جنت نظیر وادی اور کربلا

دنیا کے قانون طاقت والوں کیلئے بنائے جاتے رہے اور طاقت والوں کیلئے ہی پامال ہوتے رہے ’’طاقت حق ہے‘ ‘ کے اصول کے سامنے پوری دنیا سر تسلیم خم کرتی رہی اگر کسی نے طاقت والوں کے سامنے سر اٹھایا تو اسے عبرت کی مثال بنا دیا گیا لیکن ان دنیاوی طاقتوں کے اوپر بھی ایک طاقت ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔یہی وہ طاقت ہے جس نے مٹھی بھر مسلمانوں کو ہزاروں کفار سے جیت دلائی اور وہ جیت اسی وجہ سے ممکن ہوئی کہ اس کے پیچھے اپنےمذہب سے محبت‘اللہ پر یقین‘نبیؐ کی اطاعت اور جہاد کا جذبہ کارفرما تھا۔
آج پھر کفار مسلمانوں کی نسل کشی کے درپر ہیں۔آج میرا کشمیر‘میری جنت کفر کے شکنجے میں ہے۔ایک ماہ سے تقریباً 14 لاکھ کشمیری بھوکے پیاسے محصور ہیں وقت کے فرعون نے جنت نظیر وادی کو کربلا بنادیا۔
میری مائیں‘میری بہنیں نوحہ کناں ہیں‘میرے بچے بھوک اور پیاس سے بلک رہے ہیں۔میرے نوجوان بھائی کفر کےتشدد اور گولیوں کا شکار ہوکر شہادت کے رتبےحاصل کررہے ہیں۔کشمیر کاشاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں سے شہادت نہ ہوئی ہو۔وادی جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال کربلا کا منظر پیش کر رہی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے نہتے اور کشمیری مسلمان وقت کے یزید کے بدترین ظلم و بربریت کا شکار ہیں ۔ واقعہ کربلا بحیثیت مسلمان ہمیں دین کی سربلندی کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کردینے کا درس دیتا ہے۔ موجودہ حالات میں کشمیر کی آزادی کیلئے پوری قوم کو اسوہ رسولﷺاور اسوہ حسین ؓپر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ اسو ہ حسین ؓ باطل کو باطل کہنے کی جرآت پیدا کرتا ہے اور آج بدقسمتی سے مسلم حکمرانوں کے اندر اسی جرات اور ہمت کا فقدان ہے۔
حسینؓ صرف ایک شخصیت ہی نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے۔ کربلا ایک دن کی جنگ نہیں بلکہ یہ دراصل حق کی خاطر قر بانیاں دینے کی تحریک کا تسلسل ہے اور یہ حق و باطل کے معرکے کا نام ہے۔ واقعہ کربلا دین کی سربلندی کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کردینے کا درس دیتا ہے۔ حضرت امام حسینؓ نے جہاد کا وہ عملی نمونہ پیش کیا جو رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا نے ہمیں باطل کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیاہے، دور کو ئی بھی ہو امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کا درس عالم انسانیت کیلئے ایک پیغام ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان نسل کشی کے منصوبہ پر مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور ہم بے بسی کیساتھ صرف احتجاجی بیانات دیکر‘ریلیاں نکال کر اور ’’کشمیرہاور‘‘منا کر اپنی ’’ذمہ داریاں‘‘پوری کررہے ہیںجبکہ ہمیں مسئلہ کشمیر پر باڑ ختم کر کے وادی جموں و کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کرنی چاہئیں اور وقت کے یدیز کو دیوار کے ساتھ لگانا چاہیے۔ اب سوچنے ‘باتیں کرنے‘احتجاج کرنے کا وقت ختم ہوچکا۔کشمیر کا بچہ بچہ پاکستان کی طرف دیکھ رہاہے‘کشمیر کی مائیں اور بہنیں اپنی عزتوں کے محافظوں کی منتظر ہیں۔یقیناًپوری پاکستانی قوم مسئلہ کشمیر پر حکومت اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ، اب ہمارے حکمرانوں کو سخت فیصلے لینا ہونگے۔زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب ہمیں’’آریاپار‘‘جیسے فیصلے کرنا پڑجاتے ہیں۔اللہ پر یقین رکھ کر قدم بڑھانے سے غیبی امداد بھی ملتی ہے اور فتح بھی۔اللہ نے ہی ہمیں یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وقت کے اس یزید مودی نے کشمیر پرآرٹیکل 370ختم کرکے پوری دنیا کی توجہ کشمیر پر مرکوز کرادی ہے۔صرف سفارتی‘فضائی اور تجارتی تعلقات منقطع کرنے سے اب کچھ نہیں ہوگا۔ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اب فوری فیصلے لینا ہوں گے۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept