Khouj English Advertising Privacy Policy Contact Us
Connect with us

صحت

قابوپانا نہایت ہی آسان

Published

on

ذیابیطس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طرز زندگی میں معمولی تبدیلی سے اس بیماری پر قابوپانا نہایت ہی آسان ہے۔ عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ ذیابیطس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ممکن نہیں ہے بلکہ اس مرض کو صرف متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور معالج کے مشوروں پر عمل درآمد کر کے ہی کنٹرول کیا جا سکتا ہے تاہم کچھ ایسے تجربات بھی سامنے آئے ہیں جو کسی طور پر بھی معجزے سے کم نہیں ہے ایسی ہی ایک مثال سوشانت سنگھ ہی ہے جنہوں نے 4 معمولی باتوں پر عمل کرکے شوگر کو شکست دے دی۔ 37 سالہ سوشانت سنگھ شوگر کے مریض تھے لیکن صرف 16 ہفتوں میں سوشانت سنگھ ناصرف خون میں شوگر کی مقدار کو نارمل سطح پر لے آئے بلکہ اپنے وزن میں بھی 5 کلو گرام تک کمی کی۔ سوشانت سنگھ نے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے طرز زندگی میں معمولی تبدیلی کیں جیسے انہوں نے سفر کے دوران اپنی معمول کی غذا میں سے سموسہ اور کچوری کی جگہ بادام اور چنے کو شامل کرلیا اسی طرح گھر میں متوازن غذا کا استعمال کیا جس کے لیے میٹھے سے پرہیز اور چکنائی کو بالکل ترک کردیا اور ساتھ ہی پھل اور سبزیوں کو معمول کی خوراک کا لازمی حصہ بنالیا۔
غذا میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ورزش سے اپنا وزن گھٹانے میں بھی کامیاب رہے جس سے نہ صرف وہ چاک و چوبند رہنے لگے بلکہ ان کا شوگر لیول بھی کم ہوگیا۔ تاہم متوازن غذا، ورزش اور وزن کم کرنے کے ساتھ ساتھ اہداف متعین کر کے اس کے حصول کے لیے ’فوکس‘ رہنا بے حد ضروری ہے۔ ان چار چیزوں سے ذیابیطس کو لگام دی جا سکتی ہے۔ واضح رہے HbA1c خون کا ٹیسٹ ہے جو ہر 3 ماہ بعد کرایا جا سکتا ہے اور جس سے پورے تین ماہ میں شوگر لیول کا اوسط معلوم ہوجاتا ہے ایک نارمل انسان میں 3 ماہ کی اوسط HbA1c کو 6 فیصد سے کم ہونا چاہیئے جب کہ 6 سے 6.4 فیصد تک ’پری ڈیابیٹک کنڈیشن‘ ہوتی ہے اور اس سے اوپر والے باقاعدہ ذیابیطس کے مریض شمار کیے جاتے ہیں۔

Advertisement

صحت

بالوں کے گرنے کی بڑی وجوہات

Rashid Saeed

Published

on

Hair problems

آج کے دور میں لڑکے لڑکیاں غرض مردو خواتین سبھی بالوں گرنے کے باعث پریشان دکھائی دیتے ہیں، بعض حضرات بالوں کی مظبوطی کے لیے ہزاروں جتن بھی کرتے ہیں

ماہرین کہتے ہیں کہ جس طرح اچھی غذا سے جسم نشوونما پا تا ہے، اسی طرح گھنے، چمکدار اور مظبوط بالوں کے لیے اچھی غذا بہت اثر کرتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ بالوں کے پتلا ہونے کی بنیادی وجوہات پر غور کیا جائے۔

بالوں میں تیزی سے کنگا کرنا

ماہرین کہتے ہیں کہ بالوں میں شیمپو کیا جائے یا کنگا، دونوں صورت میں بالوں پر نرمی اور آہستگی سے ہاتھ پھیرنا چاہیے۔ بالکل ویسے ہی جیسے مساج کیا جاتا ہے۔ بال جلد کی طرح حساس ہوتے ہیں کنگی کی سختی سے پتلے اور ٹوٹنا شروع ہوجاتے ہیں۔

بار بار شیمپو کرنا

اگر بالوں میں تیل نہ لگایا جائے اور خشک بالوں پر بار بار شیمپو کیا جائے تو بال پتلے ہونا شروع ہوجاتے ہیں ساتھ ہی ان کی چمک بھی متاثر کرتی ہے۔

صحت مند غذا نہ لینا

ماہرین کے مطابق بالوں کو وافر مقدار میں پروٹین ساتھ ہی آئرن وٹامن ڈی اور زنک کی ضرورت ہوتی ہے۔ صحت مند غذا بروقت نہ لی جائے تو بالوں کو گھنا کرنے کے لیے جتنے بھی ٹوٹکے اور جتن کرلیے جائیں سب ناکام ہو جاتے ہیں۔ بالوں کے خوبصورت گھنے اور چمکدار ہونے کا انحصار بنیادی طور پر صحت مند غذا میں ہے، ایسی صورت میں انڈے، دودھ اور مچھلی کا استعمال موثر ہے۔

ناشتہ ترک کرنا

اکثر افراد صبح ناشتہ ترک کردیتے ہیں جس کی وجہ سے پورے جسم کے ساتھ بال بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اگر آپ اپنے بالوں کو صحت مند رکھنا چاہتے ہیں تو ناشتے کا خاص خیال رکھیں۔

بالوں کو بہت زیادہ آئرن کرنا

لڑکے لڑکیوں کی طرف سے نت نئے اسٹائل کے بال بنانے کے لیے آئرن راڈ یا اسٹریٹنرز کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے، جس کی گرمائش بالوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔

بالوں کو نہ تراشنا

بالوں کی لمبائی بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر دو ماہ بعد 1 سے آدھا انچ تک ان کی کٹائی کی جائے لیکن اکثر افراد بال لمبے کرنے کے لیے اس کو نہیں کاٹتے ہیں۔

ہیئر اسٹائلسٹس کے مطابق ہر دو ماہ بعد بالوں کو ایک انچ کاٹنا ایسا ہے جیسے دھول مٹی صاف کی جاتی ہے اور اگر نوکیلے بال نہیں کاٹے جائیں تو بال کمزرو اور ٹوٹنے لگتے ہیں۔

دماغی دباؤ

بالوں کا پتلا ہونے کی ایک اہم وجہ تناؤ اور دباؤ کا شکار بھی ہوتا ہے۔ ڈپریشن دماغ میں ہارمون کورٹیسول لیول بڑھا دیتا ہے جس کی وجہ سے بال جھڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔

اس کے لیے بہترین حل ہے کہ ورزش اور دیگر دلچسپی کی سرگرمیوں پر زیادہ توجہ دیں تاکہ دماغی دباؤ سے بچا جاسکے اور صحت بھی متاثر نہ ہو۔

سگریٹ نوشی

تاہم یاد رہے کہ سگریٹ نوشی سے نہ صرف معدہ، نظام انحضام اور جسمانی قوت متاثر ہوتی ہے بلکہ بالوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

سگریٹ نوشی سے آکزیڈیٹو اسٹریس بڑھتا ہے، جو کہ فوری طور پر خون کی گردش کو روک دیتا ہے جس سے بال بڑھنے کا عمل رک جاتا ہے اور ان کی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے۔

Continue Reading

صحت

موٹاپے کو کم کرنے کے لیے مختلف طریقے

Rashid Saeed

Published

on

Fruits, Vegetales

موٹاپے کو کم کرنے کے لیے مستقل مزاجی، صحت مند غذاؤں اور کھانے کی کثرت کی بجائے ورزش نہایت ضروری ہے، لیکن کچھ غذائیں ایسی ہیں جن کا روزانہ استعمال وزن کم کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔

دودھ، دہی اور پنیر:

یہ نام پڑھتے ہی ذہن میں سب سے پہلے موٹاپا آتا ہے لیکن ماہرین تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دودھ میں موجود کیلشیم وزن بڑھانے والے ایک وٹامن کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور اس طرح وزن قابو میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

سبز چائے:

گرین ٹی کو اگر آپ صرف نزلہ بخار کا علاج یا سردی میں پینا ضروری سمجھتے ہیں تو غلط سمجھتے ہیں۔

سبز چائے کا استعمال وزن کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس میں موجود کیٹی چنس”Catechins” نظامِ ہاضمہ کو بہتر کرنے کے ساتھ چربی پگھلانے میں مدد بھی کرتا ہے۔

اگر سبز چائے میں لیمو ں بھی شامل کر لیا جائے تو مزہ بھی دوبالا ہو گا اور وزن گھٹانے میں بھی مدد حاصل ہو گی۔

انڈے:

انڈا پرو ٹین سے بھرپور غذا تصور کی جاتی ہے اور یہ پروٹین وزن کم کرنے میں کئی طرح سے مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔ پروٹین، کاربو ہائیڈریٹ کے مقابلے میں بھوک مٹانے میں زیادہ سودمند ثابت ہو سکتے ہیں اور اسے کھانے کے بعد اطمینان کا احساس بڑھ جاتا ہے۔

اخروٹ اور بادام:

اخروٹ اور بادام پرو ٹین، فائبر اور گڈ فیٹس کے ذریعے وزن گھٹانے میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔

اخرو ٹ اومیگا تھری، فیٹی ایسڈس کا ذریعہ ہے اور بادام سے ہڈیو ں کے لیے کیلشیم اضافی طور پر ملتا ہے۔

سیب اور نا شپاتی:

ان دونوں پھلوں میں قدرتی کیمیکل یعنی فلیونواڈز Flavonoids موجود ہیں جو وزن کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے، اس لیے سیب اور ناشپاتی کو وزن کم کرنے کے لیے بہترین پھل کہا جا تا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق جو خواتین ان پھلو ں کا استعمال کم کرتی تھیں ان میں وزن بڑھنے کی شکایا ت زیادہ سامنے آئیں۔

السی کے بیج:

چھوٹے چھوٹے چمکتے ہوئے خوبصورت السی کے بیج اپنے اندر وزن کم کرنے کے لیے خفیہ ہتھیار رکھے ہوئے ہیں، وہ ہتھیار ہےلگننس lignans۔

ایسٹورجن سے ملتے جلتے اس کمپاؤنڈ کی وجہ سے یہ صحت مند خواتین کی غذا کا حصہ بنتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر اس کا ایک چمچ دلیے، دہی یا سلاد کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سرکہ:

گھر میں سرکے کا ہونا ایک عام بات ہے لیکن اس کا استعمال وزن کم کرنے کے لیے عام بات نہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ جسم میں چربی گُھلا نے کے کام آسکتا ہے۔ اگر ایک چمچ سرکے کا استعمال روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے یا پھر کھانے میں اس کا استعمال معمول بنا لیا جائے تو وزن کو مناسب رکھنے میں مدد ملے گی۔

شکر قندی:

میٹھے اور نشاستے سے بھرپور غذاؤں کا استعمال وزن کم کرنے میں دلچسپی رکھنے والے لوگ کم ہی کرتے ہیں لیکن شکر قندی نہ صرف بھوک مٹانے کے کام آتی ہے بلکہ یہ چربی کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے، اس کی وجہ اس میں موجود فائبر ہے۔

اس کے علاوہ اس میں بڑی مقدار میں بیٹا کیروٹین بھی ہوتا ہے جس سے بلڈ شوگر کو معمول پر رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

ادرک اور لہسن:

ایلیسن Allicin وہ عنصر جو ادرک اور لہسن کو اس کا تیز اور مختلف ذائقہ اور بو دیتے ہیں۔ یہ عنصر انسانی وزن کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

ہلدی:

ہلدی کا استعمال ایشیائی کھانوں کو خوبصورت رنگ دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا استعمال جسم میں انسانی جسم میں موجود رگوں کو نئے سیل بنانے اور جسم میں تیزابیت کو کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

پانی:

پانی کی مناسب مقدار جسم میں کیلیوریز کے صحیح استعمال کے لیے مدد کرتی ہے اور نظامِ ہضم کو بھی فعال بناتی ہے۔

ان چیزوں کے علاوہ اگر آپ کھانوں میں دالیں، زیتون کا تیل، گریپ فروٹ، کالی مرچ کا استعمال معمول بنا لیں تو وزن جادوئی طور پر تو کم نہیں ہوگا لیکن آہستہ آہستہ وزن کو قابو میں رکھنے میں مدد ملتی رہے گی۔

Continue Reading

صحت

آپریشن کے ذریعے زچگی ‘ خواتین کیلئے خطرے کی گھنٹی

Rashid Saeed

Published

on

operation

آپریشن کے ذریعے زچگی خواتین کیلئے خطرے کی گھنٹی ، زچگی کے لیے آپریشن کی بجائے نارمل ڈیلیوی پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق آپریشن کے ذریعے زچگی میں دگنا اضافہ ہوا ہے، 30 فیصد سے زائد نوزائیدہ بچے آپریشن کے ذریعے جنم لے رہے ہیں حالانکہ نارمل ڈیلیوری ایک قدرتی عمل ہے جس میں نقصان کا احتمال بھی نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ حمل کے دوران کسی قسم کی پیچیدگی پیدا ہونے کی صورت میں ہی ’سی سیکشن (زچگی کا آپریشن)‘ کی اجازت دی جاسکتی ہے جس میں بچہ جننے کے دوران خون کا زیادہ بہنا، بچے کا اکڑ جانا اور بچے کا درست جگہ پر نہ ہونا جیسے دیگر عوامل شامل ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق نارمل ڈیلیوری میں وقت زیاہ صرف ہونے اور ’درد زیادہ ‘ ہونے کے باعث بغیر کسی طبی وجہ کے آپریشن کو معمول بنالیا گیا ہے حالانکہ اس سے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں اور ماں اور بچے کی صحت کو بھی شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

ماہر صحت پروفیسر مارلین تیمیرمین نے کہا ہے کہ آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش کے عمل ’سی سیکشن‘ میں ماں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق رہتے ہیں اور 700 فیصد تک امکان رہتا کہ آپریشن کے دوران خاتون کسی قسم کی پیچیدگی میں مبتلا ہوجائے اور 60 فیصد اس طریقہ کار کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ بھی دھو بیٹھی ہیں۔ 

عالمی ادارہ صحت گائناکولوجسٹ ڈاکٹروں کو ہدایات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹروں کی پہلی ترجیح نارمل ڈیلیوری ہونی چاہیے اور اس حوالے سے عوام میں آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔

Continue Reading
Advertisement

مقبول خبریں