Connect with us

صحت

گلوکوما کے علاج میں بھی مؤثر

Published

on

گلوکوما کے علاج میں بھی مؤثر

لگتا ہے کہ ہلدی کے جادوئی فوائد ان گنت ہیں کیونکہ اس عام گھریلو مصالحے میں موجود مرکب ’سرکیومِن‘ سبز موتیا (گلوکوما) کی روک تھام میں بھی مؤثر ثابت ہوا ہے اور برطانوی ماہرین نے اسے متاثرہ مقام تک پہنچانے کا ایک نیا طریقہ بھی ڈھونڈ نکالا ہے۔ گلوکوما میں آنکھ میں مائع بھرنے سے آنکھ کو دماغ سے جوڑنے والے قدرتی اعصاب تیزی سے تباہ ہوتے ہیں۔ آنکھ کے اس اعصابی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ماہرین آنکھوں میں ٹپکانے کے قطرے تجویز کرتے ہیں لیکن اب نہ صرف ہلدی میں موجود ایک جزو ’سرکیومن‘ سے اس مرض کو دور کرنا ممکن ہے بلکہ اسے آنکھ کے متاثرہ حصے تک پہنچانے کا طریقہ بھی دریافت کرلیا گیا ہے۔ برطانیہ میں کنگز کالج اور امپیریل کالج کے سائنس دانوں نے تحقیق کے بعد کہا ہے کہ سرکیومِن گلوکوما کی ابتدائی کیفیت کو ٹھیک کرسکتی ہے ماہرین جانتے ہیں سرکیومن حل نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے جسم کے اندر جاکر بہت مشکل سے اس کا حصہ بنتا ہے اور انہوں نے اس کا بھی ایک حل تلاش نکالا ہے۔
قبل ازیں سرکیومن دل کے امراض، بلڈ پریشر، دماغی بیماریوں، الزائیمر، جسمانی جلن اور دیگر کئی بیماریوں میں انتہائی مفید ثابت ہوچکا ہے اور اب اسے آنکھوں میں استعمال کرکے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کی بینائی بچائی جاسکتی ہے۔ اب سائنس دانوں نے کہا ہے کہ آنکھ کے ریٹینا میں پائے جانے والے ’ریٹینیئل گینگلیئن سیلز‘ صحت مند بصارت کی ضمانت ہوتے ہیں اور گلوکوما میں یہ سب سے پہلے متاثر ہونا شروع ہوتے ہیں۔ جب خرگوشوں پر سرکیومن آئی ڈراپس آزمائے گئے تو ابتدائی مرحلے میں ان کی آنکھوں میں ان خلیات کے متاثر ہونے کا عمل تھم گیا۔ تاہم پہلے مرحلے میں خرگوشوں کو سرکیومِن منہ کے ذریعے کھلائی گئی تھی۔ دوسرے مرحلے میں نینو ذرات میں سرکیومن بھر کر اس سے آئی ڈراپس بنائے گئے جو پہلے سے ہی آنکھوں کے قطروں میں استعمال ہورہے ہیں۔ جب ماہرین نے نینو ذرات کے ذریعے سرکیومن شامل کیا تو بدن میں اس کے انجذاب کی شرح چار لاکھ گنا بڑھ گئی اور اس نے درست مقام پر دوا پہنچانے میں بھی مدد کی۔ اس طرح اگر سرکیومِن کو کسی نینو ذریعے سے آنکھ کے اندر ڈالا جائے تو وہ بہت اچھی طرح متاثرہ مقام تک پہنچتا ہے۔
اگلے مرحلے میں سرکیومن بھرے نینو آئی ڈراپس متاثرہ چوہوں کو دن میں دو مرتبہ ڈالے گئے اور یہ سلسلہ تین ہفتے تک جاری رکھا گیا۔ اس طرح جن چوہوں کو ڈراپس نہیں دیئے گئے ان کے مقابلے میں قطرے ٹپکائے جانے والے چوہوں میں بینائی کے خلیات کی تباہی بہت حد تک کم ہوگئی اور اس عمل میں کوئی سائیڈ افیکٹس اور جلن وغیرہ پیدا نہیں ہوئی۔ اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر بین ڈیوس نے کہا کہ اگلے مرحلے میں اس طریقے کو آنکھوں کے علاج کے دیگر طریقوں کے ساتھ استعمال کیا جائے گا۔

صحت

حاملہ خواتین کےلئے خطرناک

Published

on

حاملہ خواتین کےلئے خطرناک

4 قدرتی غذائیں جنہیں کھانے سے حاملہ خواتین کا حمل ضائع ہوجاتا ہے، وہ بات جو تمام شادی شدہ جوڑوں کو ضرور معلوم ہونی چاہیے حمل کا ضائع ہونا ایک عام پایا جانے والا مسئلہ ہے جو بہت سے جوڑوں کو اولاد کی خوشی سے محروم رکھتا ہے۔ اگرچہ اس کی وجوہ خالصتاً طبی نوعیت کی بھی ہو سکتی ہیں مگر کچھ غذاﺅں کے استعمال میں بداحتیاطی بھی بعض اوقات حمل ضائع ہونے کا سبب بن جاتی ہے۔وٹامن سی کی بہت زیادہ مقدار استعمال کر لی جائے تو حمل ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔عموماً یہ خطرہ پہلے 4ہفتے کے دوران زیادہ ہوتا ہے۔ فوڈ سپلیمنٹ کے ذریعے وٹامن سی کا ضرورت سے زائد استعمال خصوصاً خطرے کا باعث بنتا ہے۔دار چینی رحم مادر کے لئے ایک قدرتی محرک کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اگر یہ کافی زیادہ مقدار میں استعمال کر لی جائے تو حمل کے ضائع ہونے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ یہ درد پر قابو پانے والے اجزاءسے بھی بھرپور ہوتی ہے اس لئے بعض اوقات درد سے بچنے کے لئے اس کا استعمال کیا جاتا ہے مگر زیادہ مقدار خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔اجوائن عام استعمال کی چیز ہے اور ہمارے مشرقی کھانوں میں بکثرت استعمال ہوتی ہے۔ حاملہ خواتین کو البتہ اس کے استعمال میں بہت احتیاط کرنی چاہئے۔ اس کی مقدار زیادہ ہو جائے تو حمل کو نقصان پہنچاتی ہے۔ حاملہ خواتین میں اجوائن کے بکثرت استعمال سے تولیدی اعضاءکے انفیکشن کا خطرہ بھی ہوتا ہے، جو بعض صورتوں میں جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ ابھی گزشتہ روز ہی ارجنٹینا میں ایک خاتون کی موت کی خبر سامنے آئی ہے، جو اجوائن کے استعمال سے اسقاط حمل کرنا چاہ رہی تھی مگر جان کی بازی ہار بیٹھی۔ایک اور چیز ”کوہاش بُوٹی“ ہے جو اسقاط حمل کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ دو اقسام کی ہوتی ہے، نیلی کوہاش اورکالی کوہاش۔ اسقاط حمل کے حوالے سے کالی کوہاش کو زیادہ خطرناک سمجھا جاتاہے۔مندرجہ بالا غذاﺅں کے استعمال میں بے اعتدالی کے خطرات اپنی جگہ، مگر حد سے زیادہ سخت ورزش کی جائے یا جسمانی مشقت کی کوئی بھی اور صورت ہو، یہ بھی اسقاط حمل کی وجہ بن سکتی ہے۔ حاملہ خواتین کو سخت ورزش اور مشقت سے بہرصورت بچنا چاہئیے۔

Continue Reading

صحت

زیادہ استعمال خطرناک

Published

on

زیادہ استعمال خطرناک

سفید چاول، پاستا اور سفید ڈبل روٹی وغیرہ میں پائے جانے والا جز کاربوہائیڈریٹ صحت کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ جلد موت کا خطرہ کم کرتا ہے۔ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دہائیوں سے کہا جارہا تھا کہ کاربوہائیڈریٹس کا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے تاہم اسے غذا سے نکال دینا جلد موت کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔اس تحقیق کے دوران 15 ہزار سے زائد افراد کی غذائی عادات کا تجزیہ کرکے نتیجہ نکالا گیا کہ بہت زیادہ مقدار میں اس جز کا استعمال ضرور صحت کو نقصان پہنچاتا ہے تاہم اعتدال میں رہ کر اس کا استعمال جلد موت کا خطرہ کم کرتا ہے، یعنی ہر وقت سفید چاول یا ڈبل روٹی کھانا جلد موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

Continue Reading

صحت

جراثیم کا پلندہ

Published

on

جراثیم کا پلندہ

سمارٹ فونز کی سکرین پر ٹوائلٹ سے 3 گنا زیادہ جراثیم ہوتے ہیں اگر آپ کا خیال ہے کہ ٹوائلٹ سیٹ ہی سب سے غلیظ اور جراثیموں سے بھرپور ہوتی ہے تو ایک نظر اپنے اسمارٹ فون کو بھی دیکھ لیں۔درحقیقت ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اسمارٹ فون کی اسکرین پر کسی ٹوائلٹ سیٹ کے مقابلے میں اوسطاً 3 گنا زیادہ جراثیم ہوتے ہیں۔ایک انشورنس کمپنی کی جانب سے کرائی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک تہائی (35 فیصد) سے زائد افراد نے کبھی اپنے اسمارٹ فونز کی اسکرین کو وائپس یا کسی کاور پراڈکٹ سے کبھی صاف ہی نہیں کیا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ اوسطاً اسمارٹ فون اسکرین ٹوائلٹ سیٹ کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ غلیظ اور جراثیموں سے بھری ہوتی ہے۔ہر 20 میں سے ایک صارف ہی ایسا ہے جو ہر 6 ماہ کے اندر اپنی ڈیوائس کو صاف کرنے کا عادی ہو۔اس تحقیق کے دوران مختلف اسمارٹ فونز کو حاصل کرکے ان میں بیکٹریا وغیرہ کی موجودگی کے ٹیسٹ کیے گئے۔نتائج سے معلوم ہوا کہ فون ہے ہر حصے پر ہی کسی نہ کسی قسم کا مواد موجود ہوتا ہے جو کہ جراثیموں سے بھرا ہوتا ہے۔یہ جراثیم جلدی مسائل اور صحت کے دیگر مسائل کا باعث بن سکتے ہیں۔مجموعی طور پر ہر اسکرین پر 84.9 یونٹ بیکٹریا پائے گئے جبکہ ٹوائلٹ سیٹ میں یہ شرح 24 یونٹ ہوتی ہے اور آفس کی بورڈ یا ماﺅس میں 5۔صرف اسکرین ہی اسمارٹ فونز کی بیک بھی جراثیموں سے بھرپور ہوتی ہے جہاں اوسطاً 30 یونٹس بیکٹریا ہوتے ہیں جبکہ لاک بٹن میں 23.8 یونٹ اور ہوم بٹن پر 10.6 یونٹ۔محققین کا کہنا تھا کہ فونز ہمیشہ ہمارے پاس ہی ہوتے ہیں اور لوگ انہیں ہر جگہ لے جاتے ہیں تو یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ ان ڈیوائسز میں جراثیموں کی بھرمار ہوتی ہے۔

Continue Reading

مقبول خبریں