کشمیر میں انوکھا احتجاج، مودی حکومت کو لینے کے دینے پڑ گئے

احتجاج کے اعلان کے بعد پوری وادی میں مظاہرے ہوں گے جب کہ سری نگر میں اقوام متحدہ کے مبصر دفتر تک مارچ کیا جائے گا

مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت نے کشمیریوں سے سول نافرمانی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کرفیو اور رکاوٹیں توڑ کر احتجاج کیا جائے اس اعلان سے مودی حکومت کو لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔

حریت قیادت نے کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور بھارتی پابندیوں کے خلاف پْرزور احتجاج کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ جس کے بعد پوری وادی میں مظاہرے ہوں گے جب کہ سری نگر میں اقوام متحدہ کے مبصر دفتر تک مارچ کیا جائے گا۔

قابض بھارتی افواج کا لاک ڈاؤن تیسرے ہفتے بھی برقرار ہے اور مظاہرے کی کال دیئے جانے کے بعد بزدل بھارتی فوج نے نہتے کشمیریوں کے خلاف ایکشن کی تیاری کر لی ہے، سری نگر اور دیگر علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جب کہ لوگوں کی گرفتاریوں کے لیے چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق سری نگر میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں جب کہ اقوامِ متحدہ کے فوجی مبصرین کے دفتر جانے والے 4 راستے جمعرات کی رات سے ہی بند ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف بڑا آپریشن کر سکتا ہے جس سے خون خرابے کا خدشہ ہے۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept