طالبان‘ امریکہ امن معاہدہ‘ افواج کی واپسی کو خطرہ لاحق

القاعدہ کے لوٹنے سے امریکا پھر نشانے پر ہوگا،اس صورت میں امریکا کو افغانستان میں اپنا انٹیلی جنس نظام رکھنا ہوگا

طالبان سے امن معاہدے کے بعد امریکی فوج کے افغانستان سے مکمل انخلا کی صورت میں امریکا کو خطرہ لاحق ہے کہ افغانستان میں داعش مضبوط ہوگی اور القاعدہ لوٹ آئے گی۔

القاعدہ کے لوٹنے سے امریکا پھر نشانے پر ہوگا،اس صورت میں امریکا کو افغانستان میں اپنا انٹیلی جنس نظام رکھنا ہوگا اور اس کیلئے آپریشنز بھی کرنا ہونگے،اس کیلئے امریکی سینیٹر نے اپنے خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ اگر ہم بغیر انٹیلی جنس موجودگی کے ہی اپنی فوج نکال لینگے تو اس سے داعش منظم ہوگی اور القاعدہ واپس آجائے گی،ان کا افغانستان میں مضبوط گڑھ ہوگا،یہ ہمارے وطن کو نشانہ بنائیں گے اور پھر پوری دنیا کو نشانہ بنائیں گے

ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ افغانستان میں 18 سالہ جنگ کے خاتمے کے بعد وہاں سے امریکی فوج کے انخلا کے خواہاں ہیں،اس کیلئے طالبان سے ہونے والے افغان امن مذاکرات کیلئے امریکا بہت قریب پہنچ چکا ہے لیکن اس پر خدشات ظاہر کیے گئے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ کی سابق افسر برائے افغانستان و پاکستان لورل ملر نے کہا ہے کہ ایک شدید جنگ ہوگی اور اس کا انحصار تفصیل پر ہے،انہوں نے کہا کہ طالبان امریکی فوج سے سیز فائر کیلئے تیار ہیں لیکن افغان آرمی سے سیز فائر کا نہیں کہا،مذکرات کی میز پر امریکی فوج کے مکمل انخلا پر بات چیت کی جارہی ہے لیکن امریکا اس کیلئے پوری طرح تیار نہیں ہے،سینیٹر لندسے گراہم نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ اگر ہم بغیر انٹیلی جنس موجودگی کے ہی اپنی فوج نکال لینگے تو اس سے داعش منظم ہوگی اور القاعدہ واپس آجائے گی،ان کا افغانستان میں مضبوط گڑھ ہوگا،یہ ہمارے وطن کو نشانہ بنائیں گے اور پھر پوری دنیا کو نشانہ بنائیں گے۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept