سود کا نظام اللہ کے خلاف جنگ

صحافتی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہوئے ہر طرح کے لوگوں کے مسائل دیکھنے اور سننے کو ملتے رہتے ہیں۔

تحریر: راشد ہدایت اللہ
صحافتی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہوئے ہر طرح کے لوگوں کے مسائل دیکھنے اور سننے کو ملتے رہتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صحافی کے قلم سے ظلم کے خلاف بلند ہوتی آواز کو دبانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ کون سی پارٹی کی حکومت اور کونسی سیاسی پارٹی اقتدار سے باہر ہے مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ ہر بے نسل شخص مظلوموں کو دبانا اور ظلم و زیادتی کو اپنا طرہ امتیاز سمجھتا ہے چاہیے وہ کیوں نہ ایک گلی محلے تک کی ہی رسائی رکھتا ہو۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی معاشرے میں پھیلے ہوئے گھناؤنے جرائم میں سے ایک ایسے جرم میں ملوث افراد کے بھیانک چہرے بے نقاب کرنے کی کوشش کروں گا جو بظاہر معاشرے میں شرافت کا لبادہ اوڑھے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں۔جی ہاں میری مرا د سوسائٹی میں ناسور کی شکل اختیار کیے ہوئے سود کے نظام سے ہے جو کہ بینکنگ کا گورنمنٹ کے رجسٹرڈ پلیٹ فارم سے نہیں کیا جا رہا بلکہ انفرادی اور شریف لوگوں کو لوٹنے کی غرض سے کیا جا رہا ہے یہ انہی نام نہاد شرفاء کا بچھا ہوا جال ہے جو کسی بھی حیلے بہانے اور دوستی کی آڑ میں کھاتے پیتے بزنس مین گھرانوں میں انٹری کر کے دیمک کی طرح سب کچھ چاٹ کر کھوکھلا تو کیا اور ساتھ ہی پوری فیملی کو بربار کر کے رکھ دیتے ہیں۔ معاشرے میں دوسرے بڑے جرائم کی طرح یہ سودی نظام اس قدر بھیانک شکل اختیار کر چکا ہے کہ لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں اور کوئی بھی حکومتی ادارہ سود مافیہ کو لگام ڈالنے کے لئے متحرک نہیں ہے۔ میں اپنی اس تحریر کے ذریعے یہ واضح کر رہا ہوں کہ سود جیسے قبیح فعل میں ملوث افراد جو کہ سرکاری و نیم سرکاری عہدوں پر فائز ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث ہیں۔ بات یہاں تک ہی ختم نہیں ہوتی اس میں ملوث ہونے اور بنیفشری ہوتے ہوئے سیاستدان بھی اس مافیا کی پشت پناہی میں مصروف ہیں۔
سود کے کاروبار میں منسلک افراد سرکاری عہدوں پر براجمان خواہ وہ پولیس ہو یا جوڈیشری یا پھر کوئی اور سرکاری ایجنسی سود خور برملا ان کے ساتھ اپنے تعلقات کا ذکر کرتے سنائی دیتے ہیں اور مجبور اور بے بس عوام کا خون نچوڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر چند ایسے سود خوروں کو جانتا ہوں جو کہ سود کے پیسوں سے اعلیٰ افسران کی راتیں رنگین کرنے کا بھی دم بھرتے ہیں۔ بطور صحافی میری ذمہ داری ہے کہ ارباب اختیار کو معاشرے می بڑھتی ہوئی اس سنگین برائی کی طرف توجہ دلاؤں میرا اگلا کالم سود خوروں کی تفصیلات کے متعلق ہوگا جس میں ان کام نام، عہدہ اور تصویر شائع کر کے اس گھناؤنے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کی کوشش کروں گا۔ میں نے اپنی قلم کے ذریعے ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا ہے اور دیتا رہوں گا۔ مجھے امید ہے کہ وہ تمام لوگ جو مظلوم کے ساتھی ہوتے ہیں اس جہاد میں میرے ساتھ ہوں گے۔
میں ایک اخبار نویس ہونے کی حیثیت سے وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان، چیف آف آرمی سٹاف، چیئرمین اور تمام ریاستی اداروں سے ملتمس ہوں کہ خدارا سود خوروں کے خلاف فوری اور کلیدی ایکشن کیا جائے تا کہ بہت سے سفید پوش اور غریب لوگ سکھ کا سانس لے سکیں۔
جب بھی حق کی بات ہو دوستو
ڈٹ جاؤ حسین کے انکار کی طرح

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept