پاکستان نہیں اب بھارت،چین کی تجارتی پالیسی تبدیل

صدرشی اورنریندر مودی نے سربراہی اجلاس میں اتفاق کیا کہ بھارت کے بے قابو تجارتی خسارے کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے

پاکستان نہیں اب بھارت،چین کی تجارتی پالیسی تبدیل،غیرملکی میڈیا کے مطابق چین کے صدرشی جن پنگ نے دورہ بھارت میں ایک اجلاس میں وزیراعظم نریندرمودی کے ساتھ بھارتی خسارے سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطح کا گروپ تشکیل دینے پر اتفاق کر لیا۔ بھارت کے ایک سفارت کار کا کہنا تھا کہ صدرشی اورنریندر مودی نے سربراہی اجلاس میں اتفاق کیا کہ بھارت کے بے قابو تجارتی خسارے کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اورایک اعلیٰ سطح کا گروپ تشکیل دیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق چینی صدرنے مودی سے تقریباً 6 گھنٹے طویل ملاقات کی جوان کے سالانہ اجلاس کا دوسرا حصہ ہے اوراس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں سے تجارتی، سرحدی معاملات اورچین کے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کے باعث پائی جانے والی بداعتمادی کوختم کرنا ہے۔ پاکستان نے بھارت کے اس اقدام کی پرزورمذمت کی تھی اورعالمی سطح پراس معاملے کو اٹھایا جس کے لیے چین کا تعاون بھی حاصل تھا اورچین نے پاکستان کے موقف کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیرکی صورت حال پرتشویش کا اظہار کیا تھا۔ بھارت کے سیکریٹری خارجہ وجے گوکھالے کا کہنا تھا کہ چینی صدراور بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے درمیان مقبوضہ جموں وکشمیر کا معاملہ زیربحث نہیں آیا اوراس ملاقات میں صرف تجارت اورسرمایہ کاری پربات ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ چین اس وقت امریکا کے ساتھ تجارتی معاملات میں کشیدگی کا شکارہے تاہم بھارت کے ساتھ تجارتی عدم توازن پرکسی حد تک بہتر سوچ کا مظاہرہ کیا اوراس حوالے سے بہتری کا خواہاں ہے۔ وجے گوکھالے کا کہنا تھا کہ ‘تجارت پربہت اچھی گفتگو ہوئی جومرکزی نکتہ تھا اور صدرشی نے کہا کہ چین اس حوالے سے دیانت دارانہ اقدام اورخسارے کو کم کرنے کے لیے بنیادی راستے پربات کرنے کے لیے تیارہے’۔ خیال رہے کہ بھارت اورچین کے درمیان 2018 میں باہمی تجارت 95 ارب 54 کروڑ ڈالرتک پہنچ گئی تھی تاہم اس میں تجارتی خسارہ 53 ارب ڈالرتھا جوچین کے لیے فائدہ مند تھا اوربھارت شدید خسارے کا شکارہے۔

بھارتی سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘دونوں رہنما جن نکات پرمتفق ہوئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ نیا طریقہ کاربنایا جائے گا جس کے تحت تجارت،سرمایہ کاری اورخدمات پرتبادلہ خیال کیا جائے گا’۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ سطح کے گروپ کی سربراہی بھارت کے وزیرخزانہ نرمالا ستھرامن اورچین کے نائب وزیراعظم ہو شنہوا کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق صدرشی نے کہا کہ بھارت کی دوا سازوں کے لیے چین کی مارکیٹ تک رسائی کا بہترین موقع ہے اوراس کے ساتھ بھارت کی آئی ٹی کی خدمات بھی ہیں، ان دونوں شعبوں کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

ملاقات میں گرمجوشی کا مظاہرہ

بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے چین صدرشی جن پنگ کو جنوبی بھارت کے تفریحی مقام مامالاپورم میں ساتویں اورآٹھویں صدی کے مندروں کا دورہ کرایا جو ہندوستان کی چینی صوبوں سے تجارت کے نشانات ہیں۔ نریندرمودی نے کہا کہ صدرشی اوروہ گزشتہ ملاقات میں متفق تھے کہ وہ اپنے اختلافات کوخوش اسلوبی سے حل کریں گے اوران کوروئی کا پہاڑنہیں بنائیں گے۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept