بابری مسجد کے انہدام کی 26 ویں برسی پر سکیورٹی سخت

babari mosche
WebDesk 2 WebDesk 2 , دسمبر 06, 2018


بابری مسجد کے انہدام 36 سال مکمل ہونے پر جمعرات کو اجودھیا سمیت بھارت بالخصوص اترپردیش کے حساس مقامات پر سخت سکیورٹی انتظامات ہیں جب کہ ایک درجن سے زائد افراد کو احتیاطی طور پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔

چھ دسمبر 1992ء کو ہندو تنظیموں کے ہزاروں کارکنوں نے مغلیہ دور میں تعمیر ہونے والی اجودھیا کی تاریخی بابری مسجد منہدم کر دی تھی۔

ہندو تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ مسجد کی تعمیر رام مندر توڑ کر کی گئی تھی۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ بابری مسجد میں جس جگہ منبر تھا وہیں پر ہندوؤں کے مذہبی رہنما رام پیدا ہوئے تھے۔

بھارتی مسلمان اس دعوے کی تردید کرتے آئے ہیں۔

مسجد کے انہدام کی برسی کے موقع پر پولیس نے اجودھیا اور اطراف میں جن لوگوں کو گرفتار کیا ہے ان میں تپسوی چھاؤنی مندر کا وہ پجاری بھی شامل ہے جس نے رام مندر کی تعمیر کے لیے 6 دسمبر کو خود سوزی کا اعلان کیا تھا۔

اجودھیا میں متنازع مقام اور اس کے اطراف میں سکیورٹی فورسز کے ڈھائی ہزار جوان تعینات کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب دارالحکومت دہلی سمیت بھارت کے مختلف علاقوں میں مسلم اور ہندو تنظیموں کی جانب سے الگ الگ مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ مسلم تنظیمیں یومِ سوگ منا رہی ہیں جبکہ ہندو تنظیموں نے یومِ شجاعت منانے کا اعلان کیا ہے۔

بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن انداز میں مظاہرے کریں، بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر اور اس کو منہدم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کریں اور دعاؤں کا اہتمام کریں۔

khouj

Established in 2017, Khouj is a news website, which aims at providing news from all the spheres of life. In the contemporary world, Khouj News aims at providing authentic news unlike other major news sources on social media.