بھارت کو سلامتی کونسل میں بڑا جھٹکا، تین دوستوں نے پاکستان کی حمایت کر دی

بھارت کے 3سٹریٹجک پارٹنرز نے بھی کشمیر کے معاملے پر اجلاس کے حوالے سے چین کی درخواست کی حمایت کر دی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں بھارت کو ایک اور بڑا دھچکا، بھارت کے 3سٹریٹجک پارٹنرز نے بھی کشمیر کے معاملے پر اجلاس کے حوالے سے چین کی درخواست کی حمایت کر دی ہے۔

چین نے پاکستان کی ایما پر سلامتی کونسل میں درخواست دی تھی کہ کشمیر کے معاملے پر اوپن سیشن بلایا جائے جس کی بھارت نے مخالفت کی تھی۔ اوپن سیشن بلانے کے لیے سلامتی کونسل کے اراکین کی حمایت حاصل کرنا ضروری تھا اورپی 5 میں سے تین ممالک نے چین کی حمایت کی ہے۔

بھارت کے 3سٹریٹجک پارٹنرز نے بھی کشمیر کے معاملے پر اجلاس کے حوالے سے چین کی درخواست کی حمایت کی ہے۔ امریکہ، روس اور برطانیہ نے چین کی حمایت کی ہے کہ کشمیر کے معاملے پر اوپن سیشن بلایا جانا چاہیے جبکہ ڈومنیک ریپبلک اور فرانس نے بھارت کی حمایت کرتے ہوئیاوپن سیشن کی مخالفت کی ہے۔ سلامتی کونسل کے 15اراکین ہیں جن میں سے 12اراکین نے اوپن سیشن کی حمایت کر دی ہے۔

روس نے کہا ہے کہ معاملہ گمبھیر ہے اس لیے اوپن سیشن بلایا جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر سلامتی کونسل کے اجلاس کا خیر مقدم کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی 11 قراردادیں ہیں جن میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کا اعادہ کیا گیا ہے اور حالیہ اجلاس ان قراردادوں کی توثیق تھا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی سنگین صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے میں قوامِ متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ پچاس سال میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ دنیا کے اعلی ترین سفارتی فورم نے یہ مسئلہ اٹھایا ہے۔ اقوام متحدہ کی 11 قراردادیں ہیں جن میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کا اعادہ کیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept