الوداع عابد علی الوداع

برسوں پہلے پی ٹی وی کی دنیا میں ایک ’’کیریکٹر‘‘ ہوتا تھا بدیع الزمان جس نے کچھ فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔ پھر وہ ملک چھوڑ گیا۔ جب تک یہاں رہا میری اس کی خوب گپ شپ رہی۔ اس کی ایک دلچسپ عادت تھی کہ اپنے ساتھی ایکٹروں کے بارے میں مصرعے گھڑتا رہتا تھا۔ مثلاً…………(تب سب زندہ تھے)۔ڈاکٹر انور سجاد……. نرا فسادقوی خان……… پرفارمنس کی جان روحی بانو………کیمرے کی جانوعظمیٰ گیلانی…..اداکاری کی جانی خالدہ ریاست ….سب کے لئے آفت ظل سبحان……. کبھی تیر کبھی کمان فاروق ضمیر ……فن کی کھیر، وغیرہ وغیرہ عابد علی کے بارے ’’بدی‘‘ کہا کرتا …..عابد علی……….فن کی کلی آج مورخہ 5ستمبر 2019 بروز جمعرات بوقت 9بجے شب ٹی وی پر اک ٹکر دیکھا۔’’معروف اداکار عابد علی انتقال کرگئے۔‘‘کبھی عابد علی، میں اور اس کی چھوٹی بیٹی سونو ماڈل ٹائون پارک کے ٹریک پر دو دو چکر لگاتے۔ پھر جب اس کی اک اور بیٹی گڑیا کی ماڈل ٹائون کلب میں شادی ہوئی تو مجھے اس کا داماد کچھ عجیب سا لگا۔ میں نے پہلے ضیا خان اور پھر خود عابد علی سے بھی یہ شیئر کیا تھا۔میں عابد علی سے کب، کہاں اور کیسے ملا؟ مجھے کچھ یاد نہیں۔ وہ کوئٹہ سے آیا تھا اور مشہور مصنفہ حمیدہ جبیں کے شوہر ریڈیو پروڈیوسر جمیل ملک کا تعلق بھی کوئٹہ سا تھا……..شاید جمیلملک کے ذریعہ ہی ملاقات ہوئی ہو لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ زندگی بھر ہم دونوں بار بار بہت قریب آئے اور پھر دور جاتے رہے۔قربت کی اک اور وجہ شاید مشترکہ معشوق منو بھائی بھی تھے۔ یاد نہیں، بالکل یاد نہیں کہ عابد علی اتنا قریب کیسے آیا کہ ایک طرف وہ ’’بیلی پور‘‘ کے بیلیوں میں شامل ہونا چاہتا تھا تو دوسری طرف ہمارے گھر کے کچن پر بھی اس کا قبضہ بہت مضبوط تھا۔ بلوچستان کی کوئی ڈش ہے ’’روش‘‘ جو ہمارے گھر میں عابد علی نے متعارف کرائی ۔ عابد کے حوالہ سے باتیں مجھے ٹوٹ ٹوٹ کر یاد آرہی ہیں کیونکہ اس کے میرے تعلق میں بھی تسلسل نہیں ’’ٹوٹ ٹوٹ‘‘ ہی تھی۔ چند سال اکٹھے چند سال علیحدہ۔ میں نے اسے دوست لکھا نہ لکھوں گا کیونکہ دوستی میرے لئے بہت مقدس اور مسلسل شے ہے۔ سکول، کالج، یونیورسٹی کے بعد میں نے بہت کم دوست بنائے۔ عابد کے ساتھ یہ بارڈر لائن کیس تھا، لیکن اب رات بھر جاگنے کے لئے یہ قریبی تعلق ہی بہت ہے۔ آخری رائونڈ میں ضیا خان ہمارے درمیان پل تھا۔ یہ وہی ٹی وی سٹار ضیا خان ہے جس نے پچھلے دنوں ’’عشق ذات‘‘ نامی سیریل میں ’’چودھری‘‘ کا کردار ادا کیا۔ ضیا خان میرے اور عابد، دونوں کے لئے چھوٹے بھائیوں کی طرح تھا اور عظمت امام عرف ببی مرحوم ……. عابد،میں، ببی اور ضیا خان کبھی ایک چنڈال چوکڑی کی مانند تھے۔ پھر ببی مر گیا۔ عابد علی کراچی شفٹ ہوگیا۔ "TO DAY”قسم کا پریکٹیکل ساآدمی تھا
لاہور آیا تو کوئٹہ بھول گیا، کراچی شفٹ کیا تو لاہور بھول گیا، جس پر مجھے اتنا غصہ تھا کہ جب اس نے رابطہ کیا، میں نے سرد مہری سے نظر انداز کردیا۔ اس کی بیماری پر مجھے حیرت ہوئی اور یقین سا تھا کہ وہ صحت یاب ہو کر لوٹ آئے گا اور اس یقین کی وجہ یہ تھی کہ وہ بہت سخت جان تھا بے پناہ قوت برداشت کا مالک جو زندگی میں بے شمار پرسنل اور پروفیشنل دھچکے کامیابی سے برداشت کرگیا جن کی تفصیل میں جانا نہ ضروری ہے نہ مناسب۔ بس یہی کافی ہے کہ وہ اپنی جنم بھومی کوئٹہ کے پہاڑوں اور موسموں جیسا تھا۔ جو کوئٹہ سے واقف ہیں وہ باآسانی سمجھ جائیں گے، میں کیا لکھ رہا ہوں لیکن موت سے زیادہ سخت جان کون ہوسکتا ہے جو کروڑوں سالوں سے دن رات کام میں جتی ہے اور تھکنے کا نام نہیں لے رہی۔ عابد کے ساتھ ایک عجیب اور دلچسپ واقعہ وابستہ ہے جس پر ہم دونوں ہمیشہ کھل کر ہنسا کرتے۔ ہمارے ماڈل ٹائون والے گھر کے کچن سے مین گیٹ صاف دکھائی دیتا۔ کوئی بہت ہی نئی ملازمہ کچن میں کام کررہی تھی جب دراز قد عابد نے گیٹ کے اوپر سے ہاتھ ڈال کر مین گیٹ کھولا، ملازمہ نے اسے دیکھا اور چیخیں مارتی، کانپتی، لرزتی، ہانپتی میری اہلیہ کے پاس جا کر بولی :’’باجی! او بھائی ٹی وی چوں نکل کے ساڈے گھر آوڑیا اے‘‘(باجی وہ آدمی ٹی وی سے نکل کر ہمارے گھر میں آگھسا ہے)یہ کوئی اٹھارہ، انیس سال پرانی بات ہوگی ۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ کوئی اتنا سادہ بھی ہوسکتا ہے تب میں اور ببی مرحوم ڈرائنگ روم میں بیٹھے عابد ہی کا انتظار کر رہے تھے۔ پھر ملازمہ کو باقاعدہ عابد سے ملوایا اور سارا معاملہ سمجھایا گیا۔ وہ بیچاری پھٹی پھٹی آنکھوں سے منہ کھولے سنتی اور عابد کو دیکھتی رہی۔ہمارے اس گھر کا لان سگریٹ کی ڈبیہ جتنا نہیں تو سگریٹوں کے کارٹن جتنا ہوگا اس لئے وہاں تو باربی کیو کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ببی کے گھر کا لان خاصا بڑا تھا اس لئے مہینے میں کم از کم دو بار وہاں اہتمام ہوتا جس کا انتظام عابد کرتا کہ اسے ہر طرح کی کوکنگ کا شوق تھا۔ رات گئے تک پارٹی چلتی جسے اے نیّر مرحوم کی آواز چار چاند لگا دیتی ۔ اے نیّردم لگانے اور دم لینے کے لئے رکتا تو ببی پیانو پر اپنے فیورٹ گیت بجانے لگتا۔ ببی کے گھر میں جامن کا پیڑ تھا جس کا پھل انتہائی رسیلا اور سائز میں ناقابل یقین تھا۔ عابد دور کی کوڑی لایا اور اس جامن کی گٹھلیوں سے 50،60 گملے تیار کرلئے کہ ذرا بڑے ہوں گے تو ’’بیلی پور‘‘ میں لگائیں گے۔ گٹھلیاں کومل پودوں میں تبدیل ہوئیں تو عابد بچوں کی طرح خوش تھا۔ یہ علیحدہ بات کہ جب یہ پودے بڑے ہوئے اور انہوں نے پھل اٹھایا تو وہ عام جامنوں جیسا تھا۔ میرے ایک دوست اس علم میں پی ایچ ڈی ہیں ڈاکٹر فیاض …….ان سے پوچھا تو بولے ’’یہ کہاں لکھا ہے کہ بیٹا باپ پر جائے گا۔‘‘عابد کے اصرار پر میں نے اس کے لئے اک ٹی وی سیریل بھی لکھا جس میں خود عابد کے علاوہ فردوس جمال، غیور اختر، اسد ملک، رشید ناز، زیبا بختیار، ضیا خان، عذرا آفتاب، دیبا بیگم اور صبیحہ خانم بھی شامل تھیں۔ شامل خان اور عابد کی صاحبزادی ایمان علی کا شاید یہ پہلا سیریل تھا جسے ڈائریکٹ بھی عابد نے کیا۔اور اب اک مصروف اور مشہور زندگی کے بعد سکوت مرگ طاری ہے الوداع عابد! الوداع۔
بشکریہ حسن نثار
شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept