2911 بم گرائے

WebDesk 1 WebDesk 1 , جولائی 27, 2018

پینٹاگان نے کہا امریکی فضائیہ کی سنٹرل کمان کے ڈیٹا کے مطابق سال 2018ء کی پہلی شش ماہی میں امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے افغانستان پر 2911 بم گرائے۔ بم حملوں میں یہ تیزی اگست 2017ء میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی مشن جاری رکھنے کے اعلان کے بعد آئی۔ جون میں افغانستان میں توقعات کی ایک مختصر نئی لہر اُس وقت سامنے آئی جب افغان حکومت اور طالبان نے رمضان کے متبرک مہینے کی تکمیل پر کامیابی کے ساتھ سہ روزہ جنگ بندی کی۔ حالانکہ امریکہ نےطالبان کے خلاف دو ہفتوں تک ’’جارحانہ حملے‘‘ معطل کرکے جنگ بندی جاری رکھی تاہم امریکی قیادت والے اتحاد نے جون میں 572 بم گرائے۔ پینٹاگان کے اعداد کے مطابق لڑائی کے دوران جون کے مہینے میں گرائے جانے والے بموں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔ امریکہ اور افغانستان نہ صرف طالبان سے لڑ رہے ہیں بلکہ وہ داعش کے افغان دھڑے کے ساتھ بھی نبردآزما ہیں اور ساتھ ہی القاعدہ اور دیگر علاقائی اور بین الاقوامی شدت پسند گروہوں کے خلاف بھی لڑ رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے طالبان کے ساتھ براہ راست امن مذاکرات کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں لیکن امریکی اہلکاروں نے یہ بھی کہا ہے کہ بات چیت میں افغان حکومت کو بھی لازماً شریک ہونا چاہیئے۔ افغانستان میں امریکہ کے اندازاً 14000 فوجی تعینات ہیں اُن میں سے زیادہ تر تربیت اور مشاورتی کردار ادا کر رہے ہیں حالانکہ انسداد دہشت گردی کے مشن میں شریک ہیں۔ امریکی فوج کے چوٹی کے اہلکار یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ تقریباً 17 برس گزرنے کے باوجود یہ تنازع تعطل کا شکار ہے۔

khouj

Established in 2017, Khouj is a news website, which aims at providing news from all the spheres of life. In the contemporary world, Khouj News aims at providing authentic news unlike other major news sources on social media.