ماحول کا احوال ٹویٹ کرنے والادرخت

امریکا میں ایک ایسا درخت ہے جس پر ان گنت سینسر لگے ہیں۔ یہ درخت ماحولیات اور آب و ہوا میں تبدیلی کا احوال ٹویٹ کرتا رہتا ہے

 امریکا میں ایک ایسا درخت ہے جس پر ان گنت سینسر لگے ہیں۔ یہ درخت ماحولیات اور آب و ہوا میں تبدیلی کا احوال ٹویٹ کرتا رہتا ہے۔ شاہِ بلوط کا یہ درخت میساچیوسیٹس کے ایک تحقیقی پارک میں موجود ہے۔  اس پر ایک خاتون مصنف جیسیا لی ہیسٹر نے ان گنت سینسر لگوائے ہیں جسے ناردرن ایریزونا یونیورسٹی کے طالبعلم ٹِم ریڈمشر نے تیار کیا ہے۔ 85 فٹ طویل یہ درخت اطراف کے ماحول کو نوٹ کرتا ہے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا احوال ٹویٹ کرتا رہتا ہے۔ حقیقی وقت میں نمی، درختوں میں پانی کے بہاؤ، تنے اور پتوں کی معلومات اور دیگر ڈیٹا بھیجتا رہتا ہے۔

درخت کی معلومات اگرچہ عملہ ٹویٹ کرتا ہے لیکن ٹویٹس پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ درخت خود اپنا ماجرا سنا رہا ہے۔ مثلاً ایک ٹویٹ میں درخت نے بتایا کہ،’ اس مہینے میری شاخوں میں 0.278 ملی میٹر اور تنے کے گھیر میں 0.256 ملی میٹر اضافہ ہوا ہے۔

ایک اور ٹویٹ میں درخت اپنی سالانہ کارکردگی بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ اس موسمِ گرما میں میرا تنا مجموعی طور پر 1.5 ملی میٹر بڑھا ہے ۔ میرے درخت کے دائرے اب سیاہی مائل رنگت اختیار کررہے ہیں کیونکہ ان کے اندر کاربن کی مقدار بڑھی ہے۔ نظام کے ذریعے درخت کو احساس اور آواز دینے کی کوشش کی ہے۔ ماہرین اس معلومات میں کسی طرح کی کمی بیشی نہیں کرتے لیکن اس کی معلومات ہارورڈ فاریسٹ آرکائیو میں بھی جمع ہوتی رہتی ہے۔

TREE1

ثلاً 21 جولائی کو درخت نے ٹویٹ کیا کہ’ جہاں تک مجھے یاد ہے یہ میری زندگی کا 24 واں گرم ترین دن ہے اور اس کا ریکارڈ اس جنگل کے 55 سالہ ڈیٹا میں موجود ہے۔ اسی طرح اگر گرمی بڑھ جائے اور درخت میں مائعات کا بہاؤ سست پڑجائے تو درخت گرمی کی لہر کی صدا بھی لگاتا ہے۔

اگر آپ اس درخت کے ٹویٹس پرھنا چاہتے ہیں تو @witnesstree پر اسے فالو کیجئے۔

You might also like

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept