سری لنکا حملے ، تحقیقات میں اہم پیشرفت

سری لنکا کے اعلیٰ مسلمان رہنما نے پارلیمانی تحقیقات کو بتایا ہے کہ ایسٹر بم دھماکے میں ملوث شدت پسندوں نے سرکاری خفیہ ایجنسی سے فنڈز وصول کیے تھے۔ آزتھ صالح جنہوں نے گزشتہ ہفتے سری لنکا کے مغربی صوبے کے گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا، نے 21 اپریل کو ہونے والے حملے میں سیکیورٹی کی ناکامی پر شواہد کے طور پر اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

شدت پسند تنظیم سری لنکا توحید جماعت (ایس ایل ٹی جے) سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے بم حملوں کی قیادت کرنے والے ظہران ہاشم نے اپنی علیحدہ قومی توحید جماعت بنائی تھی۔ آزتھ صالح نے پارلیمانی سلیکشن کمیٹی (پی ایس سی) کو بتایا کہ انہوں نے متعدد بار صدر متھریپالا سریسینا کو اس تنظیم کے خلاف کارروائی کرنے کا کہا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ’وزارت دفاع نے توحید جماعت کو فنڈز مہیا کیے اور پولیس توحید جماعت کے ساتھ کام کررہی تھی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’تنظیم کو یہ فنڈز دیگر جماعتوں کی مخبری کے لیے دیے جاتے تھے‘۔انہوں نے بتایا کہ حملے سے ایک ہفتے قبل انہوں نے اعلیٰ دفاعی حکام سے ملاقات کی تھی اور انہیں شدت پسندوں کے خدشات سے آگاہ کیا تھا۔ان کا کہنا تھا ’اگر پولیس نے اس وقت میری اطلاع پر کارروائی کی ہوتی تو ایسا سانحہ رونما نہیں ہوتا‘۔