امریکا، ترکی کشیدگی میں اضافہ، روس بھی میدان میں کود پڑا

امریکی جنگی طیارے ایف 35 کے منصوبے سے ترکی کو نکالنے کا واشنگٹن کا فیصلہ اتحاد کی روح کے خلاف ہے

امریکا اور ترکی کی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا جس کے بعد روس بھی میدان میں کود پڑا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا نے ترکی کو ایف 35 پروگرام سے نکال دیا جبکہ روس نے ایس یو -35 طیاروں کی پیشکش کی ہے۔

ادھر انقرہ حکام نے کہا ہے کہ امریکی جنگی طیارے ایف 35 کے منصوبے سے ترکی کو نکالنے کا واشنگٹن کا فیصلہ اتحاد کی روح کے خلاف ہے۔ انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق امریکی حکومت نے کہا ہے کہ ترکی ایف 35 جنگی طیاروں کے منصوبے کا اب مزید حصہ نہیں ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اسٹیفنی گریشام کے مطابق روسی میزائل نظام خریدنے کے فیصلے کی وجہ سے ایف 35 پروگرام میں ترکی کی مزید شمولیت ممکن نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایف 35 طیارے نگرانی کے ایک ایسی روسی نظام کے ساتھ نہیں چل سکتے، جو جدید صلاحیتوں کے بارے میں جاننے کے لیے استعمال کیا جاتا ہو۔ دفاعی شعبے کے امریکی نائب سیکرٹری ایلن لارڈ نے کہا کہ اس منصوبے سے ترکی کے اخراج کا عمل ممکنہ طور پر اگلے برس شروع ہو جائے گا۔

دوسری جانب روسی دفاعی صنعتی کمپنی "روس ٹیک” کے افسر اعلی سرگی چیمیوزوف نے کہا ہے کہ اگر ترکی چاہے تو ہم سے SU-35طیارے خرید سکتا ہے۔ چیمیز وف نے روس۔ترک فوجی تربیتی مشترکہ تعاون سے متعلق ایک اخباری کانفرنس کے دوران اس بات کا اظہار کیا۔

You might also like

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept