ایشوریہ رائے سے پہلے مجھے آفر ہوئی تھی

اداکارہ مہوش حیات نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں  بالی ووڈ فلم ’’پھنے خان‘‘اور ’’ڈیڑھ عشقیہ‘‘میں کام کی پیشکش ہوئی تھی لیکن انہوں نے بالی ووڈ پر پاکستانی فلموں کو ترجیح دی۔

غیر ملکی میڈیا نیٹ ورک کو دئیے گئے انٹرویو میں مہوش حیات نے تمغہ امتیاز کے دوران ہونے والے تنازعات اور بالی ووڈ پیشکش سے متعلق کھل کر بات کی۔ مہوش حیات نے بتایا کہ انہیں تمغہ امتیاز ملنے کے اعلان کے بعد جس طرح میڈیا ا ور سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایاگیا اس چیز نے انہیں بہت تکلیف پہنچائی۔ پاک بھارت کشیدگی کے بعد پاکستانی فنکاروں پر بالی ووڈ کے دروازے بند ہونے کے بارے میں مہوش حیات نے کہا کہ ہمارے اداکار جو بالی ووڈ میں جاکر کام کرتے ہیں انہیں وہاں وہ عزت نہیں دی جاتی جس کے وہ مستحق ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے فنکار اپنی فلموں کے پریمیئر تک میں شریک نہیں ہوسکے جس کی مثال سجل علی ہیں جنہوں نے فلم ’مام‘ میں سری دیوی کی بیٹی کا کردار نبھایا تھا لیکن وہ نہ تو فلم کی تشہیر میں حصہ لے سکیں اورنہ ہی پریمیئر میں۔ یہ بہت افسوسناک بات ہے کیونکہ عزت نفس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔ ہمیں اپنے سینماؤں کو آباد کرنے کی ضرورت ہے، ہمارے یہاں بہترین ہدایت کار ہیں، ہماری فلمیں بہت اچھی ہیں۔

مہوش حیات نے بالی ووڈ میں کام کرنے کے حوالے سے کہا کہ وہ اپنے ملک میں رہ کر پاکستان کے لیے کام کرناچاہتی ہیں اور یہی ان کا فیصلہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہیں فلم ’’ڈیڑھ عشقیہ‘‘ میں اداکارہ ہماقریشی اور’’پھنے خان‘‘ میں ایشوریارائے کے کردار کی پیشکش ہوئی تھی تاہم میں نے یہ دونوں کردار ٹھکرادئیے کیونکہ مجھے ارشد وارثی کے ساتھ ایک سین پر اعتراض تھا جس پرمیں نے اس سین کو فلم سے ہٹانے یا اس میں تبدیلی کے لیے کہا لیکن میری بات نہیں مانی گئی جس پر میں نے انکار کردیا۔

You might also like