Connect with us

صحت

بچاؤ ضروری

Published

on

بچاؤ ضروری

ماہرین امراض پیٹ و جگر نے کہا ہیپاٹائٹس بی اور سی کھانے سے نہیں بلکہ آلودہ آلات، متاثرہ خون سے پھیلتا ہے۔ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی میں مبتلا افراد کی تعداد ایک کروڑ 80 لاکھ سے 2 کروڑ کے درمیان ہے اور روزانہ 120 سے 150 افراد بیماری سے ہلاک ہوجاتے ہیں جلد تشخیص کے ذریعے اس مہلک مرض کا علاج اور خاتمہ ممکن ہے اگر آنے والی حکومتوں نے ہیپاٹائٹس کے علاج پرتوجہ نہیں دی تو یہ مرض خطرناک صورتحال اختیار کر جائے گا‌ ملک کے ہرشہری کا ہیپاٹائٹس سی اور بی کا ٹیسٹ کرایا جائے تاکہ اس موذی مرض سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے-

صحت

حیرت انگیز فوائد

Published

on

حیرت انگیز فوائد

کیلا کس کو پسند نہیں ہوتا سارا سال آسانی سے دستیاب یہ پھل میگنیشم اور پوٹاشیم سے بھرپور ہونے کی وجہ سے متعدد فوائد کا حامل ہوتا ہے جبکہ بچوں کی اچھی نشوونما کے لیے بھی اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ کیلے کے چھلکے کو دانتوں پر دو منٹ تک روزانہ رگڑیں، آپ کی مسکراہٹ نہ صرف سفید بلکہ جگمگانے لگے گی۔کیلا ایک اکلائن پھل ہے یعنی اس میں میگنیشم آکسائیڈ بیس گرین اور کیلشیئم کاربونیٹ بیس گرین موجود ہوتے ہیں، جو کہ معدے میں تیزابیت کو معمول پر لاتے ہیں۔ اگر آپ کیلوں کو اکثر کھانا عادت بنالیں تو یہ سینے کی جلن کے لیے گھریلو ٹوٹکے سے کم نہیں جبکہ ناشتے میں ایک کیلا کھانا دن بھر پیٹ کو ٹھیک رکھتا ہے۔بیوٹی پارلرز جاکر بھاری خرچہ کرنے کی کیا ضرورت ہے جب آپ کے پاس کیلے موجود ہیں؟جی ہاں آپ کیلوں کو قدرتی فیس ماسک کے طورپر بھی استعمال کرسکتے ہیں جو جلد کی نمی کو برقرار رکھتے ہوئے اسے دیکھنے اور چھونے میں نرم و ملائم بناتا ہے۔ بس ایک پکے ہوئے درمیانے سائز کے کیلے کوپیس کرپیسٹ کی شکل دے دیںاور پھر اسے نرمی سے چہرے و گردن پر مل لیں۔ اسے دس سے بیس منٹ تک لگا رہنے دیں اور پھر ٹھنڈے پانی سے دھولیں۔کسی مچھر یا کیڑے کی جانب سے کاٹے جانے پر کیلے کے چھلکے کو متاثرہ حصے پر کچھ منٹ کے لیے دبا کر رکھیں جو کہ خارش کو ختم کرنے کا حیران کن حد تک آسان طریقہ ہے۔ ایک تھقیق کے مطابق کیلے کے چھلکوں کو ورم کے علاج کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

Continue Reading

صحت

دائرہ کار بڑھا دیا

Published

on

دائرہ کار بڑھا دیا

پمزاسپتال اسلام آباد نے ایمرجنسی میں آنیوالے تمام مریضوں کو5 ہزارروپے تک کی ادویات دینے کی اجازت دیدی۔
پمزاسپتال اسلام آباد کے سربراہ ڈاکٹر امجد نے لوکل پرچیزکے تحت دوائیوں کی فراہمی کا دائرہ کاربڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایمرجنسی میں آنیوالے تمام مریضوں کو5 ہزارروپے تک کی دوائیں دینے کی اجازت دیدی جبکہ انڈوراورمستحق مریضوں کیلئے اسپتال کے ڈپٹی ایگزیکٹوڈائریکٹرکو10ہزاراورجوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو 20 ہزار روپے تک کی دوائیں فراہم کرنے کی اجازت ہوگی،اس سے اوپر مزید ضرورت پڑنے پرہسپتال کے سربراہ خود منظوری دینگے۔ اسپتال میں دوائوں کی خریداری و تقسیم کو شفاف بنانے کیلیے تمام میڈیکل اسٹورزمیں کیمرے نصب کرنے کیساتھ ساتھ ریکارڈکمپیوٹرائزڈکرتے ہوئے سینٹر لائزڈ مانیٹرنگ سسٹم رائج کرنیکا فیصلہ کیاگیاہے۔

Continue Reading

صحت

خطرات لاحق

Published

on

خطرات لاحق

دنیا بھر میں ناشتا کرتے ہوئے جو چیز سب سے زیادہ کھائی جاتی ہے وہ یقیناً انڈے ہیں۔یہ غذا صحت کے لیے بہت فائدہ مند بھی ہے، چاہے کسی بھی صورت میں کھائی جائے۔مگر انڈوں میں جراثیم کی آلودگی کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، خاص طور پر پاکستان اور بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک میں، جو صحت کے لیے تباہ کن عنصر ثابت ہوسکتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق دیگر غذائوں کے مقابلے میں انڈوں سے لاحق خطرات سے عام لوگ زیادہ واقف نہیں۔صارفین چکن اور مچھلی کے گوشت کے حوالے سے صفائی وغیرہ کا خیال رکھتے ہیں مگر انڈوں کو پکانے یا توڑنے کے بعد عام طور پر ہاتھ دھونے کی زحمت بھی نہیں کرتے۔اس کی ممکن وجہ یہ ہے کہ انڈوں کو عام طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے، تاہم کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔انڈوں کو ہاتھ میں لینے کے بعد صابن سے دھوئیں اور وہ جگہ اور برتن بھی اچھی طرح دھوئیں جن میں کچے انڈوں کو ڈالا جائے۔ایک انڈہ کسی برتن مین رکھیں اور اسے پانی سے بھردیں۔ اگر انڈہ پانی میں تیرنے لگے تو بہتر ہے کہ اسے استعمال نہ کیا جائے جبکہ تہہ میں رہ جانے والا انڈہ استعمال کے لیے محفوظ ہوتا ہے۔انڈوں کو اس وقت تک پکانا چاہیے جب تک زردی اور سفیدی سخت نہ ہوجائیں جبکہ انڈوں پر مشتمل پکوانوں کو 160 ڈگری فارن ہائیٹ درجہ حرارت پر پکانے کی ضرورت ہے تاکہ سالمونیلا جراثیم ختم ہوجائیں۔ یہ جراثیم ہاضمے کے متعدد امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

Continue Reading

مقبول خبریں