ایران میں 40 سال بعد خواتین کو آزادی مل گئی

جب سے ٹکٹ کی خرید و فروخت کا سلسلہ شروع ہوا ہے، سب لڑکیوں نے سٹیڈیم جانے کی راہ دیکھ لی ہے

ایران میں 40 سال بعد خواتین کو آزادی مل گئی، جس کے بعد خواتین شائقین کو کل پہلی مرتبہ سٹیڈیم میں جا کر براہ راست میچ دیکھنے کی اجازت مل گئی ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق ایران میں 1979 کے انقلاب کے بعد خواتین کے لیے یہ پہلا موقع ہوگا کہ وہ سٹیڈیم میں جاکر مرد حضرات کے میچز براہ راست دیکھ سکیں گی۔ گزشتہ ماہ ایران نے فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے دباؤ کے بعد اکتوبر میں ہونے والے فٹ بال ورلڈکپ کوالیفائر کے لیے خواتین شائقین کو اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت دے دی تھی۔ ایرانی حکومت نے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا تھا جب فیفا نے 2022 ورلڈکپ کے کوالیفائر میچ میں خواتین کو سٹیڈیم میں داخل ہونے سے روکنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی اور اس سلسلے میں تہران کو ہفتے کے دن تک کی مہلت دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ سٹیڈیم میں میچ دیکھنے کی اجازت ملنا خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان کی جدوجہد کا نتیجہ بھی ہے۔

خواتین کو میچ دیکھنے کی اجازت ملنے کے بعد پہلا میچ تہران کے آزادی سٹیڈیم میں 10 اکتوبر کو ہوگا جس میں خواتین شائقین کی شرکت کے لیے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سٹیڈیم میں 80 ہزار نشستوں میں 3ہزار5 نشستیں خواتین کے لیے مختص کی گئی ہیں، اس کے علاوہ ان کے لیے سیکیورٹی کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ میچ دیکھنے کے لیے ٹکٹ خریدنے والی خواتین کا کہنا تھاکہ وہ اس اقدام پر بے حد خوش ہیں کیونکہ وہ بھی اب آزادی سے اپنی پسندیدہ ٹیموں کے میچز دیکھ سکیں گی۔ خواتین شائقین نے مزید کہا کہ جب سے ٹکٹ کی خرید و فروخت کا سلسلہ شروع ہوا ہے، سب لڑکیوں نے سٹیڈیم جانے کی راہ دیکھ لی ہے، سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ آنے والی نسل اس پابندی کا سامنا نہیں کرے گی۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept