Khouj English Advertising Privacy Policy Contact Us
Connect with us

انٹرنیشنل

3 فلسطینیوں کی صہیونی عقوبت خانوں میں بھوک ہڑتال

Zeeshan Ali

Published

on

israeel jail

3 فلسطینیوں کی صہیونی عقوبت خانوں میں بھوک ہڑتال جاری ہے

فلسطین میں اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے کلب برائے اسیران کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 3فلسطینی شہری اسرائیلی زندانوں میں بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بھوک ہڑتال کرنے والے اسیران کی طبی حالت بہ تدریج خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسیران کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی زندانوں میں انتظامی حراست کے خلاف بھوک ہڑتال کرنے والوں میں 48 سالہ جمال علقم 15 روز سے مسلسل بھوک ہڑتال پر ہیں۔ وہ اس وقت عوفر عقوبت خانے میں پابند سلاسل ہیں اور ان کی طبی حالت کافی حد تک بگڑ چکی ہے۔60 سالہ عمران الخیطب کا تعلق غزہ کی پٹی کے شمالی علاقے جبالیا سے ہے۔ وہ 39 روز سے مسلسل بھوک ہڑتال پر ہیں جبکہ حال ہی میں ان کی حالت خراب ہونے پرانہیں الرملہ ہسپتال منتقل کیا گیاتھا۔

انٹرنیشنل

سعودی عرب میں امریکی سفیر تعینات

Published

on

jhon phlip

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں تعلیم حاصل کرنے والے اور عراق جنگ کے دوران اہم عہدے پر فائز سابق فوجی جنرل جان فلپ ابی زید کو سعودی عرب میں سفیر مقرر کردیا ہے۔ سعودی عرب میں امریکا کے آخری سفیر جوزف ویسٹ پال جنوری 2017 میں سبکدوش ہوئے تھے۔

سعودی عرب میں نئے امریکی سفیر جون پال ابی زید ریٹائرڈ فوجی افسر ہیں جو امریکی مرکزی کمانڈ کے سب سے زیادہ عرصے تک سربراہ رہنے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں اور عراق جنگ 2003 سے 2007 تک مشرق وسطیٰ میں تعینات رہے۔

67 سالہ سابق فوجی کی ریاض میں سفیر مقرر کیے جانے کو صحافی جمال خاشقجی کے استنبول کے سعودی قونصل خانے میں قتل ہونے کے بعد سعویہ اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی صدر نے حالیہ مڈٹرم الیکشن میں انتخابی مہم کے دوران جلسوں سے خطاب کے دوران سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز پر کڑی تنقید کی تھی اور اب دیکھنا ہے کہ سخت گیر سابق فوجی جنرل کی بطور سفیر دونوں ممالک کے درمیان تلخی کو کس حد تک کم کرپاتے ہیں۔

Continue Reading

انٹرنیشنل

مسلمانوں پر مظالم ناقابل معافی

Published

on

mike penice suchi

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی نائب صدر مائیک پینس نے میانمار کی رہنما آنگ سانگ سوچی سے ایشیا پیسیفک سمٹ کے دوران ملاقات کی اور روہنگیا مسلمانوں پر میانمار فوج اور شدت پسندوں کے مظالم پر ناکافی تحقیقات پر تشویش کا اظہار کیا۔

ملاقات کے دوران امریکی نائب صدر نے آنگ سانگ سوچی پر واضح کیا کہ وہ ناصرف میانمار میں مسلمان اقلیت کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں بلکہ اپنی فوج کو ماورائے عدالت اقدام سے بھی نہ روک سکیں، جس سے شدت پسندوں اور فوجیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔

جس پر میانمار کی رہنما آنگ سانگ سوچی نے وضاحت پیش کی کہ روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے حوالے سے متضاد باتیں مشہور ہیں جن میں مبالغہ آرائی کا عنصر بھی شامل ہے۔ میانمار کی حکومت ان مظالم کی تحقیقات اپنے نظام اور قانون کے تحت کر رہی ہے۔

امریکی نائب صدر نے جواب دیا کہ امریکا روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے بارے میں جلد از جلد پیش رفت کا خواہ ہے اور میانمار میں آزاد صحافت کے لیے سازگار ماحول کی عدم فراہمی پر بھی امریکا کو تشویش ہے۔

Continue Reading

انٹرنیشنل

سری لنکن وزیراعظم کیخلاف قرارداد منظور

Published

on

raja paxy

صدر میتھری پالا سری سینا نے 26 اکتوبر کو وزیراعظم رانل وکرم سنگھی کو بیدخل کرنے کے بعد ان کی جگہ سابق صدر مہندا راجا پاکسے کو نیا وزیراعظم نامزد کردیا تھا۔

معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تو اعلیٰ عدالت نے گزشتہ روز صدر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نئے وزیراعظم کے انتخاب کی تیاری کے احکامات جاری کیے تاہم راجا پاکسے کی جماعت نے عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔

نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے پارلیمنٹ کا آج اجلاس ہوا تو راجا پاکسے کی جماعت نے ووٹنگ کو روکنے کی کوشش کی اور ایوان میں خوب شور شرابہ کیا، جس پر اسپیکر کیرو جے سوریا نے ‘وائس ووٹنگ’ کا اعلان کیا۔

ایوان میں شدید ہنگامے کے بعد اسپیکر نے اعلان کیا کہ راجا پاکسے اپنی حکومت کی اکثریت برقرار نہیں رکھ سکے اور حکومت کا اختیار حق کھو چکے ہیں۔

رکن اسمبلی اور راجا پاکسے کے صاحبزادے نے کہا کہ وزیراعظم کے انتخاب کے لیے اسپیکر کے طریقہ کار پر اعتراض ہے، اگر اسپیکر وزیراعظم کا خود انتخاب کرنا چاہتے ہیں تو انہیں 225 کے ایوان میں 113 ارکان کی حمایت دکھانا ہوگی۔

دوسری جانب بیدخل کیے گئے وزیراعظم وکرما سنگھے کا کہنا ہے کہ انہوں نے 122 اراکین کے دستخط کے ساتھ راجا پاکسے کے خلاف عدم اعتماد کی پٹیشن اسپیکر کو جمع کرادی، اگر کسی کو اسپیکر کے فیصلے پر اعتراض ہے تو وہ ووٹنگ کرا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ سری لنکن صدر کی جانب سے 26 اکتوبر کو وزیراعظم رانل وکرم سنگھی کو بیدخل کرنے اور ان کی جگہ سابق صدر مہندا راجا پاکسے کو نیا وزیراعظم بنانے کے اعلان کے بعد ملک شدید آئینی بحران کا شکار تھا۔

بیدخل وزیراعظم وکرما سنگھی نے سرکاری رہائش گاہ چھوڑنے اور استعفیٰ دینے سے صاف انکار کیا جب کہ راجا پاکسے نے وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے ریاستی امور دیکھنا شروع کردیے تھے۔

Continue Reading
Advertisement

مقبول خبریں