درد کا حل غذاؤں میں بھی تلاش کریں

درد کا حل صرف دواؤں میں نہیں غذاوں میں بھی ہوتا ہے۔ کچھ غذائیں ایسی ہیں جن سے نہ صرف جسمانی نشوونما میں مدد ملتی ہے بلکہ ان سے کسی بھی قسم کے درد کو کم یا روکا جا سکتا ہے 

زیتون کا تیل 

پینسلوانیا یونی ورسٹی کے محققین نے خالص زیتون کے تیل میں ایک ‘اولیکینتھل’ نامی ایک کیمیکل تلاش کیا ہے جو کہ بلکل ایسے ہی کام کرتا ہے جیسے درد کو دور کرنے والی دوا بروفین کرتی ہے۔

زیتون کے تیل کو کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ سبزیوں اور سلاد پر چھڑکیں اور روٹی یا ڈبل روٹی پر مکھن یا مارجرین کی جگہ لگائیں، خوب صحت بھی پائیں اور درد بھی بھگائیں۔

انناس

انناس میں ‘برومیلین’ نامی ہضم کرنے والے اینزائم ہوتے ہیں جو اس پھل کو انفلیمیٹری کے خلاف کام کرنے والا زبردست پھل بنا دیتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انناس کھانے سے جوڑوں اور ہڈیوں کے درد میں مبتلا مریضوں کے درد میں کمی ہوتی ہے۔

انناس سے میٹھا تو بنائیں لیکن ساتھ ہی اس کا استعمال فروٹ سلاد میں اور بطور پھل بھی کرنا چاہیے۔

سیب 

سیب کھانے سے درد میں کمی واقع ہوسکتی ہے کیونکہ اس میں ‘کیورسیٹن ‘نامی عنصر موجود ہوتا ہے۔اسی لیے ایک سیب روز کھانے سے ڈاکٹر سے  دور رہنے کا محاورہ بلا وجہ مشہور نہیں ہے۔

خشک میوہ اور بیج 

خشک میوے اور بیجوں میں ‘میگنیشیم’ اور ‘وٹامن ای’ کافی اچھی مقدار میں موجود ہوتا ہے جس سے انفلیمیشن قابو میں رہتی ہے۔اس کے لیے بغیر تلے ہوئے اور بغیر نمک کے خشک میوے اور بیج کھانے چاہیے۔

آرتھرائٹس نیشنل آفس نے خشک میووں میں خصوصی طور پر اخروٹ، مونگ پھلی، بادام ، پستے اور السی کا ذکر کیا ہے۔

بھورے چاول 

فائبر سے بھرپور بھورے چاول اور دوسری ایسی  اجناس درد سے مقابلہ کر سکتی ہیں۔ فائبر میں ‘سی-ری ایکٹو پروٹین’ کو کم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، جگر یہ عنصر جسم میں کسی چوٹ یا زخم کے نتیجے میں درد ہونے کی صورت میں پیدا کرتا ہے۔

انگور اور چیری 

انگور اور چیری میں کچھ ایسے عناصر ہوتے ہیں جو بلکل ایسے ہی کام کرتے ہیں جیسے ایسپرین۔ انگور میں ‘اینتھوسیاننز’نامی عنصر انفلیمیشن کو کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ رسربھری اور اسٹرابیری میں بھی یہی عناصر ہوتے ہیں۔

پیاز اور لہسن 

پیاز اور لہسن میں سلفر کمپاؤنڈز کی وجہ سے درد میں کمی کا وجہ بنتا ہے۔درد میں کمی کرنے کے ساتھ ساتھ یہ سبزیاں جسم میں مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے کا بھی کام کرتا ہے۔

چائے اور سبز قہوہ 

چائے اور سبز قہوے میں ‘اینٹی اوکسی ڈینٹس’ یا ‘فلاوونوآئڈز’ کی موجودگی جسم میں ان خلیوں کی حفاظت کرتی ہے جن کے خراب ہوجانے سے آرتھرائٹس میں مبتلا مریضوں کی حالت کو مزید خراب کرتا ہے۔

You might also like