Connect with us

صحت

دماغی امراض سے بچیے

Published

on

دماغی امراض سے بچیے

شکاگو میں الزائیمر پر سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزائیمر ایسوسی ایشن سے وابستہ پروفیسر ہیدر سنائڈر نے کہا کہ ان کی تحقیق کے حتمی نتائج میں اگرچہ مزید کچھ برس لگ جائیں گے لیکن اب تک کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ بلڈ پریشر کو صحتمند سطح پر رکھنا الزائیمر اور دیگر امراض سے بچاؤ میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس وقت صرف امریکہ میں ہی الزائیمر کے 50 لاکھ سے زائد مریض موجود ہیں اور ان میں سے دو لاکھ مریضوں کی عمر 65 سال سے کم ہے۔ اب تک یہ مرض لاعلاج ہے لیکن صحت مند اندازِ حیات اس کی رفتار کو کم کرسکتا ہے۔ اس ضمن میں سسٹولک بلڈ پریشر انٹروینشن ٹرائل یا اسپرنٹ نامی ایک بہت بڑا سروے کیا گیا ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر بلڈ پریشر 120 یا اس سے کم ہو تو فالج، امراضِ قلب، گردے کے امراض اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بہت حد تک کم ہوجاتا ہے۔
اسی وجہ سے اب ماہرین نے صحت مند فشارِ خون کی شرح 120 یا اس سے کم رکھی ہے ورنہ پہلے یہ 140 تک تھی۔ اس مطالعے میں بلڈ پریشر کم رکھنے اور ڈیمنشیا کے درمیان تعلق کا بھی مطالعہ کیا گیا تھا۔ اس کےلیے 9361 افراد کو بھرتی کیا گیا جن کی اوسط عمر 68 تھی۔ ان میں سے نصف کا بلڈ پریشر کسی نہ کسی طرح 120 تک محدود رکھا گیا جبکہ دیگر نصف افراد کو بلڈ پریشر کا معیاری علاج فراہم کیا گیا جسے اسٹینڈرڈ تھراپی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے جن افراد نے اپنا بلڈ پریشر 120 یا اس سے کم رکھا گیا تھا ان میں ڈیمنشیا اور الزائیمر کا کوئی امکان سامنے نہیں آیا اور ہائی بلڈ پریشر والے افراد میں ذہنی و دماغی انحطاط کی شرح زیادہ دیکھی گئی۔ اس طرح بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنا بہت ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلڈ پریشر کی کمی کےلیے باقاعدہ ورزش، نمک کا کم استعمال اور سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بہت مفید ہوتا ہے۔

صحت

کینسراور سرطان سے بچائو

Published

on

کینسراور سرطان سے بچائو

سبزیوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور ہرے پتوں والی سبزیوں میں آئے دن نئے طبی خواص دریافت ہوتے رہتے ہیں۔ گوبھی، شاخ گوبھی (بروکولی) اور کرم کلاں کی ایک قسم کیل آنتوں کے سرطان کو لاحق نہیں ہونے دیتیں۔لندن میں واقع فرانسِس کرِک انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ سبزیاں ہضم ہوتے وقت جسم میں سرطان دورکرنےوالے اجزا خارج کرتی ہیں اور اسی لیے یہ سبزیاں اپنے اندر حیرت انگیز خواص رکھتی ہیں۔ اس کی آزمائش کے لیے گوبھی، کیل اور بروکولی کے اجزا کو تجربہ گاہوں میں آنتوں کے خلیات اور چوہوں پر آزمایا گیا۔ماہرین نے اپنے تجربات کے دوران ان سبزیوں میں پائے جانے والے خاص کیمیائی مادے انڈول تھری کاربینول کو آزمایا، یہ کیمیائی مادہ آنتوں میں جاکر اسٹیم سیلز کو بدلتا ہے، آنتوں کے نئے استر بناتے وقت سوزش کو روکتا ہے اور امنیاتی خلیات کو طاقت دیتا ہے۔ تجربات کے دوران مشاہدہ کیا کہ اس کیمیکل کی وجہ سے آنتوں کے کینسر کے قریب پہنچ جانے والے چوہے بھی بیماری سے محفوظ رہے۔ جن چوہوں کی آنتوں میں سرطانی پھنسیاں بن رہی تھیں سبزیوں سے ان کی افزائش بھی رک گئی جو ایک بہت عمدہ پیش رفت ہے۔ اسی بنا پر ماہرین عوام کو زیادہ سے زیادہ سبزیاں کھانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

Continue Reading

صحت

ذیابیطس کے لیے مثالی غذا

Published

on

ذیابیطس کے لیے مثالی غذا

بھنڈی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مثالی غذا ہے بھنڈی ایسی سبزی ہے جو لگ بھگ ہر موسم میں ہی دستیاب ہوتی ہے اس میں موجود منرلز، وٹامنز اور فائبر کی موجودگی ہے۔مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید سبزی ہے؟اس میں موجود فائبر ہاضمے کو مدد دیتا ہے، جبکہ بھنڈی میں پوٹاشیم کی موجودگی بلڈ پریشر کو مستحکم کرتی ہے اور پیٹ زیادہ دیر تک بھرا رکھ کر جسمانی وزن میں کمی میں بھی مدد دیتی ہے۔تاہم اس کو اکثر غذا کا حصہ بنانا بلڈ شوگر لیول کو ریگولیٹ کرنے اور ذیابیطس کو کنٹرول میں رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔بھنڈی 2 قسم کے فائبر سے بھرپور سبزی ہے اور اسی لیے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مثالی غذا سمجھی جاسکتی ہے۔اس میں موجود فائبر شوگر کے سست اخراج کو یقینی بناتا ہے جبکہ انسولین کو حرکت میں لاتا ہے۔بھنڈی کی جلد اور بیج بلڈ گلوکوز لیول کو کم کرتے ہیں اور اسی وجہ سے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے محفوظ سبزی ہے۔اس سے ہٹ کر بھی اس میں موجود انزائمے انسولین کی حساسیت بڑھاتے ہیں جبکہ لبلبے انسولین پیدا کرنے والے خلیات کی پیداوار کو مستحکم رکھتے ہیں

Continue Reading

صحت

انڈہ انتہائی مفید

Published

on

انڈہ انتہائی مفید

ماہرینِ غذائیات کہتے ہیں کہ حاملہ ماؤں کی سرفہرست غذاؤں میں اب بھی انڈہ سرِفہرست ہے جسے کسی طرح بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔انڈے میں آیوڈین، فولاد، وٹامن ڈی، بی 12، فولیٹ اور دیگر اہم غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جو زچہ اور بچہ دونوں کی غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ مثلاً دورانِ حمل وٹامن بی 12 کی 100 فیصد ضروریات صرف ایک انڈے سے پوری ہوسکتی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امید سے ہونے والی خواتین اگر انڈے کا باقاعدہ استعمال کریں تو ماں بننے کا ذہنی دباؤ، کم وزنی بچے کی ولادت اور قبل ازوقت پیدائش جیسے مسائل میں بہت کمی ہوتی ہے۔ماہرین نے کہا ہے کہ انڈہ پروٹین سے بھرپور تو ہوتا ہے۔ اس میں معمولی مقدار میں طویل زنجیری فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں جو بچے کا وزن بڑھاتے ہیں اور اس کی پیدائش کا دورانیہ درست رکھتے ہیں۔ پھر انڈوں میں موجود فولاد ماں اور بچے میں آئرن کی کمی پورا کرتا ہے جس کی دورانِ حمل اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔انڈے میں وٹامن بی 12 خون کے خلیات اور اعصابی خلیات کو صحتمند حالت میں رکھتا ہے جس سے خود بچے کی حالت بہتر ہوتی ہے۔ خواتین میں فولیٹ کی نمایاں کمی ہوتی ہے اور انڈہ اس کمی کو پورا کرتا ہے۔ایک انڈے میں 75 کیلوریز ہوتی ہیں لیکن اس میں سات گرام بہترین معیاری پروٹین، 5 گرام چربی، 1.6 گرام سیرشدہ چکنائی، فولاد، فولیٹ، معدنیات، اور لیوٹین جیسے قیمتی اجزا بھی ہوتے ہیں جو بیماریوں سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔

Continue Reading

مقبول خبریں