فن کے سلطان کو بچھڑے23سال بیت گئے

برسوں تک فلم بینوں کے دلوں پر راج کرنے والے مقبول اداکار سلطان راہی کی 23 ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ سٹیج ڈراموں سے کیرئیر کا آغاز کرنے والے سلطان راہی نے 813 فلموں میں اپنے فن کے جوہر دکھائے جن میں 703 پنجابی اور 110 اردو فلمیں شامل ہیں۔ حبیب احمد المعروف سلطان راہی بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر بجناور میں 1938ء پیدا ہوئے، تقسیم ہند کے وقت پاکستان کے ضلع گوجرانوالہ میں آ گئے۔ سلطان راہی نے 1955 میں اپنے کیرئیر کا آغاز سٹیج ڈرامہ سے کیا جس میں ان کا نام نادر شاہ درانی رکھا گیا۔ انہوں نے 4سال تک سٹیج پر کام کیا، پھر 1959 میں بننے والی فلم "باغی”میں ایکسٹر ا اداکار کی حیثیت سے کام کیا۔

1972 ان کے کیرئیر میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا، اس سال ان کی تین فلموں کی ڈائمنڈ جوبلی منائی گئی۔ 1979 میں فلم مولا جٹ میں مثالی کام کیا اور شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا۔ اداکارہ انجمن، صائمہ، نرگس وغیرہ سلطان راہی کی ہیروئن بنیں اور کامیابیوں کی سیڑھیاں عبور کرتے ہوئے فن کی بلندیوں پر جا پہنچیں۔سلطان راہی کو بہترین اداکاری پر 160 فلم ایوارڈز سے نوازا گیا اور گنیز بک آف ریکارڈ میں آنے والے پہلے پاکستانی فنکار ہیں۔ سلطان راہی اپنے ڈرائیور و سیکرٹری حاجی احسن کے ہمراہ 8 اور 9 جنوری کی درمیانی شب اسلام آباد سے لاہور جا رہے تھے کہ تھانہ صدر گوجرانوالہ کے علاقے سمن آباد چونگی کے قریب ان کی گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوا اور وہ ٹائر تبدیل کر رہے تھے نامعلوم افراد آ گئے جنہوں نے سلطان راہی کو گولیاں مار کر قتل کیا اور ا ن کے سیکرٹری حاجی احسن کو زندہ چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

پولیس نے کارروائی ڈالتے ہوئے مدو خلیل کے رہائشی ساجد عرف ساجو کانا کو گرفتار کیا اور ڈکیتی کی وارداتوں کا مال برآمد کرکے سلطان راہی کا قاتل قرار دیا اور پھر اسے مبینہ مقابلے میں پار کر دیا گیا۔

کچھ عرصہ گزرجانے کے بعد شیخوپورہ پولیس نے ڈکیت گینگ کو گرفتار کیا جس میں شامل ایک ملزم یونس حبیب نے معروف اداکار سلطان راہی کو قتل کرنے کا انکشاف کیا تاہم پولیس کی ناقص تفتیش کے باعث ملزم یونس کو رہا کر دیا گیا۔ سلطان راہی قتل کیس میں گوجرانوالہ پولیس نے 500 سے زیادہ بے گناہ لوگوں کی پکڑ دھکڑ کی اور مبینہ طور پرکروڑوں روپے رشوت بھی وصول کی لیکن اصل قاتلوں کا سراغ لگانے میں ناکام رہی۔

You might also like