Khouj English Advertising Privacy Policy Contact Us
Connect with us

صحت

جلد کے سرطان کےلیے 100 فیصد موثر ویکسین تیار

Zeeshan Ali

Published

on

cancer

 ماہرین نے جلد کے سرطان کے ضمن میں ایک نئی ویکسین تیار کی ہے جسے چوہوں پر آزمانے کے بعد اس کے 100 فیصد نتائج سامنے آئے ہیں۔

ایک نئی تحقیق کے دوران ماہرین نے اس نئی ویکسین میں ’امیونو تھراپی‘ کی ایک موثر دوا اور ایک کیمیکل شامل کیا ہے۔ جب اسے چوہوں پر آزمایا گیا تو اسے جلد کے کینسر کی ایک شدید قسم ”میلانوما“ کے خلاف مو¿ثر دیکھا گیا۔

اسکرپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کی تیار کردہ اس ویکسین کے استعمال سے جلد کا کینسر دوبارہ حملہ آور نہیں ہوا، بصورتِ دیگر ایک مرتبہ علاج کے بعد وہ دوبارہ نمودار ہوتا رہتا ہے۔ ماہرین نے چوہوں پر آزمانے کے بعد ایک مقررہ عرصے تک ان کا مشاہدہ کیا لیکن میلانوما دوبارہ نمودار نہیں ہوا۔

انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ڈیل بوگر نے کہا ’نئی تھراپی سے میلانوما کے مکمل علاج کی راہ کھلی ہے۔ جس طرح عام ویکسین جسم کے دفاعی نظام کو جراثیم سے لڑنا سکھاتی ہے عین اسی طرح یہ ویکسین جسم کو سرطانی رسولی کا قلع قمع کرنے کے لیے تیار کرتی ہے۔‘

اسکرپس انسٹی ٹیوٹ اور ٹیکساس ساو¿تھ ویسٹرن میڈیکل سینٹر نے ایک لاکھ کے قریب ایسے کیمیائی مرکبات کا جائزہ لیا جو کینسر امیونو تھراپی دوا کی افادیت بڑھانے کے اہل ثابت ہوسکتے تھے۔ مسلسل تلاش کے بعد انہیں ایک کیمیکل ملا جس کا نام ’ڈائی پرو ووسِم‘ ہے۔ یہ مرکب جسم کے امیون ریسپٹر سے جڑجاتا ہے۔

اگلے مرحلے میں ماہرین نے اسے چوہوں میں سرطانی رسولیوں پر آزمایا جو میلانوما کے بار بار لاحق ہونے والے سرطان کے شکار تھے۔ ماہرین نے امنیاتی (جسم کے قدرتی دفاعی نظام کے) ردِعمل کو ناپنے کے لیے کچھ تبدیل شدہ بایو مارکر اوول بیومِن کو استعمال کیا۔

پہلے مرحلے میں چوہوں کے جسم میں جلد کے سرطان کے خلاف امنیاتی ردِعمل پیدا ہوا۔ اگلے مرحلے میں ماہرین نے چوہوں کو تین گروہوں میں تقسیم کرکے انہیں مختلف انداز سے ویکسین دی۔

54 روز کے عرصے میں تمام چوہوں کو بغور دیکھا گیا اور جنہیں ڈائپرو ووسِم دی گئی تھی ان کی 100 فیصد تعداد کینسر کو جھیل کر زندہ رہی۔ ویکسین نے جلد کے اندر کینسر سے لڑنے والے خاص خلیات بنائے جنہیں رسولی میں گھس کر وار کرنے والے ”لیوکوسائٹس“ کہتے ہیں۔

چوہوں میں کینسر ختم ہونے کے بعد بھی جسم میں کیمیائی مرکب کی مقدار موجود رہتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ویکسین ایک طویل عرصے تک جلد کے سرطان سے لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

صحت

42 کروڑ سے زائد افراد شوگر کے مرض مبتلا

Rashid Saeed

Published

on

Diabetes

پاکستانی سمیت دنیا بھر میں آج شوگر سے آگاہی کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے جب کہ عالمی ذیابیطس فیڈریشن کے مطابق دنیا بھر میں ساڑھے 42 کروڑ سے زائد افراد شوگر کا شکار ہیں۔

کھانا کھانے اور پانی پی لینے کے باوجود بار بار پیاس یا بھوک لگنا، منہ کا خشک رہنا ، بے جا طور پر پیشاب آنا، مناسب کھانے کے باوجود وزن میں کمی ہوجانا، تھکاوٹ، دھندلا پن یا سر میں درد رہنے کی شکایت کی صورت میں شوگر کا ٹیسٹ کرائیں۔

ماہرین شوگر کے مطابق خون میں گلوکوس کی کمی سے ہارٹ اٹیک، بینائی جانا اور فالیج کا اٹیک بھی ہو سکتا ہے، شوگر کا اثر اگر پاؤں پر ہو تو اسے کاٹنا بھی پڑسکتا ہے۔

ماہرین کا کہناہے کہ خوراک میں توازن نہ ہونا، میٹھے کا زیادہ استعمال، جنک فوڈ یعنی برگر پیزا کیک وغیرہ بلا ناغہ کھانا، سافٹ ڈرنکس اور تمباکو نوشی کا استعمال، ورزش اور چہل قدمی یا کھیل معمول کا حصہ نہ ہو تو شوگر کے مرض کاخطرہ منڈلاتا رہتا ہے۔

ماہرین نے تجویز دی ہے کہ شوگر کے مریض روزانہ آدھا گھنٹہ پیدل چلیں، ورزش کو زندگی کا معمول بنائیں، وزن کم کریں، تمباکو نوشی ترک کریں اور جنک فوڈ سمیت جوس کولڈرنک مکمل طور پر بند کردیں۔

دوسری جانب عالمی تنظیم برائے شوگر کے مطابق اس مرض کی تین ہی اقسام ہیں جس میں سے ٹائپ ٹو ذیابیطس عام ہے، ذیابیطس کا بروقت تشخیص سے علاج ممکن ہے۔

Continue Reading

صحت

پتوں سے شوگر کنٹرول کریں

Published

on

gloyee

دنیا بھر میں آج شوگر کے عالمی دن کے موقع پر ماہرین طبی کی جانب سے گلوئے کے پتے کھانے کی خاص تائید کی گئی ہے۔ شوگر ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسولین کی کمی یا انسولین کے اثر میں خرابی سے خون میں شوگر کی زیادتی ہو جاتی ہے۔ ہمارے جسم میں موجود لبلبہ جسم میں شوگر پیدا کرتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں تقریباً 10 لاکھ افرادمیں روزانہ کی بنیاد پر شوگر کی تشخیص ہوتی ہے، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سال 2020 تک شوگر کا شمار تیسری بڑی بیماری میں کیے جانے کا امکان ہے۔

طبی ماہرین نے شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے گلوئے کے پتوں کے استعمال کا مشورہ دیا ہے۔ گلوئے کے پتے کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ایک ایسا پتہ ہےجس کا استعمال انسان کو 80سال تک بیمار نہیں ہونےدیتا۔ یہ پودا تقریباً ہر علاقے میں پایا جاتا ہے، گلوئے ایک جڑی بوٹی ہے جس کی جڑ اور بیل جتنی مفید ہے اس کے پتے صحت کے لیےاس سے ہزار گنا زیادہ فائدہ مند ہیں۔

گلوئے کے پتوں کو جادوئی جڑی بوٹی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ صرف شوگر کے مرض کا علاج نہیں بلکہ اس سمیت کینسر، موٹاپے، میٹابولزم، کولیسٹرول، دل کی مضبوطی، بلڈ پریشر اور جسم میں موجود خون کو صاف کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ گلوئے کے پتے شوگر کو کیسے کنٹرول میں رکھتے ہیں :

*گلوئے کے پتے انسولین کی پیداوار کو بڑھاتے ہیں۔

*یہ گلوکوز کی بڑھتی مقدار کو جلانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، جس سے خون میں شکر کی سطح کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

*گلوئے کے پتوں میں شامل hypoglycaemic ایجنٹ کا کام شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ یہ خون میں شکر کی سطح اور لپڈ (lipids) کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

*اس کے علاوہ یہ کھانے کو فوری ہضم کرتا ہے جو کہ شوگر ہونے کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔

Continue Reading

صحت

دواؤں کے انسانی صحت پر سنگین اثرات

Published

on

helth

بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم نے آرگینو فاسفیٹس کے ماحول میں کام کرنے والی  حاملہ خواتین کے بچوں میں دماغی رکاوٹ اور دیگر امراض کا انکشاف کیا ہے۔ اس کی تفصیلات پبلک لائبریری آف سائنس (پی ایل او ایس) میڈیسن میں شائع ہوئی ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں اب انہیں درجہ بہ درجہ ختم کرنا ہوگا۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی ماہر ماحولیات ڈاکٹر اِروا ہرٹز پیچیاٹو نے بتایا ’اس بات کے ثبوت بڑھتے جارہے ہیں کہ کھیتوں میں کام کرتی ہوئی حاملہ خواتین کو آرگینو فاسفیٹس پر مشتمل کیڑے مار دواؤں کی معمولی مقدار کا سامنا بھی ہوجائے تب بھی ان کے بچوں میں آئی کیو کی کمی، سیکھنے، یاد کرنے، توجہ اور ارتکاز کی مشکلات و مسائل بڑھ سکتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ امریکا سمیت دیگر ممالک میں صرف ایک قسم کے آرگینو فاسفیٹ پر بحث جاری ہے لیکن ہماری تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اس نسل کے سارے مرکبات یکساں طور پر مضر ہیں۔ واضح رہے کہ یہ کیمیکل جنگی ہتھیار کے طور پر بطور اعصابی گیس بنایا گیا تھا۔ آج آرگینو فاسفیٹس کھیتوں، گالف کے میدانوں ، اسکولوں اور شاپنگ مراکز میں کیڑے مار دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ ان کے چھڑکتے ہی کیڑوں کے اعصاب شل ہوجاتے ہیں اور وہ مرجاتے ہیں۔

ماہرین نے کہا ہے کہ نہ صرف اپنے ماحول بلکہ تمام غذائی اجناس میں بھی یہ کیمیکلز جذب ہوکر خود غذا کا حصہ بھی بن جاتے ہیں۔ اسی بنا پر ماہرین نے اس پر پابندی، پانی کے ذخائر میں اس کی موجودگی کی شناخت، اس سے بیماریوں کا ایک باقاعدہ سسٹم اور کسانوں کو ان کے خطرات سے آگاہ کرنے پر زور دیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

مقبول خبریں