انسانی روپ میں خونی درندہ

انسانی روپ میں خونی درندہ

تحریر: حامد بہلولhamid behlol
سود ایک ایسا کاروبار ہے جس سے لاکھوں گھر اجڑچکے ہیں اور یہ کاروبار صدیوں سے جانی دشمنی کا سبب بھی بنتا آرہا ہے۔ سود کے متعلق قرآن پاک میں بھی واضح بیان کیا گیا ہے کہ سود لینے اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ سود کا کاروبار کرنے والا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ سود کا کاروبار مغربی لوگوں کا کاروبار ہے اسلام میں اس کو سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ سود کے متعلق ہمارے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے اپنی آخری تقریر میں جو سٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر کی تھی اسٹیٹ بینک کے ریسرچ ڈپارٹمنٹ کو تلقین کی تھی کہ اس نظام کو تبدیل کرے اور اسلام کے مطابق بنائے۔پاکستان میں اسلام کے خلاف نظام نہیں چل سکتا مگر پاکستان نام سے اسلامی بن گیا اس میں نظام مغرب کا ہی چلتا رہا،اسلامی نظام کو وطن عزیز میں خواب بن کر رہ گیابلکہ اسلامی تعلیمات کی دھجیاں بکھیری گئیں۔سود ایک المیہ ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سود کو اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف جنگ کہا ہے، مگر آج قائداعظم ؒ کے اسلامی پاکستان میں سود کا کاروبار دھڑلے سے جاری ہے۔1992 ء میں وفاقی شرعی عدالت نے سود کو غیر اسلامی قرار دیا تھا، لیکن اس فیصلے کے بعد اس وقت کی نواز شریف کی حکومت نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں قومی اور دیگر بینکوں کے ذریعے اپیل دائر کی تھی۔سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت میں سالوں لگادیئے اور1999 ء میں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کوبرقرار رکھا۔سپریم کورٹ نے اس وقت کی حکومت کو ربا کے خاتمے کے لئے تمام بینکنگ اور دیگر قوانین میں ترمیم کا حکم دیا تھا تاہم اس وقت کے حاکم پرویز مشرف سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے لئے تیار نہیں تھے۔بعد ازاں مشرف حکومت نے وفاقی شرعی عدالت کے اس فیصلے کو جس کی توثیق سپریم کورٹ نے بھی کی تھی 2000ء کے بعد پی سی او کے تحت حلف لینے والی سپریم کورٹ کے سامنے اٹھایا، جس نے2002ء میں اس کیس کو واپس وفاقی شرعی عدالت کو بھیج دیا تھا۔ تاہم اس وقت کی حکومت کی سہولت کے لئے سپریم کورٹ نے وفاقی شرعی عدالت کو اس کیس کا فیصلہ کرنے کے لئے مقررہ وقت کا تعین نہیں کیا تھا اسی وجہ سے شرعی عدالت نے اس معاملے کو سرد خانے کی نذر کر دیا۔

پاکستان میں بڑھتے ہوئے سود کے کاروبار سے آج تک لاکھوں گھرانے اجڑ چکے ہیں جبکہ کئی خاندان اس سے بچنے کے لئے اپنی عزتیں بھی داؤ پر لگا چکے ہیں لیکن عزت تو چلی جاتی ہے اور سود کرنے والے افراد اس کے باوجود بھی سود لینے والے افراد کو نہیں چھوڑتے۔ 5 سال قبل بھی صوبہ پنجاب میں سود کے خلاف ایک آئین پاس کیا گیا تھا کہ جو کوئی سود کا کاروبار کرتا ہے اس کے بارے میں اطلاع دی جائے تا کہ اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لا کر اس کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے لیکن آئین پاس ہونے کے باوجود صوبائی دارالحکومت میں سود کا کاروبار دھڑلے سے جاری ہے۔ سود کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں اس لیے نہیں لائی جاتی کیونکہ ان کا نیٹ ورک بہت بڑا ہوتا ہے اور ان کے تعلقات بڑے بڑے افسران کے ساتھ ہوتے ہیں۔
میں بطور تفتیشی صحافی آج اپنے کالم میں ایک ایسے ہی سود خور کا ذکرکرنے جا رہا ہوں جس کا بہت بڑا نیٹ ورک ہے اور اس نے نہ جانے کتنے گھروں کو برباد کیا اور کتنی انسانی جانیں لی ہیں۔ مسٹر ریاض اور مسٹر الیاس دو ایسے شخص سے جو عرصہ دراز سے ٹرانسپورٹ کی آڑ میں سود کا گھناؤنا کاروبار کر رہے ہیں۔ یہ دونوں افراد ریلوے سٹیشن کے قریب چچا پائی کے نام ٹرانسپورٹ سروس چلا رہے ہیں جبکہ ان کا مین کام سود کا ہے اور یہ لوگ اتنے باثر ہیں کہ ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جاتی۔ ریاض اور الیاس نامی افراد کا سود کا کاروبار کرنے کے لئے انوکھا طریقہ ہے یہ پہلے ایک اچھے بزنس مین کو تلاش کرتے ہیں پھر اس کے کاروبار کو تباہ کرتے ہیں اور اس کے بعد اس سے دوستی کر کے اس کو سود پر پیسے لینے پرآمادہ کر کے اس سے سود کے پیسے کھاتے ہیں اور جب یہ شخص پوری طرح کنگلا ہو جاتا ہے تو اس کے گھروں میں داخل ہوکر ان عزت تار تار کر دیتے ہیں جس سے سود لینے والا شریف شخص عزت جانے کی وجہ سے خود ہی خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ان کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر ایک شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ریاض اور الیاس نامی شخص سے میں نے سود پر پیسے لیے تھے میں معاہدے کے مطابق پیسوں کی مد میں دی جانے والی قسط ہر ماہ وقت مقررہ پر دے رہا تھا لیکن ایک قسط لیٹ ہونے پر ان لوگوں نے مجھے جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیں اور میں جو کاروبار کر رہا تھا اس کو برباد کر دیا جس کے بعد میں ان جال میں مزید پھنس گیا۔ میں نے سود کے پیسے ادا کرنے کے لئے اپنی بیٹوں کے لئے بنایا گیا زیور تک ان کو دے دیا لیکن انہوں نے اپنی بدمعاشی اور طاقت کے بل بوتے پر مجھے دھمکیاں لگائیں اور کہاکہ تم نے جو پیسے لیے تھے سود پر وہ ابھی نہیں اترے یہ تو سود کی قسط آئی ہے اگر تم نے ہمیں سود کے پیسے نہ واپس کیے تو ہم تمہاری بیٹیوں کو اٹھا کر لے جائیں گے۔ ریاض اور الیاس نامی شخص کا ڈاسا ہوا صرف میں ہی نہیں بلکہ کئی اور لوگ بھی ایسے لوگ ہیں جن کن گھر ان لوگوں نے اجاڑنے کے ساتھ ساتھ کی عزت بھی تار تار کر دی۔ میری وزیراعظم عمران خان، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف جسٹس آف پاکستان سردار لطیف کھوسہ اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سمیت اعلیٰ افسران سے التجا ہے کہ ان سود خوروں کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے مجھ سمیت متعدد شریف شہریوں کو اس کے چنگل سے آزاد کروایا جائے۔

میں بطور انوسٹی گیشن صحافی یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میری انوسٹی گیشن کے مطابق ان افراد کا انٹرنیشنل نیٹ ورک ہے یہ دو آدمی نہیں بلکہ ان کا بہت بڑا گروہ ہے جو اس نیٹ ورک کو چلا رہا ہے۔ سود کا کاروبار کرنے والے ریاض اور الیاس نامی شخص کے تعلقات بہت اوپر تک ہیں میں بطور صحافی سود خوروں کو سزا دلوانے کے لئے دن رات ایک کر دوں گا۔ میں ریاض اور الیاس نامی سود خوروں کے خلاف اگلے کالم میں باقاعدہ ثبوت پیش کروں گا کہ یہ اس گھناؤنے کاروبار کو دھڑلے سے کر رہے ہیں اور کون کون سے بااثر افراد ان کی پشت پناہی کر کے اپنا حصہ وصول کرکے ان کی پیروی کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept