اب پچھتائے کیا ہوت

غیر ارادی فیصلے کبھی کبھی آپ کو مصیبت میں مبتلا کر دیتے ہیں اور انسان کو ہمیشہ یاد رہتے ہیں ،میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔لاہور سے سالٹ رینج جاتے ہوئے ایک دوست سے ذکر کیا تو اس نے کہا کہ یار کلر کہار کے قریب ایک جھیل ہے وہاں ضرور جانا۔ کھیوڑہ سےواپسی پر چوا سیدن شاہ سے کلر کہار کی طرف آتے ہوئے جب یہ بات یاد آئی تو ہم نے سوچا کہ جب اتنا قریب آ ہی گئے ہیں تو کیوں نہ وہ جھیل بھی دیکھ لی جائے جس کا نام ہمیں پتہ نہیں تھا۔موٹر وے سے تقریباً دس کلومیٹر پہلے مقامی افراد سے جھیل بارے پوچھا تو انہوں راستہ گائیڈ کیا لیکن راستے میں سڑک کنارے لگا بورڈ نہ دیکھنے کی وجہ سے نو کلومیٹر آگے چلے گئے۔ بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کے قریب مقامی شخص نے بتایا کہ آپ لوگ غلط راستے پر جارہے ہیں ۔کچھ دیر سفر کے بعد ہمیں سڑک کنارے لگا بورڈ نظر آیا تو جان میں جان آئی جس کا نام کھنڈوعہ جھیل تھا۔مین روڈ سے ایک چھوٹی اور ویران سڑک پر اترے جو جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی۔سڑک دیکھ کر کئی بار یہ خیال آیا کہ یہ کم از کم کسی جھیل کی طرف نہیں جاتی ہوگی۔راستے میں ایک چھوٹا سا گاؤں کراس کیا تو آگے سڑک کچی تھی جسے کچھ دیر پہلے ہونے والی شدید بارش نے مزید خراب کردیا تھا۔بہرحال تھوڑی بعد ایک کھلے میدان میں دور سے قومی پرچم نظر آیا جبکہ کچھ  گاڑیاں دیکھ کر یقین آیا کہ یہاں کچھ ہے ضرور کیونکہ وہاں کافی جیپیں کھڑی ہوئی۔مقامی لوگوں نے خوشدلی سے ہمارا استقبال کرتے ہوئے یہ بتا کر بجلی گرائی کہ پہاڑ پر جانے کے 1600روپے ہوں گے جہاں صرف جیپ کے ذریعے ہی جا سکتے ہیں اور اس کے علاوہ کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔ پانی کی بوتل 200 روپے کی اور اسی طرح اگر لائف جیکٹ لینا ہے تو اس کی قیمت نہ ہی پوچھیں تو بہتر ہے۔ ہمیں مزید بتایا گیا کہ بیس منٹ جیپ پر اور بیس منٹ پیدل چلنے کے بعد جھیل آجائے گی۔ہم لوگ فوراً آنکھوں میں ایک اور سہانے سفر کا سپنا لئے جیپ میں بیٹھ گئے لیکن دو منٹ بعد جھٹکے سے آنکھ کھلی تو دیکھا کہ جیپ پہاڑ پر چڑھ رہی تھی جسے ڈرائیور سڑک کہہ رہا تھا وہ صرف نوکیلے اور بڑے بڑے پتھروں سے بنایا گیا چھوٹا سا راستہ تھا جس پر چلتے ہوئے ہر جھٹکا خدا کی یاد شدت سے دلا رہا تھا اور جب گہری کھائی کی طرف نیچے دیکھا تو بہت سی دعائیں اور نہ جانے کیا کچھ یاد آیا۔ڈرائیور جو تھوڑا پڑھا لکھا بھی لگتا تھا، نے بتایا کہ دو تین سال سے یہاں لوگ زیادہ آرہے ہیی لیکن آج تک حکومت کا کوئی نمائندہ نہیں آیا ۔جھیل کا نام مقامی گاؤں کھنڈوعہ کی مناسبت سے رکھا گیا جبکہ گوگل پر اس کا دوسرا نام سویک Swaik Lake بھی ہے لیکن اس کے نام کا مطلب کوشش کے باوجود نہیں ملا۔ڈرائیور نے اپنے گاؤں کے مسائل بھی بتائے جس میں سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ گاؤں کو پانی تو سپلائی ہورہا تھا لیکن علاقے کا زیر زمین پانی ساڑھے چار سو فٹ نیچے چلا گیا ہے۔فصلوں کا دار و مدار بارش پر ہے۔ اگر بارش نہیں ہوتی تو زمینیں ویران پڑی رہتی ہیں۔جیپ کے ہر جھٹکے کے ساتھ دل سے دعا نکلتی تھی کہ یااللہ ہمیں منزل پر جلدی پہنچا دے۔بیس منٹ کے بعد جیپ پہاڑ کے اوپر بنی ہوئی ایک چھوٹی سی جگہ پر رک گئی جہاں سے ہمیں پیدل جانا تھا۔ڈرائیور نے بتایا تھا کہ ہم لوگ یہ سفر دس منٹ میں جبکہ باہر سے آنے والے بیس منٹ میں طے کرتے ہیں جس سے جوش میں کچھ اضافہ ہوا جو پہلا قدم اٹھاتے ہی اس وقت ٹھنڈا پڑ گیا جب نظر نیچے ہزاروں فٹ گہری کھائی پر پڑی۔
پہاڑ سے جھیل کھنڈوعہ یا سویک کی طرف جانے کے لئے صرف تین سے چار فٹ کا چھوٹا سا راستہ ہے جسے پگڈنڈی کہنا زیادہ بہتر  ہے کیونکہ جیسے جیسے آگے بڑھتے ہیں راستہ تنگ ہو کر صرف ایک سے دو فٹ رہ جاتا ہے جہاں سے بمشکل ایک شخص ہی گزر سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ موٹے اور نوکیلے پتھروں سے گہرائی کی طرف جانا اور بھی مشکل تھا جسے چند گھنٹے ہونے والی بارش نے مزید مشکل بنادیا تھا کیونکہ جگہ جگہ کیچڑ اور پھسلن سے چلنا دشوار تھا جس کے ساتھ ساتھ گھنے جنگل اور ہر طرف پھیلی خاموشی نے ماحول کو اور بھی خوفناک بنا دیا تھا۔ذرا سی غلطی آپ کو موت کی وادی میں پہنچا سکتی تھی۔گھنے جنگل کے درمیان ایک ایسی منزل کی طرف جانا جس کا راستہ بھی معلوم نہیں تھا،صرف قدموں کے نشان دیکھ کر چلتے جارہے تھے۔کئی بار تو ایسا بھی لگا کہ ہم راستہ بھٹک چکے ہیں اور یہ کہ شاید ہم یہاں سے باہر ہی نہ نکل سکیں۔ایک تو مقامی افراد نے گائیڈ نہ کیا دوسرا کسی مقامی شخص کا نمبر بھی نہیں لیا۔راستے میں کسی جگہ بھی ایسی کوئی نشانی نہیں تھی جس سے پتہ چلتا کہ اب کس طرف جانا ہے۔راستے میں جو لوگ واپس آ رہے تھے وہ بھی زیادہ خوش نہیں لگ رہے تھے جس سے مزید پریشانی ہوئی کیونکہ اب واپسی کا بھی کوئی راستہ نہیں تھا۔یہاں میں اپنی بیوی اور بچوں کو ضرور داد دوں گا جو کسی پریشانی اور خوف کا اظہار کئے بغیر مسلسل آگے بڑھ رہے تھے ۔سب سے زیادہ پر جوش میرا کمسن بیٹا دانیال تھا جو بار بار کہہ رہا تھا یہ ایک ایڈونچر ہے جو مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے۔شاید وہ کسی کارٹون سیریز سے متاثر تھا۔یقین کریں یہ راستہ اتنا خوفناک اور خاموش تھا کہ بچپن میں پڑھی جانے والی بہت سی کہانیاں یاد آگئیں کیونکہ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔بیس منٹ چلنے کے بعد ایک پکا نالہ دیکھا تو کچھ امید نظر آئی کہ شاید ادھر کوئی آ بادی ہے لیکن جنگل میں دور دور تک کوئی انسان نظر نہیں آرہا تھا۔ جس طرف سے پانی آرہا تھا ہم نے بھی اسی طرف چلنا شروع کر دیا بہر حال مزید کچھ دیر چلنے کے بعد شور کی آواز سن کر جان میں جان آئی کیونکہ منزل سامنے تھی۔
جسے لوگ جھیل کہتے ہیں دراصل یہ ایک آبشار ہے جو بہت بلندی سے نیچے گرتی دکھائی دیتی ہے اسی پانی کی وجہ سے وہ جگہ چھوٹی سی جھیل کی شکل اختیار کر گئی ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پہلے جھیل بنی ہو اور بعد میں آبشار کیونکہ جغرافیہ یا جیالوجی کی کسی کتاب میں اس جھیل کی ہسٹری میری نظر سے نہیں گزری۔ جھیل پر زیادہ تعداد نوجوان اور ماڈرن لڑکے لڑکیوں کی تھی جو اپنے اپنے انداز سے انجوائے کررہے تھے۔جھیل کا پانی کافی ٹھنڈا اور صاف تھا جس سے نکلنے کے فوری بعد چائے کی ضرورت پیش آتی تھی۔مقامی لوگوں نے لائف جیکٹ کے ساتھ چائے اور پانی کا انتظام بھی کیا ہوا تھا جن کے ریٹ سنتے ہی جذبات مزید ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔کچھ دیر وہاں رکنے کے بعد واپسی کا ارادہ کیا کیونکہ آسمان پر گہرے اور سیاہ بادل برسنے کے لئے بے چین تھے۔ یہاں تک پہنچنے کے دوران مجھ پر جو خوف سوار تھا اس کی وجہ سے میں نے وہاں زیادہ دیر رکنا مناسب نہیں سمجھا۔جھیل پر جا کر اپنی اس غلطی کا دوبارہ احساس ہوا کہ سوائے میری دو بیٹیوں اور بیٹے کے وہاں کسی کے ساتھ بچے نہیں تھے کیونکہ وہاں تو جوان بڑی مشکل سے پہنچ رہے تھے بچوں کا آنا تو ناممکن ہی لگتا تھا۔
یہ آبشار یا جھیل واقعی دیکھنے کے قابل ہے لیکن اگر حکومتی ادارے اس طرف توجہ دیں تو یہ بہترین تفریحی مقام بن سکتا ہے۔ہر سال بجٹ میں سیاحت کے نام پر اربوں روپے لینے والا پنجاب ٹورازم ڈپارٹمنٹ اگر پہاڑ کے اوپر جانے کے لئے سڑک نہیں بنا سکتا تو کم از کم جنگل سے درخت کاٹ کر راستہ تو بنا سکتا ہے اور یہ بھی نہیں کر سکتے تو راستے کی نشاہدہی کا کچھ بندوبست ہی کردیں کیونکہ جنگل کے دوران راستہ بھٹکنے کا بہت زیادہ خدشہ ہوتا ہے۔ جھیل کے قریب بہت زیادہ گندگی تھی۔جگہ جگہ پانی کی استعمال شدہ بوتلیں اور دودھ کے ڈبے اور دوسری اشیاء بکھری پڑی تھیں۔اس کے علاوہ مقامی گائوں میں کوئی ڈسپنسری ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ وہاں کسی بھی وقت کسی طرح کا بھی حادثہ پیش آسکتا ہے کیونکہ راستہ اس قدر مشکل اور خطرناک ہے۔
واپس جاتے ہوئے ہمیں کئی فیملیز ملیں جن میں زیادہ تر کے ہوش اڑے ہوئے تھے کیونکہ اکثر کے جوتے اور کپڑے ایسے تھے کہ جن کے ساتھ ان پتھروں اور گھنے درختوں کے درمیان چلنا بہت مشکل تھا۔ایک نوجوان لڑکی باقاعدہ یہ سب دیکھ کر زاروقطار روتے ہوئے واپس جانے کی ضد کررہی تھی جسے اس کے ساتھی حوصلہ دے رہے تھے۔
واپسی پر اور بھی پریشانی ہورہی تھی کیونکہ پتھروں اور کیچڑ زدہ راستے سے اوپر کی طرف جانا اور بھی مشکل تھا اور اس موقع پر مجھے منیر نیازی کی یاد بھی آئی جنہوں نے کہا تھا کہ

ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

گھنے جنگل اور ویران راستے پر آدھے گھنٹے کی مسافت بھی سالوں پر محیط لگ رہی تھی۔جب اوپر پہنچے تو یہ دیکھ کر سانس خشک ہوگئی کہ جس جیپ پر ہم آئے تھے وہ غائب تھی اور ہمارے پاس ڈرائیور کا نمبر بھی نہیں تھا۔ ہماری پریشانی دیکھتے ہوئے مقامی شخص نے ڈرائیور سے رابطہ کیا تو اس نے دوسری جیپ کے ذریعے ہمیں گاڑی تک پہنچایا۔راستے میں جب ڈرائیور سے ذکر کیا کہ ہم نے جس جھیل پر جانا تھا اس کا نقشہ تو کچھ اور بتایا گیا تھا جس پر اس نے بڑی حیرانی سے بتایا کہ دراصل آپ لوگ غلط جگہ پر آگئے ہیں۔جس جھیل کے بارے میں آپ لوگ بتارہے ہیں وہ تو موٹر وے کے بالکل قریب واقع ہے اور سڑک سے بہت نزدیک ہے۔اگر آپ لوگ کسی سے پوچھ لیتے تو اتنی زحمت نہ اٹھانا پڑتی۔ڈرائیور کی باتیں سن کر دل میں بہت شرمندگی اور اپنی غلطی کا احساس ہورہا تھا لیکن خوشی صرف اس بات کی تھی کہ ایک سنگین غلطی سے کیا کچھ سیکھنے کا موقع مل گیا تھا۔
آخر میں سب کو یہی مشورہ دوں گا اگر کوئی یہاں جانے کا ارادہ رکھتا بھی تو سوچے بھی ناں, کیونکہ راستہ اتنا دشوار اور خوفناک ہے کہ دوبارہ تصور کرتے ہی جھرجھری سی آ جاتی ہے۔

تحریر۔اشفاق حسین

 

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept