بھارت مقبوضہ کشمیرپرعالمی دباؤ برداشت کرپائے گا؟

یکھنا ہوگا کہ اس اقدام کے بعد بھارت مقبوضہ کشمیر پر بڑھتا ہوا دباوٗبرد اشت کر پائے گا۔جس کے تحت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا

بھارت مقبوضہ کشمیر پرعالمی دباؤ برداشت کر پائے گا؟ بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی نے آرٹیکل 370اور35 اے ہاؤس میں پیش کیا جو 351 ووٹوں کی اکثریت سے منظور کر لیا گیا اس قرارداد کی مخالفت میں 72 ووٹ سامنے آئے اس کے بعد بھارتی وزیر کے خاتمے کی قرارداد کا بلداخلہ امیت شا نے دوسری قرارداد مقبوضہ جموں و کشمیر کی دو حصوں یعنی جموں وکشمیر اور لداخ میں تقسیم کا بل ہاؤس میں پیش کیا یہ بھی 370ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور کر لیا گیا اس بل کی مخالفت میں صرف70 ووٹ سامنے آئے آرٹیکل 370اور35A ختم کرنے کے بل پر بھارتی صدر رام ناتھ کووند نے دستخط کیے۔ تاہم دیکھنا ہوگا کہ اس اقدام کے بعد بھارت مقبوضہ کشمیر پر بڑھتا ہوا دباوٗبرد اشت کر پائے گا۔جس کے تحت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ان میں لداخ کو بھارت کی مرکزی حکومت سے کنٹرول کیا جائے گا اور جبکہ جموں کشمیر کی اپنی علیحدہ اسمبلی ہوگی۔
یہ فیصلہ خطے اور دیگر ممالک کے لئے حیران کن تھا اس بھارتی اقدام پر پاکستان کی مشترکہ پالیمنٹ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا اورفیصلہ کیا گیا کہ بھارت کے اس یکطرفہ اقدام مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے فیصلے پر بھارت کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات ختم کرنے اسکے سفیر اجے بساریہ کو پاکستان سے نکل جانے اور اپنے نامزد سفیر کو دلی نہ بھیجنے کے علاوہ دونوں ملکوں کے ٹرین رابطوں اور تجارت کو بھی معطل کرنے کا اعلان کر دیاگیا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا دفتر خارجہ اسلام میں ہونے والی بریفنگ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان ممالک (امریکہ،برطانیہ،چین،روس،فرانس) کے سفیروں کو سیکرٹری خارجہ نے بریفنگ دی اور ساتھ میں ان کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی یاد دہانی بھی کرائی گئی۔
دوسری طرف پاک فوج نے کشمیریوں کا ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس بھارتی اقدام کے خلاف حکومتی موقف کی بھر پور حمایت کرینگے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل آصف غفور کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت ہونے والی کور کمانڈر کانفرنس میں وادی کشمیر پر بھارت کے ناجائز اور غیر قانونی اقدام کا جائزہ لیا گیا جس پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح الفاظ میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیروں کی جدوجہد میں ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور کشمیریوں کی سعی کا آ خری حد تک ساتھ دیں گے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں۔
کشمیر پر جو حملہ کیا وہ ان پر ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے اس کا یہ اقدام جموں وکشمیر کے ہائیکورٹ کے فیصلے کے بھی مترادف ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد وں، شملہ معائدے کے بھی تخالف ہے اور جنیوا کنونشن سمیت تمام قوانین کی خلاف ورزیاں ہیں بھارت سر عام عالمی قوانین اور معاہدوں کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept