سموکنگ دھواں جان لیوا

WebDesk 1 WebDesk 1 , اگست 08, 2018

پاکستان میں حاملہ خواتین میں تمباکو نوشی کی شرح بہت کم ہے لیکن گھروں میں شوہر اور دیگر افراد کی تمباکو نوشی کے دوران اُگلا گیا دھواں انہیں شدید متاثر کرکے ان کے بچوں کی جان لے رہا ہے۔
یارک یونیورسٹی، برطانیہ کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی گھروں میں بالراست تمباکو نوشی (سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ) کا دھواں سالانہ 17000 بچوں کی مردہ پیدائش کی وجہ بن رہا ہے۔ یعنی سگریٹ نوشی نہ کرنے والی حاملہ خواتین کے جسم میں جانے والا (دیگر افراد کا اُگلا گیا) سگریٹ کا دھواں، بچوں کو شدید متاثر کرکے بچوں کو ماؤں کے پیٹ میں یا پیدائشی عمل کےدوران ہلاک کررہا ہے۔ یونیورسٹی آف یارک کے ماہرین نے حال ہی میں طبّی تحقیقی جریدے ’’بی ایم جے ٹوبیکو کنٹرول‘‘ میں ایک سروے پیش کیا ہے۔ سروے میں شامل ماہرین کی ٹیم نے 30 ترقی پذیر ممالک میں خواتین اور گھرانوں سے 2008 سے 2013 تک مختلف سوالات کرکے نتائج مرتب کیے ہیں اگر خواتین دورانِ حمل سگریٹ نہ بھی پئیں تب بھی سگریٹ کا دھواں ان کے اور ان کے بچے کےلیے انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ زہریلے دھویں کی مسلسل موجودگی سے کم وزن بچے جنم لیتے ہیں، مردہ ہوتے ہیں یا پھر ان میں کوئی پیدائشی نقص واقع ہوسکتا ہے۔

khouj

Established in 2017, Khouj is a news website, which aims at providing news from all the spheres of life. In the contemporary world, Khouj News aims at providing authentic news unlike other major news sources on social media.