افریقی ملک گیبون میں فوجی بغاوت کی کوشش

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق علی الصبح گیبون فوج کے چند جونیئر افسران نے سرکاری ریڈیو پر قبضہ کرلیا اور ملک میں 50 سالہ صدارتی دور کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے نئے الیکشن کرانے کا وعدہ کیا۔

دوسری جانب گیبون کے سرکاری ذرائع نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فوجی بغاوت کو ناکام بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 4 باغی اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا جب کہ ایک فرار ہوگیا۔ صورت حال مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں ہے۔

حکومتی ذرائع کے دعویٰ کے برعکس گیبون کے دارالحکومت میں فوجی ٹینکوں اور اسلحہ بردار اہلکاروں کو گشت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جن کی منزل دیگر سرکاری عمارتیں ہیں۔ اب تک مزاحمت یا جھڑپ کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

گیبون کی فوج عمومی طور پر سیاست میں مداخلت نہیں کرتی ہے اور فوج کے اعلیٰ حکام موجودہ صدر علی بونگو کے وفادار ہیں۔ ایسی صورت حال میں جونیئر افسران کی بغاوت کی کوشش معنی خیز ہے۔

گیبون میں 50 سال سے ایک ہی خاندان برسراقتدار ہے موجودہ صدر نے 2009 میں عہدہ سنبھالا تھا جب کہ اس سے قبل ان کے والد برسراقتدار تھے۔ طویل دور اقتدار کے باعث عوام میں غیر مقبول ہوتی حکومت کو پہلی بار فوجی بغاوت کا سامنا ہے۔