔ 

2015ء میں چینی صدر کے دورہ پاکستان کے نتیجہ میں سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کے آغاز پر بھی بھارت کے پیٹ میں درد ہونے لگ گئی تھی اور اس نے پاکستان کی مخالفت میں سازشوں کا آغاز کر دیا تھا ۔ بھارت افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھا چکا ہے کہ وہاں پر بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے ۔ پاکستانی حدود میں دہشت گردی کے جتنے بھی واقعات رونما ہوئے ان میں بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں جنہیں پاکستان تمام عالمی فورمز پر پیش کر چکا ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو بھی پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کر چکا ہے مگر بھارت اسے اپنا شہری تسلیم کرنے سے مسلسل انکار کر رہا ہے جبکہ یہ بات بھی ریکارڈ میں موجود ہے کہ کلبھوشن یادیو کی اہلیہ نے گذشہ برس بھارت ہی سے پاکستان آ کر اپنے شوہر سے ملاقات کی تھی۔ بھارتی ہٹ دھرمی اب بھی جاری ہے اور وہ ہر محاذ پر پاکستان کی مخالفت کر رہا ہے ۔ بھارت میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات بھی پاکستان کی مخالفت کر کے لڑے جا رہے ہیں۔ بھارت ہمیشہ سے کالعدم تنظیم جیش محمد کو بھارت میں رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہراتا آیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں پر ہونے والے خود کش حملہ کا ذمہ دار بھی جیش محمد کو ٹھہرا جا رہا ہے مگر آج تک بھارت کسی بھی عالمی فورم پر جیش محمد کے وجود اور پاکستان سے تعلق کو ثابت نہیں کرسکا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آئندہ عام انتخابات میں اپنی کامیابی کو ممکن بنانے کے لیے پاکستان مخالفت میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ اب بھارت اپوزیشن جماعتیں بھی ان کے دعوؤں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے رہی ہیں حتیٰ کہ مودی کی سیاسی جماعت میں بھی اس بات پر تضاد پایا جاتا ہے کہ مودی الیکشن جیتنے کے لیے پاکستان ہی کی مخالفت کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں۔ بھارت کی تمام سیاسی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ انتخابات میں کامیابی ملک اور عوام کی خدمت اور کارکردگی سے حاصل ہوتی ہے صرف اور صرف ہمسایہ ممالک کو ٹارگٹ کر کے کامیابی حاصل کرنا دانشمندی نہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے بھارتی میڈیا کے اس پراپیگنڈہ کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے کہ بھارتی فوجیوں پر ہونے والے حالیہ خود کش حملہ میں پاکستان یا وہاں سے تعلق رکھنے والی کوئی انتہاء پسند جماعت ملوث ہے۔ 

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان نے بھارت کی راتوں کی نیند اڑا کر رکھ دی ہے اور وہ اس کوشش میں ہیں کہ یہ دورہ کسی بھی صورت میں کامیاب نہ ہو سکے مگر امریکا ، سعودی عرب ، چین ، روس اور افغانستان پہلی مرتبہ امن و امان کے قیام کے لیے پاکستانی کوششوں کی کامیابی کے خواہش مند ہیں ۔ سعودی عرب بھی افغانستان اور پاکستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے انتہائی سنجیدہ نظر آتا ہے ۔ سعودی عرب کی خواہش ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں امن و امان قائم ہو اور یہ دونوں ہمسایہ ممالک ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہونے کے لیے اپنے مقاصد کو حاصل کر لیں۔ ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان سے پہلے ہی بہت سی شاہراؤں پر سعودی حکمرانوں کے خلاف نفرت انگیز تحریریں لکھی گئی ہیں ان تحریریوں کے ذریعے یہ باور کروانا ہے کہ عرب دنیا پاکستان سے محبت نہیں کرتی اور یہاں کے عوام میں ان کے لیے بے پناہ مخالفت پائی جاتی ہے ۔ پاکستان میں امن و امان کے لیے پاک فوج نے کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے اور اب امریکا کے ساتھ افغان طالبان کے مذاکرات میں بھی مثبت پیشرفت ہو رہی ہے جسے دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ ان حالات میں بھارت کو اپنی روایتی ہٹ دھرمی سے گریز کرتے ہوئے اس حقیقت کو سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان خطہ کا اہم ملک ہے اور آنے والے وقتوں میں اسے دنیا بھر میں مزید اہمیت حاصل ہوتی چلی جائے گی۔ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ کی تکمیل سے پاکستان دنیا بھر کے لیے اقتصادی راہداری کے طور پر اہمیت اختیار کر جائے گا ۔ بھارت کو بھی اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر کا حل فوج کے ظالمانہ اور انسانیت سوز سلوک سے نہیں بلکہ مذاکرات سے ممکن ہے۔ آئندہ انتخابات کے نتیجہ میں اقتدار میں آنے والی نئی بھارتی حکومت پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے پاکستان اور کشمیر کی حریت قیادت سے فیصلہ کن مذاکرات کرے۔

Continue Reading

کالم کلوچ

شہباز کی پرواز

Rashid Saeed

Published

on

kamran Goreya

تحریر: کامران گورائیہ
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے عہدہ سے ہٹانے کی بھرپور تیاریاں کی جا رہی ہیں ۔ حکومتی حلقوں میں زبان زد عام ہے کہ میاں شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنانا بڑی غلطی تھی اور اس غلطی کو اسی صورت میں سدھارا جا سکتا ہے کہ ان سے یہ عہدہ چھین لیا جائے۔ تمام اپوزیشن جماعتیں اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں کہ بطور چیئرمین پی اے سی شہباز شریف کی پرواز افق پر درست سمت کی طرف جا رہی ہے اور حکومت شہباز شریف سے خوفزدہ نظر آ رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو ان کے پارٹی رہنماؤں نے آگاہ کیا ہے کہ میاں شہباز شریف کو پی اے سی کی چیئرمینی سے کیسے ہٹایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مہمند اور بھاشا میر ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ ڈیسکون کمپنی کو دینے کے معاملے پر حکومت پہلے ہی سے شدید تنقید کا شکار ہے جبکہ عمران خان کو یہ اشارے بھی ملے ہیں کہ میاں شہباز شریف کے معاملات کہیں اور بھی طے ہونے جا رہے ہیں اس صورت حال کے پیش نظر جتنی جلد ممکن ہو انہیں چیئرمین پی اے سی کے عہدہ سے فارغ کرنا وقت اور حالات کا تقاضا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے میاں شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی کے عہدہ پر اس مقصد سے قبول کیا تھا کہ قانون سازی کے عمل میں اپوزیشن جماعتوں کی نمائندگی لازم ہے اور حکومت کے لیے قومی امور اور پارلیمنٹ کو چلانا مشکل ہو رہا تھا۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے عمران خان کے اتحادی اور وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید نے شہباز شریف کی مخالفت کرنا شروع کی تھی انہوں نے اس معاملہ کو عدالت میں لیجانے کا بھی فیصلہ کیا تھا مگر حکومت کی بے یقینی اور ملک کو درپیش بدترین معاشی بدحالی کی وجہ سے کوئی نتیجہ فوری طور پر نکلتا ہوا نظر نہیں آ رہا ۔ عمران خان پچھلے کئی روز سے اپنے بیانات میں جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہیں وہ خواہش رکھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کو سیاست سے بالکل آؤٹ کر دیا جائے مگر فیصلہ ساز اس فارمولے کو مسترد کر چکے ہیں ۔ عمران خان کے اپوزیشن مخالف بیانات اور لہجے کی تلخی اس بات کا اشارہ بھی دے رہی ہے کہ اب حالات ان کے ہاتھ میں نہیں ہیں وہ بے بسی کی کیفیت سے دو چار ہیں ۔ عمران خان کے بیانات کی تلخی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انہیں کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں مل رہا۔ 
وزیراعظم عمران خان کو ترجیحی بنیادوں پر جن مسائل کو حل کرنا ہے ان میں ملک کی معاشی ابتری ، مہنگائی پر کنٹرول، ڈالر، بجلی اور گیس کی اونچی اڑان کو قابو میں رکھنا شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے سعودی عرب، ترکی ، ملائیشیا، قطر اور چین کے دورے بھی کیے جو زیادہ کامیاب نہیں قرار دیئے جا سکتے۔ آئی ایم ایف سے عمران خان کے مذاکرات کامیاب تو ہو چکے ہیں مگر اس کے لیے انہیں عوام پر کھربوں روپے مالیت کے نئے ٹیکسز عائد کرنے کا چیلنج درپیش ہے ۔ اپنی سیاسی جماعت کی ساکھ کو بھی بچانہ عمران خان کے لیے درد سر بن چکا ہے۔ عمران خان دو ٹوک فیصلے کرنے کے قائل رہے ہیں مگر انہیں اپنی اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ اس سلسلہ میں بلوچستان سے اختر مینگل گروپ ، سندھ سے ایم کیو ایم اور فنگشنل لیگ جبکہ پنجاب سے ق لیگ کو بھی مطمئن رکھنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت پر عمران خان کی گرفت دن بدن کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے اسی وجہ سے وہ قبل از وقت انتخابات کے خواہشمند بھی ہیں۔ عمران خان کا خیال ہے کہ پچھلے 6 ماہ کے دوران ان کی حکومت نے عوام کی امنگوں کے مطابق احتساب کے عمل کو آگے بڑھا کر پہلے سے زیادہ مقبولیت حاصل کر لی ہے مگر حقائق یہ ہیں کہ عمران خان کی حکومت اگر کسی وجہ سے ختم ہو جاتی ہے تو پھر تحریک انصاف کی حیثیت ق لیگ جیسی ہو جائے گی جو پرویز مشرف کے اقتدار کا خاتمہ ہوتے ہی بے وقعت اور غیر مقبول ہوگی تھی۔ اس حقیقت کا ادراک تمام سنجیدہ سیاسی حلقوں کو بھی ہے۔ اس بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اب ملک کی 2 بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی عمران خان کو سلیکٹڈوزیراعظم قرار دے چکی ہیں۔ 
اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف بھی دور اندیشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کر رہے جس سے حکومت کو کمزور کرنے کی کوششیں قرار دیا جاسکتا ہو۔ میاں شہباز شریف نے حکومت کی مخالفت میں کسی تحریک کا اعلان کیا نہ ہی ایسی کسی پیشکش کی حوصلہ افزائی کی۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے اپنی جماعت کے سینئر سیاسی رہنماؤں کو اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ مکمل طور پر غیر جانبدار رہیں گے حکومت پر تنقید کی جائے گی مگر حکومت گرانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ شہباز شریف نے اپنی جماعت کے رہنماؤں کو یہ بھی بتایا ہے کہ بہت جلد انہیں ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہا ئی مل جائے گی اور وہ بہت جلد عوام کے درمیان ہوں گے۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو آگاہ کیا کہ معاملات تیزی سے بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں بہت جلد اچھا وقت آنے والا ہے ۔ شہباز شریف نے ملک بھر میں مسلم لیگ ن کی تنظیم نو کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں ۔ اس بات کے بھی قوی امکانات ہیں کہ پارٹی قائد میاں نوازشریف بھی بہت جلد ضمانت پر رہا ہو کر عوام کے درمیان ہوں گے۔ اپنی گرفتاری سے قبل میاں نواز شریف نے ن لیگی رہنماؤں کو عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کی ہدایت بھی کی تھی جس پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔ ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے یہ انداز لگانا مشکل نہیں کہ مسلم لیگ ن پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے ۔ ن لیگ کا مستقبل عوام کی خوشحالی سے وابستہ ہے۔ مسلم لیگ ن کے سابقہ دور حکومت میں ملکی معیشت بہترین ڈگر پر چل نکلی تھی جسے غیر مستحکم کرنے کے لیے پہلے میاں نواز شریف کو نا اہل کروایا گیا بعد ازاں انہیں پارٹی صدارت کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا تھا مگر میاں نواز شریف نے اپنی نا اہلی اور پارٹی صدارت کے عہدہ سے فراغت کے بعد بھی حوصلہ مندی کا ثبوت دیا وہ خندہ پیشانی سے عدالتی فیصلوں کو قبول کرتے ہوئے جیل میں قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی قربانی ملک کے شاندار مستقبل کے لیے رائیگاں نہیں جائے گی۔ بہت جلد حالات قابو میں آ جائیں گے اور مستقبل قریب میں ہی وہ پاکستانی سیاست میں ایک بار پھر پہلے سے بھی کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچیں گے ۔ مسلم لیگ ن کے تمام سینئر رہنماء یہ بات زور دے کر کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف وزیراعظم ہاؤس میں رہنے سے کہیں زیادہ جیل میں خطرناک ثابت ہوں گے ۔ میاں شہباز شریف اپنی پارٹی قائد کا صدق دل سے احترام کرتے ہیں اوران کے فیصلوں پر عمل کرتے ہیں ۔ میاں شہباز شریف کی پرواز کہاں تک ہوگی اس کا فیصلہ اگلے 2 ماہ میں ہوتا نظر آ رہا ہے۔ امید کی کرنیں مسلم لیگ ن کے لیے نمودار ہوتی چلی جا رہی ہیں بہت سی دیگر سیاسی جماعتیں بھی مارچ کو ملک کی سیاست میں ہلچل کا مہینہ قرار دے رہی ہیں۔

Continue Reading

کالم کلوچ

سابق وزیراعظم سے ملاقات

Rashid Saeed

Published

on

kamran Goreya

تحریر: کامران گورائیہ 

میں اپنے بڑے بھائی سیکرٹری اطلاعات لاہور عمران گورائیہ اور ایڈیشنل سیکرٹری لاہور توصیف احمد شاہ کے ہمراہ جب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے کوٹ لکھپت جیل پہنچا تو انہیں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کے کمرے میں ایک عام سی پرانی کرسی پر بیٹھے ہوئے دیکھا۔ ان سے ملاقات کے لیے آنے والے 20 سے 25 افراد بھی اس وقت کمرے میں موجود تھے جن سے وہ گفتگو کر رہے تھے ۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ملاقات کے لیے آنے والوں سے کھڑے ہو کر ملتے اور مصافحہ کرتے، ملاقات کے لیے آنے والے ان لوگوں سے جن سے ان کی پرانی آشنائی تھی ان سے ان کے اہلخانہ کی خیریت دریافت کرتے اور ان کے ساتھ گزارے ہوئے دنوں کی یادیں تازہ کرتے رہے۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ ان کے صحت بہتر نہیں تھی ان کا چہرہ ہشاش بشاش نہیں تھا ان کے ہاتھ بھی کپکپا رہے تھے ، چہرے پر روایتی تازگی بھی موجود نہیں تھی لیکن گفتگو کرنے میں ہمیشہ کی طرح ٹھہراؤ موجود تھا۔ وہ مکمل طور پر صحت مند نہیں ہیں اس کا ادراک انہیں خود بھی تھا۔ ملاقات کے لیے آنے والوں سے سیاست اور ملکی امور پر بھی گفتگو کر رہے تھے ۔ 

ہم جب ان سے ملے تو انہوں نے مصافحہ کرنے کے ساتھ ساتھ عمران گورائیہ اور توصیف احمد شاہ کو لاہور میں پارٹی کی از سر نو تنظیم سازی کرنے کی ہدایت بھی کی۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو جیل میں ہونے کے باوجود عمران خان حکومت کی کارکردگی اور کارگزاری سے مکمل طور پر آگاہی حاصل تھی اسی لیے انہوں نے کہا کہ ہمارے دورے حکومت میں شروع کیے گئے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں یا مکمل ہو نے والے ہیں ۔ لاہور سے خانیوال اور خانیوال سے رحیم یار خان موٹر وے منصوبے بھی مکمل ہو چکے ہیں مگر موجودہ حکومت ان کا افتتاح نہیں کر رہی۔ ایسا نہ کرنے سے عوام کی سہولت کے لیے بنائی گئی موٹروے کو استعمال نہیں کیا جا رہا۔ میاں نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ایل این جی اور سی این جی کے جن منصوبوں کو ملک کے نقصان کا سودا قرار دیا تھا آج وہ خود اس کی پہرے داری کر رہے ہیں۔ سی پیک پر تنقید کرنے والے اور اس منصوبہ کو بیکار کہنے والوں کی زبان کے یہ الفاظ ہیں کہ سی پیک ایک عظیم الشان منصوبہ ہے اور ملک کی ترقی کے لیے اس منصوبہ کی تکمیل انتہائی ضروری ہے ۔ میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے آنے والے ایک سابق کونسلر جنرل نے انہیں بتایا کہ عمران خان خود قبل از وقت الیکشن کروانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جس پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان الیکشن کروانے والے کون ہوتے ہیں ان کے پاس تو ایسا کوئی اختیار ہی نہیں ہے وہ ایک کٹھ پتلی وزیراعظم کی طرح ہیں جو صرف اشاروں اور ڈوروں پر ناچتے اور حرکت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خدا کا کام ہے کہ جب اسے منظور ہوگا الیکشن ہو جائیں گے ۔ ان کی گفتگو سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ وقت اور حالات میں موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر پائے گی اور ملک میں جلد انتخابات ہوں گے۔ 

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقاتیں کرنے والوں کے لیے 20سے 25 منٹ تک کا وقت مقرر تھا جس کے بعد اگلے ملاقاتی کمرے میں بھیج دیئے جاتے ۔ اراکین اسمبلی اور ن لیگی کارکنان بڑی تعداد میں میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے کھڑے تھے ۔ ان سے ملاقات کے لیے آنے والے تمام لوگوں نے اس عزم کا ارادہ ظاہر کیا کہ وہ ہمیشہ کی طرح اپنے قائد کے ساتھ کھڑے ہیں انہوں نے ہر طرح کے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔ میں نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف سے سوال کیا کہ میاں صاحب ! آپ کی جیل میں موجودگی کی وجہ سی پیک منصوبہ ہے جس پر وہ خاموش رہے۔ میں نے دوسرا سوال کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ چائینہ کے پاکستان میں موجود سفیر حکومتی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور چین کی حکومت پاکستان سے بری طرح ناراض ہے اس پر آپ کا کیا مؤقف ہے، وہ پھر خاموش رہے ۔میں نے پھر پوچھا کہ آپ کی حکومت ایک عالمی سازش کے تحت ختم کروائی گئی اور آپ کو وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹایا جانا بھی اسی سازش کا حصہ تھا جس پر انہوں نے کہا کہ اللہ اپنے بندوں کو آزمائش میں ڈال کر آزماتا ہے اور وہی ان مشکلات اور پریشانیوں کو ٹالنے والا ہے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ میرا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ پاکستان کا مستقبل تابناک ہے اور اس ملک کو آگے بڑھنے اور ترقی کرنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ ملاقات کے آخری لمحات میں میاں نواز شریف سے اپنے کارکنوں اور اراکین پارلیمنٹ سے کہا کہ میری فکر بالکل نہ کیا کریں بلکہ ملک کے بارے میں سوچیں اور ملک کی بہتری کے لیے اقدامات اور فکر کریں۔ 

ان سے ملاقات کی خاص بات یہ تھی جس کا مجھے تاثر ملا اور اس کی میں نشاندہی کرنا چاہوں گا کہ میاں نواز شریف بخوبی آگاہ ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اپنے بوجھ تلے دبتے چلے جا رہے ہیں، وہ یہ بھی جانتے تھے کہ عمران خان کی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کر پائے گی اور الیکشن وقت سے بہت پہلے ہو جائیں گے۔ ایک اور خاص بات جو میں نے میاں نواز شریف کے رویہ اور گفتگو سے محسوس کی کہ وہ بھرپور طور پر حوصلہ مندی سے جیل کی سزا کاٹ رہے تھے انہیں اپنے مستقبل کی فکر نہیں تھی بلکہ وہ ملکی حالات اور سیاسی امور پر دلائل اور مکمل فہم و فراست کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے۔ 

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد مجھے اس بات کا بھی پختہ یقین ہو گیا کہ انہیں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں پہلے سے علم تھا اور وہ جانتے تھے کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور وہ آنے والے حالات کے لیے تیار بھی تھے مگر وہ اپنی اسیری کی قربانی کو پاکستان اور عوام کے لیے ایک نئی امید بنتے دیکھنے کے خواہشمندبھی ہیں۔ اس حقیقت سے انکار کسی صورت ممکن نہیں کہ پاکستان نے چین کے ساتھ مل کر سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ جیسا منصوبہ جس دن سے شروع کیا یہ منصوبہ امریکہ اور بھارت کو روز اوّل سے ہی کھٹکنے لگا اور ان ممالک نے اس منصوبہ کو سبوتاژ کرنے کے لیے سازشیں گھڑنا شروع کر دیں۔ میاں نواز شریف نے جب سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے اربوں روپے کی پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے ایٹمی دھماکے کیے تھے تب بھی ان کی حکومت چھین لی گئی تھی اور ملک میں مارشل لاء نافذ ہو گیا تھا اس بار بھی وہ جیل میں صرف اور صرف سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کی وجہ سے سزا بھگت رہے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ ہمارے سیاستدان ملکی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے باشعور ہونے کا ثبوت دیں اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا اپنا کردار دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں کیونکہ یہ ملک ہے تو وہ ہیں عوام ہیں اور سیاست کی دنیا ہے جس میں رہتے ہوئے آگے بڑھتے رہنا اور ترقی کے عمل میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کردار ادا کرنا وقت اور حالات کی ضرورت ہے۔

Continue Reading
Correspondent Required at Khouj News
Advertisement
hassan niazi
شوبز33 منٹ ago

حسن نیازی بھارتی پائلٹ کا کردارنبھانے پر بول پڑے

imran khan
کھیل39 منٹ ago

عمران خان کی افغانستان کوپہلا ٹیسٹ میچ جیتنے پرمبارکباد

kartaar pur coridoor
پاکستان47 منٹ ago

کرتارپورراہداری؛تکنیکی ماہرین کا اجلاس آج ہوگا

boys
پاکستان50 منٹ ago

لڑکیوں کی نازیبا ویڈیو بنانے والے دوطالب علم گرفتار

nawaz sharif1
پاکستان53 منٹ ago

نوازشریف کواپنے گھرفون کرنے کا اختیارحاصل

jall band
شوبز58 منٹ ago

میوزک بینڈ ’جل‘ ٹوٹنے کی وجہ سامنے آگئی

maryam nwaz
پاکستان3 گھنٹے ago

مریم نوازکی نوازشریف سے لائن کٹ گئی

the world bank
پاکستان3 گھنٹے ago

عالمی بینک کا حکومت کےخلاف عدم اعتماد

Capture4
شوبز5 گھنٹے ago

حانیہ عامر نے دل دیا۔۔۔ لیکن کس کو

ali muhammad khan
پاکستان5 گھنٹے ago

علی محمدخان نے عافیہ صدیقی کے حوالہ سے خوشخبری سنادی

F16
انٹرنیشنل5 گھنٹے ago

امریکا نے ایف 16 طیاروں پر بھارتی پراپیگنڈہ بے نقاب کر دیا

creeme
پاکستان5 گھنٹے ago

کریم, پراخلاقیات کا جنازہ نکالنے کا الزام,

پاکستان5 گھنٹے ago

عمران خان حکومت کی بڑی ناکامی منظر عام پر

sardar usman buzdar
پاکستان5 گھنٹے ago

پنجاب حکومت کا وزیراعظم کو چونا، تنخواہوں میں اضافہ کا بل منظور

cheena flag
انٹرنیشنل5 گھنٹے ago

چین نے پاکستان کے ایشو پر بھارت کو بڑی پیشکش کر دی

شوبز12 گھنٹے ago

”داغ“ ۔۔۔ تکمیل کے آخری مراحل میں

dream team
PSL413 گھنٹے ago

ڈریم ٹیم کا اعلان، اے بی ڈی ویلیئرزکپتان مقرر

شوبز12 گھنٹے ago

”شاہ رخ کی سالیاں“۔۔۔احسن خان کامیڈی رول میں

shain watson
PSL422 گھنٹے ago

سرفراز احمد بہترین کپتان ہیں، شین واٹسن

شوبز12 گھنٹے ago

آسٹریلیا میں ایوارڈ کرانے کی تیاری

شوبز14 گھنٹے ago

فوک گلوکار طالب حسین درد انتقال کر گئے

nitherland
انٹرنیشنل10 گھنٹے ago

ہالینڈ : مسافروں پر فائرنگ، متعدد زخمی

پاکستان5 گھنٹے ago

پاکستان، آئی ایم ایف معاہدہ طے، ڈالر 185 ، بجلی 5 روپے فی یونٹ مہنگی

katreena salman
شوبز9 گھنٹے ago

مودی سرکارکا انوکھا فیصلہ؛سلمان اور کترینہ کواہم ذمہ داری مل گئی

ali muhammad khan
پاکستان5 گھنٹے ago

علی محمدخان نے عافیہ صدیقی کے حوالہ سے خوشخبری سنادی

shahbaz sharif
پاکستان13 گھنٹے ago

شہبازشریف بیان ریکارڈ کرانے کے بعد واپس روانہ

queeta galdiators
PSL410 گھنٹے ago

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے غیر ملکی کھلاڑی اپنے اپنے ملک روانہ

nafeesa shah
پاکستان10 گھنٹے ago

نفیسہ شاہ نے نیب قانون کے خلاف بغاوت کردی

پاکستان15 گھنٹے ago

5 بھارتی طیارے تباہ کرنے والے ایم ایم عالم کی چھٹی برسی

air craft
پاکستان10 گھنٹے ago

پاک فضائیہ کے طیاروں کی کامیاب لینڈنگ مگرکہاں جان کرحیران،

مقبول خبریں