یمن جنگ کی روک تھام ;امن مذاکرات کا آغاز

 سویڈن میں یمن کی جنگ کے خاتمے کے لیے اہم مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے ،  یمن میں تین سال سے جاری جنگ انسانی المیے کی شکل اختیار کرچکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب کا کہنا ہے کہ یمن جنگ کی روک تھام کے لیے منعقد ہونے والے یہ مذاکرات مشرقِ وسطیٰ کے امن کے لیے  سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مندوب مارٹن گرفتھز نے اس موقع پر اعلان کیا کہ ان مذاکرات میں دونوں فریقین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہوگیا ہے  جس سے ہزاروں خاندان اپنے پیاروں سے مل سکیں گے۔

اقوام متحدہ کی ٹیم یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے کہ یمن میں کسی طرح قیامِ امن کو یقینی بنایا جاسکے، یاد رہے کہ اس جنگ سے دنیا کا سب سے بڑاقحط  انسانی المیے کی شکل میں جنم لے رہا ہے، ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ لاکھوں بھوک کے ہاتوں دم توڑ رہے ہیں۔

سنہ 2016 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ یمنی حکومت اور حوثی قبائل ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آرہے ہیں۔ اس سے قبل حوثی قبائل کی عدم دلچسپی کے سبب مذاکرات ناکام ہوچکے ہیں۔

You might also like

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept