بادشاہ کی مخالفت، شہزادی انتخاب کیلئے نااہل قرار

تھائی لینڈ کے الیکشن کمیشن نے بادشاہ ماہا وجیرالونگ کورن کی مخالفت کے بعد ان کی بڑی بہن شہزادی اوبولرتنا ماہیدول کو آئندہ عام انتخابات کے لیے نااہل قرار دے دیا۔

67 سالہ شہزادی اوبولرتنا ماہیدول تھائی لینڈ کے شاہی خاندان کی پہلی فرد تھیں جنہوں نے ملکی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان چند دن قبل کیا تھا۔ شہزادی اوبولرتنا ماہیدول بادشاہ وجیرالونگ کورن کی بڑی بہن ہیں اور انہوں نے ملک کی اہم سیاسی جماعت ’تھائی راکسا پارٹی‘ کی جانب سے آئندہ ماہ مارچ میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

’تھائی راکسا پارٹی‘ نے بھی انہیں وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر منتخب کیا تھا، تاہم شہزادی کے اس فیصلے کو بادشاہ نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور انہیں انتخابات میں حصہ نہ لینے کا حکم دیا تھا۔ بادشاہ کی مخالفت اور حکم کے بعد ’تھائی راکسا پارٹی‘ نے بھی شہزادی کی بطور وزارت عظمیٰ کے امیدوار کی نامزدگی واپس لے لی تھی، تاہم شہزادی انتخابات لڑنے پر بضد تھیں۔ اب انہیں ملک کے الیکشن کمیشن نے بھی نااہل قرار دے دیا ہے۔

ایک معروف امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ الیکشن کمیشن نے شہزادی کو تھائی لینڈ کے بادشاہ کے احکامات کے بعد نااہل قرار دیا۔ الیکشن کمیشن نے اپنے مختصر فیصلے میں بتایا کہ شہزادی اوبولرتنا ماہیدول عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتیں، وہ آئینی طور پر اس عمل کے لیے نااہل ہیں۔

شہزادی اوبولرتنا نے 1972 میں امریکی شخص سے شادی کرکے شاہی اعزازات ٹھکرائے تھے، شہزادی اوبولرتنا ماہیدول کی جانب سے سیاست میں انٹری دینے کے اعلان کے بعد ملک بھر کی سیاست میں ہلچل مچ گئی تھی۔ ان کا مقابلہ آئندہ عام انتخابات میں حالیہ وزیر اعظم اور 2014 میں اقتدار پر قبضہ کرنے والے سابق فوجی سربراہ پریوتھ چینوچا سے ہونا تھا۔

شہزادی اوبولرتنا 1951 میں پیدا ہوئیں اور بیرون ممالک سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہیں شاہی خاندان کی سب سے رنگین مزاج شخصیت بھی مانا جاتا ہے۔ شہزادی اوبولرتنا کو شاہی روایات کے خلاف اور عوامی امنگوں کے مطابق کام اور خدمات سر انجام دینے کا سہرا بھی جاتا ہے۔ سیاست میں آنے سے قبل انہوں نے اداکاری میں بھی قسمت آزمائی کی اور متعدد فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں شاندار کردار ادا کیے۔

رنگین مزاج طبعیت کے باعث ہی انہوں نے 1972 میں شاہی اعزازات کو ٹھکرا کر امریکی شخص سے شادی کی اور مستقل طور پر امریکا منتقل ہوگئیں۔ تاہم 1998 میں شہزادی کی طلاق ہو گئی اور وہ امریکا چھوڑ کر واپس تھائی لینڈ منتقل ہوگئیں۔

شہزادی اوبولرتنا نے عدالتی احکامات کے بعد شاہی اعزاز حاصل کیا اور بطور شاہی فرد خدمات سر انجام دینے لگیں اور انہیں شاہی لقب بھی دیے گئے۔ شہزادی اوبولرتنا کے تین بچے ہیں جن میں سے ایک بچہ سونامی طوفان میں ہلاک ہو گیا جب کہ باقی 2 بچے اپنے والد کے ہمراہ امریکا میں رہائش پذیر ہیں۔

You might also like

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept