ماں بولی دیہاڑ

اقوامِ متحدہ نے بھی اسی حقیقت کے پیش نظر کسی زیادہ بولی جانے والی عالمی زبان کے بجائے مادری زبان میں ابتدائی تعلیم کو ہر بچے کا بنیادی حق تصور کیا ہے

(شعیب چوہدری) زندگی کا حُسن رنگا رنگی اور تنوع کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ دنیا میں ایک آدم ؑ کی اولاد سے مختلف نسلیں اور قومیں وجود میں آئیں۔ سب کا ایک سا ڈھانچہ مگر رنگ، نقش اور حلیے مختلف اور اس کے ساتھ ساتھ ہر علاقے کے لوگوں کی دھرتی سے جڑی ہوئی زبان اور ثقافت جو ان کا اصل حوالہ بنتے ہوئے انہیں منفرد حیثیت عطا کرتی ہے، ماں بولی کہلاتی ہے جس میں تجربے اور غور و فکر کی آمیزش سے وجود میں آنے والی صدیوں کی دانش پوشیدہ ہوتی ہے جو نسل در نسل غیر محسوس طریقے سے اگلی نسلوں کے ذہنوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے اس لئے ماہر لسانیات اس کی خاص اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے فوقیت دیتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے بھی اسی حقیقت کے پیش نظر کسی زیادہ بولی جانے والی عالمی زبان کے بجائے مادری زبان میں ابتدائی تعلیم کو ہر بچے کا بنیادی حق تصور کیا ہے جو مادری زبان کے حق میں بہت بڑی دلیل ہے۔ پاکستان کے حوالے سے بات کریں تو یہاں دانشوروں اور اشرافیہ کا ایک مخصوص گروپ نصاب اور تعلیمی پالیسیوں پر حاوی رہا ہے اس رائیکا حامل رہا کہ قومی سطح پر یکجہتی اور ہم آہنگی کی فضا کے لئے پاکستانیوں کو ایک زبان بولنی چاہئے اور ایسا نہ کرنا لسانی تفریق پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ اس حکمتِ عملی نے ملک کے تمام صوبوں کے لوگوں کو ان کی دانش، کلچر اور ورثے سے محروم اور زمین سے ان کا تعلق بھی منقطع کر دیا۔ ایسے جیسے پودوں کو زمین سے اُکھاڑ کر گملوں میں لگا دیا جائے، نتیجتاً یہاں کے باشندوں کو اپنے مخصوص ادب، ثقافت، اقدار، اخلاق اور دانش سے بھی دور کر دیا گیا اور ایک ایسی قوم وجود میں آئی جو اپنی شناخت کے لئے بھٹک رہی تھی مگر اس کے لئے درست کاوش کرنا اس کے بس میں نہ تھا۔ سندھ نے جلد ہی اس حوالے سے اہم اقدامات کرتے ہوئے نہ صرف مادری زبان کو لازمی مضمون قرار دیا بلکہ اسے سرکاری زبان کا درجہ دیتے ہوئے اسے عدالتی، دفتری اور کاروباری حوالے سے بھی لاگو کیا۔ خیبرپختونخوا میں بھی گزشتہ دورِ حکومت میں مادری زبان کو پرائمری تک لازمی قرار دے کر وہاں کے لوگوں کا دیرینہ خواب پورا کر دیا گیا۔ جب کہ آبادی اور وسائل کے حوالے سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب ابھی تک اپنی زبان سے محروم ہے۔ دوسری اہم بات یہ تھی کہ یہاں کے کرتا دھرتا نے ہمیشہ مذہب کی آڑ میں علاقے کی زبان اور ثقافت کو دبانے کی کوشش کی لیکن زمین سے پھوٹنے والی زبان کبھی بھی مٹتی نہیں، وہ کہیں نہ کہیں سے اُبھر آتی ہے۔ پنجاب کی ماں بولی کا بھی یہی حال ہے۔ اگرچہ کبھی بھی سرکاری سطح پر اس کی آبیاری نہیں کی گئی پھر بھی پنجاب کی زبان اور ثقافت اتنی طاقتور ہے کہ اس کے باوجود بھی اس نے اپنے پاؤں زمین سے اُکھڑنے نہیں دیئے کیوں کہ اس کے دامن میں عالمی سوچ کے حامل صوفیاء کے ادبی ورثے کے ساتھ ساتھ لوک دانش کا اتنا بڑا خزانہ ہے جو اسے کم مائیگی کا احساس نہیں ہونے دیتا۔ اگر اسے سرکاری سرپرستی حاصل ہوتی تو آج پنجاب کے کسی علاقے کا کوئی فرد اپنی ماں بولی میں اظہار سے کتراتا اور نہ ہی اُسے اس بنا پر جاہل اور گنوار سمجھنے کی روش عام ہوتی۔ یہ کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ ایک طبقہ ء فکر نے اپنی زبان، ثقافت اور منفرد پہچان کی بات کرنے والے قوم پرستوں کو حقارت سے دیکھا اور ان کی حب الوطنی پر شک کرتے ہوئے ان کی تضحیک کی جس کی وجہ سے مختلف تنظیمیں اور گروہ مرکز سے کشیدگی کی طرف رجحان پکڑتے ہوئے سرگرمِ عمل ہوئے۔
پاکستان کی حقیقی ترقی اسی بات میں مضمر ہے کہ یہاں تمام علاقوں کے جداگانہ لسانی اور ثقافتی تشخص کو قائم رکھا جائے بلکہ اس کو پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کئے جائیں اور اسے حکومتی سرپرستی میں آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے۔ پاکستان ایک ایسے گلدستے کا نام ہے جہاں ہر پھول کی الگ شناخت اور رنگ ہے اور یہی اس کی اصل خوبصورتی ہے۔ انہیں مصنوعی رنگ میں رنگ کر ایک جیسا کرنے کی خواہش کے بجائے انہیں اپنے ہی رنگوں میں بحال رہنے دیا جانا چاہئے۔ اب جب کہ بلوچستان نے بھی مادری زبان کو لازمی قرار دے دیا ہے تو صرف پنجاب وہ واحد سرزمین ہے جو ماں بولی کے حوالے سے ابھی تک اپنے بنیادی حق سے محروم ہے۔ میاں شہباز شریف جنہوں نے سیاسی، سماجی اور معاشی حوالوں سے اس قوم کی خوشحالی کے لئے شبانہ روز محنت کر کے کئی ریکارڈ قائم کئے ہیں اور ان کی حکمتِ عملی اور جذبہ عمل کے حوالے سے ایک دنیا نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں سراہا ہے، سے گزارش ہے کہ پنجابیوں کا اصل مورال بلند کرنے کے لئے ان کا بنیادی حق تسلیم کرتے ہوئے پنجاب کی ماں بولی کو پرائمری سطح پر لازمی مضمون کا درجہ دیا جائے ورنہ دیگر صوبوں سے تقابلی جائزہ کرتے ہوئے وہ مزید محرومی کا شکار ہوتے جائیں گے اور یہ محرومی کئی ابہام کو جنم دے گی۔آج مادری زُبان کے عالمی دن پر ماں بولی دیہاڑ مناتے ہوئے مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ وہ دن دور نہیں جب پنجاب کے اسکولوں میں بھی کم از کم پرائمری کی سطح تک مادری زبان میں تعلیم کا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور پھر پنجاب میں ماں بولی سے محبت کا پرچار عملی طور پر کیا جائے گا اور تبھی حقیقی معنوں میں ترقی کی جانب سفرِ کا آغاز ہو گا.

You might also like

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept