بندر کے ہاتھ’ماچس‘ لگ گئی

اداکار فردوس جمال نے ماہرہ خان کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا کیا ہمارے ہاں تو سوشل میڈیا پر آگ ہی لگ جس پر سب نے تیل ڈال کر اسے اور تیز کرنے کی کوشش بھی کی۔لوگوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ پہلے بات سمجھنی چاہیئے کہ انہوں نے کہا کیا ہے۔اگر غور کیا جائے تو فردوس جمال نے غلط بات بھی نہیں کی اور ویسے بھی جب آپ ان سے انٹرویو میں یہ سوال پوچھ رہے ہیں تو انہوں نے اس کا جواب تو دینا ہی تھا ۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے جب بھی شوبز کی کسی عورت بارے ایسی بات کی جائے تو ہمیشہ تمام عورتیں اکٹھی ہوجاتی ہیں اور مل کر مردوں کی خوب تذلیل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا، تمام لڑکیوں نے ماہرہ خان سے وفا داری ثابت کرنے کے لئے فردوس جمال کو تنقید کا نشانہ بنایا، چند روز پہلے محسن عباس اور فاطمہ سہیل کے واقعہ میں بھی ایسا ہی کچھ ہوا۔اب ماہرہ خان والے واقعہ میں بھی سب لوگ انہی کی حمایت میں بول رہے ہیں اور کوئی بھی فردوس جمال کی طرف نہیں ۔

چند روز پہلے فردوس جمال نےاے آر وائی زندگی کے پروگرام میں ماہرہ خان سے متعلق کہا کہ ’sorry to say، کسی کو بری لگی یا اچھی، ماہرہ خان ہیروئن اسٹف نہیں ہے، وہ درمیانے درجے کی ماڈل ہے، وہ اچھی ایکٹرس نہیں ہے اور اچھی ہیروئن بھی نہیں، سوری ٹو سے، ایک تو اس کی عمر زیادہ ہے۔ مطلب اس عمر میں ہیروئنیں نہیں ہوتی بلکہ ماں کے کردار کیے جاتے ہیں‘۔

اس پر ابھی تک ماہرہ خان کا ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن فیصل قریشی( پروگرام کے میزبان) نے ٹوئٹر پر صفائیاں دینی شروع کردی ہیں۔

فیصل قریشی نے کہا ہے کہ ’وہ (فردوس جمال) ایسا سمجھتے ہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے، وہ (ماہرہ خان) سپر اسٹار ہے اور مجھے بھی (فردوس جمال) کی بات سے جھٹکا لگا تھا، میرا مطلب تھا کہ جو ہٹ ملنی چاہیے وہ ملے ’بن روئے‘ ہٹ تھی بلکہ بڑی والی ہٹ، میں نے ان کی اپنے شو میں ہزار بار تعریف کی لیکن وہ کسی نے شیئر نہیں کیا‘۔

اب بات فردوس جمال کی آتی ہے یقیناََ وہ اپنے رائے کے لیے آزاد ہیں اور ان کے پاس اتنی کامیابی اور تجربہ ہے کہ وہ کسی بھی بڑے اداکار یا اداکارہ پر تبصرہ کرسکتے ہیں۔فردوس جمال تو عابد علی، شکیل، جاوید شیخ، وسیم عباس، آصف رضا میر، شفیع محمد اور راحت کاظمی سمیت اس وقت کے ٹی وی کے سپر اسٹارز کی فہرست میں آتے ہیں جنہوں نےبالی ووڈ کے بڑے فنکاروں کا مقابلہ کیا لیکن یہاں ماہرہ کو ہیروئن نہ ماننا کوئی بات نہیں ہوتی لیکن ماں کے کردار والی بات تھوڑی سے بحث طلب ضرور ہے۔

 اس سلسلے میں جب فردوس جمال سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ میرا ماہرہ خان سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ وہ تو ان سے کبھی ملے بھی نہیں، میں نے اپنے 50 سالہ تجربے اور ٹریننگ کی بنیاد پر جو سمجھا وہ کہا۔ میں نے جتنی بھی فلموں کی جھلکیاں دیکھیں ہیں، ان میں ماہرہ کا چہرہ اور ایکٹنگ فلم والی نہیں لگی، فلم اور ٹی وی دونوں الگ الگ پہلوانوں کے اکھاڑے ہیں جن میں اپنے ’ہوم گراؤنڈ‘ والا پہلوان ہی کامیاب رہتا ہے۔فردوس جمال نے مزید کہا کہ فلم اور ٹی وی الگ الگ اسکرین، ان کے چہرے الگ، ان کا میک اپ الگ، ان کی ڈائیلاگ ڈیلیوری الگ، ان کے کیمرا اینگل اور فریم بھی الگ ہوتے ہیں۔انھوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مجھ سمیت ٹی وی کے کئی سپر اسٹار بڑی اسکرین پر کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔فردوس جمال نے موجودہ ہیروئن میں مایا علی کو بہتر قرار دیا اور اس کی وجہ بھی بتائی کہ ان کی بڑی اسکرین پر آنے سے پہلے علی ظفر نے باقاعدہ تربیت کروائی اور اپنے ساتھ اپنی ہیروئن کو بھی تیار کیا۔فردوس جمال نے پاکستانی سپر اسٹار شمیم آراء، شبنم، رانی اور بابرہ شریف کی محنت، ٹریننگ اور کامیابی کی بھی مثال دی۔

انہوں نے ماہرہ کو بھی مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں فلم کے لئے ڈائیلاگ ڈیلیوری، تاثرات، ڈانس اور اپنے خوبصورت اینگلز پر کام کرنا ہوگا۔فردوس جمال نے آخر میں ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ میں نے بطور ایک سینئر اداکار اور اسٹار جو چیزیں محسوس کی وہ بیان کی ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں آخر فنکار تنقید کیوں برداشت نہیں کرتے۔ کیا سبھی فنکار مکمل’اداکار‘ ہیں۔ایسا ہرگز نہیں ہے ،بہت کم فنکار ایسے ہیں جو باقاعدہ تربیت لے کر آئے ہیں ورنہ زیادہ تر ’’پرچی‘‘ کی پیداوار ہیں۔ کوئی اپنی ماں تو کوئی بہن کی سفارش پر آیا ہے، کسی کا تعلق ڈائریکٹر سے ہے تو کوئی پروڈیوسر کے کہنے پر کاسٹ میں شامل ہوتا ہے۔بہت سے نئے فنکار مشہور بھی ہیں مقبول بھی لیکن صرف سوشل میڈیا پر لیکن آپ ان کو کچھ کہہ نہیں سکتے کیونکہ ان کو کچھ کہنا ایسا ہی ہے جیسے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا۔آپ ابھی کسی بھی نئے اداکار یا اداکارہ کی اصل حقیقت لکھ دیں یا کسی ٹی وی پروگرام میں بیان کردیں سب سوشل میڈیا پر ہاتھ دھو کر آپ کے پیچھے پڑ جائیں گے کیونکہ آج کل دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانا سب سے آسان کام ہے۔

معذرت کے ساتھ آج کل سوشل میڈیا بالکل ایسے ہی جیسے کسی بندر کے ہاتھ ماچس لگ جائے اور وہ۔۔۔۔۔

You might also like

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept