’’لنڈے کے سپر سٹار‘‘

سچ بولنا اور اسے برداشت کرنا ہمیشہ سے مشکل کام رہا ہے جو سوشل میڈیا کے بعد مزید مشکل ہوگیا ہے کیونکہ ادھر آپ نے کوئی بات کی ادھر لوگ بغیر سوچے سمجھے آپ کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور اگر یہ بات ذرا سچی اور کڑوی ہو تو پھر کہنے والے کی خیر نہیں۔اسے کن کن القابات سے نوازا جاتا ہے اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ہم لوگ غصے میں کیا کرتے ہیں۔

ایسے ہی ایک سچ کی قیمت ان دنوں اداکار فردوس جمال کو بھی ادا کرنا پڑ رہی ہے جنہوں نے چند روز پہلے ماہرہ خان کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔پاکستانی آئین کے مطابق اخلاقی حدود کے اندر رہتے ہوئے سب کو اپنی بات کرنے کی آزادی ہے لیکن جب سے سوشل میڈیا عام ہوا ہے ایک طرح سے یہ آزادی محدود ہوکر رہ گئی ہے۔بات ہورہی تھی فردوس جمال کی،ماہرہ خان کی حمایت میں جہاں سینئر فنکاروں نے اپنی رائے کا اظہار کیا وہیں جونیئر فنکار بھی پیچھے نہیں رہے حالانکہ اس معاملے میں جونیئر فنکاروں کے طرف سے ٹانگ اڑانا مناسب نہیں تھا لیکن ان سب کو کون روک سکتا ہے کیونکہ سوشل میڈیا کا دور ہے جہاں ہر قسم کی آزادی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فردوس جمال کی مخالفت کرنے والے زیادہ تر فنکار وہ تھے جو بےچارے نہ تین میں تھے اور نہ تیرہ میں لیکن انہوں نے کسی نہ کسی طرح تو اس معاملے میں ٹانگ اڑانا ہی تھی سو انہوں نے اڑائی۔فردوس جمال جیسے سینئراور مقبول اداکار پر تنقید کرتے ہوئے بیشتر فنکاروں نے اپنے گریبان میں بھی نہ جھانکا کہ ہم کتنے پانی میں ہیں اور ہم بات کس کے بارے میں کررہے ہیں۔ چونکہ انہیں’حکم‘ تھا کہ بس ماہرہ کی حمایت ہی کرنی ہے اور اس بات کی تصدیق اس وقت ہوئی جب معروف پروڈیوسر مومنہ درید نے سوشل میڈیا پر ایک طویل نوٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے فردوس جمال کو اپنی پروڈکشن کے لئے بین کرنے کا اعلان کیا۔ ایم ڈی پروڈکشن کی طرف سے کسی بھی اداکار کو بین کرنے کا مطلب ہے اس پر ہم ٹی وی کے دروازے بند کرنا کیونکہ ہم ٹی وی پر سب سے زیادہ پروڈکشن مومنہ درید ہی کرتی ہیں۔خیر اس پابندی سے فردوس جمال کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ رازق اللہ کی ذات ہے۔مومنہ درید کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے زیادہ تر فنکار ماہرہ خان کے حق میں بیان بازی کررہے تھے۔ ایسے فنکار جن کے کریڈٹ پر ابھی کچھ بھی نہیں ہے لیکن وہ خود کو’سپرسٹار‘ کہلاتے نہیں تھکتے۔ آج کے دور میں مقبولیت کا کوئی پیمانہ نہیں لیکن پھر بھی ہمارے سارے فنکار سپرسٹار ہی ہیں۔ جس کا ایک ڈرامہ ہٹ ہوجائے وہ بھی سپرسٹار اور جس کے دس ڈرامے ناکام رہیں وہ بھی سپرسٹار۔

ایک بات افسوس سے کہنا پڑتی ہے کہ خود ساختہ مقبولیت کے زعم میں مبتلا یہ فنکار حقیقی سپرسٹار نہیں ہیں بلکہ ان میں سے زیادہ تر’’لنڈے کے سپرسٹار‘‘ ہیں کیونکہ اس وقت انڈسٹری میں کام کرنے والے فنکاروں کی نوے فیصد اکثریت ٹیلنٹ پر نہیں بلکہ’رشتہ داری‘ کی بنیاد پر کام کررہی ہے۔ بھلا ہو پرویز مشرف کا جس نے پاکستان میں میڈیا کو اتنی آزدی دی کہ ہر طرح کے چینل کھل گئے ۔آج کے تمام سپرسٹار اگر پی ٹی وی کے دور میں ہوتے انہیں پتہ چلتا کہ کام کسے کہتے ہیں۔ان لوگوں کے لئے کام حاصل کرنا تو دور کی بات بلکہ پی ٹی وی کے اندر داخل ہونا بھی ناممکن ہوتا۔ اب چینل کا پیٹ بھرنے کے لئے فنکاروں کو راتوں رات سپرسٹار بنادیا جاتا ہے،آج کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہمایوں سعید اور مہوش حیات کو اداکاری نہیں آتی،آج کوئی کہہ سکتا ہے کہ بہت سے فنکار میرٹ پر نہیں ہیں، کوئی سچ نہیں بول سکتا کیونکہ سب کی اپنی اپنی ’لابی‘ ہے اور سب کے پاس اپنی اپنی’چابی‘ ہے ۔ ایک ایسی چابی جس کے ذریعے وہ بند تالا کھول سکتے ہیں اور جہاں تک بات ہے حقیقی سپرسٹار کی تو فردوس جمال پر تنقید کرنے والے ان سپرسٹار کو اپنے گریبانوں میں جھانک کر ضرور دیکھنا چاہیئے کہ وہ کتنے پانی میں کیونکہ جس’’چابی‘‘ کے ذریعے وہ یہاں تک پہنچے ہیں اگر وہ گم ہوگئی تو ان سب کا کیا بنے گا۔

دراصل اپنے منہ میاں مٹھو بننے والے یہ سب فنکار’’لنڈے کے سپرسٹار‘‘ہیں کیونکہ جب نادیہ خان نے کہا کہ مہوش حیات اور ماہرہ خان کو اداکاری نہیں آتی تو ان سب’سپرسٹارز‘کو سانپ کیوں سونگھ گیا اور کسی میں نادیہ خان کو جواب دینے کی ہمت کیوں پیدا نہ ہوئی۔

You might also like

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept