مواخذے کی تحریک, وائٹ ہاؤس کا تعاون سے انکار

اسپیکرنینسی پلوسی نے صدرڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی جمع کرائی ہے جس پرباقاعدہ کارروائی کا آغاز بھی ہو چکا ہے

امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکرنینسی پلوسی نے صدرڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی جمع کرائی ہے جس پرباقاعدہ کارروائی کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اس تحریک کوکچرا قراردیتے ہوئے کہا اس تحریک سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ امریکی ایوان نمائندگان کی تین رکن کمیٹی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک پرتحقیقات کررہی ہے۔ کمیٹی اس بات کی تحقیقات کررہی ہے کہ کیا واقعی امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سیاسی حریف جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لیے یوکرین کے صدرپردباؤ ڈالا۔

اب وائٹ ہاؤس کی جانب سے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کوبھیجے گئے خط میں مواخذے کی تحریک کو بے بنیاد اورغیر آئینی قراردیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا امریکی ایوان نمائندگان کے رہنماؤں کوخط ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یورپی یونین کے لیے امریکی سفیرکو کانگریس میں مواخذے کی تحریک کے لیے پیش ہونے سے روکنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کونسل پیٹ کپولون نے امریکی ایوان نمائندگی کی اسپیکراورصدرٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی تحقیقات کرنے والی تین رکنی کمیٹی لکھے گئے خط میں مواخذے کی کارروائی کو بنیادی اصولوں کے منافی اورآئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی قراردیا ہے۔ خط میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈیموکریٹس 2016 کے انتخابات کے نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں لہذا صدرٹرمپ اوران کی انتظامیہ امریکی عوام کی خدمت کو جاری رکھتے ہوئے غیرآئینی کارروائی میں تعاون نہیں کرے گی۔

امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکرنینسی پلوسی نے ردعمل میں خط کو بملا غلط قراردیتے الزام عائد کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ لاقانونیت کو نارمل بنانے کی کوشش کررہے ہیں، ٹرمپ قانون سے بالاترنہیں ہیں، اور ان کا بھی احتساب ہو گا۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept