باسی چاول کھانا خطرناک ثابت ہوگیا

چاولوں سے ہونے والی فوڈ پوائزننگ کھانے کے ایک سے 5 گھنٹے بعد ڈائریا اور قے کی صورت میں ظاہر ہوسکتی ہے

 ہمارے گھروں میں استعمال کے بعد بچے ہوئے کھانے کو فریج میں محفوظ کردیا جاتا ہے اور اگلے دن استعمال کیا جاتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے ہوئے چاول کھانا خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے ہوئے چاول کھانا فوڈ پوائزننگ کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چاولوں کو دوبارہ گرم کرنا خطرناک نہیں، بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ پکانے کے بعد چاولوں کو کیسے محفوظ کیا گیا۔

پکنے کے بعد چاول جتنا زیادہ معمول کے درجہ حرارت پر رہیں گے اتنا ہی زیادہ ان میں صحت کے لیے خطرناک ہونے کا امکان بڑھ جائے گا۔ ماہرین کے مطابق کچے چاولوں میں فوڈ پوائزننگ پیدا کرنے والے بیکٹریا موجود ہوتے ہیں اور قوی امکان ہوتا ہے کہ پکنے کے بعد بھی یہ کسی حد تک موجود رہیں۔ ایسے میں روم ٹمپریچر پر رکھنا ان بیکٹریا کی افزائش میں دوگنا اضافہ کردیتا ہے۔

چاولوں سے ہونے والی فوڈ پوائزننگ کھانے کے ایک سے 5 گھنٹے بعد ڈائریا اور قے کی صورت میں ظاہر ہوسکتی ہے۔ تاہم یہ زیادہ خطرناک نہیں ہوتی اور 24 گھنٹے تک ہی رہتی ہے۔ ماہرین چاولوں کی فوڈ پوائزننگ سے بچنے کے لیے کچھ تجاویز دیتے ہیں۔ کوشش کریں کہ چاولوں کو پکنے کے بعد ایک ہی دفعہ میں سرو کردیں۔ اگر چاول بچ جائیں اور انہیں محفوظ کرنا ہو تو ایک دن سے زیادہ محفوظ نہ کریں۔ فریج سے نکلے ہوئے چاولوں کو اچھی طرح گرم کریں۔

ایک بار فریج سے چاول نکال لینے کے بعد ایک ہی بار گرم کریں اور کوشش کر کے ختم کردیں۔ بار بار فریج میں رکھنا یا گرم کرنا انہیں خطرناک بنا سکتا ہے۔

You might also like

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept