’’اونچی دوکان پھیکا پکوان‘‘

اچھی فلم صرف باتوں سے نہیں بنتی کیونکہ اس کے لئے عمل کی ضرورت ہے لیکن ہمارے ہاں زیادہ زورصرف باتوں پردیا جاتا ہے کیونکہ جب فلم کی پرموشن شروع ہوتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ فلم پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام ریکارڈ توڑ دے گی لیکن جب فلم دیکھنے کے لئے جائیں تو بہت افسوس ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ابھی تک ہمارے ہاں تجربات ہی کئے جارہے ہیں۔ عید سے پہلے جب تینوں فلموں سپرسٹار،پرے ہٹ لو اور ’ہیر مان جا‘ کی پرموشن ہورہی تھی تو زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ’سپر سٹار‘ سب سے زیادہ پسند کی جائے گی جس کی مختلف وجوہات تھیں۔ایک تو فلم میں ماہرہ خان تھیں جن کی فین فالوونگ بہت زیادہ ہے۔ دوسرا یہ فلم ہم ٹی وی جیسے پروفیشنل ادارے نے بنائی جو ٹی وی پروڈکشن ہی نہیں بلکہ فلم پروڈکشن کا بھی وسیع تجربہ رکھتا ہے لیکن نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ’’اونچی دوکان پھیکا پکوان‘‘ کے مترادف’سپر سٹار‘امیدوں پر پورا اترنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ اس فلم میں بھی نامور کاسٹ، اعلیٰ کاسٹیوم، بہترین لوکیشنز اور شوٹنگ کی جدید سہولتوں سے مزین فلم کا مستقبل باکس آفس پر روشن دکھائی نہیں دے رہا، کیونکہ یہ صرف پرانے منجن کی نئی پیکنگ کی حد تک کی گئی خالص کمرشل کوشش ہے۔فلم کی کہانی سے لے کر سکرین پلے اور پرفارمنس سے لے کر ڈائریکشن تک بے شمار کمزور پہلے سامنے آتے ہیں۔

فلم کے ڈائریکٹر محمد احتشام الدین ہیں، جنہوں نے تھیٹر اور ٹیلی ویژن سے ہوتے ہوئے فلم تک اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ٹی وی میں ان کا نام کامیابی کی ضمانت ہے البتہ فلم ان کی پہلی ہے جس میں وہ زیادہ متاثر کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ فلم کی کہانی کا روایتی اور پرانا ہونا ہے۔مگر اس کے باوجود کئی مناظر میں انہوں نے اپنی ہدایت کارانہ صلاحیتوں سے متاثر کیا، لیکن بے شمار مناظر اور گیتوں کی فلمبندی پر بھارتی انداز کی چھاپ نے ان کے اصل کام کو کہیں چھپا دیا، جو قابلِ افسوس ہے۔پھر اس ناکامی سے ایک اور بات بھی ثابت ہوگئی کہ اتنے منجھے ہوئے اور ایوارڈ یافتہ ڈراموں کے ڈائریکٹر کسی فلم کے بھی اچھے ہدایت کار ثابت ہوں، یہ ضروری نہیں ہے ۔

رائٹر کے طور پر اذان سمیع کا نام سامنے آیا ہے، جبکہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس فلم کی کہانی کئی لوگوں سے لکھوائی گئی، پھر اسے اذان سمیع کے نام سے ریلیز کر دیا گیا۔فلم طوالت سےبھرپور، یکسانیت اور بغیر کسی کلائمیکس کے لکھی گئی ہے  جس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس کا رائٹر کافی اناڑی ہے ورنہ وہ ایسی غلطیاں نہ کرتا۔

اگر پرفارمنس کی بات کی جائے تو سب سے پہلے نام آتا ہے ماہرہ خان کا جو فلم کی ہیروئین ہیں۔ یہاں آپ کو فردوس جمال ضرور یاد آئیں گے جن پر بہت زیادہ تنقید کی گئی لیکن ان کی بات سچ ثابت ہوگئی کیونکہ ماہرہ خان سے جو توقعات کی جارہی تھیں تھیں ان کی پرفارمنس اس کے بالکل برعکس تھی۔ ماہرہ خان کی کوئی بھی فلم ابھی تک سپرہٹ نہیں ہوئی اور اوپر سے اب ’سپر سٹار‘ میں ان کی پرفارمنس کئی سوالات چھوڑ گئی ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ یا تو ماہرہ خان اپنی مرضی کرتی ہیں یا پھر ڈائریکٹر ان کے آگے بے بس ہیں کیونکہ کئی مناظر دیکھ کر آپ افسوس کریں گے کیونکہ آپ کو ایسا لگے گا کہ میں تو یہ سین پہلے بھی دیکھ چکا ہوں۔بلال اشرف نے کافی بہتر کام کیا ہے۔فلم کا میوزک کافی بہتر ہے جس میں اذان کے ساتھ سعد سلطان نے ساتھ دیا۔ پاکستانی اور بھارتی گلوکاروں کی آوازوں کو شامل کیا گیا جن میں  سنیدھی چوہان، رکتیما مکھرجی، عاطف اسلم، علی سیٹھی، زیب بنگش، جابر عباس، عاصم اظہر اور دیگر شامل ہیں، لیکن فلم کے گیتوں کا کہانی سے کوئی تعلق بنتا ہوا دکھائی دیا اور نہ ہی فلم میں کوئی ایسا گیت ہے جو فلم کی تھیم کو لے کر آگے چل سکے، البتہ انفرادی طور پر سننے میں یہ گیت کانوں کو اچھے لگتے ہیں۔کئی گانوں میں فلم کی کوریوگرافی بہت اچھی ہے جس کا کریڈٹ نگاہ حسین کو جاتا ہے۔

اس فلم میں بھی سب سے اہم مسئلہ کہانی سکرین پلے کا ہے۔ نئی چیزوں کے ساتھ پرانی کہانیوں پر جتنا چاہے کام کرلیں سینما کی بحالی ممکن نہیں، اس کے لیے نئی کہانیوں اور نئے انداز پر کام کرنا پڑے گا، جس میں کمرشل اور تخلیقی دونوں پہلوؤں کے رنگ شامل کرنا پڑیں گے۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ فلم باکس آفس پر کتنے دن رہتی ہے کیونکہ فلم کے ساتھ ہم ٹی وی ہی نہیں بلکہ بہت سے ایسے بلاگرز بھی ہیں جو اسے سپرہٹ قرار دے رہے ہیں۔ کئی لوگوں نے تو اسے سو فیصد نمبر دے دیئے ہیں(شاید ان لوگوں نے فلم دیکھے بغیر تبصرے کئے ہیں ورنہ وہ کچھ اور لکھتے)

آج کل یہ رواج عام ہے کہ فلم بنانے والے اور اس سے متعلقہ بہت سے لوگ اپنی مرضی سے کچھ بھی لکھوا سکتے ہیں کیونکہ بے شمار بکائو لوگ ہمیشہ میڈیا میں موجود رہے ہیں لیکن جس طرح لوگ سوشل میڈیا پر فلم بارے اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں’’سپر سٹار‘‘ کا مستقبل زیادہ اچھا نہیں دکھائی دے رہا۔فلم دیکھنے کے بعد آپ کو پیسے خرچ کرنے کا افسوس ضرور ہوتا ہے۔دوسری طرف فلم سے وابستہ تمام لوگ اس کی شاندار کامیابی کا دعویٰ کرتے نظر آرہے ہیں۔

You might also like

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept