فلسطینی ابراہیم عودہ کو 30 ماہ قید کی سزا

اسرائیل کی فوجی عدالت نے مقبوضہ بیت المقدس کے رہائشی 28 سالہ فلسطینی ابراہیم محمد عودہ درباس کو 30 ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔ درباس کا تعلق مقبوضہ بیت المقدس کے نواحی علاقے العیساویہ سے ہے، اسرائیلی فوج نے ابراہیم درباس کو 10 دسمبر 2018 کو حراست میں لیا تھا۔ درباس پر کالعدم تنظیم کے ساتھ تعلق اور اسرائیل کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا، اس سے قبل وہ چار سال تک جیل میں قید کاٹ چکے ہیں۔ ، اسرائیلی جیلوں میں قید بھوک ہڑتالی فلسطینی اسیران اور جیل انتظامیہ کے درمیان معاہدہ طے پا گیا، جیلوں میں لگے جیمرز و دیگر مواصلاتی آلات ہٹانے، قیدیوں کو عزیز و اقارب سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اجازت سمیت دیگر سہولیات پر اتفاق کیا گیا۔ صہیونی جیل حکام نے بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کے مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔

فلسطینی قیدیوں کی تحریک کے رہنماﺅں نے غزہ میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیلی جیلروں نے جیلوں میں کینسر کا سبب بننے والے جیمرز اور دیگر مواصلاتی آلات ہٹانے، اسیران کو اپنے اقارب سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اجازت دینے اور تمام عقوبت خانوں میں قیدیوں کو فون کی سہولت کی فراہمی پر اتفاق کیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ صہیونی حکام نے اسیران کے خلاف 16 فروری 2018 سے عائد کی گئی تمام پابندیاں ختم کرنے بالخصوص جیلوں میں جیمرز ہٹانے کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے۔

اسرائیلی جیلوں میں قید 400 فلسطینی اسیران نے بھوک ہڑتال شروع کی تھی، ایک ہفتے سے زاید عرصے تک جاری رہنے والی اس بھوک ہڑتال میں متعدد فلسطینیوں کی حالت تشویش ناک ہوگئی تھی اور انھیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا تھا۔