’گم‘ نئے سال کا تحفہ ثابت ہوگی

نئے سال کی پہلی فلم’گم‘11جنوری کو نمائش کے لئے پیش کی جائے گی۔فلم کی پرموشن لاہور میں جاری ہے اور اسی سلسلے میں گزشتہ رات فلم کے پروڈیوسر،ڈائریکٹرعمار لاثانی،کنزیٰ ضیائ، اداکارہ شامین خان اور سمیع خان نے میڈیا سے ملاقات کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اداکارسمیع خان کا کہنا تھا ہمارا سینما ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے لیکن ہمارے ہاںتجربات بہت کم ہوتے ہیں کیونکہ ہم خاص موضوعات کی ہی فلمیں بناتے ہیں اور ویسے بھی ہماراسینمابھارت سے متاثر ہے لیکن’گم‘ ایک بالکل مختلف طرز کی فلم ہے۔یہ سسپنس تھرلرفلم ہے جسے دیکھ کر شائقین کو یقین ہوجائے گا کہ ہمارے ملک میں بھی منفردکام ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا سینما جس دورسے گزرریا ہے ہم سب نے اس میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی ہے جہاں تک پاکستانی فلموں کے آپس میں مقابلے کی بات ہے تو صحت مندمقابلہ ضرور ہونا چاہیئے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لوگوں کے پاس چوائس ہونی چاہیئے کہ وہ کیا دیکھنا چاہتے ہیں۔کمرشل فلم ہر طرح کی ہوتی ہے لیکن ہم صرف ناچ گانے کو ہی کمرشل سمجھتے ہیں۔ سمیع خا ن نے بتایا کہ مجھے سب سے پہلے سکرپٹ کا ہوم ورک بہت پسند آیا کیونکہ پوری فلم پیپرپربنی ہوئی تھی۔ ایک ایک شاٹ کے بارے میں لکھا ہوا تھا کہ وہ کتنے سکینڈ کا ہے۔عمار لاثانی اورکنزیٰ ضیا نے کہ یہ فلم شائقین کو پہلے سین سے آخری سین تک مصروف رکھے گی اور ان کی توجہ کسی اور طرف نہیں ہوگی۔ یہ فلم بالکل منفرد تجربہ ہے۔فلم دنیا بھر کے مختلف فیسٹیولز میں آٹھ ایوارڈ جیت چکی ہے جبکہ اس کی نامزدگی پندرہ ایوارڈز کے لئے ہوئی تھی۔ہماری فلم شائقین کے لئے نئے سال کا تحفہ ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں عمار لاثانی نے کہا کہ کمرشل ازم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فلم کا بجٹ زیادہو۔اس بات کا فیصلہ لوگ کریں گے کہ یہ کمرشل ہے یا نہیں۔اگر فلم اچھی ہوتو کوئی بھی سینماگھر اسے نہیں اتارے گا۔
اداکارہ شامین خان نے کہا کہ کیرئر کے شروع میں ہی فلم کرنا اور وہ بھی بہت ہی اچھا پراجیکٹ ،میرے لئے ایک چیلنج تھا جسے میں نے خوشی سے قبول کیا۔ جب میں کہانی سنی اور سکرپٹ پڑھا تو اسی وقت فیصلہ کرلیاکہ مجھے اس پراجیکٹ کا حصہ بننا ہے۔شامین خان نے مزید کہا کہ ’گم ‘پاکستان میں ایک نئی طرزکے سینما کی طرف پیش قدمی ہے۔
فلم کی ٹیم نے پیکجز مال کا دورہ بھی کیا جہاں شائقین نے ان کا استقبال گرم جوشی سے کیا۔