مسجد میں فائرنگ سے49 نمازی شہید

Avatar Ashfaq Hussain , مارچ 15, 2019

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد میں فائرنگ سے 49 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے افراد زخمی ہوگئے۔

نیوزی لینڈ پولیس کے سربراہ مائیک بش نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈینز ایونیو میں واقع مسجد میں 41 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ لین وُڈ مسجد میں 7افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں زیر علاج 40افراد میں سے ایک چل بسا جس سے مجموعی طور پر جان کی بازی ہارنے والے افراد کی تعداد 49 ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک تقریباً 20سال کی عمر کے ایک فرد پر قتل کی فرد جرم عائد کی جا چکی ہے اور اسے کل صبح کرائسٹ چرچ عدالت میں پیش کیا جائے گا جبکہ مزید تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک تقریباً 20سال کی عمر کے ایک فرد پر قتل کی فرد جرم عائد کی جا چکی ہے اور اسے کل صبح کرائسٹ چرچ عدالت میں پیش کیا جائے گا جبکہ مزید تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق کرائسٹ چرچ میں مقامی وقت کے مطابق تقریباً ایک بجکر 40 منٹ پر مسلح شخص نے ڈینز ایونیو کی النور مسجد میں داخل ہوتے ہی اندھا دھند فائرنگ کی اور اس کی لائیو ویڈیو بھی بناتا رہا۔مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے لوگ جمع تھے اور کرائسٹ چرچ میں موجود بنگلادیشی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بھی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد میں تھے تاہم وہ فائرنگ سے بال بال بچ گئے۔

مقامی میڈیا کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ہیگلے پارک کے قریب ڈینز ایونیو کی مسجد میں پیش آیا جب کہ اسی علاقے کی ایک اور مسجد میں بھی فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔ پولیس نے حملہ آور کو حراست میں لیتے ہوئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جب کہ شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈینز ایونیو جانے سے گریز کریں۔
حملہ آور سے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ 28 سالہ آسٹریلوی شہری ہے تاہم اس کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔

حملہ آور فائرنگ کے وقت اپنی لائیو فیس بک ویڈیو بھی بناتا رہا جو وائرل ہونے سے قبل ہی نیوزی لینڈ کی پولیس کی جانب سے ڈیلیٹ کرادی گئی ہیں۔

دوسری جانب کرائسٹ چرچ اسپتال کے ترجمان نے سی این این کو بتایا کہ اسپتال میں کئی افراد کی لاشوں کو لایا گیا ہے تاہم انہوں نے تعداد بتانے سے گریز کیا جب کہ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے۔

موہن ابن ابراہیم نامی عینی شاہد کے مطابق وہ فائرنگ کے وقت مسجد میں ہی موجود تھے اور تقریباً 200 کے قریب لوگ نماز کی ادائیگی کے لیے موجود تھے، حملہ آور مسجد کے عقبی دروازے سے داخل ہوا اور کافی دیر تک فائرنگ کرتا رہا۔

khouj

Established in 2017, Khouj is a news website, which aims at providing news from all the spheres of life. In the contemporary world, Khouj News aims at providing authentic news unlike other major news sources on social media.