نوازالدین صدیقی نے بال ٹھاکرے کا روپ دھارلیا

بھارت کے انتہا پسند ہندو سیاستدان بال ٹھاکرے کو یوں تو گزرے 6 سال گزر چکے ہیں، تاہم جلد ہی ان کی زندگی پر بنائی گئی بولی وڈ فلم کو ریلیز کیے جانے کا امکان ہے۔

ریاست مہارا شٹر میں پیدا ہونے والے بال ٹھاکرے انتہاپسند تنظیم شیوسینا کے سربراہ تھے اور وہ 2012 میں چل بسے تھے۔ پاکستان مخالف بیانات اور مسلم مخالف سیاست سے شہرت پانے والے بال ٹھاکرے کے حوالے سے کہا جاتا تھا کہ وہ ممبئی کے غیر اعلانیہ مالک تھے۔

اب ان کی زندگی پر بولی وڈ ہدایت کار ابھیجیت پانسے نے فلم بنائی ہے، جس کی کہانی صحافی اور رکن پارلیمنٹ سنجے رات نے دی ہے اور دونوں شیو سینا کے حمایتی اور رکن مانے جاتے ہیں۔ فلم میں ورسٹائل اداکار نوازالدین صدیقی بال ٹھاکرے کا کردار ادا کرتے نظر آئیں گے اور اب اس فلم کا پہلا ٹریلر جاری کردیا گیا۔

’ٹھاکرے‘ میں نواز الدین صدیقی کو ہندو انتہاپسند سیاست کے روپ میں دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ فلم میں نوجوان بال ٹھاکرے دکھائی دے رہے ہیں یا پھر نوازالدین صدیقی۔ ٹریلر کو دیکھ کر فلم کی کہانی کو سمجھنا مشکل ہے، تاہم اندازا ہوتا ہے کہ فلم میں بال ٹھاکرے کی ابتدائی سیاسی زندگی کو دکھایا جائے گا۔

تقریبا 3 منٹ دورانیے کے ٹریلر میں نوازالدین صدیقی یعنی بال ٹھاکرے کی ابتدائی سیاسی زندگی ہی دکھائی گئی ہے، جس میں وہ آہستہ آہستہ طاقتور اور بااثر سیاست بن کر سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم ٹریلر میں ان کے بااثر ہونے کی جھلک بھی دکھائی گئی ہے اور بال ٹھاکرے کو ٹریلرمیں بھی انتہا پسندی اور تنگ نظری کی پرچار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ٹریلر میں بال ٹھاکرے کو پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کھیلنے کی مخالفت کرنے سمیت کچھ کیسز یں عدالتوں میں پیش ہوتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔ ساتھ ہی ٹریلر کی تاریخ کا اعلان بھی کردیا گیا، فلم کی ٹیم کے مطابق ’ٹھاکرے‘ کو آئندہ ماہ 25 جنوری کو ریلیز کیا جائے گا۔ فلم کو بیک وقت ہندی اور مراٹھی زبانوں میں جاری کیا جائے گا، علاوہ ازیں اسے انگریزی میں بھی جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

You might also like