تنظیم بنانے کی سازش میں 138 افراد کو قید کی سزائیں

خلیجی ملک بحرین کی عدالت نے ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی طرز پر ’بحرین حزب اللہ‘ تنظیم تشکیل دینے کی سازش میں 138 افراد کی شہریت منسوخ کرتے ہوئے انہیں قید کی سزائیں سنادی۔ پبلک پراسیکیوٹر نے 138 افراد کے خلاف مقدمے اور سنائی جانے والی سزا کی تصدیق کی۔ دوسری جانب بحرین کی اپوزیشن جماعتوں نے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا جبکہ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عدالتی فیصلے کو ’انصاف کے ساتھ مزاق‘ قرار دیا۔ پراسیکیوٹر احمد الحمدی نے بتایا کہ ’مجرمان عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرسکتے ہیں تاہم مجرموں کو کم از کم 3 برس سے لے لیکر عمر قید کی سزائیں ہوئی‘۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 138 افراد پر الزام تھا کہ وہ لبنان میں سرگرم شعیہ ملیشیا طرز کی ’بحرین حزب اللہ‘ تنظیم تشکیل دینے کی کوشش کررہے تھے۔ان کا دعویٰ تھا کہ ’بعض مجرموں میں نے لبنان، ایران اور عراق میں عسکری تربیت بھی حاصل کی‘۔ پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ’138 مجرموں میں سے صرف ایک کی شہریت منسوخ نہیں کی گئی تاہم دیگر 30 افراد کو مقدمے سے بری کردیا گیا‘۔ دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سزاؤں کو عالمی عدالتی معیارات کے منافی قرار دیا۔

پراسیکیوٹر احمد الحمدی نے بتایا کہ ’69 مجروں کو عمرقید، 39 کو 10 برس، 23 کو 7 برس جبکہ دیگر کو 3 اور 5 برس قید کی سزا سنائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ 96 مجرموں کو 2 لاکھ 65 ہزار ڈالر جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ بحرین انسٹیٹویٹ فار رائٹس اینڈ ڈیموکریسی (برڈ) نے عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’2012 میں بھی بحرین کی حکومت نے بڑے پیمانے پر لوگوں کی شہریت منسوخ کی تھی‘۔ برڈ کے مطابق بحرین نے رواں برس 180 لوگوں کی شہریت منسوخ کی، اس طرح مجموعی طورپر 990 افراد حکومت کی عتاب کا شکار ہو چکے ہیں۔