امریکااوربھارت تجارتی مذاکرات شروع کرنے پرراضی

دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر عائد کیے گئے محصولات سے متعلق تجارتی مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوگا

بھارت اور امریکا کے درمیان حالیہ چند ماہ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر عائد کیے گئے محصولات سے متعلق تجارتی مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوگا جس میں کچھ اقدامات پر سمجھوتے کا امکان ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکا کے اسسٹنٹ تجارتی نمائندے ( اے یو ایس ٹی آر) کرسٹوفر ولسن کی قیادت میں وفد بھارتی حکام سے ملاقات کرے گا اور ایک دوسرے پر عائد کیے گئے محصولات پر مذاکرات کا دوبارہ آغاز کرنے کی کوشش کریں گے جنہیں بھارتی انتخابات کی وجہ سے روک دیا گیا تھا۔

یو ایس ٹی آر کے ترجمان نے کہا کہ ’ چونکہ بھارت کا انتخابی مرحلہ گزر چکا ہے لہٰذا یو ایس ٹی آر کے حکام بھارتی حکومت میں ہم منصبوں سے تعلقات قائم کرنے کے لیے بھارت کا دورہ کررہے ہیں‘۔

امریکی تجارتی نمائندوں کے وفد 12 جولائی کو بھارتی وزیر برائے کامرس پیوش گویل اور دیگر اہم تجارتی عہدیداران سے ملاقات کرے گا اور وزارت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کا امکان ہے۔

رواں برس مئی میں دوبارہ منتخب ہونے والے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی الیکٹرانک اشیا سمیت ہر چیز پر بھاری محصولات عائد کررہے ہیں تاکہ ای کامرس کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں مقامی کمپنیوں کے کاروبار میں اضافہ ہو اور کروڑوں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر ہوں۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی نے جون میں اوساکا میں منعقد جی-20 اجلاس میں ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات قائم کرنے اور تجارتی مسائل حل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

You might also like