’’ریڈی سٹیڈی نو‘‘۔۔۔۔۔ سب کے منہ بند

پاکستان میں فلم بنانا جتنا آسان ہے اتنا ہی مشکل بھی کیونکہ آسان ان لوگوں کے لئے ہے جن کے پاس بہت زیادہ سرمایہ ہے، بڑے بڑے برانڈز ہیں، چینلز ہیں اور ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں، جن کی وجہ سے انہیں سٹار کاسٹ سے لے کے ہر سہولت مل جاتی ہے۔ فلم کے آغاز سے لے کر ریلیز تک راستے ان کے لئے خود بخود بنتے چلے جاتے ہیں۔ فلم کی ریلیز کے دوران ہی پرموشن سے لے کر دیگر تمام معاملات بخیرو وخوبی انجام پاتے ہیں اور جب یہ فلمیں ریلیز ہوتی ہیں تو ان کا بزنس بھی کروڑوں روپے میں ہوتا ہے۔

دوسری طرف وہ لوگ فلمیں بنارہے ہیں جن کے پاس نہ تو سرمایہ ہوتا ہے اور نہ ہی بہت سے دیگر لوازامات،یہ لوگ صرف ایک خواب لے  کے آتے ہیں جسے پورا کرنے میں انہیں جن جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اکثریت تو راستے سے ہی واپس چلی جاتی ہے لیکن چند جنونی قسم کے لوگ اپنا خواب پورا کرنے کی ٹھان لیتے ہیں۔ایسے لوگوں کو قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،جگہ جگہ رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے،وہ دلبرداشتہ بھی ہوتے ہیں،کچھ دیر کے لئے آرام بھی کرتے ہیں لیکن پھر منزل کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔

فلم بنانا جتنا آسان سمجھا جاتا ہے اسے ریلیز کرنا اس سے بھی کہیں مشکل ہے،جب کسی کا پراجیکٹ مکمل ہوجاتا ہے تو یہاں بھی ان لوگوں کو ہی کامیابی ملتی ہے جو بڑے پروڈیوسرز ہوتے ہیں لیکن نئے لوگوں کو اپنی فلم کی ریلیز کے لئے ایک سے دو اور پھر نہ جانے کہاں کہاں جانا پڑتا ہے ،کن کن کی باتیں سننا پڑتی ہیں، یہ آپ نے کیا بنایا ہے ،اس کا تو ٹرینڈ ہی نہیں ہے ،آپ کے پاس تو سٹار کاسٹ ہی نہیں ہے، ہماری کمپنی یہ فلم ریلیز نہیں کرسکتی وغیرہ وغیرہ۔ اب جس نے سرمایہ لگایا ہوتا ہے اس کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح یہ فلم ریلیز ہوجائے۔تجربہ کار لوگ یہاں بھی اپنا فائدہ اٹھالیتے ہیں جبکہ نئے لوگوں کو ہر کوئی مس گائیڈ کرتا ہے۔

گزشتہ روز ایک فلم ریلیز ہوئی جس کا عنوان’’ریڈی سڈیڈی نو‘‘ ہے۔ایک تو فلم کا نام بالکل مختلف ،دوسرا ڈائریکٹر کے بارے میں کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا ،تیسرا آمنہ الیاس کے علاوہ فلم میں کوئی اور ایسا چہرہ بھی نہیں تھا جس کے نام پر شائقین کو متوجہ کیا جاتا فلم کی پرموشن انتہائی شاندار انداز سے کی گئی لیکن اس میں دیکھا گیا کہ ہمارا زیادہ تر میڈیا اس ٹیم کو وہ اہمیت نہیں دے رہا تھا جس کی ضرورت تھی۔ فلم کے رائٹر،پروڈیوسر اور ڈائریکٹر ہشام بن منور سے پہلی ملاقات میں ان سے کئی سوالات کرنے کا موقع ملا، پھر ایک اور ملاقات میں مزید گپ شپ بھی ہوئی جس میں وہ ہی نہیں بلکہ سب ہی پرامید تھے،خاص طور پر آمنہ الیاس فلم کی کامیابی بارے وثوق سے بات کرتی تھیں اور جس طرح انہوں نے بیس بیس گھنٹے پرموشن میں صرف کئے ایسا بہت کم ہوتا ہے ۔اکثر دیکھنے کو ملتا تھا کہ آمنہ الیاس کو سونے کا بہت کم وقت ملا ہے لیکن وہ خوشی خوشی ایک سے دوسری اور وہاں سے  تیسری جگہ پرموشن کے لئے جارہی تھیں۔عام طورپر ان دنوں تمام فلموں کی پرموشن پی آر کمپنیوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے جو اس کے عوض لاکھوں روپے وصول کرتی ہیں اور فنکاروں کو بھی اپنے اشاروں پر نچاتی ہیں۔اس فلم کی لاہور میں کافی پرموشن کی گئی لیکن جس طرح میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ میڈیا پھر بھی’خوش‘ نظر نہیں آرہا تھا ،رہی سہی کسر اس وقت نکل گئی جب اچانک پیغام ملا کہ رات کو فلم کا پریمئر یونیورسل سینما میں ہورہا ہے ۔میں اپنے دوست وقار اشرف کے ساتھ وہاں پہنچا تو یہ دیکھ کر سخت حیرانی ہوئی کہ ہم دونوں کے علاوہ وہاں میڈیا سے وابستہ ایک بھی شخص نہیں تھا۔ریڈ کارپٹ پر فنکار،ان کے دوست اور رشتہ دار ہی موجود تھے لیکن یہ پہلو انتہائی افسوسناک تھا کہ جس چینل کے ساتھ فلم کی پرموشن کا معاہدہ کیا گیا تھا وہ بھی وہاں موجود نہیں تھا اور نہ ہی ان کا کوئی نمائندہ ،یعنی کے ہم ٹی وی،جس کے بارے میں ذرائع نے بتایا کہ ہم ٹی وی کی انتظامیہ نے جان بوجھ کر اس فلم کو نظر انداز کیا کیونکہ ان کی اپنی فلم’’سپرسٹار‘‘ عید پر ریلیز ہونے جارہی ہے اس لئے انہیں خوف تھا کہ اگر’’ریڈی سٹیڈی نو‘‘ہٹ ہوگئی تو’’سپرسٹار‘‘ متاثر ہوسکتی ہے ۔

ہال میں داخل ہوتے ہوئے ہم یہی سوچ رہے تھے کہ تھوڑی سی فلم دیکھ کر اندازہ کرلیں گے اور واپس چلے جائیں گے لیکن جیسے ہی فلم شروع ہوئی ٹھیک دس منٹ بعد جب اصل کہانی سامنے آتی ہے تو پھر ہم پہلو بدلنا بھول گئے کیونکہ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھ رہی تھی ہمارے تمام اندازے غلط ثابت ہورہے تھے اور ہماری طرح سب کی دلچسپی بڑھ رہی تھی۔ عام طور پر لوگ پریمیئر میں بلاوجہ ہی تالیاں بجا رہے ہوتے ہیں لیکن یہاں ایسا نہیں تھا،لوگ کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ دل سے تالیاں بجارہے تھے اور ہنس رہے تھے جن کے چہروں کی مسکراہٹ بتارہی تھی کہ ان کے دل میں کیا ہے۔

فلم کی کہانی،سکرین پلے اور کامیڈی سبھی کچھ قابل تعریف ہے اور اگر آپ اپنی آنکھوں میں تعصب اور حسد کی پٹی ہٹا کر دیکھیں تو آپ کو یہ فلم ہر طرح سے مکمل دکھائی دے گی اور اگر آپ صرف اسی مقصد کے لئے گئے ہیں کہ خامیاں ہی تلاش کرنی ہیں تو وہ پھر ہالی ووڈ کی فلموں میں بھی مل جاتی ہیں۔ڈائریکٹر نے سادہ اور عام سی کہانی کو بہت خوبصورت انداز سے بنایا ہے اور اس میں کامیڈی کا تڑکہ کچھ اس انداز سے لگایا کہ شروع سے آخری سین تک ہونٹوں پر ہنسی رہے گی۔فلم کا ہیرو فیصل سیف نیا اداکار ہے جس نے کافی اچھا کام کیا ہے ۔آمنہ الیاس کی تو کیا ہی بات ہے جس نے ہر سین میں خود کو منوایا ہے ۔ان کے ساتھ  سلمان شاہد،مرحوم احمد بلال اور زین افضل سبھی نے اپنے کرداروں سے انصاف کیا ہے۔ ہشام نے فلم میں منیر احمد سے جس طرح اہم کردار کرایا ہے وہ ہر ڈائریکٹر نہیں کرسکتا۔

فلم کا بجٹ زیادہ نہیں ہے ،کاسٹیوم بھی نارمل ہیں کیونکہ کہانی اس طرح کی ہے ،اسی طرح کئی اور چیزوں سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فلم پر زیادہ سرمایہ نہیں لگایا گیا لیکن یہ کسی بھی بڑی فلم کا مقابلہ کرسکتی ہے کیونکہ ہر فلم صرف سرمائے اور سٹار کاسٹ سے کامیاب نہیں ہوسکتی۔ہشام بن منور نے ثابت کیا ہے کہ اگر کہانی اچھی،سکرین پلے مضبوط اور فنکاروں کی پرفارمنس بھی میچور ہو تو فلم کی کامیابی یقینی ہوجاتی ہے۔مجھے بے شمار لوگوں نے فلم کے بارے میں پوچھا،میں نے ہر کسی کو یہی جواب دیا کہ بہترین، جس پر کئی لوگ حیران بھی تھے کہ آخر مجھے اتنی تعریف کرنے کی ضرورت کیا تھی لیکن میں نے دل سے تعریف کی کیونکہ مجھے سب کچھ اچھا لگا۔بلاشبہ ہشام بن منور نے تینوں شعبوں میں بہترین کام کرتے ہوئے خود کو ایک کامیاب کپتان ثابت کیا ہے جس میں ان کی ٹیم نے پورا پورا ساتھ دیا ہے۔

 

You might also like

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept