محکمہ صحت، زبوں حالی سے بحالی کا سفر

خدمت کی سیاست

خدمت کی سیاست

پاکستان کو قائداعظم کے خوابوں کے مطابق ایک مثالی اسلامی فلاحی مملکت بنانے کا وہی جذبہ جہاں عام آدمی کو زندگی کی بنیادی سہولتیں (ریاست کی طرف سے) دستیاب ہوں، ظاہر ہے، صحت عامہ بھی ان میں شامل تھی۔ ایک ایسا معاشرہ قائداعظم کے خوابوں کا معاشرہ نہیں ہوسکتا جہاں اشرافیہ کے پاس تو بہترین علاج، مہنگی ترین ادویات اور جدید ترین سرجری کے لئے وسائل موجود ہوں اور غریب آدمی علاج کے بغیر، ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جائے، غریب آدمی جو اپنے خاندان کا واحد معاشی سہارا تھا اور جس کے بعد پسماندگان کے لئے زمانے کی ٹھوکریں رہ جائیں گی۔
گردوں کی بیماری بھی تیزی سے پھیلتے ہوئے امراض میں شامل ہے، ناقص غذاء اور غیر صحت مند ماحول کی وجہ سے عام آدمی جن کا خصوصی نشانہ بنتا ہے۔ اپنے پہلے دور (1997-99ء)میں گردوں کے مریضوں کے لئے ضروری طبی سہولتوں کی فراہمی بھی میرے ایجنڈے کا اہم نکتہ تھا، اس کے لئے سرکاری ہسپتالوں میں مفت ڈائلسز کی سہولتوں کا اہتما کیا۔ لاہور کے شیخ زید بن سلطان النہیان ہسپتال میں اس سلسلے کی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم جناب میاں محمد نوازشریف مہمان خصوصی تھے۔
12 اکتوبر کے ٹیک اوور کے بعد جنرل مشرف نے ہمارے فلاحی ایجنڈے کے جن نکات پر خط تنسیخ پھیر دیا ان میں ڈائلسز کی مفت سہولت بھی تھی۔
2008ء میں نئے جمہوری دور کے ساتھ پنجاب میں قدرت نے ایک بار پھر مسلم لیگ ن کو عوام کی خدمت کا موقع دیا۔ میاں نوازشریف صاحب کے ویژن کے مطابق عوامی فلاح و بہبود (اور قومی تعمیر و ترقی) ایک بار پھر ہمارے ایجنڈے کے اہم ترین نکات تھے۔ میں آج کے کالم میں عام آدمی کی صحت کے لئے اپنی حکومت کے بعض اقدامات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔
قصور کے دورے میں یہاں کے ڈسٹرکٹ ہسپتال کا اچانک معائنہ(سرپرائز وزٹ) بھی شامل تھا۔ میں وہاں پہنچا تو یوں لگا جیسے کسی بھوت بنگلے میں آگیا ہوں۔ یہ ایک ایسا اونٹ تھا جس کی کوئی کل سیدھی نہ تھی۔ صفائی ستھرائی کا فقدان، ادویات اور ضروری طبی آلات نام کو نہ تھے۔ انتظامی معاملات بھی نہایت افسوسناک، مریضوں کی کسمپرسی اور لاچارگی دیکھی نہ جاتی۔ میں ادویات کے سٹور میں گیا تو وہاں کھڑا ہونا بھی محال تھا۔
صوبائی دارالحکومت کے قریب ترین ڈسٹرکٹ ہسپتال میں صورتحال ایسی ناگفتہ بہ تھی تو باقی شہریوں، قصبات اور دیہات میں سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی صحت مراکز (BHUs) کا کیا حال ہوگا؟
بدقسمتی سے حکومتوں کی توجہ چند بڑے شہروں کے بڑے ہسپتالوں ہی طرف رہی تھی (اگرچہ یہاں بھی صورتحال چنداں قابل رشک نہیں تھی۔) دس بارہ کروڑ آبادی کے صوبے میں صحت کے شعبے میں مسائل کا انبار تھا، جن سے نمٹنے کے لئے دو ررس اقدامات پر مشتمل بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت تھی، یہی احساس تھا جو محکمہ صحت پنجاب کی دو حصوں میں تقسیم کا باعث بنا۔
(1) پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ
(2) سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن
اول لذکر کی ذمہ داری لاہور سے ہمارے ہونہار نوجوان ایم پی اے خواجہ عمران نذیر کے سپرد ہوئی۔ ثانی الذکر کے نگران خواجہ رفیق شہید کے صاحبزادے ”نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو“ سلمان رفیق قرار پائے۔
پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ میں صوبے کے 26 ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، 125 تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال، 310 رورل ہیلتھ سنٹر اور 2500 سے زائد بنیادی صحت کے مراکز (BHUs) تھے۔ مرض سے پہلے کے احتیاطی اور انسدادی (Preventive) اقدامات بھی اسی شعبے میں آتے۔ (اس میں ملیریا، ہیپاٹائٹس اور ڈینگی سمیت سب امراض شامل تھے۔)
سرکاری میڈیکل کالج اور ان سے ملحقہ بڑے ہسپتال (مثلاً لاہور کا میو ہسپتال، سروسز اور جناح ہسپتال، راولپنڈی، فیصل آباد، ساہیوال، سیالکوٹ، ملتان، گوجرانوالہ اور بہاولپور کے ٹیچنگ ہسپتال) خواجہ سلمان رفیق کے سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں شامل تھے۔
محکمہ صحت کی زبوں حالی دیکھی نہ جاتی، جس کے لئے مکمل بحالی(Revamping) کی فوری اور اشد ضرورت تھی اس کے لئے 30 ارب کے روپے کا ڈویلپمنٹ (ترقیاتی) بجٹ رکھا گیا۔ صوبے کے تمام ڈسٹرکٹ ہسپتالوں، پندرہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں سے اس عمل کا آغاز ہوا۔ (دیگر ہسپتالوں کی 85 ایمرجنسی وارڈز کی Revamping بھی اس میں شامل تھی۔ اس عمل میں ہسپتالوں کی عمارت کی وسیع پیمانے پر تعمیر و مرمت اور ضروری طبی سہولتوں کی فراہمی بھی تھی اور ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی کمی کا ازالہ بھی۔ ایمرجنسی وارڈز کے لئے الگ میڈیکل آفیسرز رکھے گئے، مریضوں کے لئے آرام دہ بستروں کی فراہمی، ICU اور CCU کا قیام اور بعض ہسپتالوں میں برن یونٹس کا اہتمام، ڈائیلسز سہولتوں کی فراہمی جس کے لئے جدید ترین آلات ہنگامی بنیادوں پر ہوائی جہازوں سے بھی منگوائے گئے کہ مریضوں کی زندگی کا ایک ایک لمحہ قیمتی تھا، CT سکین، فیزیو تھراپی کی سہولتیں، جدید آلاٹ کے ساتھ دانتوں کے امراض کا شعبہ، ہر ڈسٹرکٹ ہسپتال میں مردہ خانہ، ہسپتال کی Toxic (زہریلی) Waste کے خاتمے کے لئے عالمی معیار کے پلانٹس کی تنصیب شامل تھی۔ (یہ ”ویسٹ“ ماضی میں مختلف امراض کا باعث بنتی رہی تھی۔)
Revamping کے اس عمل کے لئے 12 ارب روپے کے نئے آلات خریدے گئے۔ پروکیورمنٹ کا یہ سارا عمل قوائد و ضوابط کے مطابق نہایت صاف اور شفاف طریقے سے ہوا اور اس میں بھی 5 ارب کی بچت کی گئی۔ بعض انتظامی امور کے لئے 2000 نوجوان بچے، بچیوں کا تقرر کیا گیا۔
Revamping کے اس عمل میں ”کلینکل سائیڈ“ پر جو اقدامات کیے گئے ان میں 300 سینئر (سپیشلسٹ) ڈاکٹرز، 7000 (میل اور فی میل) ڈاکٹرز، 500 ایمرجنسی میڈیکل آفیسرز، صحت سے وابستہ دیگر سہولتوں کے 1600 ماہرین (الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز)، فارماسسٹس اور فزیو تھراپسٹس کا تقرر شامل تھا۔ یہ سارا عمل این ٹی ایس کے ذریعے، میرٹ کی بنیاد پر ہوا۔ 6 دیگر شعبے ”آؤٹ سورس“ کر دیئے گئے۔ ان میں صفائی، سکیورٹی، مینٹی نینس، ویسٹ مینجمنٹ اور جنریٹر شامل تھے۔ مریضوں کے بستروں کی چادروں اور تکیوں کے غلاف وغیرہ کی دھلائی کے لئے لانڈری کا پراجیکٹ بھی شروع کیا گیا لیکن حکومت کی تبدیلی کے باعث یہ نا مکمل رہ گیا۔ (میر اطلاع کے مطابق، ہمارے دیگر منصوبوں کی طرح اس بھی کام ٹھپ ہو چکا ہے۔)
کلینیکل (Clinical) سائیڈ میں پتھالوجیکل لیبارٹریاں، CT سکین، میڈیکل گیس (آکسیجن) کی فراہمی کو آؤٹ سورس کیا گیا اور اسے ایک مرکزی نظام کے تحت بنیادی مراکز صحت (BHUs) کی سطح پہنچا دیا گیا۔ دیہی علاقوں کے لئے 700 موبائل الٹرا ساؤنڈ مشنیوں کی فراہمی اس کے علاوہ تھی جس کے لئے لیڈی ہیلتھ وزیٹرز کی خصوصی تربیت کا اہتمام کیا گیا۔
ڈسٹرکٹ ہسپتالوں سے بنیادی مراکز صحت تک، ہنگامی ضرورت کے تحت اخراجات کے لئے روایتی سرخ فیتے کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اس کے لئے ہیلتھ کونسلز قائم کی گئیں۔ مختلف سطح پر مختلف سرکاری آفیسرز ان کے نگران ہوتے۔ مثلاً ڈسٹرکٹ ہسپتال کی ہیلتھ کونسل کا سربراہ ڈپٹی کمشنر کا سربراہ ڈپٹی کمشنر اور تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کی کونسل کا سربراہ ایک اسسٹنٹ کمشنر ہوتا ہے۔ فوری(اور ہنگامی) ضرورت کے لئے ان کے پاس Petty Cash ہوتا۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے لیے یہ رقم ڈیڑھ کروڑ روپے، تحصیل ہیڈ کارٹر کے لئے پچاس لاکھ، رول ہیلتھ سنٹر کے لئے دس لاکھ اور بنیادی مرکز صحت (BHU) کے لئے تین لاکھ تھی۔
خواجہ سلمان رفیق کی سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی کارکردگی الگ تفصیل چاہتی ہے۔ آج کی نشست میں اتنی سی بات بتاتاچلوں کہ چلڈرن ہسپتال لاہور میں جدید ترین آلات اور سہولتوں کے ساتھ 500 بستروں کا اضافہ، میو ہسپتال لاہور میں سٹیٹ آف دی آرٹ سرجیکل ٹاور(اس سے پہلے یہ محض سنگ و خشت کا ڈھانچہ تھا، جو ہمیں ملا) سروسز ہسپتال لاہور میں 350 بستروں کا نیا اوپی ڈی اور جنرل ہسپتال لاہور میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف نیورو سائنسز (PINS) کا قیام (نئے ہسپتالوں کی تعمیر ایک الگ موضع ہے جس پر بعد میں بات کریں گے)
یہاں ایک اور تاریخ ساز اقدام کا ذکر بھی ہو جائے۔ ڈاکٹر لوگ(ان میں خواتین و حضرات دونوں شامل تھے) بڑے شہروں سے دور قصبات اور دیہات میں کام سے گھبراتے تھے۔ ہم نے اس حوالے سے ان کے لئے کشش (Attraction) کا خصوصی انتظام کیا۔ یہ میڈیکل میں سپیشلائزیشن کے لئے داخلے، ذاتی پسند نا پسند اور سفارش پر مبنی (Pick and Choose) کے پرانے نظام کا خاتمہ تھا۔ نئے نظام میں بڑے شہروں سے باہر ایک مخصوص مدت کے لےء خدمات انجام دینے کا کیا اضافی نمبر رکھ دیئے گئے (جو میرٹ کی تیاری میں بہت کام آتے) یہ سنٹر لائزڈ سسٹم تھا جس میں کسی اقرباء پروری کا کوئی امکان باقی نہ رہا۔ اب ڈاکٹر (خواتین و حضرات) کی بھرپور خواہش (اور کوشش) ہوتی کہ انہیں بڑے شہروں سے باہر خدمات کا موقع مل جائے جس سے سپیشلائزیشن کے لئے ان کا میرٹ بہتر ہو جائے گا۔ یوں قصبات اور دیہات تک عوام کو سرکاری ڈاکٹروں کی خدمات دستیاب ہو گئیں۔
محکمہ صحت کے حوالے سے کئی اور کہانیاں بھی ہیں۔ قصور کی زہرہ بی بی کی کہانی، لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں 100 افراد کی موت اور اس کے پس پردہ حقائق…… عالمی معیار کی ٹیسٹنگ لیبارٹری کا قیام (اور اس کے خلاف مافیا کی سازشیں) مریضوں کی ایک سے دوسرے ہسپتال میں منتقل کے لئے ایمبولینس کا جدید اور برق رفتار نظام، 1122 میں نئے اضافے، اور وہ PKLI کا المیہ بھی، یہ سب آئندہ)

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept